کہتے ہیں، بچہ جب پہلی بار آئینے میں خود کو دیکھتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ سامنے کھڑا شخص وہ خود ہے۔ وہ ہاتھ بڑھا کر اس عکس کو چھونا چاہتا ہے۔ کبھی ہنستا ہے، کبھی چونکتا ہے، کبھی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ انسان کی پوری زندگی شاید اسی ایک لمحے کی توسیع ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بچپن میں ہم آئینے میں
اپنا چہرہ پہچانتے ہیں، اور بڑے ہو کر اپنی شناخت۔
قومیں بھی انسانوں کی طرح ہوتی ہیں۔ ان کے بھی آئینے ہوتے ہیں۔ ان کے بھی خواب، خوف اور احساسِ کمتری ہوتے ہیں۔ کبھی وہ اپنے اندر جھانکتی ہیں، کبھی دوسروں کی آنکھوں میں اپنا عکس تلاش کرتی پاکستان بھی ایک ایسی ہی قوم ہے جو آزادی کے 79 برس بعد بھی کہیں نہ کہیں اپنے چہرے کی تلاش میں ہے۔
یہ بات میں نے پہلی بار اس وقت محسوس کی جب کسی عالمی شخصیت کے بارے میں یہ خبر گردش کرنے لگی کہ اس کے پردادا کا تعلق برصغیر سے تھا۔ اچانک ہمارے چہرے کھل اٹھے۔ گویا اس کی کامیابی میں ہمارا بھی کوئی حصہ تھا۔ کبھی کسی سائنس دان، کبھی کسی سیاست دان، کبھی کسی کھلاڑی، کبھی کسی اداکار اور کبھی کسی مشہور شخصیت کے نسب میں پاکستان یا برصغیر کا کوئی رشتہ ڈھونڈ لیا جاتا ہے۔ حیرت تو یہ ہے کہ کبھی یہی جستجو کسی بدنام دہشت گرد کے بارے میں بھی شروع ہو جاتی ہے کہ وہ “ہمارا” تھا یا “ان کا”۔
یہ تلاش اصل میں رشتوں کی نہیں، شناخت کی ہوتی ہے۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ یہی کیفیت اس وطن کی مذہبی اقلیتوں کے دل میں بھی کسی اور صورت میں موجود ہے۔
وہ اس دھرتی پر پیدا ہوتے ہیں، اسی مٹی میں کھیلتے ہیں، اسی پرچم کو سلام کرتے ہیں، اسی قومی ترانے پر کھڑے ہوتے ہیں، مگر کبھی کبھی انہیں یوں محسوس کرایا جاتا ہے جیسے وہ اس گھر کے مستقل مکین نہیں بلکہ مہمان ہوں۔ گویا انہیں بار بار یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ ان کا دل بھی پاکستان کے لیے اسی طرح دھڑکتا ہے جیسے دوسروں کا۔
پھر میں سوچتا ہوں کہ فرق آخر ہے کیا؟
ایک طرف اقلیت ہے جو اپنے ہی وطن میں قبولیت چاہتی ہے، اور دوسری طرف اکثریت ہے جو پوری دنیا میں قبولیت چاہتی ہے۔
دونوں کے ہاتھ میں ایک ہی سوال ہے۔
“میں کون ہوں؟”
اشفاق احمد کہا کرتے تھے کہ انسان جب اپنے اندر سے خالی ہو جائے تو باہر کی آوازیں اسے بہت اچھی لگنے لگتی ہیں۔ شاید قوموں کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔ جو قوم اپنے اندر کے چراغ روشن نہیں رکھتی، وہ دوسروں کی روشنی مستعار لینے لگتی ہے۔
حالانکہ اس سرزمین نے تو ایسے چراغ پیدا کیے ہیں جن کی روشنی کسی نسبت کی محتاج نہیں۔
یہ وہی ملک خدا داد ہے جہاں ڈاکٹر عبدالسلام نے کائنات کے سربستہ رازوں کو سمجھنے میں انسانیت کی رہنمائی کی، جہاں عبدالستار ایدھی نے مذہب سے بلند ہو کر انسان کو انسان سمجھا، جہاں ارشد ندیم نے پوری دنیا کے سامنے سبز ہلالی پرچم کو بلند کیا، جہاں جہانگیر خان نے کھیل کے میدان میں ناقابلِ یقین تاریخ رقم کی۔
اور یہی وہ وطن ہے جہاں جسٹس اے آر کارنیلیئس نے انصاف کو مذہب سے آزاد رکھا، جہاں سیسل چودھری نے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھی، جہاں ڈاکٹر روتھ فاؤ نے دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے اپنی زندگی پاکستان کے نام کر دی۔
یہ لوگ صرف مسیحی، ہندو، سکھ، مسلمان، پارسی یا کسی اور مذہب کے نمائندے نہیں تھے۔
یہ پاکستان کے چہرے تھے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اپنے چہروں کو مذہب، نسل، زبان اور صوبوں کے خانوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ پھر حیران ہوتے ہیں کہ دنیا ہمیں ایک قوم کے طور پر کیوں نہیں دیکھتی۔
انتظار حسین نے ہجرت کو صرف زمینوں کی تبدیلی نہیں کہا تھا، بلکہ یادوں کی ہجرت بھی کہا تھا۔ شاید ہماری اصل ہجرت بھی یہی ہے۔ ہم اپنے اصل چہرے سے ہجرت کر گئے ہیں۔ اب کبھی عرب کے آئینے میں خود کو دیکھتے ہیں، کبھی مغرب کے، کبھی تاریخ کے، کبھی کسی عالمی شہرت یافتہ شخص کے نام میں اپنی شناخت تلاش کرتے ہیں۔
مگر آئینہ کبھی چہرہ نہیں بنتا۔
چہرہ ہمیشہ اپنا ہوتا ہے۔
یومِ آزادی صرف پرچم لہرانے، ملی نغمے سننے اور آتش بازی کا نام نہیں۔ یہ اپنے اندر جھانکنے کا دن بھی ہے۔ یہ سوچنے کا دن ہے کہ کیا اس ملک میں بسنے والا ہر شخص خود کو برابر کا پاکستانی محسوس کرتا ہے؟ کیا دنیا ہمیں ہماری اپنی علمی، اخلاقی اور انسانی کامیابیوں سے پہچانتی ہے، یا ہم اب بھی دوسروں کے سائے میں اپنی قامت ناپ رہے ہیں؟
قوموں کی خودداری کا آغاز اسی دن ہوتا ہے جب وہ دوسروں کے ناموں سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے پہچانی جائیں۔
ہمیں اپنے بچوں کو یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ فلاں عظیم آدمی کا آباؤ اجداد کبھی ہمارے علاقے میں رہتا تھا۔ ہمیں انہیں یہ سکھانا چاہیے کہ ایسا کردار پیدا کرو کہ ایک دن دنیا کہے: “یہ پاکستان کا بیٹا ہے”، اور یہی تعارف اس کی سب سے بڑی عزت ہو۔
پاکستان کا حسن اس کی یک رنگی میں نہیں، اس کی رنگا رنگی میں ہے۔ مسجد کی اذان، گرجا کی گھنٹی، مندر کی گھنٹی اور گردوارے کی شبد اگر ایک ہی فضا میں امن کے ساتھ گونج سکیں تو یہی قائداعظم کے خواب کی تعبیر ہے۔ یہی سبز ہلالی پرچم کی اصل معنویت ہے۔
آزادی کی سالگرہ پر شاید ہمیں ایک نیا عہد کرنا چاہیے۔
یہ عہد کہ اس ملک میں کسی اقلیت کو اپنی وفاداری ثابت نہیں کرنی پڑے گی۔
اور اس ملک کی اکثریت کو اپنی عظمت ثابت کرنے کے لیے کسی دوسرے ملک کے ہیروز میں اپنا عکس تلاش نہیں کرنا پڑے گا۔
جس دن ہم اپنے ہیروز کو ان کے مذہب سے پہلے ان کے کردار سے پہچانیں گے، اور اپنی قومی شناخت دوسروں کے آئینوں سے نہیں بلکہ اپنے ضمیر سے اخذ کریں گے، اس دن پاکستان واقعی آزاد ہو جائے گا۔
کیونکہ آزادی سرحدوں سے پہلے شعور میں جنم لیتی ہے۔
اور قومیں اس دن بالغ ہوتی ہیں، جب وہ پہلی بار آئینے میں دیکھ کر کہہ سکیں۔۔۔۔۔۔
“اپنی پہچان اپنا فخر”


