کیا بالخصوص ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس استثنٰی واقعی ریاستوں کے الحاق کے وقت ہونے والے کسی معاہدے کا نتیجہ تھا، یا اس کی بنیاد ان علاقوں کی سابقہ آئینی حیثیت تھی؟ ایک تاریخی اور قانونی جائزہ۔
اطلاعات کے اس دور میں کسی خبر یا معلومات تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے، مگر اس کی صداقت جانچنا شاید پہلے سے بھی زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جھوٹی، من گھڑت اور غیر مصدقہ خبریں، نیز مختلف سماجی تصورات (Stereotypes)، آج بھی حقیقت کا روپ دھار کر گردش کر رہے ہیں۔ تاریخی، آئینی اور قانونی معاملات بھی اس رجحان سے محفوظ نہیں۔ قبائلی علاقوں کے ٹیکس استثنا کا معاملہ بھی انہی موضوعات میں سے ایک ہے، جس کے بارے میں مختلف دعوے تواتر سے کیے جاتے ہیں، لیکن ان میں سے بیشتر دعووں کی تائید مستند تاریخی یا قانونی ریکارڈ سے نہیں ہوتی۔
اس موضوع کو سمجھنے سے پہلے ایک بنیادی وضاحت ضروری ہے۔ جن علاقوں کو عمومی طور پر “قبائلی علاقے” کہا جاتا ہے، وہ پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد اپنی سابقہ آئینی حیثیت کھو چکے ہیں، اس لیے اب انہیں “سابقہ قبائلی علاقے” کہنا زیادہ درست ہے۔ ان میں سابقہ فاٹا (FATA) اور پاٹا (PATA) دونوں شامل ہیں۔
سابقہ پاٹا میں خیبر پختونخوا کے علاقے چترال، دیر، سوات، کالام، ضلع کوہستان کے قبائلی علاقے، ملاکنڈ ایجنسی، مانسہرہ اور سابقہ ریاستِ امب شامل تھے، جبکہ بلوچستان میں ژوب، لورالائی، چاغی اور سبی کی بعض تحصیلیں اس کا حصہ تھیں۔ دوسری جانب سابقہ فاٹا میں باجوڑ سے لے کر وزیرستان تک کے مختلف قبائلی اضلاع اور سابقہ ایجنسیاں شامل تھیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد یہ تمام علاقے مختلف آئینی اور انتظامی انتظامات کے تحت ٹیکسوں سے مستثنا رہے۔ اسی تاریخی پس منظر کی بنیاد پر آج بھی، بالخصوص ملاکنڈ ڈویژن کی عام آبادی، تاجر برادری، پیشہ ور افراد اور سوات کے شاہی خاندان سے وابستہ بعض حلقے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ریاستِ سوات کے پاکستان سے الحاق کے وقت والیِ سوات، میاں گل عبدالحق جہانزیب، اور حکومتِ پاکستان کے درمیان ایسا معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ریاستِ سوات کو مستقل یا طویل المدتی ٹیکس استثنا حاصل ہوا۔
یہ دعویٰ صرف عوامی سطح تک محدود نہیں۔ ویب سائٹ “باخبر سوات” کی ایک رپورٹ کے مطابق، سوات کے شاہی خاندان کی بہو اور سابق رکنِ قومی اسمبلی مسرت احمد زیب نے بھی نومبر 2021ء میں سوات میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسی مؤقف کا اظہار کیا تھا۔
اسی طرح دیر اور چترال میں بھی عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ریاستوں کے پاکستان میں انضمام کے وقت وہاں کے حکمرانوں اور حکومتِ پاکستان کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت ان ریاستوں کو ٹیکس استثنا دیا گیا۔ مختلف سیاسی جماعتیں بھی اپنی تقاریر، جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں میں وقتاً فوقتاً اسی مؤقف کو دہراتی رہی ہیں۔
تاہم، جہاں تک میری تحقیق کا تعلق ہے، مجھے اب تک ایسا کوئی معاہدہ دستیاب نہیں ہو سکا، جس میں ان ریاستوں کو ٹیکس استثنا دینے کی کوئی واضح قانونی ضمانت موجود ہو۔ میں نے اس حوالے سے متعدد تاریخی اور قانونی ذرائع کا جائزہ لیا، لیکن ایسا کوئی مستند ریکارڈ سامنے نہیں آیا جو اس دعوے کی تائید کرتا ہو۔ یہ محض میری ذاتی تحقیق کا نتیجہ نہیں بلکہ ممتاز محقق ڈاکٹر سلطانِ روم بھی اپنی مختلف تحریروں میں اسی مؤقف کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ ایسا کوئی مستند معاہدہ آج تک منظرِ عام پر نہیں آ سکا۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر واقعی ایسا کوئی معاہدہ موجود ہے تو اسے آج تک منظرِ عام پر کیوں نہیں لایا گیا؟ اگر اس معاہدے کی بنیاد پر نوّے سال، سو سال یا بعض حلقوں کے دعوے کے مطابق ہمیشہ کے لیے ٹیکس استثنا حاصل تھا، تو پھر ٹیکس کے نفاذ کے خلاف صرف احتجاج، جلسوں یا سیاسی بیانات پر اکتفا کرنے کے بجائے اسی معاہدے کو عدالتِ عالیہ میں قانونی بنیاد کے طور پر کیوں پیش نہیں کیا جاتا؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ کسی بھی قانونی حق کا مضبوط ترین ثبوت متعلقہ دستاویز ہوتی ہے، نہ کہ زبانی دعوے، عوامی تاثر یا سیاسی بیانیہ۔
اس دعوے کے تناظر میں ایک اور اہم پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ مجھے ذاتی طور پر والیِ سوات کی سوانح عمری کا مکمل مطالعہ کرنے کا موقع نہیں ملا، تاہم اس موضوع پر ڈاکٹر سلطانِ روم کا معلوماتی کالم “ہمارے لکھاری اور تاریخ (6)” نہایت اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق، خود والیِ سوات نے بھی اپنی سوانح عمری میں ریاستِ سوات کے خاتمے اور پاکستان میں انضمام کا ذکر کرتے ہوئے کسی ایسے معاہدے کا حوالہ نہیں دیا، جس کے تحت ریاست کو ٹیکس استثنا حاصل ہوا ہو۔
ڈاکٹر سلطانِ روم کے مطابق، والیِ سوات اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ جب ریاستوں کے ادغام کا فیصلہ کیا گیا تو ولی عہد میاں گل اورنگزیب اور نوابِ دیر کو راولپنڈی بلا کر حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ والیِ سوات کے بقول، حکومت نے ان کی عمر اور مقام کا لحاظ رکھتے ہوئے انہیں نہیں بلکہ ان کے صاحبزادے کو طلب کیا۔ یہ 25 جولائی، جمعہ کا دن تھا، جبکہ پیر 28 جولائی 1969ء کو ریاستِ سوات کا باقاعدہ ادغام عمل میں آ گیا۔
والیِ سوات مزید لکھتے ہیں کہ انہوں نے مئی 1969ء میں صدر یحییٰ خان سے خود یہ کہا تھا کہ اب ریاست کے ادغام کا وقت آ چکا ہے اور وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ تاہم جب ادغام کا عملی فیصلہ ہوا تو انہیں صرف تین دن پہلے اطلاع دی گئی۔ اس فیصلے کا اعلان ریڈیو پر کیا گیا اور بعد ازاں اخبارات میں شائع ہوا۔
اسی تناظر میں ڈاکٹر سلطانِ روم نے والیِ سوات کی سوانح عمری سے ایک نہایت اہم جملہ نقل کیا ہے: “No agreement, and we had only three days’ warning.” یعنی: “ہمارے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا تھا اور ہمیں صرف تین دن پہلے اطلاع دی گئی تھی۔” ڈاکٹر سلطانِ روم نے اس اقتباس کے لیے والیِ سوات کی سوانح عمری The Last Wali of Swat (بنکاک ایڈیشن، 1995ء) کے صفحات 134 تا 136 کا حوالہ دیا ہے۔ اگر خود والیِ سوات اپنی خودنوشت میں واضح طور پر یہ لکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا، تو بعد ازاں ٹیکس استثنا سے متعلق کسی مبینہ معاہدے کا دعویٰ مزید مضبوط اور مستند شواہد کا متقاضی بن جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور اہم تاریخی دستاویز بھی ریکارڈ پر موجود ہے، جسے عموماً اس بحث میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ Supplementary Instrument of Accession (ضمنی ضابطۂ الحاق) ہے، جس پر فروری 1954ء میں والیِ سوات اور حکومتِ پاکستان کے درمیان اتفاق ہوا۔ اس ضمنی ضابطۂ الحاق کے تحت والیِ سوات نے اپنے متعدد آئینی اور انتظامی اختیارات پاکستان کی وفاقی مقننہ (Federal Legislature) کو منتقل کر دیے۔ اس کے نتیجے میں وفاقی مقننہ کو پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح ریاستِ سوات میں بھی اُن تمام وفاقی اور متعلقہ شعبوں، جو شیڈول کے Part I اور Part II میں درج تھے، قانون سازی اور ان قوانین کے نفاذ کا مکمل اختیار حاصل ہو گیا۔
اس کا قانونی مفہوم یہ ہے کہ وفاقی حکومت کو ان شعبوں میں ریاستِ سوات کے لیے قانون سازی، متعلقہ وفاقی قوانین کا نفاذ اور ضرورت پڑنے پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو گیا تھا۔ مزید برآں، اسی قانونی اختیار کی بنیاد پر اگر حکومت مناسب سمجھتی تو ریاست کے آئینی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں بھی کر سکتی تھی، جن میں ریاست کے پاکستان میں مکمل انضمام کا فیصلہ بھی شامل تھا۔
مختصراً، اگر 1954ء ہی میں وفاقی مقننہ کو متعلقہ شعبوں میں قانون سازی اور اس کے نفاذ کا اختیار منتقل ہو چکا تھا، تو بعد ازاں ٹیکس استثنا سے متعلق کسی مستقل یا دائمی معاہدے کا وجود قانونی اور تاریخی، دونوں حوالوں سے محلِ نظر دکھائی دیتا ہے۔ ریاستِ دیر اور ریاستِ چترال کی آئینی صورتِ حال بھی بنیادی طور پر اسی نوعیت کی تھی، اس لیے ان ریاستوں کے بارے میں کیے جانے والے ایسے دعووں کو بھی مستند تاریخی ریکارڈ کی روشنی میں ہی پرکھا جانا چاہیے۔
صرف مبینہ الحاقی معاہدے ہی کو ٹیکس استثنا کی بنیاد نہیں بنایا جاتا، بلکہ بعض حلقے ایک اور قانونی دلیل بھی پیش کرتے ہیں، جس کا مختصر جائزہ لینا ضروری ہے۔
بعض لوگ اپنے بیانات اور تحریروں میں The Dir, Chitral and Swat (Administration) Regulation, 1969 یعنی West Pakistan Regulation No. I of 1969 کے سیکشن 5 کا حوالہ دیتے ہوئے بھی ٹیکس استثنا کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تاہم مذکورہ ضابطے کے سیکشن 5 میں ٹیکس استثنا کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ اس کے برعکس اس میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ ان تینوں ریاستوں میں پہلے سے نافذ قوانین، یا قانونی حیثیت رکھنے والے کسی بھی رواج یا عمل کے تحت قابلِ وصول تمام ٹیکس، فیسیں، خراج اور دیگر رقوم، جو پہلے ریاستی انتظامیہ کی آمدنی کے طور پر وصول کی جاتی تھیں، انہیں صوبائی آمدنی قرار دے کر صوبائی فنڈ میں جمع کرایا جائے گا۔ اس لیے اس ضابطے کو ٹیکس استثنا کی قانونی بنیاد قرار دینا، کم از کم اس کے متن کی روشنی میں، درست معلوم نہیں ہوتا۔
اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ٹیکس استثنا کسی معاہدے یا کسی ایسی قانونی دستاویز کی بنیاد پر حاصل نہیں تھا جس کا اب تک کوئی مستند ثبوت سامنے آیا ہو، تو پھر ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان علاقوں کو اتنے عرصے تک ٹیکسوں سے استثنا کیوں حاصل رہا؟
اس سوال کا جواب ریاستوں کے انضمام سے زیادہ ان علاقوں کی آئینی اور انتظامی حیثیت میں پوشیدہ ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد سابقہ فاٹا اور پاٹا کو ملک کے دیگر حصوں سے مختلف ایک خصوصی آئینی و انتظامی حیثیت دی گئی۔ اگرچہ یہ علاقے پاکستان کا حصہ تھے، تاہم ان کے نظم و نسق کے لیے الگ آئینی طریقۂ کار اختیار کیا گیا، جس کے تحت بعض علاقے وفاق اور بعض صوبائی انتظامیہ کے زیرِ انتظام رہے۔
آئینِ پاکستان، 1973ء کے آرٹیکل 246 کے تحت فاٹا اور پاٹا کی خصوصی آئینی حیثیت برقرار رکھی گئی، جبکہ آرٹیکل 247 میں واضح کیا گیا کہ پارلیمنٹ یا متعلقہ صوبائی اسمبلی کا کوئی بھی قانون اس وقت تک ان علاقوں میں نافذ نہیں ہوگا، جب تک صدرِ مملکت یا متعلقہ صوبے کا گورنر اس کے نفاذ کا حکم جاری نہ کرے اور اس طرح کی قانون سازی کی مثالیں ملتی ہیں جو زیادہ تر ریگولیشنز کی شکل میں موجود ہیں۔
اسی آرٹیکل کے تحت ان علاقوں کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے دائرۂ اختیار سے بھی باہر رکھا گیا تھا۔ یوں عملاً ان علاقوں سے متعلق بیشتر آئینی اور انتظامی اختیارات صدرِ پاکستان کے پاس تھے۔ تاہم صدر بھی کسی اہم فیصلے سے قبل وہاں کے عوام، بالخصوص قبائلی عمائدین اور جرگوں سے مشاورت کا پابند تھا۔
چنانچہ یہ کہنا درست نہیں کہ قبائلی علاقوں کو ٹیکسوں سے استثنا کسی معاہدے کے نتیجے میں حاصل تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ استثنا ان کی خصوصی آئینی حیثیت کا منطقی نتیجہ تھا، کیونکہ جب تک متعلقہ قوانین ان علاقوں میں نافذ نہ کیے جاتے، ٹیکس قوانین بھی ازخود لاگو نہیں ہو سکتے تھے۔
بعد ازاں حکومتِ پاکستان نے ان علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے آئینی اصلاحات کا آغاز کیا۔ اس مقصد کے لیے اُس وقت کے وزیرِ اعظم کے مشیر سرتاج عزیز کی سربراہی میں چھ رکنی فاٹا ریفارمز کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے قبائلی اضلاع کے عوام، منتخب نمائندوں، قبائلی عمائدین اور دیگر متعلقہ حلقوں سے مشاورت کے بعد اپنی سفارشات مرتب کیں۔
کمیٹی نے متعدد سفارشات پیش کیں، جن میں اہم ترین یہ تھیں کہ فاٹا کو مرحلہ وار پانچ سال کے اندر ملک کے دیگر علاقوں کی طرح قومی دھارے میں شامل کیا جائے، دس سالہ خصوصی ترقیاتی پیکیج دیا جائے، فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (FCR) کا خاتمہ کیا جائے اور ان علاقوں کو آئینی، عدالتی اور انتظامی اعتبار سے ملک کے باقی حصوں کے مساوی حیثیت دی جائے۔
انہی سفارشات کی بنیاد پر مئی 2018ء میں پچیسویں آئینی ترمیم منظور کی گئی۔ اس ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 246 میں ذیلی شق (d) شامل کی گئی، جس کے تحت سابقہ فاٹا کو خیبر پختونخوا اور سابقہ پاٹا کے متعلقہ علاقوں کو ان کے متعلقہ صوبوں میں ضم کر دیا گیا، جبکہ آرٹیکل 247 کو مکمل طور پر حذف کر دیا گیا۔
یہ ترمیم درحقیقت قبائلی علاقوں کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کا نقطۂ آغاز تھی۔ اس کے بعد یہ علاقے بھی آئینی اور قانونی طور پر ملک کے دیگر حصوں کی طرح وفاقی اور صوبائی قوانین کے دائرۂ کار میں آ گئے۔
یہیں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد ان علاقوں کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہو چکی تھی، تو پھر ٹیکسوں کا نفاذ فوراً کیوں نہیں کیا گیا؟
اس سوال کا جواب بعد میں جاری ہونے والے حکومتی نوٹیفکیشنز اور مرحلہ وار ٹیکس پالیسی میں ملتا ہے، جن کے ذریعے حکومت نے ان علاقوں کو فوری طور پر قومی ٹیکس نظام میں شامل کرنے کے بجائے ایک عبوری مدت دینے کی حکمتِ عملی اختیار کی۔
چنانچہ پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد جب سابقہ فاٹا اور پاٹا کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہو گئی اور یہ علاقے آئینی طور پر ملک کے دیگر حصوں کے مساوی قرار پائے، تو حکومت نے ٹیکسوں کے نفاذ کے معاملے میں فوری اقدام کرنے کے بجائے تدریجی حکمتِ عملی اپنائی۔
اسی سلسلے میں وفاقی حکومت نے 23 جولائی 2018ء کو نوٹیفکیشن نمبر S.R.O. 887(I)/2018 جاری کیا، جس کے ذریعے قبائلی علاقوں کو Income Tax Ordinance, 2001 کے بعض اطلاقات سے استثنا دیا گیا۔ اسی روز S.R.O. 888(I)/2018، S.R.O. 889(I)/2018 اور S.R.O. 890(I)/2018 کے ذریعے Sales Tax Act, 1990 کے تحت بھی قبائلی علاقوں (Tribal Areas) کے لیے خصوصی رعایتوں اور استثناؤں کا اعلان کیا گیا۔
بعد ازاں انہی نوٹیفکیشنز کی روشنی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے S.R.O. 1212(I)/2018 اور S.R.O. 1213(I)/2018 جاری کیے، جن کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کو یکم جون 2018ء سے 30 جون 2023ء تک مختلف وفاقی ٹیکسوں سے استثنا حاصل رہا۔
یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ یہ استثنا کسی تاریخی معاہدے، الحاقی دستاویز یا کسی مستقل آئینی ضمانت کی بنیاد پر نہیں تھا، بلکہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ قانونی نوٹیفکیشنز کے ذریعے دیا گیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں، یہ ایک حکومتی پالیسی تھی، جس کا مقصد ان علاقوں کو فوری طور پر مکمل ٹیکس نظام کے تحت لانے کے بجائے انہیں ایک عبوری مدت فراہم کرنا تھا، تاکہ وہ بتدریج قومی معاشی اور انتظامی ڈھانچے کا حصہ بن سکیں۔
بعد ازاں 2023ء میں اس استثنا میں مزید ایک سال کی توسیع کی گئی، جبکہ 2024ء میں بھی اسے مزید ایک سال کے لیے برقرار رکھا گیا۔ یوں پچیسویں آئینی ترمیم کے باوجود حکومت نے مسلسل کئی برس تک ان علاقوں کے لیے خصوصی ٹیکس رعایتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔
مالی سال 2025-26 کے تناظر میں صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے 2 اگست 2025ء کے سرکولر نمبر C. No. 2/1-STB/2025 کے پیرا نمبر 29 میں سیلز ٹیکس کے استثنا کے بتدریجی خاتمے کا طریقۂ کار وضع کیا گیا۔ اس پالیسی کے مطابق مالی سال 2025-26 میں 10 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کیا جانا تھا، جس کے بعد ہر سال مرحلہ وار اضافہ کرتے ہوئے 2029ء تک ان علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں کی طرح مکمل 18 فیصد سیلز ٹیکس کے نظام میں شامل کیا جانا تھا۔
تاہم عملی طور پر صورتحال اتنی سادہ نہیں رہی۔ مختلف تجارتی تنظیموں، ٹریڈ یونینز، مقامی سیاسی جماعتوں اور دیگر سماجی حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات اور احتجاج سامنے آئے۔ ان حالات کے پیشِ نظر حکومت نے 2025ء میں بھی استثنا برقرار رکھا اور مجوزہ ٹیکس نظام کو مکمل طور پر نافذ نہ کیا جا سکا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری اور منظوری کے دوران اس معاملے پر نسبتاً خاموشی رہی، لیکن بجٹ کی منظوری کے بعد ایک مرتبہ پھر مختلف علاقوں میں وہی بحث، تحفظات اور ردِعمل سامنے آنے لگا جو گزشتہ چند برسوں سے وقفے وقفے سے دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یہ صورتِ حال اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ قبائلی علاقوں میں ٹیکس کے نفاذ کا معاملہ صرف ایک مالیاتی یا انتظامی مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے ساتھ تاریخی تصورات، آئینی ارتقا، عوامی اعتماد اور سیاسی بیانیے بھی گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس موضوع پر ہونے والی ہر بحث میں تاریخی حقائق اور قانونی دستاویزات کو بنیادی حیثیت دینا ناگزیر ہے۔
ان تمام تاریخی، آئینی اور قانونی حقائق کی روشنی میں کم از کم ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ قبائلی علاقوں کا ٹیکس استثنا کسی دائمی، خفیہ یا تاریخی معاہدے کا نتیجہ نہیں تھا۔ دستیاب تاریخی ریکارڈ، آئینی دفعات اور قانونی دستاویزات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس استثنا کی بنیاد ان علاقوں کی خصوصی آئینی حیثیت تھی، جو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 246 اور 247 کے تحت قائم تھی۔ جب پچیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے یہ خصوصی حیثیت ختم ہوئی، تو حکومت نے فوری نفاذ کے بجائے مرحلہ وار منتقلی کی پالیسی اختیار کی اور مختلف نوٹیفکیشنز کے ذریعے اس استثنا کو متعدد بار توسیع دی۔
اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ٹیکس کے نفاذ کی رفتار، اس کے معاشی اثرات، حکومت کی پالیسی یا اس کے وقتِ نفاذ پر اختلافِ رائے کیا جا سکتا ہے، اور یہ ہر شہری اور ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق بھی ہے۔ تاہم یہ اختلاف تاریخی حقائق اور قانونی بنیادوں سے الگ نہیں ہونا چاہیے۔ کسی حکومتی فیصلے سے اختلاف اور کسی تاریخی دعوے کی صحت، دونوں الگ الگ سوالات ہیں، جنہیں خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے۔
اگر واقعی ریاستِ سوات، ریاستِ دیر یا ریاستِ چترال کے پاکستان سے الحاق کے وقت ٹیکس استثنا سے متعلق کوئی ایسا معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ان ریاستوں کو مستقل یا طویل المدتی استثنا حاصل تھا، تو اس معاہدے کا مستند متن، قانونی حیثیت یا سرکاری ریکارڈ منظرِ عام پر آنا چاہیے تاکہ اس پر تاریخ، قانون اور آئین کی روشنی میں سنجیدہ اور علمی بحث ہو سکے۔ لیکن جب تک ایسا کوئی مستند ثبوت سامنے نہیں آتا، اس وقت تک اس نوعیت کے دعووں کو تاریخی حقیقت کے طور پر تسلیم کرنا علمی دیانت اور قانونی تحقیق، دونوں کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
آخر میں شاید یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تاریخ، قانون اور آئین کی دنیا میں دعوے نہیں بلکہ شواہد فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی مؤقف کو قبول یا رد کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اسے مستند ریکارڈ، آئینی اصولوں اور قانونی دستاویزات کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ یہی علمی دیانت کا تقاضا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں افواہوں سے حقائق کی طرف لے جاتا ہے۔


