پاکستانی یونیورسٹیوں کے طلبہ برسوں محنت کرتے ہیں، فیسیں جمع کرواتے ہیں، اسائنمنٹس بناتے ہیں، وائوا میں پسینہ بہاتے ہیں اور آخرکار ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ پھر کینیڈا کا ادارہ فائل کھول کر کہتا ہے:
“Please do not apply… آپ آرام کریں، آپ کی ڈگری قبول نہیں ہوگی!”
یعنی طالب علم چار سال پڑھتا رہا، لیکن یونیورسٹی کے رجسٹرار آفس نے شاید ای میل کا پاس ورڈ ہی بھلا دیا تھا!
BCIT یعنی
British Columbia Institute of Technology
کے تحت کام کرنے والی
ICES، International Credential Evaluation Service،
دنیا بھر کی ڈگریوں کا جائزہ لیتی ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کوئی ڈگری کینیڈین تعلیمی معیار کے برابر ہے یا صرف خوب صورت کاغذ پر سنہری مہر لگی ہوئی ہے۔
جب
ICES
کسی ادارے کے بارے میں لکھ دے
“Please do not apply if you have credentials from the following schools…”
تو اس کا شائستہ اردو ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے
“بھائی صاحب! اس یونیورسٹی کی ڈگری ہے تو درخواست لکھنے کی زحمت بھی نہ کریں، ہم نے پہلے ہی انکار کرنا ہے!”
یہ صرف یونیورسٹی کی بے عزتی نہیں بلکہ اس طالب علم کے خوابوں پر بھی پانی پھیرنا ہے جس نے ڈگری لیتے وقت پورے خاندان کے ساتھ فوٹو شوٹ کروایا تھا۔
رپورٹ شدہ فہرستوں میں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور اس کے تمام کیمپسز، یونیورسٹی آف سرگودھا، یونیورسٹی آف سیالکوٹ، یونیورسٹی آف واہ، یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا لاہور، الخیر یونیورسٹی، الحمد اسلامک یونیورسٹی، برینز انسٹی ٹیوٹ پشاور اور بیریٹ ہوڈسن یونیورسٹی کراچی سمیت متعدد اداروں کے نام زیرِ بحث آئے۔ یونیورسٹی آف فیصل آباد کے سامنے یہ نوٹ بھی رپورٹ ہوا کہ 2015 سے پہلے جاری ہونے والی اسناد کا اسیسمنٹ نہیں کیا جائے گا۔
اب طالب علم سوچ رہا ہے
میری ڈگری پرانی ہے یا دہی، جس کی ایکسپائری ڈیٹ گزر گئی؟
اکثر مسئلہ کلاس روم سے زیادہ رجسٹرار آفس میں پیدا ہوتا ہے۔ بین الاقوامی ادارہ تصدیق کے لیے ای میل کرتا ہے مگر جواب ندارد۔
پہلی ای میل: خاموشی۔
دوسری ای میل: خاموشی۔
تیسری ای میل: شاید متعلقہ کلرک چھٹی پر ہے۔
چوتھی ای میل: کلرک واپس آگیا، مگر پاس ورڈ والے کلرک کی چھٹی ہوگئی۔
پانچویں ای میل: “فائل زیرِ کارروائی ہے!”
یوں کینیڈا والے سوچتے ہیں
“جب یونیورسٹی اپنی جاری کردہ ڈگری کی تصدیق نہیں کرسکتی تو ہم اسے کیسے تسلیم کریں؟”
ناقص ریکارڈ، الحاق شدہ اداروں کی بے قاعدگیاں، بیک ڈیٹڈ ڈگریاں، ڈگریوں کی مبینہ فروخت، غیر حاضری میں امتحان پاس ہونا، اسکینڈلز، کمزور امتحانی نظام اور عالمی ای میلز کا جواب نہ دینا، یہ سب مل کر یونیورسٹی کی ساکھ کو ایسے نقصان پہنچاتے ہیں جیسے گروپ اسائنمنٹ میں ایک طالب علم کی غلطی پر پوری ٹیم کے نمبر کاٹ دیے جائیں۔
افسوس یہ ہے کہ سزا انتظامیہ کو کم اور طلبہ کو زیادہ ملتی ہے۔
کینیڈا میں ڈگریوں کی جانچ کے لیے WES بھی کام کرتا ہے۔ WES کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اپنی ڈگری HEC سے تصدیق کروائیں، پھر HEC کے سیل شدہ لفافے میں دستاویزات بھیجیں۔ چونکہ HEC پہلے ہی چھان بین کرچکا ہوتا ہے، اس لیے اکثر پاکستانی ڈگریاں قبول ہوجاتی ہیں۔
ICES کا طریقہ مختلف ہے۔ وہ کہتا ہے
“HEC کو رہنے دیں، ہم یونیورسٹی کے رجسٹرار سے براہِ راست بات کریں گے!
اور یہیں سے اصل کامیڈی شروع ہوتی ہے۔
ICES ای میل بھیجتا ہے۔
رجسٹرار آفس ای میل نہیں کھولتا۔
طالب علم فون کرتا ہے۔
جواب ملتا ہے: “متعلقہ صاحب میٹنگ میں ہیں۔
اگلے دن پتا چلتا ہے کہ متعلقہ صاحب ٹور پر ہیں۔
پھر فائل کلرک کے پاس، کلرک سے اسسٹنٹ رجسٹرار کے پاس، وہاں سے ڈپٹی رجسٹرار کے پاس اور آخر میں دوبارہ اسی میز پر پہنچ جاتی ہے جہاں سے چلی تھی۔
کینیڈا والے بالآخر کہتے ہیں
“Do Not Evaluate!”
ہر پاکستانی یونیورسٹی ایسی نہیں۔ پنجاب یونیورسٹی، UET لاہور، قائداعظم یونیورسٹی، نسٹ، آئی بی اے، لمز اور کامسیٹس جیسے اداروں کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ ان کے رجسٹرار دفاتر، ریکارڈ مینجمنٹ اور بین الاقوامی رابطے نسبتاً منظم ہیں۔
یعنی کچھ یونیورسٹیوں میں ای میل صرف بنائی نہیں گئی، باقاعدہ کھولی بھی جاتی ہے
نئی اور نسبتاً کم عمر جامعات کو چاہیے کہ ان اداروں سے سیکھیں۔ عالمی رینکنگ صرف خوب صورت ویب سائٹ، بڑے گیٹ اور “International Conference” کا بینر لگانے سے نہیں ملتی؛ اس کے لیے ریکارڈ، شفافیت، بروقت تصدیق اور ذمہ دار انتظامیہ بھی ضروری ہے۔
المختصر، مسئلہ صرف ڈگری کا نہیں بلکہ گورننس کا ہے: رجسٹرار آفس کی غیر فعالیت، کلرک مافیا، ای میلز کا جواب نہ دینا، ناقص یا نامکمل ریکارڈ، بیک ڈیٹڈ اسناد، مشکوک الحاق اور ہر سوال کے جواب میں تاریخی جملہ:
صاحب، فائل ابھی اوپر گئی ہوئی ہے!
ہمیں اپنی جامعات کی گورننس کو جدید، شفاف اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہوگا۔ ورنہ ہم انٹرنیشنلائزیشن کے سیمینار تو کرتے رہیں گے، لیکن جب اصل بین الاقوامی ادارہ تصدیق مانگے گا تو ہمارا جواب ہوگا:
سر، ای میل دوبارہ بھیج دیں، شاید اسپیم میں چلی گئی تھی!
یہ معاملہ محض چند جامعات کا نہیں بلکہ پورے پاکستانی ہائر ایجوکیشن سیکٹر کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
کیونکہ ڈگری دیوار پر سجانے کے لیے نہیں ہوتی، دنیا کو دکھانے اور منوانے کے لیے ہوتی ہے۔


