مصنوعی پن اور نوآبادیاتی ذہن/سائرہ رباب

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ہر سو یہی محترمہ چھائی ہوئی تھیں۔ انتہائی مصنوعی پن، نمائشی ایلیٹ ازم اور شدید احساس کمتری لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیی۔۔ ہر دوسری میم ، ریل اور کلچرل کمنتری دراصل ہمارے سماج میں ہونے والی ایک بڑی سماجی/ ثقافتی تبدیلی(shift) کی نشاندہی کر رہی تھی۔ یہ ردِعمل کسی ایک خاتون کے خلاف نہیں، بلکہ اُس نوآبادیاتی ذہن کے خلاف ہے جو برسوں ہمیں یہ سکھاتا رہا کہ مقامی زبان، کھانے، لباس اور رہن سہن کمتر ہیں، جبکہ انگریزی اندازِ زندگی ہی تہذیب (sophistication) اور کلاس کی علامت ہے۔

پوسٹ کولونیل مفکر ہومی بھابھا اسی کیفیت کو نقل (mimicry) کہتا ہے۔۔ یعنی ایسے کردار جو گورا بہادر کی اندھی نقل تو کرتے ہیں مگر نہ یہ پورے تیتر بنتے ہیں اور نہ بٹیر۔۔۔ نہ مکمل طور پر اُس مغربی دنیا کا حصہ بن پاتے ہیں، نہ اپنی اصل شناخت کے ساتھ مطمئن رہتے ہیں۔ دو شناختوں کے درمیان پھنسے ہوئے رہتے ہیں ۔
نتیجہ ایک مصنوعی، غیر متوازن اور اکثر مضحکہ خیز شخصیت کی صورت میں نکلتا ہے۔

محترمہ کے انٹرویوز میں یہی تضاد بار بار جھلکتا ہے۔ کبھی “I hate desi”، بریانی اور مٹن سے نفرت، کبھی لمبے ناخنوں کی وجہ سے کھانا کھانے میں دقت کا تذکرہ، اور پھر اسی نشست میں یہ دعویٰ کہ “مجھے روٹی اور سب روایتی کھانے بنانے آتے ہیں”۔ تقریبا ہر بات میں تضاد ۔۔ یہ مسلسل تضاد اس بات کی علامت ہے کہ انسان جب مستقل وہ بننے کی کوشش کرے جو وہ حقیقت میں نہیں، تو شخصیت فطری اظہار کے بجائے ایک نمائشی پرفارمنس بن جاتی ہے اور ایک بھونڈا تمسخر محسوس ہونے لگتی ہے۔

انگریزی ادب اور نوآبادیاتی فکشن ، خصوصاً کپلنگ جیسے مغربی مصنفین کے ہاں بھی ایسے کردار اکثر ہنسی اور قہقہوں کا مرکز (laughing stock) ہوتے تھے۔۔۔ ایک عرصہ مقامی سماج میں یہ لوگ رعب و دبدبہ کی علامت رہے مگر جیسا کہ ہومی بھابھا کہتا ہے کہ جب غلامی کا دور ٹوٹنے لگتا ہے تو وہ “گورا برتر” اور “مقامی کمتر” والی بائنری بھی کمزور پڑنے لگتی ہے۔۔ لوگ ان کرداروں کو نوآبادیاتی ورثہ کے طور پر پہچاننے لگتے ہیں۔ آقا تو پہلے بھی ان پر ہنستا تھا اور اب اپنی قوم میں بھی یہ طنز و تمسخر کا نشانہ بنتے ہیں ۔.
یہی وجہ ہے کہ آج یہ overperformed ویسٹرنائزیشن لوگوں کو اعلی تہذیب (sophistication) نہیں ۔بلکہ ایک عجیب قسم کی جڑوں سے بیگانگی (disconnect) اور احساسِ کمتری محسوس ہوتی ہے۔

دلچسپ اور خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ ردِعمل خود ایک بڑی سماجی تبدیلی کی علامت بن رہا ہے۔ آج عوام اپنی زبان، کھانوں، لہجوں اور مقامی شناخت پر پہلے سے کہیں زیادہ اعتماد محسوس کر رہے ہیں۔ دیسی ہونا اب شرمندگی یا کمتر ہونے سے منسوب نہیں رہا۔ سوشل میڈیا پر بے شمار پاکستانی اور انڈین ریلز میں نوجوانوں کو اپنی زبان، ثقافت، موسیقی، لباس اور کھانوں کو فخر سے assert کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی لیے آج درآمد شدہ مستعار ویسٹرنائزیشن
شائد پہلے جیسی مرعوبیت (admiration) پیدا نہیں کرتی، بلکہ اکثر مصنوعی پن، جڑوں سے بیگانگی اور نمائشی ایلیٹ ازم محسوس ہوتی ہے۔ چنانچہ بھونڈی نقالی اب تہذیب (sophistication) کی علامت کم، اور میمز و طنز کا موضوع زیادہ بنتی جا رہی ہے۔ اور یہی شاید اس وسیع تر ثقافتی/سماجی تبدیلی (broader cultural shift) کا سب سے واضح اشارہ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں