کیا ریپسٹ مشتاق احمد یوسفی کو پڑھ کر ریپ کر رہا ہے؟- محمد حسنین اشرف

مشتاق احمد صاحب یوسفی کے ہاں اور عموماً ہمارے ادب میں متعدد مثالیں مل جائیں گی جنہیں باآسانی مسوجنی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ایسی کسی بھی نشاندہی پر پریشان ہونے کی بجائے شکرگزار ہی ہونا چاہیے اور اسے ہرگز کسی بھی نوعیت کے ادب اور مزاح کا لبادہ فراہم نہیں کرنا چاہیے۔ یوسفی صاحب کے ہاں ایسی مثالیں موجود ہیں جنہیں آپ مسوجنی سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ لیکن ایسے کسی بھی نقد کو ادب و ادبیات کے دائرہ کار میں ہی رہنا چاہیے بھان متی کا کنبہ نہیں بننا چاہیے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ صاحب اگر مشتاق احمد صاحب یوسفی کو پڑھنے والا طبقہ ایک خاص طبقہ ہے تو اٗن کے ہاں سے مسوجنی کی نشاندہی کرنے والا طبقہ بھی خاص ہی ہے۔ تھڑے پر بیٹھے شخص کی دسترس میں نہ تو یوسفی صاحب ہیں اور نہ ہی یوسفی صاحب پر وارد ہونے والا یہ نقد ہے۔ ریپسٹ فیض میلے یا علی آڈیٹوریم کی دیواریں لانگھ کر ضیا محی الدین کو سٗننے نہیں جاتا۔ سو یہ جس در و دیوار کی باتیں ہیں انہیں وہیں رہنا چاہیے۔ سماج میں مسوجنی اور خاتون دشمنی عموماً بہت رواج پاچکی ہے اس پر بات ہونی چاہیے۔ پچھلے ہی دنوں ڈاکٹر پر تیزاب اٗنڈیلنے والا نظر اکبر آبادی سے متاثر نہیں تھا اور نہ ہی اس نے نیبھا سے متعلق کوئی شذرہ پڑھ رکھا تھا۔

ریپسٹ کی نفسیات ایک خاص نفسیات ہیں جس کا سماجی جائزہ نہایت ضروری ہے لیکن اس کے جائزے میں مشتاق احمد یوسفی کو گھسانا نہیں چاہیے۔ یوسفی صاحب ادب کے آدمی ہیں، ان کی رسائی اور ان کا تمام تر کام یہیں ہے۔ ان پر نقد یہیں ہونا چاہیے اور یہیں تک رہنا چاہیے۔ اس کے دو نقصانات ہیں ایک تو ادبی نقد، ادبی نہیں رہتا اور جس موضوع پر بات ہونی چاہیے اور جس کا تجزیہ ہونا چاہیے یعنی ریپ اور ریپسٹ وہ دونوں ادب کی بحث میں کہیں پیچھے گم ہوجاتے ہیں۔ پھر اچانک سے کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے اور ہمارے دانشور کے ہاتھ میں جو چپل جوتا آتا ہے وہ کھینچ مارتا ہے۔ پھر نشانہ سیدھا پڑے یا اٗلٹا۔ ہماری بلا سے!
ادب میں ہونے والی آبجیکٹفیشن بری ہے لیکن کیا وہ سماج میں ہونے والے ریپ سے براہ راست متعلق ہے؟ یہ نہایت مشکل سوال ہے۔ سماج میں اور جس سطح پر ان جرائم کا ارتکاب زیادہ ہوتا ہے وہاں ہونے والی آبجیکٹفکیشن اور ہی شے ہے۔ آپ اگر کسی گاؤں محلے سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ وہاں خواتین سے متعلق ہونے والی گفتگو کا تعلق کسی ادب وغیرہ سے نہیں ہے۔ ہاں ادب میں ہونے والی اس نوعیت کی کسی بھی حرکت پر بات ادب کے دائرے میں ہونی چاہیے ریپ کے الزام سے نہیں ہونی چاہیے۔

یہ سوالات بہرحال نہایت اہم ہیں کہ ہمارے ہاں یہ درندے کیونکر پیدا ہو رہے ہیں؟ ہمارے بچے اور بچیاں کیونکر محفوظ نہیں ہیں؟ وہ کیا اقدامات ہیں جو ہم ان کو ختم کرنے کے لیے اٹھا سکتے ہیں۔ ریپ کے لیے گفتگو کا مقام یہ ہے۔ رہی بات کہ ایسی کسی ایک شے سے یوسفی صاحب کا عہد تمام ہوجاتا ہے تو ایسی باتیں بچگانہ اور بچکانہ دونوں ہیں۔ ہم یوسفی صاحب کے عہد میں ہی جی رہے ہیں۔

آخری بات ازراہ عنایت ہر شے آبجیکٹفکیشن نہیں ہوتی مثلاًنیبھا والا شذرہ جس کی دہرائی تہرائی ہو رہی ہے ذرا مشق سخن فرمائیے، پہلے بتائیے کہ کسی بھی شے کو آبجیکٹ بنا دینا کیا ہوتا ہے اور حسن کی تعریف کیا ہوتی ہے؟ کیا نبیھا کے ہنر کی تعریف کے باوجود وہاں صرف اس کی شخصیت کو گھٹا کر نسوانیت اور اعضا تک محدود کیا جا رہا ہے؟ کوشش کیجیے اور ایک ہی کام پورا کرلیجیے۔ اگر ہم ریپسٹ کی نفسیات اور سماجی مسئلوں پر جم کر بات نہیں کرسکتے تو کم از کم ادبی نقد ہی پورا کرلیں۔ نہیں؟

اپنا تبصرہ لکھیں