پالتو جانور اور نٹشے کا گھوڑا/قاسم یعقوب

جانور یا زندہ حیات سے انسان کا تعلق کیا ہے؟ کیا ان چیزوں کی طرح جس طرح ماحول میں انسان کے اردگرد ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں؟ یا یہ تعلق ایک رشتہ ہے جس طرح ایک انسان کا دوسرے انسان سے ہوتا ہے۔ میں یہ سوال اس لیے بھی سوچ رہا ہوں کہ کچھ دن پہلے میرے ایک بچپن کے دوست نے مجھے باتوں باتوں میں بتایا کہ اس کی پالتو بلی مر گئی ہے۔ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ وہ کہیں گھر سے باہر نکل گئی تو باہر کتوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ وہ زخمی ہوگئی البتہ اسے بچا لیا گیا مگر کچھ ہی دنوں کے بعد وہ مر گئی۔ وہ اپنی بلی کے غم میں شدید نڈھال تھا ۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ ایک بے زبان جانور جب انسانوں سے رشتہ قائم کرتا ہے تو اس کی گہرائی کسی بھی انسانی جذباتی رشتوں سے کم نہیں ہوتی ہے۔میں ابھی اس کی باتیں سُن ہی رہا تھا کہ اس نے بتایا کہ اس نے غصے میں اپنے گلی کے تمام کتوں کو بے دردی دے قتل کر دیا۔ وہ کتوں کو شدید گالیاں دے رہا تھا۔ میں تو یہ سب سن کر شدید تکلیف کا شکار ہوا کہ ان جانوروں کا کیا قصور! ان کی تو فطرت ہے وہ بلی پر حملہ کریں گے۔ یہی بلی اگر چوہا دیکھے گی تو وہ اس پر جھپٹے گی۔ مگر کیا کہا جا سکتا ہے۔ میں کئی دیر یہ سوچتا رہا کہ آخر ایک پٹpet جو ہر وقت گھر میں ہے، انسان اس بے زبان سے فطری رشتہ قائم کیوں نہیں کر پاتا۔ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی بلی سے تو پیار کریں مگر معصوم کتوں کو قتل کر دیں۔ سچی بات ہے یہ PET بازی ایک ڈراما ہے۔ ہم انسان اس معاملے میں بے حدلالچی اور خود مطلبی ہیں۔ ہم جانور کو اس لیے گھر میں رکھتے ہیں کہ وہ ہماری خوشیوں کا سامان ہے۔ گھروں میں باغیچے اس لیے بناتے ہیں کہ ہمیں اس سے مسرت ملے۔ بالکل اسی طرح جس طرح اچھا صوفہ، اچھی گاڑی یا اچھے کپڑے پہنتے ہیں۔ یہ پٹ بازی تو اب باقاعدہ فیشن بن چکا ہے۔ درخت دوستی بھی امارت کا اظہار ہے۔ صرف یہاں نہیں بلکہ پوری دنیا میں اس خود غرضی کو نمایاں دیکھا جا سکتا ہے۔
ذرا سنئیے، نٹشے کے پاگل پن کی وجہ تو آپ نے سُن رکھی ہوگی۔ واقعہ یہ ہے کہ نٹشے ایک دن اپنے گھر سے باہر نکلے تو انھوں نے دیکھا کہ ایک تانگہ والا اپنے گھوڑے کو بے رحمی سے کوڑے مار رہا ہے کیوں کہ وہ گھوڑا کسی وجہ سے آگے بڑھنے سے انکاری تھا۔ نطشے، جو اپنی زندگی کے آخری سالوں میں شدید ذہنی تناؤ اور تنہائی کا شکار تھے، یہ منظر دیکھ کر جذباتی طور پر ٹوٹ گئے۔روایات کے مطابق، وہ بھاگتے ہوئے گھوڑے کے پاس گئے، اس کی گردن میں اپنی بانہیں ڈال دیں تاکہ اسے کوڑوں کی ضربوں سے بچا سکیں اور پھر وہیں سڑک پر گر کر زار و قطار رونے لگے۔ اس واقعے کے فوراً بعد، نطشے کا ذہنی توازن بگڑ گیا اور وہ اپنی آخری سانس یعنی1900ء تک دوبارہ کبھی مکمل ہوش و حواس میں نہیں آ سکے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ نٹشے جو طاقت کا داعی تھا اور انسان کی معراج طاقت کے غلبے کو سمجھتا تھا ایک گھوڑے پر ہونے والے ظلم پر اس قدر جذباتی ہوا کہ پاگل ہو گیا۔ وجہ شاید کوئی اور ہو۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے اندر کوئی اور نفسیاتی مسئلہ چل رہا ہو مگر وجہ تو ایک بے زبان جانور بنا نا۔ ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے کہ گھوڑے پر ظلم نے نٹشے کی انسانی جذباتی قوتوں کو ہلا کے رکھ دیا۔
مگر ہم اس قدر بے رحم اور بے حس ہوتے ہیں کہ جانور سے جذبات کی تربیت نہیں لے پاتے۔ کبوتر پالتے ہیں مگر پرندوں سے ایک رتی برابر محبت قائم نہیں کر پاتے۔گائوں میں ،گھروں میں بکریاں، گائیں اور گھوڑے رکھے ہوتے ہیں مگر مہمان آئے تو اسے فورا شکار پر لے جاتے ہیں اور معصوم پرندوں کی لاشیں گاڑی کے آگے سجا کے فخر سے تسویریں بنواتے ہیں۔ جانور انسانی جذبات پر جس قدر گہرا اثر چھوڑتے ہیں اس کا متباد ل فطرت کا کوئی عنصر نہیں ہو سکتا۔
ہمیں اپنے ماحول کی جمالیات کو ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ صنعتی سماج میں انسان نے فطرت کے اصل عناصر سے رشتہ کاٹ لیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں