قصور کی اِس دوپہر میں آفت کی گرمی تھی، مگر عدالت کے اَحاطے میں جمع لوگوں کے چہروں پر جو تپش تھی، وہ موسم کی تو نہیں لگتی تھی بلکہ برسوں کے انتظار اور بے یقینی کی تھی۔ سیڑھیوں کے کنارے کھڑی وہ عورت۔۔صغری،اپنی اوڑھنی کو بار بار سنبھالتی، جیسے خود کو بکھرنے سے بچا رہی ہو۔ اُس کی آنکھوں کے نیچے ہلکے گہرے ہو چکے تھے، اور ہونٹوں پر ایک مستقل خاموشی ثبت تھی، جو شاید کبھی چیخ بننا چاہتی تھی مگر بن نہ سکی۔
صغریٰ کے شوہر، تصور حسین کو دن دہاڑے قتل ہوئے تین سال گزر چکے تھے۔ وہ ایک عام سا آدمی تھا،چھوٹی سی دکان، محدود سی آمدنی، اور بہت بڑے خواب۔ اُس کی ہنسی میں گھر کی رونق تھی۔ اور اُس کے جانے کے بعد وہ رونق جیسے کسی نے چرا لی تھی۔ قاتل نامزد تھا، گرفتار بھی ہوا، مگر مقدمہ،وہ تو جیسے ایک لمبی، تھکا دینے والی سڑک تھی، جو کہ تین سال ہونے کو آئے ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔
ہر پیشی پر صغریٰ اُمید لے کر آتی، اور مایوسی کا بوجھ اُٹھائے لوٹ جاتی۔ کبھی وکیل حاضر نہ ہوتا، کبھی گواہ، کبھی جج صاحب مصروف۔ تاریخ پر تاریخ، اور ہر تاریخ کے ساتھ اُس کی ہمت اب جواب دینے لگی تھی۔ اُس کے بیٹے نے ایک دن پوچھا تھا،”امّی، ابو کے قاتل کو کب سزا ملے گی؟”وہ جواب نہ دے سکی۔ اُس نے بس بچے کو سینے سے لگا لیا، جیسے اُس کے سوال کو اپنے دل میں دفن کر رہی ہو۔
اُس دن بھی عدالت میں غیر معمولی ہجوم تھا۔ لوگ سرگوشیوں میں مصروف تھے۔ صغریٰ نے ملزم کو دیکھا،وہی شخص جس کی وجہ سے اُس کی دُنیا اُجڑی تھی۔ وہ پرسکون کھڑا تھا، جیسے اُسے کسی انجام کا خوف نہ ہو۔ اُس کے چہرے پر ایک عجیب سی بے نیازی تھی، جو صغریٰ کے دل میں جلتی آگ کو اور بھڑکا دیتی تھی۔اس عرصہ میں صلح صفائی اور دیعت کی بات بھی ہوئی۔ لیکن صغریٰ کے لئے اپنے شورکے قاتل کو معاف کرنا، ناممکنات میں شامل تھا۔
“آج بھی شاید کچھ نہیں ہوگا۔”اُس کے وکیل نے آہستہ سے کہا،“جج صاحب کی مصروفیت ہے، اگلی تاریخ مل جائے گی۔“
یہ جملہ سن کر جیسے صغریٰ کے اندر جیسے کچھ ٹوٹ گیا۔ تین سال کی تھکن، ذلت، مالی پریشانیاں، لوگوں کے طعنے،سب ایک لمحے میں اُس کے سامنے ایک آہنی دیوار بن کر آ کھڑے ہوئے۔ اُسے لگا جیسے وہ کسی اندھے کنویں میں گر رہی ہو، جہاں نہ آواز واپس آتی ہے، نہ روشنی۔
عدالت کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اُس کے قدم بوجھل تھے، مگر دل میں ایک عجیب سا شور تھا۔ کارروائی شروع ہوئی، رسمی باتیں ہوئیں، اور پھر وہی جملہ،”اگلی پیشی کی تاریخ دی جاتی ہے۔“
بس، یہی وہ لمحہ تھا۔
صغریٰ کے کانوں میں جیسے ایک گونج پھیل گئی۔ اُسے کچھ صاف سنائی نہ دیا۔ اُس نے اپنے اردگرد دیکھا،ہر چہرہ اسے بے حس لگا، ہر آنکھ جیسے اُس کے دکھ سے بے خبر۔ اور پھر اُس کی نظر دوبارہ ملزم پر پڑی۔ وہ بدستور پرسکون تھا۔
کہتے ہیں بعض لمحے اِنسان کو اُس کی حدود سے باہر لے جاتے ہیں۔
صغریٰ نے اپنے پرس میں ہاتھ ڈالا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر ارادہ جیسے پتھر ہو چکا تھا۔ کسی کو کچھ سمجھ آنے سے پہلے، ایک تیز آواز گونجی،پھر دوسری،اور پھر خاموشی۔صغریٰ نے اپنے شوہر کے قاتل کو اپنے ہاتھوں سے پستول کے فائر کرکے انصاف حاصل کر لیا تھا۔
عدالت کا کمرہ جیسے ساکت ہو گیا۔
ملزم زمین پر گر چکا تھا، آخری سانس لے رہا تھا۔
لوگوں کی چیخیں، بھاگ دوڑ، پولیس کا شور۔۔سب کچھ ایک دُھند میں گم ہو گیا۔ صغریٰ وہیں کھڑی تھی، اس کے ہاتھ سے پستول گر چکا تھا۔ اس کے چہرے پر نہ فتح تھی، نہ پچھتاوا بس ایک گہری تھکن تھی۔
کسی نے اُسے پکڑا، کسی نے ڈانٹا، کسی نے افسوس کا اظہار کیا، مگر وہ سب آوازیں جیسے اُس تک پہنچ ہی نہ پا رہی تھیں۔ اُس کی نگاہیں خالی تھیں، جیسے وہ سب کچھ دیکھ کر بھی کچھ نہ دیکھ رہی ہو۔
جب اُسے پولیس کی حراست میں لے جایا جا رہا تھا تو اُس کے ذہن میں اپنے بیٹے کا چہرہ اُبھرا۔ وہی سوال،امّی، ابو کے قاتل کو سزا کب ملے گی؟“
صغریٰ کے لب ہلے، مگر آواز نہ نکلی۔شاید اُس نے سوچا…”سزا تو مل گئی… مگر کیا انصاف بھی مل گیا؟“یہ سوال جیسے ہوا میں معلق رہ گیا۔
شہر میں اِس واقعے کی بازگشت پھیل گئی۔ کچھ لوگوں نے صغریٰ کے عمل کو اُس کے صبر کا انجام کہا، کچھ نے اسے قانون شکنی قرار دیا۔ اخبارات نے سرخیاں بنائیں، سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔ مگر اِن سب شور شرابے کے بیچ ایک سچ کہیں دب سا گیا۔وہ سچ کہ انصاف میں تاخیر، کبھی کبھی انسان کو اندھیرے راستوں پر دھکیل دیتی ہے۔
مگر کیا یہ راستے درست ہوتے ہیں؟
عدالتیں، قانون، نظام۔۔یہ سب اِسی لیے تو ہیں کہ انسان اپنے ہاتھ خون سے نہ رنگے۔ اگر ہر زخمی دل خود فیصلہ کرنے لگے، تو معاشرہ جنگل بن جائے۔
صغریٰ کی کہانی ختم نہیں ہوئی تھی۔ اَب اِس پر ایک نیا مقدمہ تھا، ایک نئی جدوجہد، مگر اُس کے اندر جو کچھ ٹوٹا تھا، شاید وہ کبھی نہ جڑ پاتا۔
اور قصور کی اس دوپہر کا سورج، جو پہلے ہی تیز تھا، اب جیسے اور بھی سخت ہو گیا تھا—جیسے وہ بھی اس واقعے کا گواہ ہو، اور خاموشی سے یہ سوال دہرا رہا ہو ”انصاف… آخر کب؟“


