“چند باتیں میر انیس کے بارے میں: کچھ تذکرہ ،کچھ تفہیم ”
انیس ، شاعروں کے خاندان میں پیدا ہوئے۔ کچھ نامی گرامی، کچھ بس اوسط درجے کے۔
میر ضاحک ، ہجو گو تھے۔ سودا کے ہم عصر تھے ،اور سودا کی ہجو کا نشانہ بھی۔ ان کے بیٹے میر حسن تھے ۔انھوں نے مثنوی میں نام کمایا۔ سحر البیان لکھ کر اردو شاعری کی تاریخ میں نمایاں جگہ حاصل کر لی۔
دہلی اجڑ رہی تھی ۔ میر ضاحک ، میر حسن کے ساتھ فیض آباد چلے آئے۔ لکھنؤ سے بھی گزرے اور لکھنؤ کی ہجو لکھ ڈالی۔ اسی لکھنؤ کی، جس میں کوئی نصف صدی بعد،انھی کے ایک پوتے نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالنا تھا۔
اس ہجو میں، لکھنؤ کی گلیوں کا تنگ تر کہا ،جہاں ہوا نہیں گزرتی ، بس خاک اڑتی ہے۔ ایک شعر میں تو حد کردی:
زبس کوفہ سے یہ شہر ہم عدد ہے اگر شیعہ کہیں نیک اس کو بد ہے
لکھنؤ کو کوفہ ہی کہہ دیا، حالاں کہ اسی لکھنؤ نے کوفے اور کوفیوں کو اردو مرثیے کے ذریعے، ایک مستقل ملامت کا نشانہ بنانا تھا۔ میر حسن نے کوفہ ولکھنو میں ابجدی مماثلت تلاش کی۔ دونوں کے عدد۱۱۱ ہیں ۔
یہ ہجو، آصف الدولہ کے دل کا کانٹا بن گئی۔ آصف الدولہ کو لکھنؤ بہت عزیز تھا۔ ان کے والد شجا ع الدولہ کو فیض آباد عزیز تھا۔
جب ان کا انتقال ہوا(۱۷۷۵ء) ہو اتو آصف الدولہ اپنی والدہ بہو بیگم سے ناراض ہوئے اور لکھنؤ چلے آئے۔ میر حسن نے ہجو میں مبالغہ کیاتھا، غلط بیانی نہیں کی تھی۔ تب لکھنؤ ایک نیا جنم لینے کے مرحلے میں تھا۔ ابھی وہ لکھنؤ نہیں بنا تھا، جس کا مرثیہ بعد میں عبدالحلیم شرر اور دیگر کو لکھنا تھا۔
خیر، فیض آباد میں میر ضاحک کی آل اولاد پلی پڑھی۔ میر حسن کے سب بیٹے شاعر ہوئے۔ ناموری ، میر مستحسن خلیق کے حصے میں آئی۔کہا جاتا ہے کہ ان کا یہ شعر سن کر آتش نے اپنی غزل پھاڑ دی تھی۔
رشک آئنہ ہے ، اس رشک قمر کا پہلو صاف ادھر سے نظر آتا ہے ، ادھر کا پہلو
اس طرح کی باتیں مبالغہ آمیز ہوا کرتی ہیں۔ مقصد، اس شعر کی تعریف تھا۔
تاہم خلیق نے شہرت، غزل سے زیادہ مرثیے میں پائی۔ ان کے بھی تین بیٹے تھے ۔ تینوں شاعر تھے۔ان میں ایک میر ببر علی تھے۔ یہ خاندان مصحفی اورناسخ سے مشورہ سخن کیا کرتا تھا۔
میر ببر علی ،حزیں تخلص کرتے تھے۔ ناسخ نے مشورہ دیا کہ انیس تخلص مناسب رہے گا۔ اس طرح میر ببر علی رضوی، میر انیس ہوگئے۔ باقی دونوں بھائیوں کے تخلص بھی شاید ، اسی رعایت سے رکھے گئے۔ انس اور مونس۔
لیکن بھائیوں ہی میں نہیں، پورے خاندان میں کوئی دوسرا انیس نہیں ہوا ۔ پورے خاندان کیا،اردو کی پوری شعری روایت میں کوئی دوسرا انیس نہیں ہوا۔
دبیر سے ،کئی لحاظ سے ،ان کی ٹکر کے تھے، لکھنؤ کا ایک حصہ اگر انیس کے ساتھ تھا تو دوسرا حصہ دبیر کے ساتھ تھا۔ایک طرف انیسیے ، دوسری طرف دبیریے تھے۔ شیخ گوہر علی مشیر نے یوں ہی نہیں کہا تھا :
قصہ عمر کا ہے نہ جناب امیر کا بس جھگڑ ا رہ گیا ہے انیس ودبیر کا
مگر وقت انیس کے ساتھ تھا۔ دبیر ٹھہر سکا نہ دبیریے۔ سچ یہ ہے کہ وقت پہلے دن سے انیس کے ساتھ تھا۔
ایک خاندان کے سب مرد شاعر ہوں ، سب کو یکساں ماحول ،یکساں تعلیم، یکساں توجہ پھر کیا وجہ ہے اس میں امتیاز ایک پشت میں،صرف ایک کے حصے میں آیا۔اس زمانے ہی میں نہیں، بعد میں بھی ،بڑی حد تک غزل ہی مرکزی صنف رہی ہے۔
اس خاندان میں کوئی شاعر، غزل میں میر و غالب کیا، سودا و مصحفی بھی نہ بن سکا۔ البتہ کچھ یادگارغزلیں یا منتخب اشعار ضرور کہے(جیسے میر حسن کی : ہم نہ نکہت ہیں نہ گل ہیں جو مہکتے جاویں۔ غزل میں وہ نام نہ کماسکے مگر دوسری اصناف میں تاریخ بنا ڈالی۔
میر ضاحک نے کسی حد تک ہجو میں، میر حسن نے مثنوی ، جب کہ انیس نے مرثیے کو ایک ایسے مقام پر پہنچایا کہ ان اصناف کی پہچان ، انھی کے نام سے ہونے لگی۔ انیس کے والد ، خلیق بھی مرثیے کے اچھے اور غزل کے ٹھیک ٹھاک شاعر تھے، مگر شاعری میں ، خاندانی مراتب کا نظام نہیں چلتا۔
اگر اس پورے خانوادے کو دیکھیں تو اس کا فخر، صرف انیس ہیں۔ اپنے باپ ، دادا، پردادا، سب سے بڑے ۔ وہ اردو شاعری کے نہایت بڑے خاندان کے چار بزرگوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ میر، غالب، اقبال ، انیس۔
انیس نے آغاز غزل سے کیا۔ والد نے غزل سنی تو کہا کہ اسے سلام کردو۔ خلیق نے یہ بات فیض آباد ، اودھ میں کہی۔ اس زمانے میں اودھ،کافی بدل چکا تھا۔ آصف الدولہ کے زمانے میں ، لکھنؤ ہندوستان میں شیعی ثقافت کا اہم ترین مرکز بن گیا تھا۔
عظیم الشان امام باڑے ہی تعمیر نہیں ہوئے، عزاداری کی مجالس بھی منعقد ہونے لگیں۔ گھروں میں، رئیسوں کے یہاں،اور شاہی سرپرستی میں ۔ خلیق نے جب نوجوان انیس کو یہ مشورہ دیا کہ غزل کو سلام کردو تو ان کے پیش نظر اووھ کی یہی نئی شعری ثقافت تھی۔
خیر، انیس نے غزل کو سلام کردیا ، یعنی اس غزل کو سلام کے اشعار سے بدل دیا ،اور غزلیں لکھنا کم کردیں۔ یہ شعر، اسی سلام کا ہے،جس میں تغزل بھی آگیا ہے۔
انیس دم کا بھروسا نہیں ٹھہر جاؤ چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے
انیس کا زندگی نامہ ، اودھ کی تاریخ سے الگ نہیں ہے۔ انیس کی پیدائش کے سال پر محقق جھگڑتے ہیں۔ کچھ ۱۸۰۱ کہتے ہیں ،کچھ ۱۸۰۳۔ خیر ۱۸۰۱ء میں، اودھ اپنی تاریخ کے اہم موڑ سے گزرا۔ جن دنوں دہلی سے صوبے ٹوٹ رہے تھے، ایسٹ انڈیا کمپنی بھی ، ہندوستان کو توڑنے میں مصروف تھی۔
وہ اودھ سے غافل نہیں تھی۔ ۱۸۰۱ ء میں لارڈ ویلزلی نے اودھ کے حکمران سعادت علی خاں دوم سے یہ ایک معاہد ہ کیا۔ معاہدہ کیا تھا، اودھ کے غرور کو خاک میں ملانا تھا۔ اس نے دہلی سے بغاوت کر کے خود مختار ہونے کی کوشش کی تھی۔اسی خود مختاری کو زک پہنچانا تھی۔
اس معاہدے کے تحت، اودھ کی سلطنت کا بڑا حصہ کمپنی نے لے لیا ۔انگریز ریذیڈنٹ لکھنؤ میں بٹھا دیا گیا۔اس معاہدے اور بعد کے معاہدوں کی رو سے، اودھ کے حکمران فوج رکھ سکتے تھے نہ اپنی مرضی سے شاہی ملازمین کا تقرر کرسکتے تھے ،یہاں تک کہ اپنی من پسند شادی بھی نہیں کرسکتے تھے۔
جنگ بکسر کے بعد، کمپنی کو مسلسل خراج بھی ادا کرنا ہوتا تھا،جس میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا۔ سلطنت کے جن حصوں کو کمپنی نے اپنی تحویل میں لیا، وہ بھی خراج ادا نہ کرسکنے کے سبب تھا۔ خراج کیا تھا؟ سیدھا سادہ جگا ٹیکس تھا۔ ہم تمھاری حفاظت کرتے ہیں، اس لیے ہمیں پیسے دو۔
کسی بھی طرح دو۔ یہ کمپنی کی فو ج کی منطق تھی ،جو شاید دنیا کی ہر فوج کی منطق ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اودھ کی اپنی کچھ فوج تھی ،مگر نمائشی۔ غریب کسانوں کو دھمکانے اور میلوں ، جلسوں ،جلوسوں کا اہتمام کرنے کے لیے۔
خیر، اودھ کی سیاسی میدان میں ہزیمت کی کوئی حد نہیں تھی ، مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس ہزیمت ہی کا مقابلہ کرنے کے لیے، جہاں دیگر سماجی وثقافتی سرگرمیاں ( کھیل ، مشاعرے ، داستانیں، تھیئٹر، مرغ بازی) تھیں،وہیں عزاداری کی مجالس بھی تھیں۔
انداز ہ ہے کہ عزاداری کی یہ مجالس ( جو غازی الدین حیدر کے زمانے میں اگر دس روزہ تھیں تو نصیر الدین حیدر کے زمانے میں پچاس روزہ ہوگئی تھیں ) ، سیاسی ہزیمت کا سامنا اور مقابلہ کر نے کا ثقافتی وسیلہ بنیں۔
اس امر کی داخلی شہادت تو خود مرثیے کی صنف ہے ،جس میں رونارلانا بین تو ہے ہی، رزم و رجز بھی ہے ( جسے لکھنوی شعرا نے بہ طور خاص شامل کیا ) اور سیاہ وسفید کی تقسیم بھی ہے؛ حسین ویزید کی۔ مرثیہ پڑھتے یا سنتے ہوئے، صرف ۶۸۰ عیسوی کے یزید کی ملامت نہیں ہوتی،اپنے زمانے کے یزید کی طرف بھی دھیان جاتا ہے۔
کہا جاسکتا ہے کہ لکھنوی مرثیہ ، ایک طرف لکھنو کی ہزیمت پرآنسو بہانے کا ذریعہ تھا تو دوسری طرف، کمپنی کی یزیدیت کی مذمت کا پہلو بھی رکھتا تھا۔ اگرچہ یہ پہلو خاصا بالواسطہ تھا۔ خارجی شہادت ، اس سے ملتی ہے کہ اسی لکھنو کی حضرت محل نے ۳ جولائی ۱۸۵۷ء کو قیصر باغ میں جلو س نکالا اور انگریزوں کو للکا را تھااور اپنے کم سن بیٹے برجیس قدر کو بادشاہ مقرر کیا تھا۔
اودھ پنچ ، انگریز استعماریت اور اس کے حامیوں کا مضحکہ اڑانے والا پرچہ یہیں سے شائع ہوتا تھا۔اکبر کی ردِ استعماریت کے ابتدائی نقوش، اسی اودھ پنچ میں چھپی۔۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی میں اگر کچھ امام بارگاہوں کو گرایا گیا یا انھیں فوج کے سپردکردیا گیا تو ،ا س سے ،ان مقامات کے مزاحمتی رخ ہی کا اندازہ ہوتا ہے۔
انیس پلے بڑھے تو فیض آباد میں۔ جب لکھنؤ مستقل طور پر منتقل ہوئے ہیں تو چالیس کے آس پاس تھے۔مزاج اور فن کے لحاظ سے جو کچھ بننا تھا ، بن چکے تھے۔مرثیہ گوئی ہی نہیں مرثیہ خوانی میں بھی طاق تھے۔ لیکن ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا تھا کہ کہہ سکیں :” سب سے جدا روش مرے باغِ سخن کی ہے”۔
انھیں لکھنؤ میں جگہ بنانے کی جدوجہد درپیش ہوئی، اور یہ جدوجہد انھوں نے کہیں لکھنؤ کے مزاج میں ڈھل کر کی،اور کچھ اپنے مزاج کی صبر ومتانت و استقامت کے ذریعے کی۔خیر،وہ وقت آگیا ،جب انیس نے طے کیا کہ وہ لکھنؤ کے سوا کہیں نہیں پڑھیں گے کہ لکھنؤ ہی انھیں درحقیقت سنتا اور سمجھتا ہے ۔
انیس کے اس عہد کو انتزاعِ اودھ اور ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی نے توڑا۔ انھیں مجبوراً عظیم آباد اور حیدرآباد کے سفر اختیار کرنے پڑے۔ اسی دوران وہ لکھنؤ سے ناراض بھی ہوئے اور وہاں کئی سال پڑھنا ترک رکھا۔
جنگ آزادی میں، انیس کا گھر ہی نہیں،وہ ثقافت بھی منہدم ہوئی، جو ان کے مراثی کو نمو دیتی تھی،اور ان کے مراثی جسے تقویت دیتے تھے۔ تاہم انیس کے مراثی ، لکھنؤ کی فضا میں ڈوبے ہونے کے باوجود، اس فضا سے باہر پرواز کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ لکھنؤ، انیس کے مراثی کی قوت ضرور ہے،مگر ان کے پاؤں کی زنجیر نہیں۔
ہم آج آخر کیوں، انھیں پڑھتے اور سراہتے ہیں ، جنھوں نے لکھنؤ کو محض تاریخ کے ایک باب کے طور پر دیکھا ہے۔
انیس عظیم ہیں۔
عظمت کو حاصل کرنا، محسوس کرنا اور سمجھنا آسان نہیں ۔ شاعری میں عظمت محض مشق ومشقت سے نہیں ملتی؛ عظیم الشان ذخیرہ الفاظ پر قدرت سے بھی نہیں ملتی۔عظیم ادبی وثقافتی روایات کے علم پر دست رس سے بھی نصیب نہیں ہوتی۔
یہ سب، اہم ہیں مگر ایک چیز ایسی ہے جو کسی کو عظیم بناتی ہے، مگر وہ تصور اور وضاحت سے باہر رہ جاتی ہے۔ اسے چیز کہنا بھی عجز ہے۔ یہ ایک برق سی ہے جو الفاظ میں ، ان کی ترتیب اور ان کی مدد سے کہی گی بات میں سرایت کی ہوتی ہے جو آدمی کے احساس کے معمولی پن کو کسی اجنبی، شیریں ، ہیبت انگیزاور حیرت خیز عالم میں پہنچا دیا کرتی ہے۔
انیس کے لیے تو اور مشکل تھا۔ ا س نے خود کو مرثیہ وسلام کی فضا کے سپر د کردیا۔ یعنی جس قلم سے نواسہ رسول پر لکھا، اس سے کسی شاہ کا قصیدہ نہیں لکھا۔ اپنی اصل میں یہ اخلاقی اصول تھا، جمالیاتی نہیں۔ انیس کو جمالیاتی چیلنج یہ تھا کہ ایک ہی مضمون( مضمون ِ کربلا ) کو کتنے رنگوں سے بیان کرے۔ تکرار بھی کرے ،مگر یکسانیت کا شکار نہ ہو۔
انیس نے مضمون ومعنی کا فرق پہچانا۔ اس نے کربلا کے مضمون ( : چہرہ ، سراپا،رخصت،آمد، رجز، رزم ، شہادت، بین ،جس کے اجزا ہیں ) میں معانی کا جہان تلاش کیا۔ مضمون تاریخ و روایت کا پابند ہے؛ عام دستیاب ہے، اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے، مگر معنی انفرادی ہے، پہلو دار ہے ،اور نفیس ونازک بھی ہے۔ خلیق و ضمیر ہوں یا فصیح ودلگیر، دبیر ہوں یا انیس، سب کا مضمون ایک ہے: کربلا۔
امام حسین اورا ن کے انصار۔ مگرمعانی میں فرق ہے۔ ایک ایک منظر،ایک ایک واقعے کے کئی معنیاتی رخ ہیں جو اس وقت سامنے آتے ہیں جب انھیں تخیل میں لایا جائے؛ انھیں تخیل میں زندہ ومتحرک محسوس کیا جائے،ان سے داخلی باطنی رشتہ قائم کیا جائے،اس میں شخصی احساس ہی نہیں ، مقامی مٹی کی مہک بھی شامل ہو۔
مضمون کا تعلق تاریخ و روایت سے ہے، جب کہ معانی کا تعلق شاعری سے ہے۔ انیس کو یہ ڈھنگ آتا تھا کہ وہ تاریخ سے شاعری اخذ کرے۔ اجتماعی یادداشت کو گہرے شخصی احساس کے ساتھ پیش کرے۔ انیس دہلی ولکھنؤ کے ساتھ مقامی اودھی کی شعری روایات پر قدرت تو تھی( وہ ایک پنڈت سے ہندو بن کر درس بھی لیتے رہے اور انھیں کئی دہرے یاد تھے ۔تلسی و جائسی کو اچھی طرح پڑھا تھا) ، مگر وہ زبا ن پر قدر ت کے بے باکانہ اظہار اور اس قدرت کے بر محل اظہار کا فرق جانتے تھے۔
انھیں زبان نہیں ظاہر کرنا تھی، کچھ اور ظاہر کرنے کے لیے زبان درکار تھی۔ وہ انیس نام کے لیے ناسخ کے ممنون تھے،مگر وہ ناسخ کی روایت کے آدمی نہیں تھے۔ ان کا جمالیاتی رشتہ اگر کسی سے قائم کرنا چاہیں تو میر اور غالب دونوں ذہن میں آتے ہیں۔
میر کے اظہاری پیرایوں کا تنوع اور غالب کے لہجے کا طنطنہ ، مگر انیس پر کسی کی پر چھائیں نہیں۔ البتہ انیس کی پر چھائیں ، اقبال تک دکھائی دیتی ہے۔
انیس جینئس تھے، اس کے باوجود کہ ان کا میدان ومضمون طے شدہ تھا۔ انیس کے جئنیس کا اعتراف سب نے کیا ہے، حالی ،شبلی ،آزاد سے آل احمد سرور ، نیر مسعود، فاروقی ،نارنگ تک۔ تاہم سب سے بڑی چوٹ کلیم الدین احمد نے کی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ چوٹ ،کسی عناد کے باعث نہیں،اس شعری اصول کے تحت ہے ، جو انھوں نے مغربی شاعری سے سیکھا تھا۔ یہ اصول شعری تھا، ا س کا مغربی ہونا، اتفاقی ہے۔ چناں چہ اہم ہے۔ یہ کہ انیس شاعر نہیں خطیب ہیں اور ان کے مخاطب مومنین ومعتقدین ہیں، شاعر نہیں۔ نیز انیس کوئی ” رزمیہ مرثیہ ” (Epic-cum- Elegy) نہ لکھ سکے۔بجا کہ انیس منبر پر بیٹھ کر مرثیے پڑھتے تھے ، مگر لکھتے تنہائی میں تھے۔
ان کے سامنے مومنین ومعتقدین ضرور بیٹھے ہوتے تھے، وہ سحر زدہ بھی ہوتے تھے اور گریہ بھی کرتے تھے،مگر انیس کا مخاطب تو پورا لکھنؤ ہی نہیں ،اردو کا پورا معاشرہ تھا۔اگر ایسا نہ ہوتا تو آج ہم ا نیس کو کیوں پڑھتے۔ انیس کے ساتھ ظلم ہے کہ اسے محض محرم کے دنوں میں پڑھا اور سراہا جائے
۔جہاں تک دوسرے نکتے کا تعلق ہے کہ انیس ، ایپک لکھنے کے اہل تھے۔وہ کربلا کے واقعے کے گرد ایک عظیم الشان رزمیہ تخلیق کرسکتے تھے۔ ان کے مرثیوں میں رزمیاتی عناصر تو موجود ہیں ،مگر ایک طویل نظم ،جس میں مدنیے سے مکے ، مکے سے کوفہ و کربلا کی جانب سفر اور پھر محرم کے پہلے عشرے کے واقعات کو ایک عظیم رزمیے کی صورت دی جاسکتی تھی،مگر اس کے لیے تاریخ سےایک پیچیدہ مکالمے کی ضرورت ہوتی ۔
کچھ ممنوع منطقوں میں قدم رکھنے کی ضرورت پڑتی۔
تاریخی کردار کو ادبی کردار میں بدلنے کی جسارت درکار ہوتی۔ یہ جسارت، پریم چند ( جنھوں نے کربلا پر ڈراما لکھا)، عصمت چغتائی ( ایک قطرہ خون ) اور بنگالی مشرف حسین ( “دکھ کا ساگر ” ) سمیت کسی نے نہیں کی۔ کلیم الدین احمد ، ملٹن کی لائنیں، انیس کے مصرعوں کے مقابل لاتے ہیں اور انیس کو نادم کرنے کی کوشش کرتے ہیں،
ہماری رائے میں ملٹن نے بائبل کے کرداروں کو ادبی کردار تو بنایا ہے، کچھ کڑے اخلاقی اور فلسفیانہ سوالات قائم کرکے، مگر وہ بائبل کے خدا،آدم ،حوا، شیطان کو ،بائبل کی فضا سے باہر نہیں لے جاتا۔
انیس کے پاس عظیم شاعرانہ تخیل تھا، فلسفیانہ مزاج نہیں تھا( جو اسی عہد میں غالب کے پاس ضرور تھا )۔ لیکن یہی شاعرانہ تخیل بھی ، اپنے اندر مزاحمت کے کئی پہلو ر کھتا تھا،اور ان پہلوؤں کو کربلا کی مزاحمت سے ہم آہنگ بھی کر لیا کرتا تھا۔
مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ بیسویں صدی میں غزل کے شعرا نے کربلا کو مزاحمت کا استعارہ بنانے میں ، اصل انسپریشن انیس ہی سے حاصل کی۔ انیس ، اقبال کے علاوہ ، کتنے ہی جدید شعرا میں سانس لیتا محسوس ہوتا ہے۔
اگر آپ نے انیس کے مراثی اور سلام پڑھے ہیں تو آپ یہ بھی کہیں گے کہ انیس کی وجہ سے کئی جدید شعرا ، سانس لینے کے قابل ہوئے۔
تنہا ترے اقبال سے شمشیر بکف ہوں
سب ایک طرف جمع ہوں میں ایک طرف ہوں
عالم ہے مکد ر،کوئی دل صاف نہیں ہے
اس عہد میں سب کچھ ہے،انصاف نہیں ہے
قطرہ بھی دم تشنہ دہانی نہیں ملتا
کوسوں تلک اس راہ میں پانی نہیں ملتا
در پہ شاہوں کے نہیں جاتے فقیراللہ کے
سر جہاں رکھتے ہیں سب،ہم واں قدم رکھتے نہیں


