ادب اور سائنس: من کی دنیا، تن کی دنیا / یحییٰ تاثیر

ادب اور سائنس دونوں اگرچہ ایک دوسرے کے مقابل نہیں لیکن معروض و موضوع کو سمجھنے کے پیمانے دونوں کے مختلف ضرور ہیں۔ ادب احساسات، جذبات اور خیالات کے تحت حقائق آشکار کرتی ہے جب کہ سائنس ان خیالات کو تجربات سے گزار کر ان کے اطلاقی نمونے پیش کرتی ہے۔ ادب روح، دل اور تخیل پر اثر ڈالتا ہے جب کہ سائنس عقل کو متاثر کرتی ہے۔ادب اگرچہ مادی اشیا کو بھی موضوع بناتا ہے لیکن یہ مادے کی مختلف جہات کے ساتھ ساتھ غیر مادی حقائق کے حوالے سے بھی سوچ کے زوایے فراہم کرتا ہے اور یوں ایک ہمہ گیر نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔ سائنس بنیادی طور پر مادے پر بحث کرتی ہے اور ان حقائق کو خاطر میں لاتی ہے جن کا ادراک حواس کے ذریعے ہوتا ہے۔اب اگرچہ جدید سائنس (آئن سٹائن) نے مابعدالطبیعیاتی تصورات کے تحت توانائی جیسے غیرمرئی چیز کے بارے میں بھی سوچا ہے لیکن اس کا اصل مادہ اور مادے سے وابستہ ظاہری اشیا ہی ہیں۔ ان تمام تصورات کے باوجود ادب اور سائنس کوایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ادب نے انسانی تخیل کو وسعت دی ، اور تخیل ہی سائنس کی پہلی منزل ہے۔ تخیل علم سے کہیں آگے کی چیز ہے کیوں کہ علم موجودہ اور معلوم چیزوں تک رسائی کا نام ہے جب کہ تخیل ماضی کو ساتھ لے کر حال میں قدم رکھتے ہوئے ، مستقل کے ممکنات کا احاطہ بھی کرتا ہے۔ جارج ویرِک نے اپنی کتاب ’’ What Life Means to Einstein‘‘ میں آئن سٹائن کا مشہور قول یوں نقل کیا ہے ،ترجمہ: ’تخیل علم سے زیادہ اہم ہے، کیوں کہ علم صرف ان چیزوں تک محدود ہوتا ہے جنھیں ہم موجودہ وقت میں جانتے اور سمجھتے ہیں ، جب کہ تخیل پوری کائنات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے، حتیٰ کہ ان حقائق کو بھی جو آئندہ کبھی دریافت ہوں گے اور سمجھیں جائیں گے‘۔ ان حقائق کو عملی جامہ دینا سائنس ہی کا خاصہ ہے جس کے متعلق آئن سٹائن نہ رمزاً ہی کہہ دیا کہ ’’دریافت ہوں گے ۔‘‘گویا ادب ممکنات کا تصور کرتا ہے اور سائنس ان ممکنات کو تجربے اور تحقیق کے ذریعے حقیقت بناتی ہے۔
اصناف ادبیات میں قدیم صنف داستان سمجھی جاتی ہے جہاں ان تصورات کا ادراک کسی حد تک ممکن ہے جنھیں آج سائنس نے تجربے اور تحقیق کے تحت عملی جامہ پہنا کر حقیقت میں بدل دیا۔ مہابھارت،الف لیلہ، داستانِ امیر حمزہ اور طلسم ہوش ربا جیسی داستانوں میں کچھ واقعات اور کردار ایسے ملتے ہیں جنھیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان ادبا کے ہاں سوچ کا کوئی ایسا زاویہ ضرور موجود تھا جو اپنے وقت سے بہت آگے کا تھا ۔ کیوں کہ آج وہ خیالات اور تصورات کسی نہ کسی صورت میں عمل میں آگئے ہیں۔ داستانِ امیر حمزہ میں عمرو عیار کی زنبیل کا ذکر آیا ہے۔ یہ ایک ایسی تھیلی ہوتی ہے جس میں وہ زمانے اور وقت کی ساری چیزیں سما سکتا ہے۔ اسے اگرچہ جادوئی تھیلی کہا گیا ہے لیکن اس زمانے میں ایسی فکر پیش کرنا ضرور ایک اشارہ کرتا ہے کہ مستقبل میں انسان یہ بھی کرسکتا ہے۔ آج کمپیوٹر میں ہم پوری دنیا کا کونا کونا دیکھتے ہیں اور ڈیجیٹل و کلاؤڈ اسٹوریج میں ہر چیز محفوظ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح داستان ’’طلسم ہوش رُبا‘‘ میں ایک جال ’’جالِ الیاسی‘‘ کا ذکر آیا ہے ۔ یہ جال طلسمی و حفاظتی آلات کے طور پر کہانی میں استعمال ہوا ہے۔ اس کے اندر آنے والا کردار دشمن کے حملوں سے محفوظ رہتا ہے۔ جدید دور میں بُلٹ پروپ گاڑیاں اور جدید دفاعی نظام اسی چیز کی توسیع ہے۔ اسی داستان کا ایک مشہور جادوگر کردار ’’افراسیاب‘‘ غیرمعمولی کام کرتا رہتا ہے جن میں آج کی سائنسی ایجادات کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ افراسیاب اس داستان میں جگہ جگہ پر اپنے دفاع کےلیے دشمنوں کی طرف نارنج پھینکتا ہے۔ یہ نارنج وہ جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے ، جو پھٹتا ہےاور آگ پیدا کرتا ہے۔ جدید دور میں دستی بم (Grenade) اور دھماکہ خیز گولہ اسی نوعیت کی چیزیں ہیں۔ یہ مماثلت کافی حیران کن ہے۔
داستان ’’طلسم ہوش رُبا‘‘ میں برق نامی ایک کردار ، ایک بادشاہ کےلیے فضا میں بارود پھیلاتا، بچھاتا ہے اور اس کے ساتھ ایک فیتہ بھی لگاتا ہے، جسے دور سے آگ لگاتا ہے اور وہ پھٹ جاتا ہے۔ برق کی یہ منصوبہ بندی جدید دور میں Remote Explosive System اور منصوبہ بند انہدام کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مختلف داستانوں میں یہ چیز ملتی ہے کہ پانی کے اندر محلات، باغات، آبادیاں اور پناہ گاہیں ہوتی ہیں ۔ موجودہ دور میں پانی کےاندر آب دوز کا چلنا یا سکوبا ڈائیونگ یعنی آکسیجن سلنڈر لگا کر پانی کی تہہ تک پہنچنا آج ایک عام مشغلہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ غیر معمولی مماثلت بھی حیران کن ہے کہ قدیم ادوار میں جب موجودہ سائنس کا نام و نشان نہیں تھا ، تخیل کس سطح پر تھا۔ اسی طرح اڑنے والے قالین یا تخت کا ذکر بھی پرانی داستانوں میں ملتا ہے، جو آج ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر کے ذریعے ممکن بنا ہے۔ الف لیلہ، داستانِ امیر حمزہ طلسم ہوش رُبا وغیرہ داستانوں میں کرداروں کا جادوئی ٹوپی، طلسمی نقاب یا تعویذ پہن کر نظروں سے غائب ہونا یا شکل بدلنے کے واقعات بھی آئے ہیں۔ جدید دور میں Optical Camouflage کا استعمال بھی کچھ اسی طرح ہوتا ہے۔ اس میں روشنی کے انعکاس کے ذریعے اشیا کو نظروں سے غائب کیا جاتا ہے، یا اس کا دیکھنا مشکل بنا دیا جاتا ہے۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی شے کی شکل دکھائی جاتی ہے، مگر وہ محض روشنی ہوتی ہے نہ کہ مادی صورت۔ جہاز، آب دوز یا دیگر فوجی آلات ریڈار کی نظروں سے بڑی حد تک Stealth Technology کے ذریعے چُپائے جاتے ہیں۔ شکل کا بدلنا آج کل پلاسٹک سرجری یا مصنوعی چہرہ سازی سے ممکن بن گیا ہے۔ مہا بھارت میں پشپک وِمان(اُڑنے والی) سواری کا ذکر آیا ہے، جس کی جدید شکل جہاز اور ہیلی کاپٹر ہے۔ مہا بھارت میں دیویاستر( الہیٰ ہتھیار) کا ذکر بھی ہوا ہے۔ برہما دیوتا کا ہتھیار برہماستر اتنا تباہ کن ہوتا ہے کہ اس کے استعمال سے ایک وسیع علاقہ تباہ ہوجاتا ہے جس طرح جدید دور میں ایٹمی بم ہے۔ نارائن کا ہتھیار نارائن استر ، دشمن پر خود بہ خود حملہ آور ہوتا ہے ، اسے آج کی ہدف شناس میزائلوں یعنی Guided Missiles کے مشابہہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ دیوتا شیو کا ہتھیار پاشوپت استر ، جسے مہا بھارت کا طاقت ور ہتھیار کہا گیا ہے ، گویا پوری کائنات کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے مہلک ترین اسٹریٹیجک ہتھیار کی طرح کہا جاسکتا ہے۔ اگنی دیوتا کا ہتھیار اگنی استر آگ کے شعلے اور حرارت پیدا کرتا ہے، جو آج کل آتش گیر بم یا Flame Thrower کا کام ہے۔ ورُن دیوتا کا ہتھیار ورُن استر تیز پانی، بارش یا سیلاب جیسی کیفیت پیدا کرتا ہے، جسے آگ بجھانے کے آلات یا آبی قوتوں کے مماثل قرار دیا جاسکتا ہے۔مہا بھارت میں سنجے کردار میدان جنگ کے واقعات دور بیٹھے دیکھ کر بادشاہ کو سناتا ہے ۔یہ کام آج کے دور میں ٹیلی سکوپ، سیٹلائٹ امیجنگ اور Remote Surveillance سے لیا جاتا ہے۔ یہ تمام چیزیں اساطیری اور رزمیہ ادب کا حصہ ہیں ۔ ان کا مقصد جنگی ہیبت، عظمت اور فوق الفطرت قوت کو نمایاں کرنا تھا۔ آج ان جیسے ہتھیار سائنسی ایجادات کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ مہابھارت کا ادیب تباہ کن قوت کا تصور پیش کرتا ہے جب کہ جدید سائنس دان اس قوت کو طبیعی اُصولوں کے مطابق عملی شکل دیتا ہے۔
ان تمام چیزوں سے کسی طور صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا کہ ادب اپنے دامن میں ایک ایسی قوت( تخیل) رکھتا ہے جو اپنے دور سے بہت آگے کی چیز ہے۔آج سائنس دنیا کو کیا سے کیا بنانے کے خواب دیکھ رہی ہے ، جو تاحال محض تخیل کا حصہ ہے لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ چیزیں وجود میں آرہی ہیں۔ انسان کی آسانی کےلیے روبوٹ کا تصور حیران کن خیال تھا، جو آج اے آئی سے ممکن بنا اور مختلف شعبوں یعنی صنعت، طب، خلائی تحقیق اور گھریلو زندگی میں استعمال ہورہا ہے۔ تاہم اصل نکتہ یہ ہے کہ ادب اور سائنس الگ الگ زوایۂ نگاہ رکھتے ہیں۔ ادب چیزوں کو جس نظر سے دیکھتا ہے، سائنس اس کے برعکس اپنا نکتۂ نظر رکھتی ہے۔ مشہور فارسی شاعر صائب تبریری کا شعر ہے:
؎ چُوب را آب فُرو نمی بَرَد، سِرّش چیست؟ شَرمَش آیَد زِفُرو بُردَن پَرودۂ خویش
ترجمہ: لکڑی کو پانی کیوں نہیں ڈبوتا،اس کا راز کیا ہے؟ پانی کو اپنے ہی پالے ہوئے (درخت کی پیدوار) کو ڈبونے میں شرم محسوس ہوتی ہے۔ صائب تبریزی نے ادب کا فرد ہوتے ہوئے اس سوال کا ایسا جواب فراہم کیا جو روح اور دل کو متاثر کرتا ہے۔ انسان کے اندر ایک احساس ابھارتا ہے۔ رشتوں کی تقدیس سکھاتا ہے اور والدین کی شفقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر کسی سائنس والے سے یہ سوال کیا جائے تو وہ ہر گز ایسا جواب نہیں دے گا۔ سائنس یہاں مادی حقائق کی طرف متوجہ ہوگی۔ سائنس کا طالب علم کثافت(Density) کی طرف جائے گا کہ لکڑی کی کثافت (Mass اورVolume) پانی سے کم ہوتی ہے اس لیے وہ پانی کی سطح پر تیرتی رہتی ہے۔ اسی طرح وہ اُصولِ ارشمیدس( Archimede’s Principle) سے بھی اس کا جواب دے سکتا ہے کہ جب کوئی جسم پانی میں رکھا جاتا ہے تو پانی اس پر اوپر کی طرف ایک قوت (Upthrust Force) لگاتا ہے۔ یہ قوت اس پانی کے وزن کے برابر ہوتی ہے، جس کے اوپر وہ جسم پڑا ہے اس لیے جسم ڈوبتا نہیں اور سطح پر تیرتا رہتا ہے۔ اردو کے کلاسیکل شاعر حیدر علی آتشؔ کا شعر ہے:
؎ مہندی لگانے کا جو خیال آیا آپ کو سوکھے ہوئے درخت حنا کے، ہرے ہوئے
شاعر نے احساس دلانے کےلیے کہا ہے کہ محبوب کے خیال کی برکت سے سوکھے درخت بھی ہرے ہوگئے۔ سائنس کے تناظر میں درختوں کی نشونما کےلیے پانی، غذائی اجزا، مناسب موسم اور حیاتیاتی عمل ضروری ہے۔ ادبی جواب تخیل کی بنیاد پر ایک جمالیاتی احساس کو ابھارتا ہے ۔ درختوں کو ایسا دکھایا گیا ہے کہ گویا یہ بھی جذبات رکھتے ہوں اور خوشی و غم میں شریک ہوتے ہوں۔ قاری کے ذہن میں بھی خزاں سے بہار میں بدلتے ہوئے منظر کی ایک خوب صورت تصویر ابھرتی ہے۔ گویا سائنس درخت کے ہرے ہونے کی حقیقی علت بیان کرتی ہے جب کہ ادب اس ہریالی کو انسانی جذبات، محبت اور تخیل سے وابستہ کرکے حسن اور لطف پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح عباس تابؔش اس مضمون کو اور بھی بالاتر لے گیا ہے:
؎ اگر قریب سے گزروں تو ایسا لگتا ہے یہ پیڑ مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتے ہیں
سائنسی تناظر میں درخت بات نہیں کرتے بل کہ روشنی، پانی، معدنیات اور ماحول کے اثر سے نشونما پاتے ہیں ۔ شاعر کے مطابق درختوں کی خاموشی میں بھی ایک زبان اور احساس پوشیدہ ہے۔ درختوں کو بات کرتے ہوئے دکھانا، ایک تخیلاتی اور جمالیاتی توجیہہ ہے۔ شاعر نے فطرت کے ساتھ اپنا جذباتی تعلق ظاہر کیا ہے کہ درختوں کی خاموشی، سرسراہٹ، سایہ اور موجودگی میں ایک پیغام ہے ، اس میں ایک قسم کی اپنائیت ہوتی ہے۔ گویا وہ درختوں کو انسانی صفات عطا کرتا ہے۔ عمار اقبالؔ اس مضمون کو اور بھی جمالیاتی بناتا ہے:
؎ ہم درختوں کو کہاں آتا ہے ہجرت کرنا تم پرندے ہو، وطن چھوڑ کے جاسکتے ہو
سائنسی توجیہہ یہ ہوگی کہ درخت اگرچہ بڑھتے ضرور ہیں لیکن حرکت نہیں کرتے اور پرندے زندگی کی بقا کےلیے ہجرت ضرور کرتے ہیں۔ شاعر نے یہاں درخت کو استقامت، وفاداری اور اپنی مٹی سے محبت کی علامت جب کہ پرندے کو آزادی اور نقل مکانی کی علامت کے طور پر بیان کیا ہے۔ اسی طرح سائنس کے مطابق بادل عمل تکثیف (Condensation) سے بنتے ہیں۔ سورج کی حرارت کی وجہ سے پانی بخارات کی صورت میں فضا کی طرف جاتا ہے۔ بلندی پر پہنچنے کے بعد ہوا نسبتاً ٹھنڈی ہوجاتی ہے اور یوں یہ بخارات ٹھنڈ کی وجہ سے پھر پانی اور برف میں تبدیل ہوجاتے ہیں جس سے بادل بنتے ہیں۔ جب پانی اور برف کے چھوٹے چھوٹے قطرے اور ٹکڑے آپس میں ٹکراتے ہیں ، تو بھاری ہونے کی وجہ سے ہوا اسے اٹھائے رکھنے سے قاصر ہوجاتی ہے اور یوں بارش شروع ہوجاتی ہے۔ لیکن جب کوئی ادب والا بادل اور اس سے برسنے والی بارش کو بیان کرے گا ، تو اسے ضرور انسانی جذبات سے وابستہ کرے گا۔ وہ بارش کو کسی کے آنسو کہے گا ، جو بادلوں کے ذریعے زمین تک آتے ہیں۔ عباس تابؔش کا شعر ہے:
؎ اگر میں پوچھتا بادل کدھر کو جاتے ہیں جواب میں کوئی آنسو بہایا کرتا تھا
سائنس کے مطابق بارش اور بادل ایک طبعی(Natural) عمل ہے لیکن ادب کے مطابق بادل زندہ اور بارش کسی کی زندگی کی بقا کا ذریعہ ہے۔ بارش کےلیے زمین ترستی ہے ، درخت اس کے انتظار میں سوکھ جاتے ہیں اور پرندے اس کی چاہت میں ہجرت کرتے کرتے مر جاتے ہیں۔ پروین شاکر کا شعر ہے:
؎ بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں کیسے بلند و بالا شجر خاک ہوگئے
غرض کائنات ایک ہی ہے مگر اسے دیکھنے کے انداز مختلف ہیں۔ ادب اور سائنس دراصل اسی ایک حقیقت کے دو جداگانہ زوایے ہیں۔ سائنس اشیا اور مظاہر کی خارجی حقیقت، ان کے اسباب اور قوانین کی جستجو کرتی ہے جب کہ ادب انہی اشیا اور مظاہر میں معنی، احساس، جمال اور انسانی تجربے کی تلاش کرتا ہے۔ ایک عقل کو تو دوسرا وجدان کو مخاطب کرتا ہے۔ لہذٰا ادب اور سائنس ایک دوسرے کی ضد نہیں بل کہ ایک دوسرے کا تکملہ ہے۔ سائنس ہمیں کائنات کو سمجھنے کا شعور دیتی ہے اور ادب اسی کائنات کو محسوس کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ ایک حقیقت کی تشریح کرتا ہے اور دوسرا حقیقت میں زندگی ، رنگ اور احساس پیدا کرتا ہے۔ اگر سائنس دنیا کو قابلِ فہم بناتی ہے تو ادب اسی دنیا کو قابلِ محبت بنا دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں