خاموش ہیرو/ علی عباس کاظمی

زندگی کے بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کی عظمت کا احساس اُس وقت تک نہیں ہوتا جب تک وقت ہمارے ہاتھ سے کچھ قیمتی چیزیں چھین نہ لے۔ انسان عجیب مخلوق ہے وہ نعمتوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اُن کی قدر نہیں جانتا۔ جس طرح درخت کے سائے کی قیمت تپتی دوپہر میں معلوم ہوتی ہے، اسی طرح باپ کی اہمیت بھی اکثر اُس وقت سمجھ آتی ہے جب زندگی کی دھوپ اچانک تیز ہو جائے۔ ہر سال فادر ڈےکے موقع پرپیغامات لکھے جاتے ہیں، جذباتی جملے پوسٹ کیے جاتے ہیں، مگر ایک سوال دل کے دروازے پر دستک دیتا رہتا ہے کہ کیا ہم واقعی باپ کو صرف ایک دن یاد کرتے ہیں یا پورا سال اُس کی خاموش محبت کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں؟

باپ ایک ایسا کردار ہے جو گھر میں موجود بھی ہو تو اکثر نظر نہیں آتا۔ ماں کی محبت ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح ہوتی ہے جس کے صفحات ہر وقت دکھائی دیتے ہیں، لیکن باپ کی محبت ایک بند کتاب کی مانند ہوتی ہے جس کے اندر جذبات کے بے شمار باب پوشیدہ ہوتے ہیں۔ وہ شخص جس کے چہرے پر تھکن کے آثار ہوتے ہیں مگر لبوں پر شکایت نہیں ہوتی، دراصل وہی گھر کا خاموش سپاہی ہوتا ہے۔ اُس کے ہاتھوں کی لکیروں میں نہ جانے کتنی ادھوری خواہشات، کتنے خواب اور کتنی قربانیاں دفن ہوتی ہیں۔یہ دنیا عجیب پیمانوں پر چلتی ہے۔ یہاں وہ شخص ہیرو کہلاتا ہے جو میدان میں چند لمحوں کے لیے کوئی کارنامہ انجام دے دے، مگر وہ باپ کبھی ہیرو نہیں کہلاتا جو پوری عمر اپنے خاندان کے لیے جنگ لڑتا رہتا ہے۔ ایک عمر کی محنت، چند لمحوں کی اولاد کی مسکراہٹ کے لیے صرف کر دیتا ہے۔ اپنی ضرورتوں کو مؤخر کر دیتا ہے تاکہ بچوں کی خواہشیں پوری ہو سکیں۔ اُس کی جیب محدود ہوتی ہے مگر اولاد کے خواب ہمیشہ اُس کی استطاعت سے بڑے ہوتے ہیں اور حیرت یہ ہے کہ وہ ان خوابوں کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر پورا کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

معاشی دباؤ کے اس دور میں ایک باپ کی زندگی ایک خاموش جنگ سے کم نہیں۔ مہنگائی، بے یقینی، روزگار کے مسائل اور بڑھتی ہوئی ضروریات نے اُس کے کندھوں پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔ وہ ہر ماہ بجٹ بناتے ہوئے اپنی خواہشات سب سے پہلے کاٹ دیتا ہے۔ بچے نئے کپڑوں کی فرمائش کریں تو پوری کر دیتا ہے، مگر خود برسوں پرانے جوتے پہن لیتا ہے۔ گھر والوں کے لیے اچھی چیز خرید لیتا ہے مگر اپنی ضرورتوں کو کل پر ٹال دیتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اُس کے چہرے پر لکھی ہوئی تھکن پڑھنے کے بجائے صرف اُس کی ذمہ داریوں کا حساب رکھتے ہیں۔جدید معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ باپ کے کردار کو مسلسل پس منظر میں دھکیلا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں تعلقات کی نمائش بڑھ گئی ہے مگر اُن کی گہرائی کم ہو گئی ہے۔ ہزاروں لوگ اپنے والد کے ساتھ تصویر لگا کر محبت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن کتنے لوگ ایسے ہیں جو روزانہ چند لمحے اُن کے ساتھ بیٹھ کر اُن کی باتیں سنتے ہیں؟ کتنے لوگ اپنے باپ کی تنہائی کو محسوس کرتے ہیں؟ کتنے لوگ جانتے ہیں کہ اُن کے والد کی سب سے بڑی فکر کیا ہے؟ آج کل ہم اپنے موبائل فون کی بیٹری کا فیصد تو جانتے ہیں مگر اپنے والد کے دل کی کیفیت سے بے خبر رہتے ہیں۔

وقت کے ساتھ باپ کا کردار بھی بدل رہا ہے۔ پہلے وہ صرف کفالت کرنے والا سمجھا جاتا تھا، آج وہ بچوں کا دوست، رہنما، استاد اور نفسیاتی معاون بھی بننے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر بدلتے زمانے نے باپ اور اولاد کے درمیان ایک نئی دیوار بھی کھڑی کر دی ہے۔ ایک طرف جدید مصروفیات ہیں، دوسری طرف نسلوں کا فاصلہ۔ باپ اپنی روایتی اقدار کے ساتھ کھڑا ہے اور اولاد تیز رفتار دنیا کی طرف دوڑ رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ اولاد بچپن میں باپ کو سب سے طاقتور انسان سمجھتی ہے، جوانی میں اُس سے اختلاف کرنے لگتی ہے اور بڑھاپے میں جا کر اُس کی عظمت کا اعتراف کرتی ہے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بعض رشتے وقت گزرنے کے بعد سمجھ آتے ہیں۔ جب زندگی کے مسائل ہمارے دروازے پر دستک دیتے ہیں، جب ذمہ داریوں کا بوجھ ہمارے کندھوں پر آتا ہے، جب اپنی اولاد کی ضروریات پوری کرنے کی فکر لاحق ہوتی ہے، تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے باپ نے کتنی خاموشی سے کتنی بڑی قربانیاں دی تھیں۔

باپ دراصل اُس درخت کی مانند ہے جو خود دھوپ میں جلتا ہے تاکہ اُس کے سائے میں دوسروں کو سکون مل سکے۔ اُس کے کندھوں پر نسلیں کھڑی ہوتی ہیں۔ معاشرے کے بڑے بڑے ادارے، کامیاب شخصیات اور نامور لوگ اگر اپنی کامیابی کی بنیاد تلاش کریں تو اکثر وہاں ایک باپ کی خاموش محنت موجود ہوگی۔ دنیا کامیاب اولاد کو داد دیتی ہے مگر اُس گمنام ہیرو کو بھول جاتی ہے جس نے اُن کامیابیوں کی بنیاد رکھی تھی۔اسلام نے والد کے مقام کو جس عظمت کے ساتھ بیان کیا ہے، وہ انسانی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ قرآنِ کریم بار بار والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ والدین کے احترام کو جوڑا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے والدین کی خدمت کو جنت کا راستہ قرار دیا۔ اسلام صرف جذباتی وابستگی کی بات نہیں کرتا بلکہ عملی ذمہ داریوں کی بھی یاد دہانی کراتا ہے۔ والدین کا احترام، اُن کی اطاعت، اُن کے ساتھ نرمی اور اُن کی خدمت محض اخلاقی خوبیاں نہیں بلکہ دینی فرائض ہیں۔

ہم نے تہذیب تو ترقی دی مگر دِلوں کے درمیان فاصلوں کو بڑھا دیا۔۔ ہم بڑی بڑی عمارتیں بنا رہے ہیں مگر اپنے بزرگوں کے لیے دلوں میں جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر بوڑھے باپ کی تنہائی ایک ایسا المیہ ہے جس پر کم ہی گفتگو ہوتی ہے۔ وہ شخص جس کے کندھوں پر کبھی پورا خاندان کھڑا تھا، بڑھاپے میں اکثر خود سہارا ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔ اُس کی باتوں کو پرانا خیال کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اُس کی ضرورتوں کو ثانوی سمجھ لیا جاتا ہے۔ اُس کے تجربات کو فرسودہ قرار دے دیا جاتا ہے۔یہ کیسا تضاد ہے کہ بچپن میں ہم اُس کی انگلی پکڑ کر چلتے تھے اور بڑھاپے میں اُس کا ہاتھ تھامنے سے کترانے لگتے ہیں؟ کیا یہ وہی شخص نہیں جس نے ہماری پہلی ٹھوکر پر ہمیں سنبھالا تھا؟ کیا یہ وہی انسان نہیں جس نے اپنی نیندیں قربان کر کے ہماری راحتوں کا انتظام کیا تھا؟ اگر آج اُس کی رفتار سست ہو گئی ہے تو کیا ہمارے پاس اُس کے لیے چند لمحے بھی نہیں؟

باپ کی دعاؤں کا حصار بھی ایک ایسی نعمت ہے جس کی قدر کم ہی کی جاتی ہے۔ دنیا کے بہت سے دروازے بند ہو جائیں تو بھی والدین کی دعا انسان کے لیے امید کا چراغ بن جاتی ہے۔ شاید اسی لیے بزرگ کہا کرتے تھے کہ والدین کی رضا میں اللہ کی رضا پوشیدہ ہے۔ ایک خوش نصیب وہ نہیں جس کے پاس دولت کے انبار ہوں، بلکہ وہ ہے جس کے سر پر والدین کی دعاؤں کا سایہ موجود ہو اور پھر ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب گھر میں سب کچھ موجود ہوتا ہے مگر باپ موجود نہیں ہوتا۔ تب گھر کا آنگن وہ آنگن نہیں رہتا، دیواریں وہ دیواریں نہیں رہتیں اور دروازوں کی آوازیں بھی بدل جاتی ہیں۔ اُس وقت حقیقت کھلتی ہے کہ باپ ایک فرد نہیں، پورے گھر کا سہارا تھا۔ اُس کی موجودگی ایک خاموش تحفظ تھی، ایک غیر محسوس آسودگی تھی، ایک ایسا سایہ تھا جس کی قدر دھوپ نے سکھائی۔

شاید فادر ڈے کا اصل مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ ہم صرف ایک دن کے جذباتی اظہار پر اکتفا نہ کریں بلکہ اپنے رویّوں کا محاسبہ کریں۔ ہم اپنے والد کے ساتھ کتنا وقت گزارتے ہیں؟ اُن کی کتنی باتیں سنتے ہیں؟ اُن کی کتنی خواہشات پوری کرتے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی اُن سے پوچھا کہ وہ خود کیا چاہتے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی اُن کی آنکھوں میں جھانک کر اُن کی خاموش تھکن کو پڑھنے کی کوشش کی؟زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہم اپنے والد سے محبت نہیں کرتے، بلکہ یہ ہے کہ اکثر ہم اپنی محبت کا اظہار اُس وقت کرتے ہیں جب اظہار کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ قبر کے کنارے کھڑے ہو کر بہائے جانے والے آنسو اُس ایک لمحے کی تلافی نہیں کر سکتے جو زندہ باپ کے ساتھ گزارا جا سکتا تھا۔ وقت کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہی ہے کہ وہ ہمیں رشتوں کی قیمت اُس وقت بتاتا ہے جب اُنہیں واپس لانا ممکن نہیں رہتا۔اس لیے اگر آج آپ کے سر پر باپ کا سایہ موجود ہے تو یہ محض ایک رشتہ نہیں، ایک نعمت ہے،ایک دعا ہے، ایک محافظ ہے، ایک ایسی کتاب ہے جو ابھی آپ کے سامنے کھلی ہوئی ہے۔ اُسے پڑھ لیجیے، اُس کے لفظوں کو سمجھ لیجیے، اُس کی خاموشیوں کو سن لیجیے۔ کیونکہ زندگی کی سب سے تلخ حقیقت یہی ہے کہ بعض کتابیں جب بند ہو جاتی ہیں تو پھر عمر بھر اُن کا کوئی نیا ایڈیشن شائع نہیں ہوتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں