سرگودھا کی سات سالہ بچی کی لاش کیا ملی پورا شہر ایک لمحے کے لئے ساکت ہوگیا۔ لوگ حیران تھے کہ ایک معمولی مالی جھگڑے نے کس طرح ایک معصوم جسم کو اس انجام تک پہنچا دیا۔ مگر حیرت دراصل اس بات پر تھی کہ ہم اب بھی حیران ہوتے ہیں۔ جیسے ہمیں معلوم نہ ہو کہ ہم کس عہد میں سانس لے رہے ہیں۔ جیسے ہم بھول جاتے ہیں کہ انسان کو شے میں بدل دینے والا یہ زوال اچانک نہیں آیا بلکہ برسوں سے ہمارے اندر پل رہا ہے۔ وہی زوال جسے میں نے دہلی کی جیوتی کے واقعے کے حوالے سے بھی دکھانے کی کوشش کی تھی اور لاہور کے جاوید اقبال کے اس گھر کا حال بیان کر کے بھی جہاں سو سے زائد بچوں نے اپنی آخری سانسیں لی تھیں۔جیوتی سنگھ کا واقعہ محض ایک جرم نہیں تھا۔ وہ ایک علامت تھی۔ ایک ایسی علامت جس نے یہ بتایا کہ معاشرے میں طاقت کا عدم توازن کس طرح معاشی طور پر نچلے طبقوں میں سرائیت کرنے کے بعد کس طرح جرائم کا سبب بنتا ہے ۔ دہلی کی سڑکوں پر چلتی بس میں جیوتی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ صرف جنسی ہوس کا نتیجہ نہیں تھا۔ وہ طاقت کے اس وحشی اظہار کا نتیجہ تھا جو کمزور کو اپنی مرضی کے بغیر استعمال کرنے کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ جیوتی کے حملہ آوروں نے اپنے جرم کی ذمہ داری بھی اسی پر ڈال دی۔ جیسے وہ خود نہیں تھے جیسے وہ صرف معاشرتی اور معاشی اشرافیہ کی طاقت کے بے قابو استعمال کا ایک ردعمل تھے، جیسے وہ صرف ایک سزا دینے والے ہاتھ تھے۔ یہی وہ منطق ہے جسے میں طاقت کی نفسیات کہتا ہوں۔یہاں سوسن براؤن ملر کا حوالہ ناگزیر ہے۔ اس نے اپنی کتاب میں ریپ کو تین بنیادی محرکات کے ساتھ جوڑا تھا۔
اول یہ کہ ریپ محض جنسی خواہش کا بے قابو اظہار نہیں بلکہ طاقت کے استعمال کا ایک طریقہ ہے۔
دوم یہ کہ ریپ غصے اور جارحیت کا اظہار ہے جس میں جسم کو سزا دینے کا عمل شامل ہوتا ہے۔
سوم یہ کہ ریپ ایک سماجی پیغام بھی ہوتا ہے جس کے ذریعے طاقتور جب اور جہاں اپنی طاقت کو ایکسرسائز کر کے کمزور کو اس کی جگہ یاد دلاتا ہے۔
یہ تینوں محرکات دہلی کی بس میں بھی موجود تھے۔ لاہور کے جاوید اقبال کے گھر میں بھی، اور سرگودھا میں بھی جہاں ایک بچی کی لاش خاموش پڑی تھی۔
لاہور میں جاوید اقبال سے ملاقاتیں آج بھی ذہن میں تازہ ہیں۔ اس کی گفتگو میں کوئی جنون نہیں تھا کوئی پاگل پن نہیں تھا۔ وہ ایک عام آدمی کی طرح بات کرتا تھا۔ اس کے اندر صرف ایک چیز غیر معمولی تھی۔ وہ یہ کہ اس نے انسان کو انسان نہیں سمجھا تھا۔ وہ اسے ایک شے سمجھتا تھا۔ ایک ایسی شے جسے استعمال کیا جا سکتا ہے اور استعمال کے بعد پھینکا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے بچے محض وہ جسم تھے جن کے ذریعے وہ اپنے اندر کے انتقام کو ٹھنڈا کرتا تھا۔ اس کے لئے ان بچوں کی زندگیوں کی کوئی حرمت نہیں تھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ ہمارے معاشرے میں انسانی جان کی توقیر ختم ہو چکی ہے۔
یہاں ایک اور غلطی ہے جو ہم بار بار دہراتے ہیں۔ جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو ہمارے تجزیہ نگار دو خانوں میں بٹ جاتے ہیں۔ ایک گروہ اسے جنسی گھٹن کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ دوسرا اسے مرد اور عورت کے صنفی تنازع میں تبدیل کرکے دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ میں نے بارہا عرض کیا ہے کہ یہ دونوں تشریحات سطحی ہیں۔ یہ معاملہ نہ جنسی گھٹن کا ہے اور نہ صنفی جنگ کا۔ یہ معاملہ معاشرے میں طاقت کی غیر مساوی تقسیم کا ہے۔ طاقت کی یہ ناہمواری معاشرے کی ہر پرت میں سرایت کر جاتی ہے۔ اوپر سے نیچے تک۔ مرکز سے حاشیے تک۔ اور چونکہ بچے اور عورتیں اس طاقت کی سیڑھی کے سب سے نچلے زینے پر کھڑے ہوتے ہیں اس لئے وہ سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے نظر انداز کر کے ہم ہر بار غلط دروازے پر دستک دیتے ہیں اور غلط نتیجے نکالتے ہیں۔
قصور میں زینب کے ساتھ جو ہوا وہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ ہم نے پھر وہی کیا جو ہمیشہ کرتے ہیں۔ ہم نے فحاشی کا رونا رویا۔ ہم نے پولیس کو کوسا۔ ہم نے سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا۔ ہم نے پھانسی کو حل سمجھا۔ مگر ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ مسئلہ کہیں اور ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں طاقت کو انسان پر فوقیت حاصل ہے۔ جہاں کمزور کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں۔ جہاں انسان کو شے سمجھنے کا رویہ عام ہو چکا ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جسے میں نیکروفیلیا کا سماجی پھیلاؤ کہتا ہوں۔ یہ مردہ جسموں سے محبت نہیں بلکہ زندہ جسموں کو مردہ سمجھ کر استعمال کرنے کا رویہ ہے اور جو معاملے کو گہرائی سے دیکھنے کے عادی ہیں وہ بآسانی دیکھ سکتے ہیں کہ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو ہر جرم کے پیچھے کار فرما دیکھا جا سکتا ہے۔
سرگودھا کی بچی کا قتل اسی رویے کا تازہ ثبوت ہے۔ قاتل نے اسے اس لئے مارا کہ اس کے والد سے جھگڑا تھا۔ یعنی ایک معصوم جسم کو ایک پیغام کے طور پر استعمال کیا گیا۔ جیسے وہ کوئی خط تھا جسے دشمن کے دروازے پر پھینکنا تھا۔ یہ وہی منطق ہے جو دہشت گردی میں بھی کارفرما ہے۔ جہاں انسانی جسم ایک ہتھیار بن جاتا ہے۔ جہاں زندگی کی حرمت ختم ہو جاتی ہے۔ جہاں موت ایک دلیل بن جاتی ہے۔پاکستان اور ہندوستان دونوں استعماریت زدہ معاشرے ہیں۔ دونوں میں طاقت کی پرستش عام ہے۔ دونوں میں کمزور کی زندگی بے وقعت ہے۔ دونوں میں مذہبی جنونیت بڑھ رہی ہے۔ دونوں میں اختلاف جرم بنتا جا رہا ہے۔ دونوں میں طاقتور کو معاف کر دیا جاتا ہے اور کمزور کو سزا دی جاتی ہے۔ یہی وہ ماحول ہے جہاں ریپ اور قتل جیسے جرائم بڑھتے ہیں۔ کیونکہ طاقتور جانتا ہے کہ وہ بچ جائے گا۔ اور کمزور جانتا ہے کہ اس کی چیخ کوئی نہیں سنے گا۔میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ سخت سزائیں ان جرائم کو نہیں روک سکتیں۔ پھانسی بھی نہیں۔ آگ میں جلانا بھی نہیں۔ کیونکہ مسئلہ سزا کا نہیں مسئلہ ذہن کا ہے۔ مسئلہ اس سوچ کا ہے جو انسان کو شے سمجھتی ہے۔ مسئلہ اس معاشرتی ساخت کا ہے جو طاقت کو انسان پر ترجیح دیتی ہے۔ جب تک یہ ساخت نہیں بدلے گی تب تک کوئی سزا کوئی قانون کوئی پھانسی ان واقعات کو نہیں روک سکے گی۔ہم اس وقت ایک ایسے عہد میں رہ رہے ہیں جہاں ہر انسان دوسرے انسان کے لئے ممکنہ خطرہ بن چکا ہے۔ جہاں ہر کمزور کسی بھی لمحے کسی بھی طاقتور کے ہاتھوں ریپ یا قتل کا شکار ہو سکتا ہے۔ جہاں ہر بچہ ہر عورت ہر غریب ہر اقلیت ایک ایسی دنیا میں سانس لے رہی ہے جس میں ان کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں۔ یہی وہ عہد ہے جسے میں عہد تار کہتا ہوں۔سرگودھا کی بچی کی قبر پر کھڑے ہو کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے انسان کو کھو دیا ہے۔ ہم نے اس کی حرمت کھو دی ہے۔ ہم نے اس کی زندگی کی قدر کھو دی ہے۔ اور جب معاشرے انسان کو کھو دیتے ہیں تو پھر ان کے پاس صرف لاشیں رہ جاتی ہیں۔ مردہ لاشیں، زندہ لاشیں اور خوف۔ اور وہ خاموشی جو ہر آنے والے جرم تک پھیل جاتی ہے۔


