عالمی موسمیاتی تبدیلیاں / پروفیسر عامر زرین

کبھی موسم، فطرت کی شاعری تھے۔ بہار پھولوں کی زبان میں گفتگو کرتی تھی، گرمی پکتی ہوئی فصلوں کی نوید لاتی تھی، برسات مٹی سے خوشبو کشید کرتی تھی اور سردی دھند کی چادر اوڑھے زمین کو سکون عطا کرتی تھی۔ صدیوں تک انسان نے انہی موسموں کی ساعتوں سے اپنی معیشت، تہذیب اور ثقافت کی بنیاد رکھی۔ کسان نے بیج اس یقین سے بویا کہ بارش اپنے وقت پر آئے گی، چرواہے نے ریوڑ اس اعتماد سے چراگاہوں کی طرف ہانکے کہ سبزہ اپنی مدت تک باقی رہے گا، اور دریاؤں کے کنارے آباد بستیاں قدرت کے اس توازن پر بھروسہ کرتی رہیں جسے ابدی سمجھا جاتا تھا۔

مگر اکیسویں صدی میں موسموں نے گویا اپنی زبان بدل لی ہے۔ اب بہار مختصر ہے، گرمی طویل اور بے رحم، برسات بے وقت اور تباہ کن، جبکہ سردی رفتہ رفتہ ایک معدوم ہوتی یاد میں تبدیل ہو رہی ہے۔ یہ محض موسمی تغیر نہیں بلکہ کرۂ ارض کے حیاتیاتی نظام میں رونما ہونے والی ایک ایسی بنیادی تبدیلی ہے جس کے اثرات آنے والی کئی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

گزشتہ ڈیڑھ صدی میں صنعتی انقلاب نے انسانی ترقی کو بے مثال رفتار عطا کی، مگر اس ترقی کی قیمت بھی اتنی ہی بھاری ثابت ہوئی۔ کوئلہ، تیل اور گیس کا بے دریغ استعمال، جنگلات کی بے رحمانہ کٹائی، بے ہنگم شہری توسیع اور صنعتی آلودگی نے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار کو اس حد تک بڑھا دیا کہ زمین کا قدرتی درجۂ حرارت مسلسل بلند ہونے لگا۔ یہی عالمی حدت (Global Warming) آج موسمیاتی تبدیلی کا بنیادی محرک سمجھی جاتی ہے۔

یہ امر اب کسی نظریاتی اختلاف کا موضوع نہیں رہا۔ Intergovernmental Panel on Climate Change (IPCC) کی متعدد جائزہ رپورٹس اور World Meteorological Organization (WMO) کے مشاہدات اس حقیقت پر متفق ہیں کہ انسانی سرگرمیاں عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ ان سائنسی مطالعات کے مطابق زمین کی فضا میں معمولی سا درجۂ حرارت بھی بارشوں، ہواؤں، سمندری طوفانوں، خشک سالی اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیتا ہے۔

یہ تبدیلی محض درجۂ حرارت کے اعداد و شمار تک محدود نہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں شدید گرمی کی لہریں ہزاروں جانیں لے رہی ہیں۔ یورپ، جو کبھی معتدل موسم کی علامت سمجھا جاتا تھا، اب ریکارڈ توڑ ہیٹ ویوز کا سامنا کر رہا ہے۔ کینیڈا اور آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ نے لاکھوں ایکڑ رقبہ راکھ بنا دیا۔ افریقہ کے کئی ممالک مسلسل خشک سالی کی زد میں ہیں، جبکہ ایشیا میں غیر معمولی بارشیں اور سیلاب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ قدرت گویا یہ اعلان کر رہی ہے کہ انسان نے ماحول کے ساتھ جو معاہدہ توڑا ہے، اس کے نتائج اب پوری دنیا کو بھگتنا ہوں گے۔

پاکستان اس المیے کی ایک زندہ مثال ہے۔ عالمی کاربن اخراج میں ہمارا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثر ہونے والے ممالک میں ہمارا شمار اولین صفوں میں ہوتا ہے۔ 2022ء کے تباہ کن سیلاب نے یہ حقیقت پوری دنیا پر آشکار کر دی۔ ایک تہائی پاکستان پانی میں ڈوب گیا، تین کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے، لاکھوں ایکڑ زرعی زمین تباہ ہوئی، مویشی بہہ گئے، دیہات اجڑ گئے اور قومی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ دوسری طرف سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے کئی علاقے آج بھی پانی کی شدید قلت، زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح اور طویل خشک سالی کا سامنا کر رہے ہیں۔

پاکستان کی زرعی معیشت اس غیر یقینی صورتحال سے براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔ گندم، کپاس، چاول اور مکئی جیسی اہم فصلیں موسم کی باقاعدگی پر انحصار کرتی ہیں، مگر اب بارشیں کبھی وقت سے پہلے اور کبھی ضرورت سے بہت بعد میں ہوتی ہیں۔ شدید گرمی پودوں کی افزائش کو متاثر کرتی ہے، اولے تیار فصلوں کو چند لمحوں میں تباہ کر دیتے ہیں، جبکہ پانی کی قلت زرعی پیداوار کو مسلسل کم کر رہی ہے۔ کسان، جو کبھی موسمی تجربے کی بنیاد پر کاشت کاری کرتے تھے، اب مصنوعی ذہانت، موسمیاتی پیش گوئیوں اور جدید زرعی تحقیق کے محتاج ہوتے جا رہے ہیں۔

لائیو اسٹاک کا شعبہ، جو دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، بھی اس بحران سے محفوظ نہیں۔ گرمی کا دباؤ دودھ دینے والے جانوروں کی پیداوار میں نمایاں کمی لاتا ہے، چارے کی قلت جانوروں کی غذائی ضروریات کو متاثر کرتی ہے، اور نئی موسمی بیماریوں نے مویشی پالنے والوں کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ سیلاب اور خشک سالی کے دوران لاکھوں جانوروں کا ہلاک ہونا محض ایک زرعی نقصان نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا خاتمہ بھی ہے۔

اس بحران کا ایک اور پہلو ہماری اجتماعی بے حسی ہے۔ ہم اب بھی درخت کو محض لکڑی سمجھتے ہیں، دریا کو کچرا پھینکنے کی جگہ، اور فضا کو دھواں جذب کرنے والی ایک لامحدود جگہ۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قدرت کا نظام توازن پر قائم ہے، اور جب انسان اس توازن کو بگاڑتا ہے تو ردِعمل بھی اتنا ہی شدید ہوتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ صرف حکومتی پالیسیوں سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تعلیمی نصاب میں ماحولیاتی شعور کو شامل کرنا، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبے، جدید آبپاشی کے نظام، قابلِ تجدید توانائی، بڑے پیمانے پر شجرکاری، جنگلات کا تحفظ، شہروں کی سائنسی منصوبہ بندی، موسمیاتی پیش گوئی کے جدید نظام اور کسانوں کے لیے موسمیاتی انشورنس جیسے اقدامات اب تعیش نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جدوجہد صرف ماحولیات کی نہیں بلکہ اخلاقیات کی جنگ بھی ہے۔ ہم آنے والی نسلوں کے لیے کیسی زمین چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ کیا وہ دریاؤں میں پانی دیکھیں گی یا صرف ان کی تصویریں؟ کیا وہ بہار کی خوشبو محسوس کریں گی یا صرف نصابی کتابوں میں اس کا ذکر پڑھیں گی؟

شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کی تعریف پر بھی دوبارہ غور کریں۔ اگر ہماری ترقی جنگلات ختم کر دے، دریاؤں کو آلودہ کر دے، فضا کو زہریلا بنا دے اور موسموں کو بے ترتیب کر دے تو ایسی ترقی دراصل انسانی بقا کے خلاف سرمایہ کاری ہے۔

موسموں نے اپنی زبان بدل لی ہے، مگر ابھی بھی وقت ہے کہ انسان اپنی روش بدل لے۔ اگر ہم نے آج علم، سائنس اور اجتماعی ذمہ داری کی بنیاد پر فیصلے نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہمیں صرف اس لیے یاد رکھیں گی کہ ہم وہ نسل تھے جس نے انتباہ تو سنا، مگر اس پر عمل نہ کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں