کبھی کبھی ایک نام صرف ایک نام نہیں رہتا، وہ پورے معاشرے کے ضمیر پر ثبت ہونے والا ایک سوال بن جاتا ہے۔ آج ہانیہ احمد بھی ایسا ہی ایک نام ہے۔ نو برس کی ایک معصوم بچی، جس کی ہنسی، خواب اور معصوم خواہشیں اچانک ایک ایسے سانحے کی نذر ہو گئیں جس نے صرف ایک خاندان کو نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے شعور کو جھنجھوڑ دینا چاہیے تھا۔ ہانیہ احمد کی موت محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ ریاستی اختیار، انسانی جان کی حرمت، احتیاط، انصاف اور جوابدہی کے بارے میں ایک ایسا سوال ہے جو شاید آنے والے برسوں تک ہمارا پیچھا کرتا رہے گا۔ سوال یہ نہیں کہ ایک بچی کیوں ماری گئی، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سانحے سے کچھ سیکھیں گے بھی یا نہیں؟کبھی کبھی ایک خبر محض خبر نہیں ہوتی، وہ پورے معاشرے کے چہرے پر ابھر آنے والی ایک ایسی دراڑ بن جاتی ہے جس میں سے ہماری اجتماعی بے حسی، اخلاقی کمزوری اور فکری تضادات صاف دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ایک معصوم بچی کی موت بھی بظاہر ایک خبر تھی، چند لمحوں کے لیے سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنی، ٹی وی اسکرینوں پر چند تجزیے ہوئے، مذمتی بیانات جاری ہوئے اور پھر زندگی اپنی معمول کی رفتار سے آگے بڑھ گئی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سب کچھ معمول پر لوٹ آیا؟ کیا ایک ماں کے لیے زندگی ویسی ہی رہ جاتی ہے جس کی گود اچانک خالی ہو جائے؟ کیا ایک باپ کے لیے وقت ویسے ہی چلتا ہے جس کی آنکھوں کا خواب اس کے سامنے ٹوٹ کر بکھر جائے؟ اور کیا ایک معاشرہ واقعی زندہ کہلا سکتا ہے اگر اسے معصوم جانوں کی چیخیں بھی زیادہ دیر تک بے چین نہ رکھ سکیں؟
یہ واقعہ دراصل ایک بچی کی موت سے کہیں بڑھ کر ہمارے اجتماعی رویوں کا آئینہ ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں انسانوں سے زیادہ اداروں کی ساکھ عزیز ہو گئی ہے، جہاں بعض اوقات انصاف سے زیادہ وفاداریوں کی حفاظت کی جاتی ہے اور جہاں سچائی کو اس کے اخلاقی وزن سے نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور ادارہ جاتی نتائج سے ناپا جاتا ہے۔ اگر کوئی طاقتور فریق غلطی کر بیٹھے تو فوراً اس کی ماضی کی کامیابیوں کی فہرست سامنے رکھ دی جاتی ہے۔ اس کے کارنامے گنوائے جاتے ہیں، اس کی خدمات کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ماضی کی کامیابیاں حال کی غلطیوں کا کفارہ بن سکتی ہوں۔مگر انسانی جان کا فلسفہ اس منطق کو قبول نہیں کرتا۔ ایک معصوم زندگی کبھی بھی اعداد و شمار کے ترازو میں نہیں تولی جا سکتی۔ کسی بچی کی مسکراہٹ کو کسی ادارے کی کارکردگی رپورٹ میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ کسی ماں کے آنسو کسی کامیابی کے سرٹیفکیٹ سے خشک نہیں کیے جا سکتے۔ انسانی جان کی حرمت اس لیے عظیم ہے کہ اس کا کوئی متبادل نہیں۔ دنیا کی تمام کامیابیاں مل کر بھی ایک معصوم زندگی واپس نہیں لا سکتیں۔
تاریخ ہمیں ایک تلخ حقیقت بار بار یاد دلاتی ہے کہ معاشرے ظلم سے کم اور ظلم کی توجیہات سے زیادہ تباہ ہوتے ہیں۔ ظلم کرنے والے ہمیشہ محدود ہوتے ہیں مگر ان کی غلطیوں کو جائز ثابت کرنے والے اکثر زیادہ تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔ ہر دور میں کچھ لوگ یہ کہتے رہے ہیں کہ حالات ایسے ہی تھے، کچھ لوگ یہ کہتے رہے کہ نیت اچھی تھی اور کچھ لوگ مقصد کی عظمت کا حوالہ دیتے رہے۔ لیکن تاریخ نے ہمیشہ نتائج کو یاد رکھا، نیتوں کو نہیں۔ اسی لیے مہذب معاشروں میں طاقت سے زیادہ احتیاط کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اختیار جتنا بڑا ہو، ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہونی چاہیے۔ریاستی طاقت کا اصل حسن اس کے اختیار میں نہیں بلکہ اس اختیار کے استعمال میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ ایک عام آدمی کی غلطی چند افراد کو متاثر کرتی ہے لیکن ریاستی اختیار کی غلطی پورے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔ جب کسی کے ہاتھ میں قانون، اسلحہ اور طاقت ہو تو اس کے لیے غلطی کا دائرہ عام شہری سے کہیں زیادہ محدود ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت میں احتیاط، تصدیق اور ذمہ داری کو بنیادی حیثیت دی جاتی ہے۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ آخری راستہ ہونا چاہیے۔۔۔پہلا نہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر سانحے کے بعد احتساب کے بجائے وضاحتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ سوال پوچھنے والوں کو جذباتی، متعصب یا کسی خفیہ ایجنڈے کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ گویا سوال پوچھنا جرم بن چکا ہے۔ حالانکہ زندہ معاشرے سوالوں سے مضبوط ہوتے ہیں، خاموشیوں سے نہیں۔ جو قومیں اپنے اداروں سے سوال پوچھنا چھوڑ دیتی ہیں، وہ رفتہ رفتہ اپنی اصلاح کی صلاحیت بھی کھو دیتی ہیں۔ تنقید دشمنی نہیں ہوتی، بلکہ اصلاح کا پہلا زینہ ہوتی ہے۔اس واقعے نے ایک اور حقیقت کو بھی بے نقاب کیا ہے کہ ہماری اجتماعی یادداشت کتنی مختصر ہو چکی ہے۔ چند دن غصہ، چند دن افسوس، چند دن بحث اور پھر ایک نیا موضوع۔ گویا انسانی جانیں نہیں بلکہ صرف خبروں کے عنوان بدلتے ہیں۔ ڈیجیٹل دور کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ معلومات بڑھ گئی ہیں مگر احساس کم ہو گیا ہے۔ ہم روز درجنوں سانحات کی خبریں سنتے ہیں، روز کئی معصوم لوگوں کی اموات کے بارے میں پڑھتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ ہمارا دل ان سب کا عادی ہوتا جا رہا ہے۔ یہ عادت ہی دراصل سب سے خطرناک بیماری ہے، کیونکہ جب ظلم معمول بن جائے تو انسانیت غیر معمولی ہو جاتی ہے۔
ہم اکثر متاثرہ شخص کی جگہ خود کو رکھ کر سوچنے سے گریز کرتے ہیں۔ اگرہانیہ احمد ہماری بیٹی ہوتی تو کیا ہم بھی اتنے ہی مطمئن ہوتے؟ کیا ہم بھی یہی دلائل دیتے؟ اگر یہ سانحہ ہمارے خاندان کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو کیا ہم بھی کہتے کہ ’’ایسا تو ہو جاتا ہے‘‘؟ انصاف کا حقیقی معیار یہی ہے کہ ہم دوسروں کے درد کو بھی اپنے درد کی طرح محسوس کر سکیں۔جب احساس ختم ہو جائے تو انسان باقی رہتا ہے مگر اس کی روح انسانیت سے خالی ہو جاتی ہے۔ریاست کی اصل طاقت نہ اس کے ہتھیار ہوتے ہیں، نہ اس کے دفاتر اور نہ ہی اس کے قوانین کی موٹی کتابیں۔ ریاست کی اصل طاقت اس اعتماد میں ہوتی ہے جو ایک عام شہری اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔ وہ اعتماد جو ایک ماں کو یقین دلاتا ہے کہ اس کے بچے محفوظ ہیں۔ وہ اعتماد جو ایک مسافر کو یہ اطمینان دیتا ہے کہ وہ سکون سے اپنے گھر پہنچ جائے گا۔ وہ اعتماد جو شہری اور ریاست کے درمیان ایک خاموش معاہدے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب یہ اعتماد کمزور پڑنے لگے تو ریاست کی اخلاقی بنیادوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔
اعتماد کبھی خوف سے پیدا نہیں ہوتا، اعتماد انصاف سے پیدا ہوتا ہے۔ اعتماد طاقت کے اظہار سے نہیں بلکہ جوابدہی سے جنم لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں غلطی کو چھپانے کے بجائے اسے تسلیم کرنے کو طاقت سمجھا جاتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ غلطی کا اعتراف اداروں کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتا ہے، کیونکہ اس سے عوام کو یقین ہوتا ہے کہ نظام خود کو درست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اصل بحران غلطی نہیں ہوتی، اصل بحران غلطی کو غلطی ماننے سے انکار ہوتا ہے۔یہ سانحہ دراصل ہمارے سامنے ایک بڑا سوال رکھتا ہے۔ ہم آخر کس قسم کا معاشرہ بننا چاہتے ہیں؟ کیا ہم ایسا معاشرہ بننا چاہتے ہیں جہاں طاقتور ہمیشہ درست سمجھا جائے؟ یا ایسا معاشرہ جہاں سچائی طاقت سے بڑی ہو؟ کیا ہم وہ قوم بننا چاہتے ہیں جہاں سوال پوچھنے والوں کو خاموش کرا دیا جائے؟ یا وہ قوم جہاں سوالات کو اصلاح کا ذریعہ سمجھا جائے؟ یہ فیصلہ صرف ریاست نے نہیں کرنا، ہم سب نے کرنا ہے، کیونکہ قومیں صرف حکمرانوں سے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی شعور سے بنتی ہیں۔ایک طرف ریاست کے پاس اختیار ہے، قانون ہے، طاقت ہے اور وسائل ہیں۔ دوسری طرف ایک ماں کی دعا ہے، ایک باپ کی ٹوٹی ہوئی امید ہے اور ایک بچی کی خاموش تصویر ہے۔ وقت گزر جائے گا، خبریں بدل جائیں گی، چہرے بدل جائیں گے، مگر تاریخ ایک دن ضرور یہ سوال پوچھے گی کہ جب ایک معصوم جان انصاف مانگ رہی تھی تو ہم کس کے ساتھ کھڑے تھے؟ انسان کے ساتھ یا اختیار کے ساتھ؟ کیونکہ کسی بھی معاشرے کی اصل تہذیب کا فیصلہ اسی سوال کے جواب سے ہوتا ہے۔


