جب علی اکبر ناطق نے اعلان کیا کہ وہ ’’کوفہ کے مسافر‘‘ کے عنوان سے کربلا کے تاریخی پس منظر پر ایک ناول لکھ رہے ہیں اور یہ ناول تکمیل کے قریب ہے تو میں نے واقعی سکھ کا سانس لیا تھا۔ مجھے لگا کہ جس بڑے، مشکل اور نہایت حساس تخلیقی کام کے بارے میں میں برسوں سے سوچتا آیا ہوں، اس کی ذمہ داری اردو کے ایک ایسے ادیب نے اٹھا لی ہے جو زبان، منظر نگاری، دیہی و صحرائی فضا، کردار سازی اور داستان گوئی کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
میں نے سوچا کہ اب شاید مجھے خود اس میدان میں اترنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ جو کام میں چاہتا تھا، وہ ایک باصلاحیت ناول نگار کرنے جا رہا تھا۔ میں اس وقت کیا چاہتا تھا، کربلا کو فکشن میں لانے کے بارے میں میرے ذہن میں کون سے سوال تھے اور میں اس ناول سے کیا توقع قائم کر بیٹھا تھا، اس پر تفصیل سے الگ لکھوں گا۔
لیکن ناول کی اشاعت سے پہلے ایک ایسی صورت حال پیدا ہوئی جس نے مجھے بے حد پریشان کیا۔
علی اکبر ناطق نے سوشل میڈیا پر ایک ایسی پوسٹ لکھی جو میرے نزدیک غیر ضروری طور پر متنازعہ تھی۔ اس کے بعد گفتگو یہاں تک پہنچی کہ خود مصنف نے یہ طے کرنا شروع کر دیا کہ اس ناول کے اصل قاری کون ہو سکتے ہیں اور کون نہیں۔ اس لہجے، گروہی صف بندی اور ردعمل نے کتاب کے قاری کے ہاتھ تک پہنچنے سے پہلے ہی کربلا پر ممکنہ ادبی گفتگو کو فرقہ وارانہ بحث میں بدل دیا۔
ناول ابھی پوری طرح پڑھا بھی نہیں گیا تھا، مگر اس کے گرد ایک ایسا ماحول قائم ہو چکا تھا جس میں ادب، تاریخ، تخیل اور ناول کی فنی ساخت پر گفتگو پیچھے چلی گئی، جب کہ مذہبی شناختوں اور گروہی وابستگیوں کا سوال سامنے آ گیا۔
میرے لیے یہ پہلی مایوسی تھی۔
دوسری اور زیادہ گہری مایوسی اس وقت ہوئی جب میں نے ’’کوفہ کے مسافر‘‘ پڑھا۔
یہاں ایک بات بالکل واضح کر دینا ضروری ہے۔ میرا اعتراض یہ ہرگز نہیں تھا کہ ناول میں ’’شیعی رنگ‘‘ کیوں موجود ہے۔ کربلا کی یاد، اس کا سوگ، اس کی تفصیلی روایت اور اس کے گرد تشکیل پانے والا عظیم ثقافتی و ادبی سرمایہ بنیادی طور پر شیعی تاریخی حافظے سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہ تاریخی دیانت ہے اور نہ ادبی انصاف۔
میرا مسئلہ شیعی رنگ نہیں، بلکہ تاریخی تنازعات کو ایک پہلے سے طے شدہ فرقہ وارانہ مقدمے کی صورت میں ناول پر غالب کر دینا تھا۔
میرے مطالعے میں ناول کی بڑی کمزوری یہ تھی کہ اس میں داستان کئی مقامات پر خطابت کے نیچے دب گئی۔ کردار اپنے تاریخی زمانے کے پیچیدہ انسان کم اور ایک مخصوص گروہی تعبیر کے نمائندے زیادہ محسوس ہونے لگے۔ واقعات کے درمیان موجود ابہام، سیاسی پیچیدگی، انسانی تذبذب اور مختلف تاریخی روایتوں کے باہمی تناؤ کو کھولنے کے بجائے بہت سے مقامات پر ایک قطعی اور خطیبانہ مؤقف سامنے آتا رہا۔
تاریخی فکشن کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ادیب ماضی کے کرداروں کے کتنا قریب جا سکتا ہے۔ کیا وہ ان کے دل اور ذہن کے اندر داخل ہو کر وہ سب کچھ بیان کر سکتا ہے جسے تاریخ نے محفوظ نہیں کیا؟ کیا وہ کسی مقدس یا متنازعہ تاریخی شخصیت کی داخلی آواز بن سکتا ہے؟ کیا وہ اس شخصیت کے ارادے، خوف، نیت، غصے اور سوچ کو قطعی انداز میں لکھ سکتا ہے؟
’’کوفہ کے مسافر‘‘ میں مجھے بار بار محسوس ہوا کہ مصنف صرف تاریخی کرداروں کو باہر سے نہیں دیکھ رہا، بلکہ ان کی داخلی آواز بھی بن رہا ہے۔ وہ ان کے دل میں خیالات رکھتا ہے، ان کے باطن کی تعبیر کرتا ہے اور بعض اوقات ایسے تاریخی مقامات میں بھی فرضی مکالمہ، منظر نگاری اور کردار نگاری داخل کرتا ہے جہاں تاریخ مکمل طور پر خاموش نہیں، بلکہ پہلے ہی مختلف اور متنازعہ روایتوں سے بھری ہوئی ہے۔
یہاں مسئلہ فکشن کے استعمال کا نہیں۔ تاریخی ناول فکشن کے بغیر لکھا ہی نہیں جا سکتا۔ مسئلہ اس فرق کو قائم رکھنے کا ہے جو ایک تاریخی خلا اور ایک تاریخی تنازعے کے درمیان موجود ہوتا ہے۔
جہاں تاریخ خاموش ہو، وہاں ادیب محتاط تخیل سے انسانی منظر پیدا کر سکتا ہے۔ مگر جہاں کئی تاریخی روایتیں موجود ہوں، وہاں ایک روایت کو قطعی حقیقت بنا کر اس کے اندر مزید فرضی جزئیات داخل کرنا صرف خلا کو پُر کرنا نہیں رہتا، بلکہ تاریخ کے تنازعے پر ادیب کی طرف سے آخری فیصلہ صادر کرنا بن سکتا ہے۔
کربلا جیسے واقعے میں یہ معاملہ اور زیادہ حساس ہو جاتا ہے، کیونکہ یہاں فکشن کے ذریعے ایجاد کیا ہوا ایک مکالمہ یا داخلی خیال قاری کے ذہن میں تاریخی حقیقت کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ جس شخصیت کے ساتھ قاری کی مذہبی عقیدت یا تاریخی نفرت پہلے سے وابستہ ہو، اس کے بارے میں مصنف کا تخیل غیر جانب دار ادبی جزئیہ نہیں رہتا۔ وہ مذہبی حافظے اور فرقہ وارانہ تعبیر میں داخل ہو جاتا ہے۔
میری تکلیف یہ تھی کہ جس ناول سے میں کربلا کے تاریخی انسانوں، کوفہ کی پیچیدہ سماجی ساخت، خوف کے سیاسی استعمال، قبائلی تعلقات، عہد و شکست، وفاداری و خاموشی اور عام آدمی کے اخلاقی انتخاب کو نئے ادبی تناظر میں دیکھنے کی توقع کر رہا تھا، اس نے بہت سے مقامات پر انہی سوالات کو خطیبانہ یقین اور مخصوص گروہی نقطۂ نظر کے نیچے دبا دیا۔
کوفہ میرے لیے کبھی صرف ’’بے وفاؤں کا شہر‘‘ نہیں رہا۔ سن دو ہزار سے میں اس سوال کا تعاقب کرتا آیا ہوں کہ پورے کوفہ کو ایک اجتماعی اور یکساں جرم کا مرتکب قرار دینا کس حد تک تاریخی طور پر درست ہے۔ خطوط لکھنے والے کون تھے؟ مسلم بن عقیل کی بیعت کرنے والے کون تھے؟ گرفتار ہونے والے، راستے میں روکے جانے والے، مخبری کرنے والے، قبائلی سردار، موالی، شیعیان علی، خوف سے گھروں میں بند ہو جانے والے اور عمر بن سعد کے لشکر میں جانے والے کیا سب ایک ہی سیاسی و اخلاقی درجے میں رکھے جا سکتے ہیں؟
میں اس ناول میں ان پیچیدگیوں کے کھلنے کا منتظر تھا۔
لیکن اسے پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ جس کام کے پورا ہو جانے پر میں نے سکھ کا سانس لیا تھا، وہ کام ابھی باقی ہے۔
یہ کسی دوسرے ادیب کی جگہ لینے یا اس کے ناول کے مقابل اپنا ناول کھڑا کرنے کا سوال نہیں تھا۔ ادب کوئی میدان جنگ نہیں جہاں ایک کتاب دوسری کتاب کو شکست دیتی ہے۔ ’’کوفہ کے مسافر‘‘ اپنی ادبی خوبیوں، زبان، مصنف کے تخلیقی مزاج اور اس کے قارئین کے ساتھ موجود ہے۔ میرا اختلاف اس کے بنیادی تاریخی اور فنی طریقۂ کار سے ہے۔
مگر اس اختلاف نے مجھے ایک مشکل مقام پر لا کھڑا کیا۔
میں نے خود سے پوچھا کہ اگر مجھے شکایت ہے کہ تاریخی شخصیات کی داخلی آوازیں ایجاد نہیں ہونی چاہییں، تو پھر میں انہیں فکشن میں کیسے لاؤں گا؟ اگر مجھے اعتراض ہے کہ ناول فرقہ وارانہ خطابت کے نیچے دب گیا ہے، تو میں کربلا کی شیعی یادداشت، مذہبی تقدس اور تاریخی تنازعے کو کس طرح انصاف کے ساتھ لکھوں گا؟ اگر میں کوفہ کے اجتماعی الزام کو رد کرتا ہوں، تو افراد کی اخلاقی ذمہ داری کس طرح دکھاؤں گا؟ اور اگر مقدس کرداروں کے باطن میں داخل نہیں ہوں گا تو ناول کی انسانی حرارت کہاں سے آئے گی؟
یہ سوال آسان نہ تھے۔
’’کوفہ کے مسافر‘‘ سے میری مایوسی نے مجھے محض تنقید کرنے پر نہیں اکسایا۔ اس نے مجھے اپنی ذمہ داری کے سامنے لا کھڑا کیا۔ میں جس ناول کا انتظار کسی دوسرے ادیب سے کر رہا تھا، اب مجھے خود اس کے امکان پر غور کرنا تھا۔
پہلے خیال آیا کہ ایک طویل کہانی لکھی جائے۔ مدینہ سے مکہ اور پھر کربلا تک کا سفر عصر حاضر کے کسی المیے کے ساتھ چلتا رہے۔ مگر جیسے ہی میں نے اس کہانی کے اندر قدم رکھا، معلوم ہوا کہ کربلا ایک افسانے کی مقررہ حدود میں سما جانے والا واقعہ نہیں۔
مدینہ الگ ناول مانگتا تھا۔
مکہ اور کوفہ اپنی جداگانہ سیاسی اور انسانی دنیا رکھتے تھے۔
مسلم بن عقیل کی تنہائی کسی تمہیدی باب میں ختم نہیں ہو سکتی تھی۔
کربلا صرف عاشور کی جنگ نہیں، اس سے پہلے کا سفر، انتظار، پیاس، خوف، رفاقت اور انتخاب بھی تھی۔
اور پھر کربلا کے بعد حضرت زینب کی گواہی تھی، جس کے بغیر یہ واقعہ تاریخ کے فاتحوں کی زبان میں قید ہو سکتا تھا۔
یوں ایک کہانی نے آہستہ آہستہ اپنے لیے تین کتابوں کی جگہ مانگنا شروع کر دی۔
اس پوری تخلیقی رواداد پر میں تفصیل سے لکھوں گا کہ کربلا جیسے مذہبی، تاریخی اور فرقہ وارانہ حساس واقعے کو فکشن میں لانے کے لیے میں نے اپنے سامنے کیا حدود مقرر کیں، مقدس شخصیات کے باطن میں داخل ہونے کے بجائے تاریخ کے کناروں پر موجود فرضی کرداروں کو کیوں منتخب کیا، مختلف اور متضاد روایتوں کو ایک دوسرے کے سامنے کیسے رکھا، اور ایک مختصر کہانی کا منصوبہ بالآخر ایک ٹرائیلوجی میں کیسے بدل گیا۔
فی الحال صرف اتنا کہنا ہے کہ بعض کتابیں ہمیں وہ نہیں دیتیں جس کی ہم ان سے توقع رکھتے ہیں۔
لیکن کبھی کبھی یہی نامکمل توقع ادیب کو اپنی کتاب لکھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔


