گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں “گائنی فیمینزم” کے نام سے ایک نیا بیانیہ سامنے آیا ہے، جس کی نمایاں ترین آوازوں میں ایک نام ڈاکٹر طاہرہ کاظمی صاحبہ کا بھی ہے۔ متعدد کتابوں، مسلسل سوشل میڈیا تحریروں اور عوامی گفتگو کے ذریعے انہوں نے اس بیانیے کو متعارف کروایا، اور حال ہی میں اسی عنوان سے اپنی نئی کتاب بھی شائع کی۔
میرا اختلاف کسی ایک کتاب، کسی ایک پوسٹ یا کسی ایک حالیہ تنازع سے نہیں۔ میرا اختلاف اُس مجموعی طرزِ استدلال سے ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے ان کی تحریروں میں مسلسل دکھائی دیتا ہے۔ میرے نزدیک یہ طرزِ فکر فیمینزم کے دائرۂ اثر کو وسیع کرنے کے بجائے غیر ضروری صف بندی، لیبلنگ اور عورت بمقابلہ مرد کی تقسیم کو تقویت دیتا ہے۔
ایک سماجیات دان کی حیثیت سے، اسی لیے ڈاکٹر طاہرہ کاظمی صاحبہ سے میری صرف تین گزارشات ہیں۔
پہلی گزارش
گائناکالوجسٹ ہونا اور فیمینسٹ ہونا دو الگ الگ حیثیتیں ہیں۔ ایک گائناکالوجسٹ یقیناً فیمینسٹ بھی ہو سکتی ہے، لیکن گائناکالوجی کی مہارت بذاتِ خود فیمینزم پر علمی اختیار فراہم نہیں کرتی۔ مجھے آپ کی طبی مہارت پر کوئی دو رائے نہیں، اور آپ یقیناً اپنی فیلڈ میں ایک قابل معالج ہوں گی۔ لیکن فیمینزم عورت کے جسم کا مطالعہ نہیں، بلکہ ایک سماجی، تاریخی، قانونی، نفسیاتی اور فلسفیانہ روایت ہے، جس پر مختلف علمی شعبوں میں دہائیوں سے تحقیق اور مکالمہ ہوتا آیا ہے۔ اس لیے کسی گائناکالوجسٹ کی فیمینزم پر رائے اتنی ہی قابلِ احترام ہے جتنی کسی بھی دوسرے فرد کی۔ گائناکالوجسٹ ہونا، فیمینزم کی حتمی ترجمانی کا اختیار نہیں دیتا۔
دوسری گزارش
ڈاکٹر صاحبہ، آپ کی تحریروں کو پڑھ کر مجھے بارہا یہ احساس ہوا کہ شاید آپ ایک مرد کے ظلم پر آواز اٹھانے اور مردوں کو بحیثیتِ جنس ظلم کی علامت بنا دینے کے درمیان موجود بنیادی فرق کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔ کسی ایک مرد کے ظلم پر خاموش رہنا یقیناً ناانصافی ہے، لیکن اسی ظلم کو تمام مردوں کی اجتماعی اخلاقی شناخت بنا دینا بھی انصاف کے اسی اصول سے انحراف ہے جس کے تحفظ کے لیے خود فیمینزم وجود میں آیا تھا۔
ہر بڑی سماجی تحریک چند بنیادی اصولوں پر استوار ہوتی ہے، اور انہی اصولوں سے اس کی اخلاقی ساکھ قائم رہتی ہے۔ جب کوئی تحریک انہی اصولوں سے دور ہونا شروع ہو جائے تو وہ اپنے مخالفین سے پہلے خود اپنے مقدمے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ فیمینزم کا بنیادی مقدمہ یہی تھا کہ کسی عورت کا فیصلہ محض اس کی جنس کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے ایک مکمل انسان اور ایک منفرد فرد کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر یہی اصول مردوں کے معاملے میں ترک کر دیا جائے تو پھر مسئلہ صرف مردوں کے ساتھ ناانصافی کا نہیں رہتا، بلکہ خود انصاف کا معیار مجروح ہونے لگتا ہے۔ ظلم ہمیشہ ظالم کا وصف ہوتا ہے، کسی پوری جنس کا نہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سماجیات اور سماجی نفسیات، دونوں، تقریباً اسی نتیجے پر پہنچتی ہیں۔ Henri Tajfel کی Social Identity Theory، G. A. Quattrone اور Edward E. Jones کے Outgroup Homogeneity Effect، اور Jack W. Brehm کی Psychological Reactance Theory، تینوں اسی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ جب انسانوں کا فیصلہ ان کے کردار کے بجائے صرف ان کی گروہی شناخت کی بنیاد پر کیا جانے لگے تو وہ اپنے رویّے پر غور کرنے کے بجائے اپنی شناخت کے دفاع میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یوں مکالمہ سمٹ جاتا ہے، محاذ آرائی بڑھنے لگتی ہے، اور وہ لوگ بھی دور ہو جاتے ہیں جنہیں قائل کرنا اصل مقصد ہوتا ہے۔ اسی لیے تاریخ کی کامیاب ترین سماجی تحریکیں افراد کے اعمال، رویّوں اور اداروں پر تنقید کرتی ہیں، پوری جنس یا پوری شناخت کو اخلاقی مجرم قرار دینے سے گریز کرتی ہیں۔
تیسری گزارش
فیمینزم صرف ناانصافی کی نشاندہی کرنے کا نام نہیں، بلکہ حقیقت کی دیانت دار نمائندگی کی ذمہ داری بھی ہے۔ جو شخص خود کو کسی سماجی جدوجہد کا نمائندہ بناتا ہے، اس کے الفاظ صرف الفاظ نہیں رہتے، وہ لوگوں کے ذہنوں میں معاشرے کی ایک تصویر بھی بناتے ہیں۔ اس لیے ایک فیمینسٹ پر دوسروں سے بڑھ کر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہر دعوے کو احتیاط، دیانت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کرے۔
ڈاکٹر صاحبہ، آپ کی تحریروں کو پڑھتے ہوئے مجھے بارہا یہ بھی محسوس ہوا کہ آپ بعض اوقات چند واقعات، محدود مشاہدات یا انفرادی تجربات سے ایسے عمومی نتائج اخذ کر لیتی ہیں جو ان واقعات سے کہیں بڑے ہوتے ہیں۔ عورت، مرد، جنسیت اور ازدواجی تعلقات کے بارے میں آپ کی متعدد تحریروں میں یہی طرزِ استدلال دکھائی دیتا ہے۔ خواتین کی اندامِ نہانی پر تالے لگانے سے متعلق آپ کا بیان بھی میرے نزدیک اسی سلسلے کی ایک مثال ہے۔
ممکن ہے ایسے واقعات کہیں موجود ہوں، اور اگر موجود ہیں تو یقیناً ان پر بات ہونی چاہیے۔ لیکن کسی استثنا کو معمول، کسی محدود تجربے کو اجتماعی حقیقت، اور کسی ایک مشاہدے کو پورے معاشرے کی نمائندہ تصویر بنا دینا کسی صاحبِ قلم کو زیب نہیں دیتا، اور ایک فیمینسٹ سے تو اس کی توقع کی ہی نہیں جا سکتی۔ کیونکہ جو تحریک انصاف کی داعی ہو، اس پر حقیقت کے ساتھ انصاف کرنے کی ذمہ داری دوسروں سے بڑھ کر عائد ہوتی ہے۔
اسی لیے مجھے آپ سے اختلاف کسی ایک رائے پر نہیں ہے۔ آپ کے اس طرزِ استدلال پر ہے جو پیچیدہ سماجی حقیقت کو ایک سادہ اور یک رُخے بیانیے میں ڈھال دیتا ہے۔ انصاف صرف مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام نہیں، بلکہ حقیقت کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام بھی ہے۔ اور میرے خیال میں اس وقت فیمینزم کی سب سے بڑی اخلاقی ذمہ داری یہی ہے۔
آخر میں…
آخر میں ایک ذاتی گزارش، ڈاکٹر صاحبہ۔
مجھے معلوم ہے کہ آپ گائناکالوجسٹ ہیں، اور پیشے کی مجبوریوں کے تحت آپ کو ان موضوعات پر بات کرنا پڑتی ہے۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گی کہ یہ آپ کا احسان ہے کہ آپ ان موضوعات پر کھل کر بات کرتی ہیں، کیونکہ اس سے یقیناً بہت سی خواتین کو آگاہی ملتی ہے۔
لیکن خدارا… کبھی کبھار محبت کو محبت کی طرح بھی بیان کر دیجیے۔
اب تو حال یہ ہے کہ کبھی کوئی رومانوی منظر پڑھتے ہوئے، دیکھتے ہوئے، یا خود زندگی میں جیتے ہوئے، اچانک آپ کی کوئی پوسٹ دماغ میں آ جائے تو ایک عجیب سی جھرجھری آ جاتی ہے۔
بحیثیت ایک عورت، میں ویسے بھی رومانویت کی لاعلاج مریضہ ہوں۔ آپ کی تحریریں پڑھ کر پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ شاید اس بیماری کا علاج دریافت ہو چکا ہے۔ مجھے اپنی صحت سے کوئی شکایت نہیں، اس لیے براہِ کرم میری بیماری کو اسی حال پر رہنے دیجیے۔
نوٹ: اس تحریر میں، اختصار کے پیشِ نظر، میں نے صرف اپنی تین گزارشات پیش کی ہیں۔ ان گزارشات کی سماجی، تاریخی اور نظریاتی بنیاد میں نے ایک الگ مضمون میں بیان کی ہے، جس کا عنوان ہے:
“فیمینزم سے سوشل میڈیا فیمینزم تک—ایک سماجیاتی مطالعہ”
یہ تحریر بھی مکالمہ پر شائع ہو چکی ہے۔
میری ان تین گزارشات کا مکمل تناظر اسی مضمون میں بیان کیا گیا ہے۔


