بہت پرانی بات نہیں ، 1980 اور 1990 کی دہائیاں ہمارے بچپن اور لڑکپن کا دور تھا – دیہات اور شہروں میں تعلیم کے حصول کی اہمیت کا شعور عام ہو چکا تھا – صبح کے وقت دیہات کے کچے پکے راستوں اور شہروں کی سڑکوں پر طلباء و طالبات کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ نظر آتے تھے – تب کاروں اور موٹر سائیکلوں کا ایسا کوئی اژدہام نہیں تھا جیسا اب ہے – لاہور جیسے چند بڑے شہروں کی سڑکوں پر ہی اکا دکا کاریں اور کچھ موثر سائیکلز نظر آتی تھیں – ورنہ ملک بھر کے بچے بچیاں زیادہ تر پیدل یا بائیسکلز پر سفر کرتے تھے – اساتذہ اور پروفیسرز بھی بہت فخر سے بائیسکل پر سفر کرتے تھے – لڑکیوں کے سکولز اور کالجز کے باہر چھٹی کے وقت طالبات کا ہجوم ہوتا تھا – پہلی سے دسویں جماعت تک کی لڑکیاں مل کر اپنے گھروں کے لیے روانہ ہوتیں تو سڑکوں پر ٹریفک کچھ دیر کے لیے بلاک ہو جاتی تھی – مختلف عمروں کی بچیاں اکٹھے پیدل چلا کرتی تھیں – بستیوں ، محلوں اور کالونیوں کی بچیاں ایک ساتھ چلتے ہوئے ایک دوسرے کو گھروں کے دروازوں تک چھوڑتے ہوئے آگے بڑھتی تھیں – تب پہلی جماعت کی بچیوں کے سروں پر بھی ہلکے پھلکے سکارف وغیرہ ہوتے تھے – پانچویں اور اوپر کی جماعتوں کی بچیاں اپنے جسموں پر چادر اوڑھا کرتی تھی – بعض بڑی لڑکیاں برقعہ بھی اوڑھتی تھیں – جن بچیوں کے گھروں کا راستہ ذرا طویل ہوتا ، ان کی مائیں انھیں لینے کے لیے آتیں ، یا پھر بھائی یا والد سائیکل وغیرہ پر آتے تھے – مائیں سکولز اور کالجز کے دروازوں پر انتظار کرتیں ، جب کہ بھائی یا والد ذرا فاصلے پر ایک طرف ہٹ کر انتظار کرتے تھے – ان اوقات میں لڑکے گرلز سکولز آور کالجز کے راستوں پر جانے سے گریز کرتے تھے – کوئی اکا دکا لفنگا اگر ادھر چلا بھی جاتا تو دوسرے لوگ اس کی طرف اس غصے سے دیکھتے کہ وہ شرمندہ ہو کر خود ہی منظر سے غائب ہو جاتا – والدین کو بھی اعتماد تھا کہ ہمارا ایک اسلامی معاشرہ ہے اور یہاں بچیوں کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں –
سرکاری اداروں میں بھی تعلیم بہت اچھی تھی – طلبہ زمین پر ، گھاس پر یا ٹاٹوں وغیرہ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے تھے ، جب کہ اساتذہ کرسیوں پر بیٹھ کر پڑھاتے تھے ، اور یہ بھی ایک وجہ تھی کہ طلبہ کے قلوب میں اپنے اساتذہ کا احترام انتہائی گہرا تھا – تب نجی تعلیمی اداروں کا رجحان بہت کم تھا – اس عاجز نے البتہ ایک نجی سکول سے میٹرک کیا ، جہاں بچوں کے بیٹھنے کے لیے بنچ اور ڈیسک تھے – مخلوط تعلیم کا رواج تو نہیں تھا ، لیکن اتفاقاً ایسا ہوا کہ ہمارے سکول میں ، ہماری جماعت میں پہلی سے دسویں تک لڑکے لڑکیاں اکٹھے پڑھتے رہے – کمرہ جماعت میں بنچز کی ایک قطار لڑکیوں کے لیے اور دوسری لڑکوں کے لیے مخصوص تھی – اتنے سالوں تک اکٹھے پڑھنے کے باوجود لڑکوں کی دوستیاں صرف لڑکوں ، اور لڑکیوں کی صرف لڑکیوں تک محدود رہیں – جماعت میں تو ضروری حد تک مختصر بات ہو جاتی تھی ، لیکن چھٹی کے وقت سب لڑکے اپنی ہم جماعت لڑکیوں کا شدید احترام کرتے اور ان سے بہت دور ہو کر چلتے ، کہ کہیں کوئی لڑکی ناراض ہو کر اگلے دن اساتذہ کو شکایت نہ کر دے – اساتذہ جسمانی سزا بھی دیتے تھے ، لیکن لڑکوں کو اساتذہ کی سزا سے زیادہ اپنی بے عزتی کا ڈر ہوتا تھا – اس سے بھی زیادہ پریشانی اس بات کی ہوتی تھی کہ اگر کوئی لڑکی اساتذہ تک یہ شکایت پہنچا دے کہ فلاں لڑکا راستے میں تمیز نہیں کرتا ، تو یہ شکایت لڑکے کے والدین تک بھی پہنچ جاتی تھی اور پھر ایسے لڑکے کا اپنے ہی گھر میں بھی جینا حرام ہو جاتا تھا –
ایف ایس سی کے میرے ایک ہم جماعت کی والدہ شہر کے بہت معروف گرلز کالج کی پرنسپل تھیں – ایک دن ہمارے کالج میں وقت سے پہلے چھٹی ہو گئی تو میرا وہ ہم جماعت پریشان تھا کہ گھر کی چابی والدہ کے پاس تھی اور چابی لینے کے لیے وہ لڑکیوں کے کالج میں کیسے جائے – حال آں کہ اس کے لیے کوئی رکاوٹ بھی نہیں تھی – تب موبائل فون وغیرہ نہیں تھے – اس نے مجھ سے کہا کہ میں اس کے ساتھ چلوں کہ اس طرح اسے حوصلہ رہے گا – میں بھی پریشان ہو گیا کہ میں لڑکیوں کے کالج میں کیوں جاؤں – اس کے بے حد اصرار کے باوجود جب میں نہیں مانا تو یہ طے ہوا کہ ہم دونو دوپہر تک اپنے ہی کالج کی لائبریری میں بیٹھیں گے – آخر جب یہ اطمینان ہو گیا اس دوست کی والدہ چھٹی کر کے اپنے گھر پہنچ چکی ہوں گی ، تب ہم دونو لائبریری سے نکلے – میں اپنی سائیکل پر اپنے گھر کی طرف ، اور وہ اپنی سائیکل پر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا –
اب آئیے ذرا موجودہ دور کے حالات پر – تین تین سال کی بچیاں بھی محفوظ نہیں – سکولز کے بعض مالیوں ، چوکی داروں ، ہیڈ ماسٹرز اور پرنسپلز سے لے کر اپنے رشتے داروں ، پڑوسیوں ، حتیٰ کہ ماموؤں اور ججاؤں تک کے ہاتھوں بچیوں کی بے حرمتی کی خبریں اخبارات میں چھپ چکی ہیں – صرف بچیاں ہی نہیں ، بچے بھی خطرے میں ہیں – لوگوں نے بچوں اور بچیوں کے محفوظ سفر کے لیے مہنگے کرائے پر رکشوں کا انتظام کیا تو بعض رکشہ ڈرائیورز کی کارروائیوں کی خبریں بھی شروع ہو گئیں – معاشرے کے بعض مقدس مقامات تک میں بچوں کے ساتھ جنسی بدفعلی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں – ایسی خبریں پڑھ کر اور سن کر بچوں کے والدین کس کرب سے گزرتے ہیں ، صرف اللّٰہ جانتا ہے – یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ معاشرہ کسی عذاب میں گرفتار ہے – ہمارا دین ہمیں بتاتا ہے کہ جب معاشروں میں بے حیائی پھیل جاتی ہے اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضی کا اظہار بھی ہوتا ہے – ہمیں انفرادی و اجتماعی توبہ کرنا چاہیے – ہمارے معاشرے کی اس شرم ناک خرابی کی وجوہات تلاش کرنا اور ان کا تدارک کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے – اولاد کی تربیت کے بنیادی ذمہ دار والدین ہیں ، اور پھر اساتذہ – جب کہ حکومت وقت کی بھی ذمہ داری ہے کہ قانون کی عمل داری سخت کی جائے – انٹرنیٹ کے استعمال پر کچھ قدغنیں لگانا انتہائی ضروری ہے – حکومتی ادارے اگر مخلص اور یک سو ہو جائیں تو بے مہار سوشل میڈیا کو ملکی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے ، شخصیات کی کردار کشی کرنے ، اور عریانی پھیلانے سے روکنا حکومت کے لیے کچھ مشکل نہیں –


