بین الاقوامی سیاست میں کسی ملک کی اصل طاقت صرف اس کی عسکری یا معاشی قوت سے نہیں بلکہ اس کی سفارتی مہارت، متوازن خارجہ پالیسی اور عالمی امن کے لیے مثبت کردار سے بھی پہچانی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی عمل کی بحالی نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ مکالمہ اور سفارت کاری ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کا کردار اور اس کی قیادت کی کوششیں عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہیں، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان سفارتی عروج کی نئی بلندیوں پر گامزن ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کی حمایت کی ہے۔ وزیراعظم نے متعدد مواقع پر اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن اور معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے تمام فریقین کو تحمل اور بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کا یہ مؤقف پاکستان کی دیرینہ پالیسی کا عکاس ہے جو تنازعات کے پرامن حل پر یقین رکھتی ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سفارتی محاذ پر فعال کردار ادا کرتے ہوئے مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں اور مشاورت کے ذریعے پاکستان کے امن پسند مؤقف کو اجاگر کیا۔ ان کی قیادت میں وزارت خارجہ نے متوازن اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی کشیدگی کے بجائے مفاہمت اور مذاکرات کے حق میں کھڑا ہے۔
دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عسکری قیادت نے بھی قومی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خطے میں استحکام اور امن کے قیام کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی نے ملک کے سفارتی مؤقف کو مزید مضبوط کیا اور عالمی برادری میں پاکستان کی حیثیت کو ایک ذمہ دار اور قابل اعتماد ریاست کے طور پر مستحکم کیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی ماحول کی حوصلہ افزائی اور کشیدگی میں کمی کی حمایت دراصل پاکستان کی اس خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جو طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ذمہ دار اور مؤثر آواز کے طور پر ابھر رہا ہے۔
یہ حقیقت بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی موجودہ سفارتی کامیابیاں محض اتفاق نہیں بلکہ سیاسی قیادت، وزارت خارجہ اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اختیار کی گئی حقیقت پسندانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو پاکستان آنے والے برسوں میں نہ صرف خطے میں امن و استحکام کا ضامن بن سکتا ہے بلکہ عالمی سیاست میں ایک باوقار اور مؤثر کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔
بلاشبہ، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان آج سفارتی عروج کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے، اور اس کا یہ سفر امن، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی عالمی نظام کے قیام میں ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے


