کیا آپ کی کوئی فیک آئی-ڈی ہے؟-ندا اسحاق

ایک بہت ہی دلچسپ ای-میل موصول ہوئی جس میں ایک نوجوان نے اپنا مسئلہ بیان کیا تھا اور مجھ سے حل بھی چاہا۔ مسئلہ کچھ یوں تھا کہ انکی ایک فیک آئی-ڈی ہے جس میں انہوں نے ایک ”ایلیٹ دوشیزہ“ کا خاکہ کھینچا ہے (مطلب یہی کہ وہ اس آئی-ڈی میں ایک فیک امیر لڑکی کا مکھوٹا لگائے ہوئے ہیں) اس آئی-ڈی پر وہ کافی وقت گزارتے ہیں، اور تنگ آچکے ہیں کیونکہ مزہ اب سزا میں تبدیل ہوگیا ہے، فینٹسی اب لت بن چکی ہے اور وہ اس سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔

میرا پہلا جواب تو یہی تھا کہ اگر آپ اس آئی-ڈی کے ذریعے لڑکوں سے پیسے ٹھگتے ہیں تو پھر اس میں کوئی پیچیدہ نفسیاتی پہلو نہیں بلکہ یہ اسکیم ہے جو آپ پیسوں کے لیے کررہے ہیں، سگمنڈ فرائیڈ بھی کہتے ہیں ”کبھی کبھار ایک سگار صرف سگار ہی ہوتا ہے“ مطلب یہی کہ ہر چیز کا ضروری نہیں کہ چھپا ہوا نفسیاتی پہلو ہو۔ لیکن یہ کیس دلچسپ تھا اور یہاں پیسوں کا معاملہ نہیں تھا…. اس کیس میں صرف اس نوجوان کو مزہ آتا تھا یہ سب کرکے۔ چونکہ نوجوان کا تعلق ایک عام متوسط گھرانے سے ہے اور ایک امیر لڑکی کا مکھوٹا لگا کر وہ متوسط گھرانوں کے لڑکوں کو بیوقوف بناتا ہے (یعنی کہ توجہ حاصل کرتا ہے) یہ سب اسے بہت مزہ دیتا ہے۔ نوجوان مجھے ای-میل میں کہتا ہے کہ میری وڈیوز دیکھ کر اسے اتنا تو اندازہ ہوچکا ہے کہ اس کے بچپن میں کئی ٹروما رہے ہیں اور اسکا یہ رویہ بھی بچپن کی محرومیوں کا نتیجہ ہو شاید لیکن وہ صحیح سے سمجھ نہیں پارہا کہ ایسا کیوں ہے۔

آپ نے یقیناً سوشل میڈیا پر کئی ایسی فیک آئی-ڈی دیکھی ہوگی جہاں لوگ کبھی اپنے نظریات یا جنسیت یا جنسی رجحان کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی فیملی ہسٹری، کلچر یا ملک کے قوانین کو ٹٹولا جائے تو اس بات کا ثبوت مل جاتا ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔

انٹر نیٹ اور فیک-آئی ڈی ایک محفوظ جگہ فراہم کرتی ہے آپ کو اپنی شخصیت کے ان پہلوؤں کا اظہار کرنے کے لیے جنہیں آپ اپنی حقیقی شناخت کے ساتھ نہیں کرسکتے، یوں آپ کی فینٹسی کو ایک محفوظ جگہ پرحقیقت میں تبدیل کرنے کا متبادل فراہم ہوجاتا ہے۔ لیکن کیا اس سے آپ کو نقصان ہوسکتا ہے؟؟ یا اسکا کوئی فائدہ ہے؟؟

میری ایک بات یاد رکھیے گا، آپ جب بھی اپنی فینٹسی کو بنا سوچے سمجھے یا آگاہی ہوئے حقیقت کا لباس پہنائیں گے تو وہ بہت بھیانک روپ اختیار کرلے گی۔ اس کی کئی ساری وجوہات میں ایک اہم وجہ ہے فینٹسی کا سہل اور آسان جبکہ حقیقت کا مشکل اور پیچیدہ ہونا۔ تبھی جو لوگ بنا سوچے سمجھے اپنی فینٹسی پر عمل کرتے ہیں انکو اس کے بہت برے نتائج سہنے پڑتے ہیں۔ ایک اور اہم بات کہ……زیادہ تر فینٹسی بچپن کی محرومیوں سے جنم لیتی ہے۔

ای-میل لکھنے والے نوجوان کا فیک آئی-ڈی والا کھیل انکے ذہن کا ایک ”شاہکار“ ہے، یہ انکی انا (ego) کا ”دفاعی طریقہ کار“ (defense mechanism) ہے بچپن کی محرومیوں اور موجودہ زندگی کی تلخ حقیقت سے نمٹنے کا۔ یہ لڑکا چاہتا تو بچپن کی محرومیوں اور تلخ حقیقت سے نمٹنے کے لیے کوئی نشہ بھی کرسکتا تھا لیکن اس نے پورا ایک افسانوی فیک کردار تشکیل دیا، جہاں یہ اس ایلیٹ لڑکی کا مکھوٹا لگا کر وہ سب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے حقیقت میں میسر نہیں۔ جتنا تخلیقی آپ کا ”ڈیفنس میکینزم“ ہوتا ہے اتنا ہی وہ پیچیدہ اور دلچسپ ہوتا ہے۔

ایک مرتبہ ایک کیس کو پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا جہاں ایک خاتون نے اپنے ذہن میں پوری ایک افسانوی کہانی رچی ہوئی تھی اور جب بھی تناؤ کا شکار ہوتی یا محرک (trigger) ہوتیں تو وہ ”خیالوں میں کھو جاتی“ (daydreaming)، اس خیالی دنیا کے سارے کردار اور کہانی کی گہرائی میں انکے بچپن کی محرومیاں تھیں، بیشک وہ خاتون ذہین اور تخلیق کار تھیں۔ اگر یہ لوگ کسی امیر مغربی ملک کے باشندے ہوتے تو یقیناً بہترین فکشن ناول لکھ سکتے تھے۔

انسانی ذہن خدا کا ایک ماسٹر-پیس ہے، یہ ماسٹر-پیس خوبصورت البتہ پیچیدہ ہے۔ ہمارا لاشعوری ذہن ”الفاظ“ نہیں بلکہ ”علامات“ (symbols) کے ذریعے بات کرتا ہے۔ اس نوجوان کے کیس میں سب سے دلچسپ وہ تمام علامات تھیں جو اس کے لاشعور کی عکاسی کرتی تھیں۔

ایلیٹ لڑکی کی پروفائل کو اگر سمجھنے کی کوشش کریں تو ان نوجوان کے کیس میں ایلیٹ لڑکی ایک ”علامت“ (سمبل) ہے، ہماری نفسیات ہم سے سمبل یعنی کہ علامات کے ذریعے مخاطب ہوتی ہے۔ خوبصورت ایلیٹ لڑکی جس کو چھونا یا حاصل کرنا آسان نہیں، جو پاورفل ہے، جسکی کیئر کی جاتی ہے، اسکا خیال رکھا جاتا ہے، جسے ہر کوئی نوٹ کرتا ہے، جس کی زندگی میں کوئی درد تکلیف نہیں، جو کچھ نہ بھی کرے تو صرف اسکی موجودگی (existence ) ہی کافی ہے، مڈل کلاس لڑکے اسے چاہتے ہیں، وہ نوٹس کی جاتی ہے، اسے ڈیزائر (desire) کرتے ہیں…..

ایک ایلیٹ لڑکی کے ذریعے خود کی خواہشات کا اظہار کرنا (self-expression) یونہی نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ اس نوجوان پر ایک لڑکا ہونے کے ناطے بہت ذمہ داریاں ہوں، اس کی اہمیت محض اس کے کام اور پیسوں سے جڑی ہو (جیسا کہ ہمارے یہاں مردوں کے لیے زیادہ تر یہی سوچا جاتا ہے)، اس کو نظراندازی کا سامنا رہا ہو، کبھی توجہ نہ ملی ہو، بہت ممکن ہے کہ حقیقی زندگی میں یہ نوجوان بےبس (powerless) محسوس کرتا ہو۔

بہت ممکن ہے کہ اس نوجوان کی نفسیات/شخصیت کا کوئی حصہ ایسا ہے جو پاور چاہتا ہے، انفلوئنس چاہتا ہے، جو شاید چاہتا ہے کہ اسکا خیال رکھا جائے، جو شاید نوٹ ہونا چاہتا ہے، توجہ چاہتا ہے، ڈیزائرڈ محسوس کرنا چاہتا ہے، بہت ممکن ہے کہ بچپن میں کیئر اور توجہ کی شدید کمی رہی ہو…..
جسکا اظہار اس فیک آئی-ڈی سے ہورہا ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نوجوان کو اس سب سے اب مشکل کیوں درپیش آرہی ہے؟؟؟

اس نوجوان کی انا (ego) نے ایک بہت ہی پار فل اور تخلیقی طریقہ ایجاد کیا اپنی تلخ حقیقت اور اس سے پیدا ہونے والے اضطراب (anxiety) سے بھاگنے کا…. ہر ایک کومنٹ، ہر ایک چیٹ ایک طاقتور ڈوپامین ہٹ (dopamine hit) ہے اس آئی-ڈی میں۔ تخلیقی اور طاقتور ہی سہی لیکن یہ ”ڈیفنس میکینزم“ ہے تو فینٹسی، اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ فنٹسی انزائٹی کو ختم کرنے کی بجائے اسے مزید بڑھاتی جارہی ہے، جیسے کوئی نشہ جب وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ ہونے لگے تو تکلیف کا باعث بننے لگتا ہے۔ اور یہی اس نوجوان کے ساتھ ہورہا ہے۔

اس کیس میں وہ لڑکی محض کوئی فیک آئی-ڈی نہیں بلکہ وہ اس نوجوان کی نفسیات اور شخصیت کا حصہ ہے۔ اسے سمجھنا اور اپنی نفسیات میں ضم (انٹیگریٹ) کرنا ضروری ہے اس نوجوان کے لیے۔ وہ اپنے ارمان خواہشات چاہتوں اور محرومیوں کو اس لڑکی پر ”پروجیکٹ“ (project) کرتا ہے، وہ اس کا ”اینیما“ (Anima) ہے۔ اینیما یعنی کہ آپ کی نفسیات کا وہ حصہ جو فی-میل نفسیات (خاص کر وہ مرد جنہیں بچپن میں کیئر اور توجہ نہ ملی ہو) کی خصوصیات رکھتا ہے (یہ تھیوری سائیکوانالسٹ کارل ینگ کی ہے)۔

بلکل اسی طرح ہر عورت کی نفسیات میں ”اینیمس“ (Animus) ہوتا ہے یعنی کہ میل-نفسیات (مردانہ نفسیات) تبھی کچھ عورتیں آزادی اور حاکمیت چاہتی ہیں (خاص کر وہ جنہیں سخت پابندیوں اور بےبسی کا سامنا رہا ہو بچپن میں)، جبکہ کئی مرد چاہتے ہیں کہ کوئی انہیں ویسے ہی پیار کرے جیسے وہ ہیں ، انکا خیال رکھے، صرف اس لیے محبت نہ کرے کہ وہ کتنا کماتا یا فراہم کرسکتا ہے۔

اگر یہ نوجوان میرا کلائنٹ ہوتا تو میں اس کی پوری پروفائل اور اور لڑکوں سے ہونے والی اس کی بات چیت کا جائزہ لیتی اور وہاں سے مجھے اس کی نفسیات، خواہشات اور محرومیوں کو مزید گہرائی اور عین ویسے ہی سمجھنے کا موقع ملتا جیسی وہ ہیں۔ کیونکہ اس لڑکی کی تصاویر، اسکی بات چیت، اسکا انداز….. وہ اور کوئی نہیں بلکہ اس نوجوان ہی کی شخصیت کا حصہ ہے، وہ اس کی شخصیت کا ہی ایک پہلو ہے۔

آخر میں اس نوجوان سے یہی کہا کہ اس میں شیم یا شرمندہ ہونے کی کوئی بات نہیں۔ اس کا ڈیفنس میکینزم بہت تخلیقی اور ایک ”جینیئس“ ہے۔ ورنہ حقیقت سے بھاگنے کے لیے کوئی نشہ بھی تو کیا جاسکتا تھا، لیکن پوری ایک پروفائل اور کہانی تشکیل دینا اس کی تخلیق کاری کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اور اس تخلیق کاری کو صحیح سمت میں استعمال کرنا ضروری ہے۔

البتہ جب تک یہ فینٹسی اور فیک-پروفائل اسکی نفسیات اور حقیقت کے ساتھ ضم (integrate ) نہیں ہوگی اضطراب بڑھتا جائے گا، اس نوجوان کا اضطراب اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ انا کے ڈیفنس میکینزم کو توڑتے ہوئے تلخ حقیقت کا سامنا ضروری ہے۔

(اگر آپ سائیکوانالیسس کو سمجھنا چاہتے ہیں یا کاؤنسلنگ سیکھنا چاہتے ہیں، تو مجھ سے میری ای-میل یا نمبر پر رابطہ کرسکتے ہیں)
Email: ishaquenida@yahoo.com

For consultation: 0318 7362206

#psychology #psychoanalysis #fakeids #fake #ego #shadow #selfawareness #carljung #CounsellingSupport

Nida Ishaque

اپنا تبصرہ لکھیں