پاکستان کے منتخب مقتدرہ اداروں پر فروری 2024ء کے بدترین دھاندلی ذدہ انتخابی عمل کے زریعے قابض ہونے والے سیاست دان ملک میں آئین شکنی ، قانون شکنی کرنے والی غیر منتخب ہئیت مقتدرہ کے جابرانہ ، غیر منصفانہ اقدامات کا دفاع “ریاست کی رٹ ” قائم کرنے کے نام پر کر رہے ہیں ۔ ان میں سے ایک جماعت جو اس ملک کے وفاقی منتخب اداروں میں حکومتی اور انتظامی عہدوں پر قابض ہے تو دوسری جماعت کے پاس صدر مملکت ، دو صوبوں کے گورنر ، چئیرمین سینٹ جیسے اہم اور بنیادی عہدے ہیں ۔ ایک جماعت اس ملک کے سب سے بڑے صوبے پر مشکوک مینڈیٹ کے ساتھ قابض ہے تو دوسری جماعت آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹے صوبے پر مشکوک مینڈیٹ کے ساتھ قابض ہے وہاں اس کی اتحادی وفاق اور صوبہ پنجاب میں قابض جماعت ہے ۔ یہ دونوں جماعتیں آزاد جموں و کشمیر میں ایک دوسرے کی اتحادی ہیں تو گلگت بلتستان میں یہ ایک مخصوص انتظام کے تحت اکثریتی جماعتیں بن کر ابھری ہیں اور حکومت اور اپوزیشن دونوں طرف کے عہدوں پر قابض ہونے جا رہی ہیں ۔
ان دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت کا بلوچستان ، آزاد جموں و کشمیر ، گلگت بلتستان اور خیبرپختون خوا کے علاقوں میں عوام کی تحریکوں کے بارے میں ایک سا موقف ہے اور وہ یہ ہے کہ وہاں یہ تحریکیں “ریاست کی رٹ ” چیلنج کر رہی ہیں ۔ آزاد جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ، خیبرپختون خوا میں پشتون تحفظ موومنٹ کو یہ باقاعدہ کالعدم قرار دے چکی ہیں ۔ جب کہ ان چاروں علاقوں میں سیکورٹی فورسز ، انٹیلی جنس اداروں کا رویہ ان چاروں تنظیموں ، ان کی قیادت اور حامی عوام کے ساتھ رویہ وہی ہے جو کالعدم تنظیموں ، دہشت گرد گروپوں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے اور ان دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت کے خیال میں یہ رویہ ٹھیک ہے اور ریاست کی رٹ قائم کرنے کے لیے ضروری ہے ۔
ان جماعتوں کی قیادت پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، خیبرپختون خوا میں ہونے والی جبری گمشدگیوں ، ماورائے عدالت قتل جیسی گھناؤنی حرکتوں پر خاموش بیٹھی ہیں ۔
میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت کے موقف اور رویے پر نہ تو حیران ہوں نہ ان کی روش کو غیر متوقع سمجھتا ہوں۔ لیکن اس معاملے میں پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کی ریاستی جبر و استبداد اور عدلیہ کی ناانصافی کی جو وکالت ہے وہ غیر متوقع بھی ہے اور اس کا بلوچستان کے بارے میں جو رویہ ہے وہ اس جماعت کی سابق مرکزی قیادت کے پچھتاوے اور ماضی سے سبق سیکھنے کے دعوے کے منافی بھی ہے ۔ اس کی مرکزی قیادت نے 2008ء ۔2012ء کے دوران مختلف مواقع پر عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ بلوچستان میں جو ہو رہا ہے وہ اس پر بے بس ، بے اختیار ہیں اور وہ اس کا سارا ملبہ مسلم لیگ نواز اور اس کی اتحادی جماعتوں پر ڈالتی رہی ہے۔ ان کے اس تاثر کے حق میں اس وقت کئی قسم کے شواہد جاتے بھی تھے ۔ لیکن 2021ء۔ 2026ء کے پانچ سالوں کے دوران اس نے نا صرف یہ تاثر دینا چھوڑا بلکہ کھل کر وہ مسلم لیگ نواز اور ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑی بھی نظر آئی ۔
بلاول بھٹو زرداری کا جملہ:
“ہم عورتوں کے احترام کے قائل ہیں لیکن جب ریاست کی رٹ چیلنج ہوتی ہے تو ریاست کو نہ چاہتے ہوئے بھی سخت اقدامات اٹھانا پڑتے ہیں۔”
اس بیان کا مرکزی مقدمہ یہ ہے کہ ریاستی طاقت کا استعمال کسی صنفی تعصب کا نتیجہ نہیں بلکہ “ریاستی رٹ” کے تحفظ کے لیے ایک ناگزیر اقدام ہے۔ دوسری طرف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا پورا متن اس دعوے کو چیلنج کرتا ہے اور یہ استدلال پیش کرتا ہے کہ مسئلہ ریاستی رٹ کا نہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور شہری حقوق کا ہے۔
ریاستی رٹ یا آئینی رٹ؟
جدید جمہوری نظریے میں ریاست کی “رٹ” محض طاقت کے استعمال سے قائم نہیں ہوتی بلکہ قانون کی حکمرانی، منصفانہ عدالتی عمل اور شہری حقوق کے تحفظ سے قائم ہوتی ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے بیان میں بار بار یہ سوال ابھرتا ہے کہ:
اگر مقدمات اوپن کورٹ کے بجائے فیس لیس ٹرائل میں منتقل کیے جا رہے ہیں،
اگر ملزمان کو اپنے منتخب وکلاء تک رسائی نہیں،
اگر سرکاری وکلاء ان کی مرضی کے بغیر مقرر کیے جا رہے ہیں،
اگر عدالتی کارروائی غیر معمولی عجلت سے چلائی جا رہی ہے،
تو پھر ریاست کی رٹ دراصل قانون کی حکمرانی سے ظاہر ہو رہی ہے یا محض ریاستی اختیار کے استعمال سے؟
یہاں ریاستی بیانیہ اور حقوقی بیانیہ ایک دوسرے سے ٹکراتے نظر آتے ہیں۔
“عورت ہونے” کا سوال
بلاول بھٹو کا جملہ دراصل ایک سیاسی دفاع ہے:
“ہم عورتوں کا احترام کرتے ہیں، لیکن…”
یہ “لیکن” پورے جملے کا اصل نکتہ ہے۔
ماہ رنگ بلوچ کے متن میں عورت ہونے کی حیثیت سے کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ ان کا استدلال یہ نہیں کہ چونکہ وہ عورت ہیں اس لیے انہیں استثنا ملنا چاہیے، بلکہ ان کا مؤقف ہے کہ:
انہیں ایک سیاسی کارکن کے طور پر منصفانہ ٹرائل ملنا چاہیے،
انہیں قانونی دفاع کا حق حاصل ہونا چاہیے،
مقدمات کھلی عدالت میں چلنے چاہئیں۔
یعنی ان کا مقدمہ صنفی نہیں بلکہ آئینی اور سیاسی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی اور “ریاستی رٹ”
بلاول بھٹو کے بیان کا ایک مفروضہ یہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سرگرمیاں ریاستی رٹ کو چیلنج کرتی ہیں۔
جبکہ ماہ رنگ بلوچ کے متن کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ:
ان کی جدوجہد سیاسی اور پرامن ہے،
راجی مچی کے بعد بھی مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا،
عدالتوں اور قانونی فورمز کو استعمال کیا جا رہا ہے،
احتجاج جیل کے اندر بھی پُرامن دھرنے کی صورت میں جاری ہے۔
یہاں اصل تنازع یہ ہے کہ ریاست جس عمل کو “رٹ کے خلاف چیلنج” سمجھ رہی ہے، تحریک اسے “جمہوری مزاحمت” قرار دے رہی ہے۔
عدلیہ کے بارے میں موقف
متن کا سب سے اہم حصہ عدلیہ پر تنقید ہے۔
ماہ رنگ بلوچ کا استدلال یہ ہے کہ:
عدالتیں آزادانہ کردار ادا نہیں کر رہیں،
ریاستی اداروں کے دباؤ کے تحت کام کر رہی ہیں،
فئیر ٹرائل کے اصولوں سے انحراف ہو رہا ہے۔
یہ دعویٰ درست ہے یا نہیں، اس کا حتمی فیصلہ آزاد عدالتی اور حقائق پر مبنی جانچ سے ہی ممکن ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ ان کے بیان کا مرکز ریاستی جبر سے زیادہ “عدالتی عمل کی شفافیت” ہے۔
تاریخی اور سیاسی تناظر
پاکستان کی تاریخ میں “ریاستی رٹ” کی اصطلاح بارہا استعمال ہوئی ہے:
مشرقی پاکستان میں،
بلوچستان میں مختلف ادوار کے فوجی آپریشنوں کے دوران،
وکلا تحریک سے پہلے عدلیہ کے بحران میں،
پشتون تحفظ موومنٹ اور دیگر احتجاجی تحریکوں کے حوالے سے۔
ناقدین کا استدلال رہا ہے کہ ریاستی رٹ کی بحث اکثر شہری آزادیوں اور سیاسی اختلاف کے سوال کو پس منظر میں دھکیل دیتی ہے۔
جبکہ ریاستی مؤقف یہ رہا ہے کہ اگر ریاست اپنی اتھارٹی برقرار نہ رکھ سکے تو انتشار اور بدامنی پیدا ہوتی ہے۔
نتیجہ
بلاول بھٹو زرداری کے بیان اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے متن کے درمیان اصل اختلاف عورت کے احترام یا عدم احترام کا نہیں بلکہ “ریاست” اور “شہری حقوق” کے تصور کا ہے۔
بلاول بھٹو کا استدلال یہ ہے کہ ریاستی اختیار کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات بعض اوقات ناگزیر ہوتے ہیں۔
ماہ رنگ بلوچ کا استدلال یہ ہے کہ اگر انہی اقدامات کے نتیجے میں شفاف ٹرائل، قانونی دفاع، وکیل تک رسائی اور بنیادی آئینی حقوق محدود ہو جائیں تو پھر ریاست اپنی آئینی بنیاد سے دور ہو جاتی ہے۔
چنانچہ اس پورے مباحثے کا بنیادی سوال یہ بنتا ہے:
کیا ریاست کی رٹ کا معیار صرف اطاعت ہے، یا پھر قانون کی حکمرانی، شفاف عدالتی عمل اور شہری آزادیوں کا تحفظ بھی اسی رٹ کا لازمی حصہ ہے؟
یہی وہ سوال ہے جو ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے پورے بیان کے مرکز میں موجود ہے اور جس کا جواب محض سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ آئین، قانون اور شفاف عدالتی عمل سے دیا جا سکتا ہے۔ جس کی طرف جانے کے لیے بلاول بھٹو تیار نہیں ہیں وہ قانون کی حکمرانی ، شفاف عدالتی عمل اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کرنے کی بجائے “ریاست کی رٹ ” قائم کرنے جیسے نعرے لگا کر ظلم اور نا انصافی کو جواز فراہم کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔


