ہماری تاریخ کی طرح یہ عمارت بھی تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ نوشہرہ کے جنوب مشرق میں ہائی وے سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر گاؤں ولئی میں یہ تاریخی سرائے واقع ہے جست رنگ محل اور ولئی باغ سرائے کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
ولئی چشمے کو کہا جاتا ہے اور گاؤں کے اس نام کی وجہ تسمیہ یہاں بہنے والے لاتعداد چشمے اور ندیاں تھیں، شاید اسی لیئے یہ عمارت اس جگہ تعمیر کی گئی ہو۔
تاریخی اہمیت ؛
رنگ محل یا ولئی باغ سرائے کے بارے میں تاریخ دان دو حصوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔
ایک روایت ہے کہ یہ مغلیہ دور کی سرائے ہے جسے سترہویں صدی میں مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ اس دور کی ایک کاروں سرائے تھی جو مسافروں اور رئیسوں کے لیے آرام گاہ کے طور پر کام کرتی تھی۔
دوسری روایات میں ہے کہ یہ خوشحال خان خٹک (1613-89) کی اولاد میں سے کسی کی بنائی گئی سرائے یا شکارگاہ تھی۔
رضوان خٹک کے مطابق ؛
”خوشحال خان خٹک کے بیٹے اشرف خان (بلند پایہ شاعر اور صاحبِ کلیات، اپنے اشعار میں نام کی بجائے تخلص استعمال کرنے والا پہلا پشتون)، اشرف کے بیٹے افضل خان (اورنگزیب کے بیٹے شاہ عالم کا شکاری دوست) اور افضل کے بیٹے سعد اللہ عرف شہید خان ( پ 1707، جو باپ کی زندگی میں ناراض ہو کے ان کے دشمن غیاث الدین کے ساتھ ٹیری میں رہتا تھا) پھر ان کے بیٹے سرفراز خان عرف سعادت مند خان تھے جن سے یہ عمارت منسوب ہے۔ یہ وہی سرفراز خان ہیں جب احمد شاہ ابدالی نے 1747 میں افغانستان سے آ کر ہندوستان پر حملہ کیا تو سرفراز خان جو کہ اس وقت خٹک قبیلے کے سردار تھے، نے احمد شاہ ابدالی کا ساتھ دیا۔ یہاں نوشہرہ کے مقام سے ان کی پہلی لڑائی مرہٹوں کے خلاف ہوئی۔ مرہٹوں کو شکست دینے کے بعد دوسری بڑی لڑائی حسن ابدال کے مقام پر ہوئی جو اتنا خونریز معرکہ تھا کہ اس میں سرفراز خان خٹک کے چھوٹے بھائی بھی شہید ہوئے۔ سرفراز خان خٹک نے احمد شاہ ابدالی کا ساتھ جہلم تک دیا۔ جہلم تک رستے میں آنے والے ہر دشمن کو شکست دی اور اسی جنگ کے دوران احمد شاہ ابدالی نے سرفراز خان کو ”سعادت مند خان” کا خطاب دیا۔ سرفراز خان کا علاقہ اکوڑہ خٹک سے لے کر دریائے کُرم ضلع کوہاٹ تک تھا۔ یہ عمارت سرفراز خان عرف سعادت مند خان کی شکارگاہ تھی اور اسی طرح کی ایک اور عمارت ٹیری ضلع کوہاٹ میں بھی موجود ہے کیونکہ سعادت مند خان اپنا علاقہ سنبھالنے کی غرض سے کچھ عرصہ اکوڑہ خٹک میں مقیم ہوتے تھے اور کچھ عرصہ ٹیری ضلع کوہاٹ میں گزارتے تھے۔”
عمارت کے طرز تعمیر کو دیکھ کے یہی لگتا ہے کہ اس کا تعلق مغل دور سے ہے لیکن تعمیر کرنے والے کا نام تاریخ کے پنوں میں کہیں گم ہے۔
طرزِ تعمیر ؛
چھوٹی اینٹ اور دیسی مصالحے سے بنی اس عمارت میں کوئی لوہا یا سیمنٹ نہیں استعمال کیا گیا بلکہ اسے اُس دور کے مطابق مقامی پتھر، چونے اور مٹی سے تعمیر کیا گیا ہے۔
اس دو منزلہ عمارت کے سامنے شمالی سمت میں پانچ بڑے محرابی دروازے ہیں جبکہ پانچ محرابی دروازے جنوبی سمت میں اور دو پہلو میں واقع ہیں۔ یوں بارہ دروں والی اس عمارت کو بارہ دری بھی کہا جا سکتا ہے۔ محرابی کمروں کی گنبد نما چھت چھوٹی اینٹ سے بنائی گئی ہے جس پہ پرانا مصالحہ لگا نظر آتا ہے۔
اس کے اندرونی حصوں پر اب بھی مختلف رنگوں کا خوبصورت فریسکو کا کام نظر آتا ہے شاید اسی لیئے مقامی اسے رنگ محل کہتے ہیں۔
عمارت کی نچلی منزل زمین دوز یعنی تہہ خانے کی طرح ہے جس تک پہنچنے کے لیئے اطراف میں دو زینے بھی موجود ہیں۔
نچلی منزل کی دیواریں لگ بھگ پانچ فٹ سے کچھ زیادہ موٹی ہیں جس کی وجہ سے رنگ محل کا یہ حصہ کافی ٹھنڈا ہے۔ اگرچہ یہاں اندھیرا ہے لیکن روشنی کے لیئے سائیڈوں پہ موجود ہیں۔ دیواروں میں چراغ رکھنے کے طاقچے اور سامان کے لیئے جگہ بھی بنائی گئی ہے۔
جب ہم نیچے پہنچے تو لٹکے ہوئے چمگادڑوں نے ہمارا استقبال کیا۔ نیچے کا حصہ کافی عرصے سے صاف نہیں کیا گیا تھا۔
موجودہ حالت ؛
اس کی موجودہ حالت بھی ملکِ پاکستان کی طرح ہے۔ بوسیدہ عمارت جس کی بوسیدگی چھپانے کے لیئے ماضی قریب میں مرمت و آرائش کے نام پر اس پہ سفیدی کی گئی ہے۔ یہ سفیدی یا چونا بھی اس کی شکنیں نہیں چھپا سکا۔ محکمہ آثارِ قدیمہ سمیت خیبرپختونکواہ کی صوبائی حکومت نے اسے بری طرح نظر انداز کر رکھا ہے۔ اندر وال چاکنگ اور باہر گندگی کے ڈھیر ہیں۔ سامنے کے چھوٹے حوض میں پانی کے علاوہ سب کچھ ہے۔ آس پاس کی خودرو جھاڑیاں کافی بڑھ چکی ہیں۔
ایک مقامی گلشن اقبال کے مطابق؛
”سن 03-2000 تک یہاں پانی کے چشمے سالہا سال بہتے تھے۔ تہہ خانہ سارا سال پانی سے بھرا رہتا تھا ، جنوب کی جانب بڑا تالاب تھا۔
مغلیہ دور میں یہ ایک آرام گاہ اور شکار گاہ کےطور پر استعمال ہوتا تھا ۔ شمال کی جانب تقریبا آدھ کلومیٹر دور جنگلی جانوروں کے پانی پینے کا تالاب بھی تھا جو اب منہدم ہو چکا ہے۔”
حکومت اگر اس پر کچھ توجہ دے اور اسے بہتر طریقے سے بحال کرے تو یہ ایک اچھا سیاحتی و تاریخی مقام بن سکتا ہے۔ ہماری وال چاکنگ لور عوام کو اس سے دور رکھنے کے لیئے عمارت کے گرد باڑ لگا کے اس پہ ٹکٹ بھی لگایا جا سکتا ہے۔


