جولائی 2026ء کی تپتی دھوپ میں تہران سے آنے والی ایک خبر نے تاریخ اور سفارت کے طالب علموں کو چونکا دیا ہے۔ سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریب میں جو کچھ ہوا، اس نے مسلم امہ کے سیاسی رویوں پر ایک گہرا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر عالمی میڈیا کی یہ رپورٹ گردش کر رہی ہے کہ تعزیت کے لیے آنے والے مختلف ممالک کے سرکاری وفود کے سامنے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مختلف قرآنی آیات کی تلاوت کی گئی۔ سعودی وفد آیا تو سورہ آل عمران کی وہ آیت پڑھی گئی جس میں کافروں اور مومنوں کے گروہ کا ذکر ہے، ترک وفد پر سورہ نساء کے ذریعے جہاد سے پیچھے بیٹھنے والوں کا تعریض پیش کیا گیا، جب کہ اپنے من پسند بلاک کے وفود کے لیے سورہ المائدہ کی آیت کے ذریعے خدا کی جماعت کے سرٹیفکیٹ بانٹے گئے۔
دعویٰ تو اہل بیتِ اطہارؑ کی محبت اور ان کے مکتبِ فکر کی پیروی کا ہے، لیکن تعزیت جیسے غمناک موقع پر قرآن کی آیات کو سیاسی اشاروں, کنایوں اور طعنہ زنی کے لیے استعمال کرنا، کیا واقعی اس گھرانے کا طریقہ ہے جس نے کائنات کو اخلاق سکھایا؟ یا یہ اس ملوکیت اور اموی مائنڈ سیٹ کا اظہار ہے جس نے دین کو ہمیشہ اپنی انا اور سیاست کا ہتھیار بنایا؟ ایران نے جو یہ حرکت کی ہے، یہ قطعی طور پر اچھی نہیں ہے اور یہ کسی بھی طرح اہل بیت کو ماننے والوں کا انداز نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم تاریخِ اسلام کے آئینے میں ایک طرف اہل بیتِ اطہارؑ اور صحابہ کرامؓ کے بلند کردار کو رکھیں، اور دوسری طرف ملوکیت اور بنو امیہ کے درباری رویوں پر ایک نظر ڈالیں، تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ کون سا عمل اسلام کا مطلوب ہے اور کون سا ناپسندیدہ ترین طرزِ عمل۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب اقتدار کا سرچشمہ آقا کریمﷺ اور ان کے سچے جانثاروں کے پاس تھا، تو انہوں نے اپنے بدترین اور جانی دشمنوں کی آمد پر بھی کس بے مثال ظرف اور اخلاق کا مظاہرہ کیا تھا۔
• حضرت ابوسفیانؓ کی آمد کا واقعہ البدایہ والنہایہ میں تفصیل سے ملتا ہے کہ یہ وہ ابوسفیان تھے جو بائیس سال تک آقا کریمﷺ اور مسلمانوں کے خلاف ہر سازش اور جنگ میں پیش پیش رہے، جنہوں نے مسلمانوں کی قتل و غارت گری کی انتہا کر دی تھی۔ فتحِ مکہ سے قبل جب حضرت عباسؓ انہیں پناہ دینے کے لیے آقا کریمﷺ کی بارگاہ کی طرف لے جا رہے تھے، تو حضرت عمر فاروقؓ نے انہیں دیکھا اور بارگاہِ رسالت میں عرض کیا کہ مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں، اور صحابہ کرامؓ باہر منتظر کھڑے ہو گئے کہ اس جانی دشمن کو سزا ملے۔ لیکن جب رسول اللہﷺ نے انہیں پناہ دی اور اگلی صبح ابوسفیان دائرہ اسلام میں داخل ہو کر باہر نکلے، تو تاریخِ انسانیت نے وہ حیران کن منظر دیکھا۔ وہی صحابہ جو کل تک ان کے خون کے پیاسے تھے، اب صف بنا کر کھڑے ہو گئے، ابوسفیان کو اسلام کی مبارکباد دینے لگے اور مرحبا یعنی خوش آمدید کہہ کر ان کا استقبال کیا۔ کسی نے ماضی کا ایک طعنہ دیا اور نہ کوئی پرانا زخم کریدا۔
• ہندہ بنتِ عتبہ کی آمد کا ذکر صحیح بخاری، کتاب المناقب میں ہے کہ یہ وہ ہندہ تھیں جنہوں نے غزوہ احد میں آقاﷺ کے پیارے چچا سید الشہدا حضرت حمزہؓ کا مثلہ کیا تھا۔ جب وہ فتحِ مکہ پر خواتین کے وفد کے ساتھ نقاب اوڑھے اسلام قبول کرنے آئیں اور انہوں نے اپنا نقاب اٹھا کر کہا کہ یا رسول اللہ! میں ہندہ ہوں، پس آپ مجھے معاف فرما دیں، تو آقا کریمﷺ نے ان کے ماضی کا ذکر تک نہیں کیا اور فرمایا کہ میں نے تمہیں معاف کیا اور انہیں کلامِ خیر سے نوازا۔ کسی ایک صحابی یا اہل بیت کے فرد نے ان کے سامنے ان کے ماضی کی قرآنی آیات پڑھ کر انہیں زچ یا شرمندہ کرنے کی گھٹیا کوشش نہیں کی۔
• حضرت عکرمہ بن ابی جہلؓ کا معاملہ المستدرک للحاکم میں درج ہے کہ ابوجہل اسلام کا وہ فرعون تھا جس نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور عکرمہ بھی اسی راہ پر تھے۔ جب عکرمہ فتحِ مکہ کے بعد نادم ہو کر پناہ مانگنے آ رہے تھے، تو آقاﷺ نے صحابہ کو پہلے ہی روک دیا کہ عکرمہ بن ابی جہل تمہارے پاس مومن اور مہاجر بن کر آ رہا ہے، اس کے باپ ابوجہل کو کوئی طعنہ یا گالی مت دینا، کیونکہ مردے کو برا کہنا زندہ کو تکلیف دیتا ہے۔ جب عکرمہ مجلس میں پہنچے تو آقاﷺ نے اتنی خوشی سے ان کا استقبال کیا کہ کھڑے ہو گئے اور ان کے اسلام لانے پر خوشی کا اظہار فرمایا۔
• ابولہب کے بیٹوں کا معاملہ تاریخ الطبری میں آتا ہے کہ ابولہب وہ شخص ہے جس کی مذمت میں خدا نے پوری سورہ لہب نازل کی۔ لیکن جب فتحِ مکہ پر اس کے بیٹے عتبہ اور معتب رسول اللہﷺ کے پاس لائے گئے، تو آقاﷺ نے ان کا ہاتھ تھام کر خوشی کا اظہار فرمایا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی صحابی نے ان بیچاروں کو سورہ لہب سنا کر کبھی کوئی طعنہ نہیں دیا۔ یہ تھا آقا کریمﷺ، صحابہ کرام اور اہل بیت کا وہ اعلیٰ ظرف، جہاں بدترین جانی دشمن بھی اگر پلٹ کر یا سوگوار ہو کر آتا، تو اسے پناہ، مبارکباد اور عزت ملتی تھی، طعنہ اور طنز نہیں۔
اس کے برعکس، جب خلافت ملوکیت اور خاندانی بادشاہتوں میں تبدیل ہوئی، تو حکمرانوں نے قرآنِ کریم کی آیات اور مذہبی تصورات کو اپنی سیاسی جنگوں، انا کی تسکین اور مخالفین پر طعنہ زنی کا ہتھیار بنا لیا۔ یہ اسلام کا وہ ناپسندیدہ ترین عمل تھا جس نے دین کے مزاج کو مسخ کیا۔ تاریخ الطبری اور الکامل فی التاریخ کے مطابق، یہ وہی اموی ملوکیت کا مائنڈ سیٹ ہے جب کربلا کے سچے اسیروں، سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اور امام زین العابدین علیہ السلام کو دمشق اور کوفہ کے درباروں میں پیش کیا گیا، تو ابنِ زیاد اور یزید نے قرآن کی آیات سنا کر اہل بیت پر طعنہ زنی کی کوشش کی تھی۔ ابنِ زیاد نے جب سیدہ زینبؑ سے کہا کہ اس خدا کا شکر جس نے تمہیں رسوا کیا اور تمہاری تکذیب کی تو آپؑ نے جواب دیا کہ رسوا فاسق ہوتا ہے اور وہ ہم نہیں ہیں۔ پھر یزید نے دربار میں سورہ آل عمران کی آیت پڑھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ معاذ اللہ یہ سب ان کی برتری اور اہل بیت کی لغزش کی وجہ سے ہوا ہے۔ یہ ملوکیت کا وہ بدترین چہرہ تھا جہاں قرآن کی آیات کو ہدایت کے لیے نہیں، بلکہ سیاسی مخالفین کو کچلنے اور انہیں نیچا دکھانے کے لیے پڑھا جاتا تھا۔
آج جب ہم تہران کی تعزیتی تقریب میں سعودی, قطری یا ترک وفود کے سامنے مخصوص آیات کی تلاوت کا تماشا دیکھتے ہیں، تو دل یہ گماں ہوتا ہے کہ کہیں یہ اموی کوفی ایران تو نہیں۔ ایران خود کو امام حسین علیہ السلام کے گھرانے کا ماننے والا کہتا ہے، لیکن اس کا یہ عمل اس پاکیزہ گھرانے کو کاٹنے والے اموی مائنڈ سیٹ کی ہو بہو نقل ہے۔ کیا قرآن اس لیے اترا تھا کہ آپ اسے اپنے سیاسی بلاک کا مینی فیسٹو بنا لیں اور جو آپ کے سیاسی نظریے سے اتفاق نہ کرے، اسے تعزیتی ہال میں آیات کے ذریعے کافر یا جہاد سے پیچھے ہٹنے والا ثابت کریں؟ اور من پسند کو جنت کا ٹکٹ دیں۔۔
ایران کو اب یہ تلخ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ وہ اپنی موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے اسلامی دنیا میں بھی اور عالمی سطح پر بھی شدید تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ معاشی اور سیاسی طور پر وہ آج بھی امریکی پابندیوں اور حکمتِ عملی کے دباؤ کے زیرِ اثر ہے؛ وہ خطے کی اس جنگ میں کوئی بہت بڑا فاتح بن کر نہیں ابھرا اور نہ ہی کوئی بڑی مہم جیتا ہے۔ اس کڑے وقت میں بھی اگر ایران اپنے ہاں آنے والے مہمانوں کو اس طرح قرآنی آیات کے ذریعے طعنہ زنی کا نشانہ بناتا رہے گا، تو وہ آنے والی دنیا میں مزید تنہا ہو جائے گا۔ ایران نے اس سارے موقع پر دراصل بنو امیہ کا طریقہ اختیار کیا اور قرآنی آیات کی آڑ میں تبرّا کی اسی روش اور سیاسی روایت کو قائم رکھا جس کے تحت ملامت اور بیزاری کے اظہار کو سیاسی ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ یعنی جو ان کے سیاسی و مذہبی بلاک میں نہیں، اس پر آیات کے ذریعے علامتی ملامت اور تبرّا کے تیر چلائے جائیں۔ عالمی سیاست اور سفارتی تعلقات کے اندر اس طرح کی حرکتیں ملک کے قد کاٹھ کو چھوٹا کر دیتی ہیں۔ ایران کو اپنا یہ مائنڈ سیٹ اب تبدیل کرنا پڑے گا۔ اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اہل کربلا کا طریقہ یہ ہرگز نہیں ہوتا۔ کربلا کے مظلوموں نے زخم کھائے لیکن اپنے اخلاق اور ظرف کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
اگر ایران ان آنے والے تمام مسلم وفود کو بھائی قرار دے کر، ان کے سامنے حضرت یوسف علیہ السلام کے اس طریقے کی آیات پڑھتا کہ “آج تم پر کوئی ملامت نہیں” اور دلوں کو جوڑنے والی تلاوت کرتا، تو دنیا میں اس کا قد کاٹھ بلند ہو جاتا اور ہمارے دلوں میں اس کی محبت اور عزت بڑھ جاتی جو اب کم ہوئی ہے۔ آغاز اور انجام گواہ ہیں کہ ایران کی یہ حرکت انتہائی نامناسب ہے، اور یہ اہل بیت کے حقیقی پیروکاروں کا مائنڈ سیٹ نہیں، بلکہ خالصتاً اموی درباروں کی کم ظرفی کا عکس ہے۔
جب سیدنا علی المرتضیٰ علیہ السلام مسندِ خلافت پر متمکن تھے، تو اموی مائنڈ سیٹ کے درباری اور علماء منبروں سے اسی طرح کی طعنہ زنی، ملامت اور من پسند قرآنی آیات کا سہارا لے کر آپؑ کی ذاتِ گرامی پر تیر چلایا کرتے تھے۔ آج تہران کے تعزیتی ہال میں قرآن کا جو سیاسی استعمال ہوا، وہ اسی اموی تاریخ کی یاد دلاتا ہے۔ اب فیصلہ پڑھنے والے خود کریں کہ تہران کی اس سفارتی طعنہ زنی کو دیکھنے کے بعد ہم آج کی تاریخ میں ایران کو سیدنا علی علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلنے والا مانیں یا اموی منبروں کے مائنڈ سیٹ کا وارث؟ اقتدار اور انا کے نشے میں چور جدید ریاستیں یہ بھول جاتی ہیں کہ قرآن دلوں کو جوڑنے اور شفا دینے آیا تھا، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے طنز اور ملامت کے تیر چلانے کے لیے نہیں!
مگر يہ راز آخر کھل گيا سارے زمانے پر
حميت نام ہے جس کا، گئي تيمور کے گھر سے


