رسالت مآب ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے: “تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔”
انسان اپنے زیرِ کفالت افراد کی ضروریات کا دردمندی سے خیال رکھے، ان کی ہر ممکن مدد کرے، ان کے مسائل حل کرے اور ان کے لیے معیشت، رہائش اور آسائش کا باوقار اہتمام کرے، یہی اس کا خلاصہ ہے۔
اگر اس آفاقی تعلیم کو حکمرانی کے اصول کے طور پر دیکھا جائے، تو صاحبانِ اقتدار کا طرزِ عمل بھی یہی ہونا چاہیے۔ انہیں اپنے ملک کو ایک گھر اور عوام کو اپنے خاندان کی مانند سمجھنا چاہیے۔ جس طرح ایک ذمہ دار سربراہِ خاندان اپنے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود کے لیے دن رات فکر مند رہتا ہے، بالکل اسی طرح ریاست کے کارپردازوں کو بھی عوام کی بنیادی ضروریات، امن و امان، روزگار اور خوش حالی کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ ہماری حکومت، حکمران اور مقتدر حلقے دنیا بھر سے تعریفیں اور تحسین تو سمیٹ رہے ہیں، لیکن ان کامیابیوں کے ثمرات عام آدمی تک منتقل ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ اگر ملکی سطح پر ترقی اور معاشی بہتری کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تو ان کا عکس عام شہری کی روزمرہ زندگی میں بھی نظر آنا چاہیے۔ عوام کو ریلیف مہنگائی میں کمی، امن و امان کی بحالی، روزگار کے نئے مواقع اور بنیادی سہولیات کی آسان فراہمی کی صورت میں ملنا چاہیے۔ بدقسمتی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ترقی کے ثمرات چند مخصوص حلقوں تک ہی محدود ہیں، جبکہ عام شہری آج بھی اسی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے جس کی بہتری کی وہ امید لگائے بیٹھا تھا۔
ایک دور تھا جب عوام کا بنیادی مطالبہ صرف آئین کی بالادستی اور جمہوری حکومت کا قیام تھا، لیکن آج دگرگوں حالات نے عوام کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ ان کے لیے حکومت کی ہیئت سے زیادہ اب “بنیادی ریلیف” اہم ہو چکا ہے۔ نظامِ حکومت خواہ جمہوری ہو یا کوئی اور، پِسی ہوئی عوام کا واحد مطالبہ اب یہی ہے کہ انہیں مہنگائی کے طوفان سے نجات ملے، جان و مال کا تحفظ یقینی ہو اور زندگی کی بنیادی ضروریات باعزت طریقے سے میسر آئیں۔
آج ملک کے چاروں صوبوں کی صورتِ حال، بالخصوص امن و امان کی مخدوش حالت اور کمر توڑ مہنگائی، انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ عوام مسائل کے دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں، اور اگر ان مسائل کی تفصیل میں جایا جائے تو یہ ایک طویل اور دردناک داستان بن جائے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکمران عوام کی سسکتی زندگیوں کو محض اعداد و شمار کے گورکھ دھندے یا کھوکھلے بیانات کی نظر نہ کریں، بلکہ انہیں اپنی شرعی اور آئینی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ان کے عملی، سنجیدہ اور دیرپا حل کی طرف قدم بڑھائیں۔ یہی حقیقی حکمرانی کا تقاضا ہے اور یہی وہ معیارِ عدل ہے جس کا درس ہمیں رسولِ اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے ملتا ہے۔


