حاشیے پر پڑا ہوا آدمی ( کہانی ) – محمد عامر حسینی

نوٹ : 2009ء میں ، میں جرمن ادیبہ ہیرٹا مولر کی کہانیوں کا ایک انتخاب پڑھا تو اسی دوران مجھے ایک ساتھی صحافی نے ایجوکیشن بیٹ میں رپورٹنگ کے دوران پیش آئے کچھ واقعات سنائے ۔ ان میں سے ایک واقعہ اتنا دلچسپ تھا کہ میں نے اس کی بنیاد پر ہیرٹا مولر کے رنگ میں یہ کہانی لکھی جسے آپ پڑھنے جا رہے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ادبی میلے کے داخلی دروازے پر ایک کاغذی پرندہ لٹک رہا تھا۔ ہوا آتی تو اس کے پر پھڑپھڑاتے، مگر وہ کہیں نہیں جاتا تھا۔

زریں نے اس پرندے کو پہلی نظر میں دیکھا اور دوسری نظر میں بھول گئی۔ وہ اپنے استاد، پروفیسر سلیم اختر، کے ساتھ رجسٹریشن ڈیسک کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں کپڑے کا ایک بڑا بیگ تھا جس میں دو کتابیں، ایک نوٹ بک، لپ اسٹک، موبائل چارجر اور اس کے پی ایچ ڈی تھیسس کا وہ باب پڑا تھا جسے وہ تین مہینوں سے مکمل سمجھتی اور ہر تیسرے دن نامکمل قرار دے دیتی تھی۔

اس کی شناختی تختی پر لکھا تھا:

ڈاکٹرل ریسرچر / وزیٹنگ لیکچرر

اسے یہ دونوں لفظ اچھے لگتے تھے۔ تختی سینے پر لگی ہو تو آدمی کو بار بار اپنا تعارف نہیں دینا پڑتا۔ ادارہ اس کے بدن سے پہلے کمرے میں داخل ہوجاتا ہے۔

پروفیسر سلیم اختر نے ہال کے ایک کونے میں کھڑے آدمی کو آواز دی۔

“عارف صاحب!”

وہ آدمی مڑا۔ اس کے ہاتھ میں چائے کا کاغذی کپ اور بغل میں تہ کیا ہوا اخبار تھا۔ اس نے بھورے رنگ کی جیکٹ پہن رکھی تھی جس کی ایک آستین کے کنارے سے دھاگا نکل رہا تھا۔ چہرے پر وہ تھکن تھی جو دن بھر چلنے سے نہیں، برسوں دیکھتے رہنے سے پیدا ہوتی ہے۔

“ان سے ملیے،” پروفیسر نے زریں کی طرف اشارہ کیا، “ہماری اسکالر ہیں۔ جدید اردو فکشن میں عورت، یادداشت اور شہری تشدد پر کام کر رہی ہیں۔”

عارف نے چائے کا کپ دوسرے ہاتھ میں منتقل کیا۔

“شہری تشدد سے آپ کی مراد شہر میں ہونے والا تشدد ہے یا شہر کا خود تشدد بن جانا؟”

زریں نے اسے دیکھا۔

سوال ایسے پوچھا گیا تھا جیسے دونوں باتیں الگ نہ ہوں۔

“دونوں،” اس نے کہا، “لیکن بنیادی طور پر منتخب نسائی متون میں یادداشت کی تشکیل اور شہری جبر کے باہمی تعلق پر۔”

“منتخب متون کس اصول پر منتخب کیے ہیں؟”

“عہد، موضوع اور نمائندگی کی بنیاد پر۔”

“نمائندگی کس کی؟ عورت کی، شہر کی یا نظریے کی؟”

زریں کے پاس جواب تھا، مگر عارف نے انتظار نہیں کیا۔

“اس میں ایک خطرہ ہے۔ اگر شہر کو صرف پس منظر رکھا تو تشدد واقعات کی فہرست بن جائے گا۔ اگر شہر کو کردار بنایا تو دیکھنا ہوگا کہ وہ کس زبان میں ظلم کرتا ہے۔ سڑکیں بھی کبھی کبھی فعل ہوتی ہیں۔ صرف جگہ نہیں ہوتیں۔”

پروفیسر سلیم اختر مسکرائے۔

“میں بھی یہی کہتا ہوں کہ شہر کو فعال اکائی سمجھنا چاہیے۔”

زریں نے اپنے استاد کو دیکھا۔ اسے یاد نہیں آیا کہ انہوں نے کبھی یہی بات انہی لفظوں میں کہی ہو۔

عارف نے پوچھا، “نظریاتی فریم کیا ہے؟”

“نسائی مابعد ساختیات، یادداشت کے مطالعات اور شہری ثقافت کے مباحث۔”

“بہت سے دروازے ہیں۔ گھر کتنے ہیں؟”

زریں کو اس جملے میں شوخی محسوس ہوئی۔

“آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟”

“یہ کہ نظریات کو جمع کرنا تحقیق نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی زیادہ چابیاں جیب پھاڑ دیتی ہیں۔ پہلے طے کریں کہ مرکزی سوال کس تالے کا ہے۔ باقی چابیاں بعد میں دیکھی جائیں گی۔”

وہ اب پروفیسر سلیم اختر سے مخاطب تھا۔

“اگر پہلے باب میں شہر، عورت اور یادداشت کی اصطلاحی تاریخ الگ الگ دی گئی تو باب لغت بن جائے گا۔ بہتر ہے کسی ایک بنیادی منظر یا متن سے آغاز کریں۔ پھر اصطلاحیں ضرورت کے مطابق کھلیں۔”

وہ بولتا گیا۔

تحقیقی خلا، بنیادی متن، ثانوی مآخذ، ابواب کی ترتیب، نظریے کے استعمال اور متن پر نظریے کے جبر کے فرق پر۔ اس نے دو فرانسیسی مفکرین، ایک مشرقی یورپی ناول نگار، یادداشت پر لکھی ایک غیر معروف جرمن کتاب اور جنوبی ایشیائی شہروں پر ایک ایسی تحقیق کا ذکر کیا جس کا نام زریں نے کبھی نہیں سنا تھا۔

اس کے جملوں میں وہ بے احتیاط اعتماد تھا جو صرف دو طرح کے لوگوں میں ہوتا ہے: بہت بڑے عالموں میں یا بہت بڑے جعل سازوں میں۔

زریں نے طے نہیں کیا کہ وہ ان دونوں میں سے کون ہے۔

پروفیسر سلیم اختر نے کہا، “آپ کبھی ہمارے شعبے میں آئیے۔ اسکالرز سے بات ہوگی۔”

عارف ہنسا۔

“میں شعبوں میں زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکتا۔ وہاں کرسی پہلے آدمی کا عہدہ پوچھتی ہے، پھر وزن قبول کرتی ہے۔”

زریں کو یہ جملہ بناوٹی لگا۔

اس نے اپنا موبائل نکالا۔

“آپ اپنا نمبر دے دیجیے۔ شاید کسی کتاب کے سلسلے میں رہنمائی چاہیے ہو۔”

عارف نے نمبر بول دیا۔ زریں نے نام کے خانے میں لکھا:

عارف — ادبی میلہ

اسے یہ کافی لگا۔

دوپہر کے بعد زریں نے اسے دوبارہ دیکھا۔ وہ ایک مذاکرے کی پچھلی صف میں بیٹھا مقررین کی تصویریں نہیں، ان کے جوتے دیکھ رہا تھا۔ شام کو وہ ایک شاعرہ کے گرد جمع ہجوم سے دور کھڑا سگریٹ پی رہا تھا۔ رات کے کھانے میں اس نے کسی میز پر جگہ نہیں بنائی۔ پلیٹ لے کر دیوار کے قریب کھڑا رہا اور جلدی چلا گیا۔

اگلی صبح زریں نے میلے کے میڈیا ڈیسک پر اس کا نام پوچھا۔

“عارف کمال؟”

لڑکے نے رجسٹر دیکھا۔

“جی۔ روزنامہ آواز کا رپورٹر۔”

“صرف رپورٹر؟”

لڑکے نے حیرت سے کہا، “جی؟”

“میرا مطلب، کوئی یونیورسٹی یا تحقیقی ادارہ؟”

“نہیں۔ اخبار میں ادبی تقریبات کور کرتے ہیں۔ کبھی فیچر بھی لکھتے ہیں۔”

زریں نے “اچھا” کہا، مگر یہ اچھا کسی دریافت کے بعد نہیں، کسی شبہے کی تصدیق کے بعد نکلا تھا۔

واپسی کی گاڑی میں اس نے پروفیسر سلیم اختر سے عارف کا ذکر کیا۔

“علمی آدمی ہے،” پروفیسر نے کہا۔

“ڈگری کیا ہے ان کی؟”

“شاید بی اے۔ یا وہ بھی مکمل نہیں کیا۔ معلوم نہیں۔”

زریں نے کھڑکی کے باہر دیکھا۔

سڑک کے کنارے کھڑے درخت الٹی سمت بھاگ رہے تھے۔

“بات ایسے کر رہے تھے جیسے نصف درجن پی ایچ ڈی کرا چکے ہوں۔”

پروفیسر ہنسے۔

“بعض لوگ پڑھ لیتے ہیں، زریں۔”

اسے یہ جواب پسند نہیں آیا۔ پڑھ لینا اور تحقیق کرنا الگ چیزیں تھیں۔ کتابوں کے نام یاد ہونا علم نہیں تھا۔ زبان پر اعتماد، مہارت کا ثبوت نہیں تھا۔ اکیڈمی نے طریقۂ کار اسی لیے بنایا تھا کہ ذہانت اپنی آواز سے دھوکا نہ دے سکے۔

اس رات عارف کا پیغام آیا۔

ملاقات اچھی رہی۔ آپ کے موضوع میں امکان ہے۔ مگر موضوع کو خود سے بچائیے گا۔

زریں نے پیغام پڑھ کر موبائل میز پر رکھ دیا۔

پانچ منٹ بعد دوبارہ اٹھایا۔

موضوع خود سے کیسے بچایا جاتا ہے؟

جواب آیا:

جب محقق اسے اپنی ذہانت ثابت کرنے کے لیے استعمال نہ کرے۔

زریں کو غصہ آیا۔

پھر ہنسی۔

اس نے لکھا:

آپ ہر بات معمے میں کرتے ہیں؟

نہیں۔ صرف وہ باتیں جن کا سیدھا جواب بدتمیز معلوم ہو۔

اس نے موبائل بند کردیا۔

اگلی صبح شعبے کی راہداری میں روشنی کم تھی۔ بجلی گئی ہوئی تھی اور جنریٹر صرف انتظامی دفاتر کو روشن کر رہا تھا۔ کلاس روم کی کھڑکیوں سے باہر کے درخت اندر جھانک رہے تھے۔ زریں نے طلبہ کو جدیدیت اور مابعد جدیدیت کا فرق سمجھایا۔ ایک طالب علم سو گیا۔ دوسرے نے موبائل پر کچھ لکھا۔ تیسری لڑکی مسلسل اسے دیکھتی رہی، جیسے لیکچر نہیں، زریں کے اعتماد میں کسی دراڑ کا انتظار کر رہی ہو۔

لیکچر کے بعد زریں نے عارف کو پیغام بھیجا۔

ایک تجربہ کرنا ہے۔

کیجیے۔

میرا سینوپسس کمزور ہے۔ آپ ایک متبادل خاکہ بنا سکتے ہیں؟

کافی دیر جواب نہ آیا۔

شام کو لکھا آیا:

موضوع، جامعہ کی مطلوبہ ساخت، الفاظ کی حد، اور اب تک منظور شدہ تحقیقی سوالات بھیج دیں۔

زریں نے فائلیں بھیج دیں۔

پھر اپنی دوست حنا کو فون کیا۔

“میں نے ادبی میلے والے رپورٹر کو سینوپسس بنانے کا کہا ہے۔”

حنا ہنسی۔

“کیوں؟”

“بس دیکھنا ہے۔ آدمی باتیں بہت بڑی کرتا ہے۔”

“اور اگر بنا دیا؟”

“سینوپسس بنانا اور بات ہے، قابلِ قبول سینوپسس بنانا اور۔”

“اور اگر قابلِ قبول بھی ہوا؟”

زریں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔

نیچے لان میں مالی سوکھے پتے جلا رہا تھا۔ دھواں اوپر اٹھتے ہوئے شکل بدل رہا تھا۔

“تو دیکھیں گے۔”

دو دن گزر گئے۔

عارف کا کوئی پیغام نہیں آیا۔

تیسرے دن دوپہر کو ایک ای میل موصول ہوئی۔ موضوع کے خانے میں لکھا تھا:

چند ممکنہ راستے

ساتھ تین فائلیں تھیں۔

پہلی فائل میں سینوپسس تھا۔

دوسری میں مجوزہ ابواب کی تفصیلی تقسیم۔

تیسری میں کتابوں، مقالات، انٹرویوز، ادبی متون اور شہری نقشوں کی ایک درجہ بند فہرست۔

زریں نے پہلی فائل کھولی۔

ابتدائی پیراگراف پڑھ کر کرسی کی پشت سے سیدھی ہوگئی۔

اس کا موضوع وہی تھا، مگر زبان بدل گئی تھی۔ تحقیقی سوالات پہلی بار ایسے معلوم ہوئے جیسے وہ واقعی کسی مسئلے کو کھول سکتے ہوں۔ مرکزی دلیل میں نہ دعویٰ زیادہ تھا نہ احتیاط۔ نظریاتی فریم ورک کو اس طرح محدود کیا گیا تھا کہ ہر مفکر کی ایک متعین ذمہ داری تھی۔ کوئی نام محض علمی زیور کے طور پر موجود نہیں تھا۔

حواشی میں ایسی کتابوں کے حوالے تھے جن کے عنوان ہی سوالات کی طرح لگتے تھے۔

اس نے ایک ایک نام انٹرنیٹ پر تلاش کیا۔

کتابیں واقعی موجود تھیں۔

کچھ جامعاتی کتب خانوں میں بھی نہیں تھیں۔

ایک جگہ عارف نے حاشیے میں لکھا تھا:

یہ متن ملنا دشوار ہوگا۔ مصنف کو ای میل کی جاسکتی ہے۔ جواب نہ آئے تو متبادل حوالہ آخر میں درج ہے۔

ایک اور مقام پر:

یہ نظریہ مرکزی نہیں، صرف تیسرے باب کے ایک ذیلی مسئلے کے لیے مفید ہوگا۔ اسے پورے تھیسس پر مسلط نہ کیا جائے۔

زریں نے فائل بند کی۔

پھر کھولی۔

ای میل کے متن میں صرف اتنا لکھا تھا:

یہ حتمی نہیں۔ آپ کی آواز اور آپ کے استاد کی ترجیحات کے بغیر کوئی خاکہ حتمی نہیں ہوسکتا۔ جہاں اختلاف ہو، نشان لگا دیجیے گا۔

اس نے اس رات عارف کو جواب نہیں دیا۔

وہ اپنی کتابوں کی الماری کے سامنے کھڑی رہی۔ کتابوں کی جلدیں ایک دوسرے سے لگی تھیں۔ کچھ کتابیں اس نے مکمل پڑھی تھیں، کچھ آدھی، کچھ صرف اس لیے خریدی تھیں کہ ان کے نام گفتگو میں اچھے لگتے تھے۔

پہلی بار اسے الماری بھری ہوئی نہیں، بند محسوس ہوئی۔

اگلے دن اس نے عارف کو فون کیا۔

“یہ آپ نے لکھا ہے؟”

دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی۔

“فائل پر میرا نام تو نہیں تھا۔ اس لیے آپ کو شبہ کا حق ہے۔”

“میرا مطلب، اتنے کم وقت میں؟”

“وقت کم نہیں تھا۔ دو راتیں تھیں۔”

“آپ کو یہ کتابیں کہاں سے معلوم ہیں؟”

“کتابوں سے۔”

اسے یہ جواب ناگوار گزرا۔

“آپ ہر سوال کو مذاق کیوں بنا دیتے ہیں؟”

“کیونکہ بعض سوالوں کا سچا جواب تکبر سمجھا جاتا ہے۔”

“مثلاً؟”

“مثلاً یہ کہ میں بیس برس سے پڑھ رہا ہوں۔ بغیر نصاب کے۔ بغیر امتحان کے۔ بغیر اس خوف کے کہ اگلے ہفتے اس پر پرچہ دینا ہے۔”

زریں نے پہلی بار اس کی آواز میں تھکن سنی۔

“پروفیسر صاحب کو دکھا دوں؟”

“یہ آپ کا کام ہے۔ میرا نہیں۔”

“کریڈٹ؟”

“جس چیز پر آپ محنت کریں گی، وہ آپ کی ہوگی۔ جو میں نے بھیجا ہے وہ راستہ ہے، منزل نہیں۔ راستوں پر نام کی تختی نہیں لگتی۔”

زریں نے فائل پروفیسر سلیم اختر کو دکھائی۔

انہوں نے عینک اتار کر میز پر رکھی۔

“یہ کس نے بنایا؟”

“میں نے کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ بنیادی خاکہ ایک شخص نے تجویز کیا تھا۔”

“وہی عارف؟”

زریں نے اثبات میں سر ہلایا۔

پروفیسر نے دوبارہ فائل دیکھی۔

“بنیادی تصور بہت مضبوط ہے۔ مگر اسے شعبے کے فارمیٹ میں لانا ہوگا۔”

زریں کو اچانک ایسا لگا جیسے کمرے کی میز پر دو دنیائیں پڑی ہوں۔ ایک دنیا سوال پیدا کرتی تھی۔ دوسری انہیں مقررہ فونٹ میں جمع کراتی تھی۔

اس شام اس نے عارف کو شکریہ لکھا۔

کافی دیر تک “بہت شکریہ” اسکرین پر رہا۔ پھر اس نے اسے مٹا دیا۔

لکھا:

پروفیسر صاحب نے خاکہ پسند کیا ہے۔

جواب آیا:

خاکہ خوش قسمت ہے۔

آپ خوش نہیں؟

خاکے خوش ہوں تو محقق پریشان رہتے ہیں۔ تبھی اچھا کام نکلتا ہے۔

ان کی گفتگو شروع ہوگئی۔

پہلے صرف تحقیق پر۔

پھر کتابوں پر۔

پھر کتابوں سے باہر ان باتوں پر جن کے لیے کتابیں بہانہ بن سکتی تھیں۔

عارف رات دو بجے کسی اقتباس کی تصویر بھیج دیتا۔ زریں صبح چھ بجے اس پر اعتراض لکھتی۔ وہ کسی کردار کے فعل پر بحث کرتے اور اچانک اپنے بارے میں بات کرنے لگتے۔ کبھی ایک پورا دن صرف ایک لفظ کے ترجمے پر گزرتا۔ کبھی دونوں آن لائن ہوتے مگر کوئی پیغام نہ بھیجتا۔

زریں کو معلوم ہوا کہ عارف ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتا ہے۔ اس کی میز پر کتابوں سے زیادہ اخباری تراشے پڑے رہتے ہیں۔ اس کی تنخواہ اکثر مہینے کے اختتام سے پہلے ختم ہوجاتی ہے۔ وہ ادبی تقریبات کی رپورٹنگ کرتا ہے، سیاسی جلسوں سے خبریں بھیجتا ہے، مرنے والوں کے اہلِ خانہ سے بات کرتا ہے اور رات کو کہانیاں لکھتا ہے جنہیں رسائل والے کبھی جگہ کی کمی اور کبھی “مزاج کی سنگینی” کے باعث واپس کردیتے ہیں۔

عارف کو معلوم ہوا کہ زریں ہر لیکچر سے پہلے آئینے میں خود کو دیکھتی ہے، مگر چہرہ نہیں، اعتماد درست کرتی ہے۔ اسے بند لفٹ سے خوف آتا ہے۔ وہ تھیسس مکمل ہونے کے بعد مستقل ملازمت چاہتی ہے۔ اسے اپنی والدہ کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے آواز بدلنا پسند نہیں۔ وہ شادی کے سوال سے اکتا چکی ہے، مگر تنہائی سے نہیں۔

ایک رات عارف نے پوچھا:

آپ اپنی ہر بات دلیل کے ساتھ کیوں کہتی ہیں؟

زریں نے لکھا:

کیونکہ بغیر دلیل کے بات کمزور ہوتی ہے۔

ہر بات؟

زیادہ تر۔

مجھے آپ کی کمی محسوس ہوئی۔ دلیل؟

زریں نے پیغام پڑھا۔

چیٹ ونڈو کے نیچے لکھا تھا: عارف آن لائن

اس نے جواب لکھا:

یہ تحقیقی سوال نہیں۔

پھر مٹا دیا۔

لکھا:

اس کا ڈیٹا ناکافی ہے۔

پھر مٹا دیا۔

موبائل میز پر رکھ دیا۔

چند لمحوں بعد عارف کا پیغام آیا:

آپ نے دو جواب لکھ کر حذف کیے ہیں۔ کبھی کبھی حذف شدہ متن اصل متن سے زیادہ واضح ہوتا ہے۔

زریں نے فون الٹا رکھ دیا۔

میز کی لکڑی پر اس کی اپنی سانس واپس آرہی تھی۔

وہ پہلی بار ایک دوسرے سے یونیورسٹی کے کتب خانے میں ملے۔ زریں نے عارف کے لیے عارضی اجازت نامہ بنوایا تھا۔ داخلی میز پر محافظ نے اس کا شناختی کارڈ دیر تک دیکھا۔

“مقصدِ آمد؟”

عارف نے کہا، “کتابیں دیکھنا۔”

محافظ نے زریں کی طرف دیکھا، جیسے کتابیں دیکھنا کافی مقصد نہ ہو۔

اندر سردی زیادہ تھی۔ شیشے کی کھڑکیوں کے پیچھے دھوپ رک گئی تھی۔ زریں نے ایک کتاب شیلف سے نکالی اور عارف کی طرف بڑھائی۔ دونوں کے ہاتھ کتاب کی جلد پر ایک ساتھ آئے۔

لمس اتنا مختصر تھا کہ اسے حادثہ کہا جاسکتا تھا۔

مگر زریں نے ہاتھ فوراً نہیں کھینچا۔

عارف نے بھی نہیں۔

کتاب دونوں کے درمیان تھی۔ اس کی جلد پر ایک عورت کی دھندلی تصویر تھی جس کا آدھا چہرہ سایے میں چھپا تھا۔

زریں نے آہستہ سے کہا، “آپ چھوڑیں گے تو میں پکڑوں گی۔”

عارف نے ہاتھ ہٹا لیا۔

“بعض کتابیں اسی جملے سے شروع ہوتی ہیں۔”

“آپ ہر بات کو ادب کیوں بنا دیتے ہیں؟”

“کیونکہ حقیقت اکثر ناقابلِ اشاعت ہوتی ہے۔”

وہ دونوں میز کے سامنے بیٹھ گئے۔

عارف نے اس کے باب پر نوٹس بنائے۔ قلم پکڑتے وقت اس کی درمیانی انگلی پر سیاہی لگی تھی۔ زریں بار بار اس سیاہی کو دیکھتی رہی۔ اسے عجیب لگا کہ ایک آدمی کے ہاتھ پر لگا نیلا داغ اس کی پوری علمی گفتگو سے زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے۔

عارف نے ایک پیراگراف کے گرد دائرہ بنایا۔

“یہ آپ نے اپنے لیے لکھا ہے یا ممتحن کے لیے؟”

“فرق کیا ہے؟”

“اپنے لیے لکھا ہوتا تو سانس ہوتی۔ ممتحن کے لیے لکھا ہے، اس لیے وردی پہن رکھی ہے۔”

“تحقیقی نثر کو نظم نہیں ہونا چاہیے۔”

“میں نے نظم کا نہیں کہا۔ میں نے کہا نثر زندہ ہو۔ مردہ زبان بھی بہت باقاعدہ ہوتی ہے۔ قبرستان میں ہر قبر اپنی قطار میں ہوتی ہے۔”

زریں نے قلم اس کے ہاتھ سے لے لیا۔

“یہاں آپ حد سے بڑھ رہے ہیں۔”

عارف نے اس کی طرف دیکھا۔

“کہاں؟”

وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ پیراگراف کی بات کر رہی ہے یا کسی اور چیز کی۔

اس دن کتب خانہ بند ہونے تک دونوں وہیں رہے۔

باہر بارش ہورہی تھی۔ زریں نے چھتری کھولی۔ چھتری چھوٹی تھی۔ دونوں کو قریب چلنا پڑا۔ عارف کا کندھا کبھی کبھی اس کے کندھے سے لگتا۔ ہر بار زریں چھتری کو دوسری طرف سیدھا کرتی اور پانی اپنے بازو پر گرنے لگتا۔

“آپ بھیگ رہی ہیں،” عارف نے کہا۔

“جگہ کم ہے۔”

“چھتری کم ہے یا فیصلہ؟”

زریں رک گئی۔

بارش چھتری پر چھوٹے کنکروں کی طرح بج رہی تھی۔

“آپ کو ہر وقت اتنا یقین کیوں ہوتا ہے کہ آپ سمجھ گئے ہیں؟”

عارف نے چھتری کا دستہ اس کے ہاتھ سے لے لیا۔

“مجھے یقین نہیں۔ خوف ہوتا ہے۔ یقین کی آواز اونچی ہوتی ہے، خوف آہستہ بولتا ہے۔ شاید آپ نے غلط سن لیا۔”

پارکنگ میں پہنچ کر زریں نے کہا، “کل پہلے باب کے دوسرے حصے پر بات کریں گے۔”

عارف نے سر ہلایا۔

وہ مڑی تو اس نے پکارا۔

“زریں۔”

یہ پہلا موقع تھا جب اس نے اس کا نام بغیر کسی سابقے کے لیا۔

اس نے پلٹ کر دیکھا۔

عارف نے کچھ نہیں کہا۔

چھتری اس کے ہاتھ میں تھی۔

زریں بارش میں کھڑی رہی۔

“کیا؟”

“کچھ نہیں۔ دیکھنا تھا، نام لینے سے آپ واقعی رکتی ہیں یا نہیں۔”

زریں گاڑی میں بیٹھ گئی۔ دروازہ زور سے بند کیا۔

گھر پہنچ کر اسے یاد آیا کہ چھتری عارف کے پاس رہ گئی ہے۔

اس رات اس نے خواب دیکھا کہ یونیورسٹی کی راہداری پانی سے بھری ہے۔ دروازوں پر تمام نام مٹ گئے ہیں۔ صرف اس کے نام کی تختی تیر رہی ہے۔ وہ اسے پکڑنا چاہتی ہے مگر ہر بار وہ چند انچ دور ہوجاتی ہے۔ عارف پانی میں کھڑا ہے۔ اس کے ہاتھ میں چھتری ہے، مگر چھتری کھلی نہیں۔

صبح عارف نے چھتری کی تصویر بھیجی۔

یہ میرے کمرے میں بہت تعلیم یافتہ لگ رہی ہے۔

زریں نے جواب دیا:

واپس چاہیے۔

چھتری یا تعلیم؟

اس نے لکھا:

دونوں آپ کے پاس عارضی ہیں۔

عارف نے کئی منٹ بعد صرف اتنا لکھا:

شاید۔

کچھ ہفتوں میں ان کی گفتگو کے اوقات بدل گئے۔ دن تحقیق کا رہا، رات جسم کا، اگرچہ جسم کا نام کبھی نہیں لیا گیا۔

زریں اپنی کلائی کی تصویر بھیجتی جس پر کتاب اٹھاتے ہوئے معمولی خراش آئی ہوتی۔ عارف پوچھتا، “درد ہے؟” وہ لکھتی، “کم۔” پھر دونوں دیر تک خاموش رہتے۔

عارف ایک رات اپنی میز کی تصویر بھیجتا۔ کاغذ، راکھ، ٹوٹا ہوا چشمہ، آدھا سیب، دو کتابیں۔

زریں نے لکھا:

آپ کا کمرہ بکھرا ہوا ہے۔

کمرہ نہیں۔ دن۔

سیب کیوں آدھا ہے؟

دوسرا آدھا کسی کے لیے چھوڑا تھا۔

کون آرہا تھا؟

جواب دیر سے آیا:

کوئی نہیں۔ اسی لیے آدھا رہ گیا۔

اس رات زریں نے پہلی بار اپنے کمرے کا دروازہ اندر سے بند کیا، حالاں کہ گھر میں سب سو چکے تھے۔

اس نے عارف کو فون کیا۔

“کچھ پڑھ کر سنائیں۔”

“کیا؟”

“اپنی کہانی۔”

عارف نے ایک کہانی پڑھنا شروع کی۔ اس میں ایک عورت روزانہ اپنے شوہر کے جوتوں سے مٹی صاف کرتی تھی، حالاں کہ شوہر کئی سال پہلے مر چکا تھا۔ زریں کہانی سنتی رہی۔ عارف کی آواز کبھی قریب آتی، کبھی دور چلی جاتی۔ درمیان میں کاغذ پلٹنے کی آواز آتی۔ ایک جگہ وہ رک گیا۔

“آگے؟” زریں نے پوچھا۔

“یہاں سے کہانی کمزور ہے۔”

“پڑھیں۔”

“نہیں۔”

“مجھے سننا ہے۔”

“ہر خواہش پوری نہیں ہونی چاہیے۔ بعض پوری ہوجائیں تو اپنی شکل کھو دیتی ہیں۔”

زریں نے آنکھیں بند کرلیں۔

“آپ مجھے ہمیشہ روک کیوں دیتے ہیں؟”

“میں؟”

“ہاں۔ جہاں بات شروع ہوتی ہے، آپ اسے استعارہ بنا دیتے ہیں۔ جہاں ہاتھ بڑھ سکتا ہے، آپ کتاب رکھ دیتے ہیں۔”

دوسری طرف خاموشی ہوگئی۔

عارف نے آہستہ سے کہا، “کتاب ہاتھ سے زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔”

“کس کے لیے؟”

“دونوں کے لیے۔”

“اور اگر میں محفوظ نہیں رہنا چاہتی؟”

خاموشی لمبی ہوگئی۔

پھر عارف نے فون بند کردیا۔

صبح اس کا پیغام آیا:

رات کی گفتگو کو رات میں رہنے دیں۔

زریں نے جواب نہیں دیا۔

دو دن وہ خاموش رہی۔ تیسرے دن عارف نے پہلے باب کے مسودے پر تفصیلی نوٹس بھیجے۔ زریں نے فائل کھولے بغیر حذف کردی۔ پھر کوڑے دان سے واپس نکال لی۔

اسے اپنے غصے میں بھی اس کی ضرورت تھی۔

یہ بات اسے سب سے زیادہ ذلیل کرتی تھی۔

چند دن بعد شعبے میں مستقل آسامی کا اشتہار آیا۔ زریں نے درخواست دی۔ انٹرویو کی تیاری شروع ہوئی۔ پروفیسر سلیم اختر نے اسے مشورہ دیا کہ غیر ضروری فکری پیچیدگی سے گریز کرے۔ بورڈ “واضح” جواب پسند کرتا تھا۔

“اور تھیسس؟” زریں نے پوچھا۔

“تھیسس میں گہرائی رکھیں۔ انٹرویو میں ضبط۔”

زریں نے یہ بات عارف کو بتائی۔

اس نے لکھا:

ادارے دروازے پر جوتے نہیں، پیچیدگی اترواتے ہیں۔

ہر چیز کا مذاق ضروری ہے؟

یہ مذاق نہیں۔ روزگار کا ادب ہے۔

انٹرویو سے ایک رات پہلے عارف نے اسے ممکنہ سوالات کی فہرست بھیجی۔ ساتھ مختصر نکات تھے۔ زریں نے پوری رات تیاری کی۔

انٹرویو اچھا ہوا۔

دو ہفتے بعد تقرری کسی اور امیدوار کی ہوگئی۔ وہ امیدوار شعبے کے سربراہ کے ایک پرانے شاگرد کی بیوی تھی۔

پروفیسر سلیم اختر نے کہا، “حوصلہ رکھیں۔ اگلی بار ہوجائے گا۔”

زریں نے سر ہلایا۔

اس شام اس نے عارف کو فون کیا۔ آواز سنتے ہی رونے لگی۔

وہ بہت دیر تک کچھ نہیں بولا۔

“کچھ کہیے،” زریں نے کہا۔

“کیا؟”

“وہی جو آپ کہتے ہیں۔ ادارہ، طاقت، کرسی، دروازے۔ کچھ بھی۔”

“آج نہیں۔”

“کیوں؟”

“کیونکہ آج آپ کو تجزیہ نہیں، کسی کا کندھا چاہیے۔ اور فون میں کندھا نہیں ہوتا۔”

“تو آجائیں۔”

یہ لفظ نکل گیا۔

دونوں خاموش ہوگئے۔

زریں نے پھر کہا، “آجائیں۔”

عارف ایک گھنٹے بعد اس کے محلے کے باہر تھا۔ زریں گھر سے یہ کہہ کر نکلی کہ حنا کی طبیعت خراب ہے۔ وہ گاڑی میں بیٹھی۔ عارف نے کچھ نہیں پوچھا۔

وہ شہر سے باہر ایک سڑک پر چلے گئے جہاں دکانیں بند تھیں اور نہر کے کنارے درخت اندھیرے میں اپنی شکل کھو چکے تھے۔

گاڑی روک کر دونوں خاموش بیٹھے رہے۔

عارف نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ زریں نے اپنا چہرہ اس کے سینے سے لگا دیا۔

اس کی جیکٹ سے دھوئیں، کاغذ اور بارش میں بھیگے کپڑے کی ملی جلی بو آرہی تھی۔

عارف کا ہاتھ اس کے بالوں پر آیا، پھر گردن کے قریب رک گیا۔

زریں نے آنکھیں بند کرلیں۔

اس نے محسوس کیا کہ انسان کا جسم بھی ایک جملہ ہے۔ کہیں فعل، کہیں وقفہ، کہیں وہ لفظ جسے لکھنے والا آخری لمحے میں حذف کردے۔

اس نے عارف کا ہاتھ پکڑ کر اپنی گردن سے نیچے کھینچنا چاہا۔

عارف نے ہاتھ واپس لے لیا۔

زریں الگ ہوگئی۔

“پھر کتاب؟”

عارف نے اس کی طرف دیکھا۔

“پھر خوف۔”

“مجھ سے؟”

“نہیں۔ اس آدمی سے جو میں آپ کے ساتھ ہوسکتا ہوں۔”

“آپ کو لگتا ہے میں نہیں جانتی؟”

“آپ مجھے اس جگہ سے دیکھتی ہیں جہاں میری کتابیں ہیں۔ میں اس جگہ بھی رہتا ہوں جہاں میری تنخواہ ہے، عمر ہے، شکستیں ہیں، غصہ ہے، بدن ہے۔”

“اور میں؟”

“آپ کے پاس بہت کچھ کھونے کو ہے۔”

زریں ہنس دی۔ ہنسی میں آنسو تھے۔

“یہ فیصلہ بھی آپ کریں گے؟ میرا علم کم تھا، آپ نے پورا کیا۔ میری تحقیق کمزور تھی، آپ نے سنبھالی۔ اب میری خواہش بھی آپ مجھ سے بہتر سمجھیں گے؟”

“میں آپ کی خواہش نہیں سمجھتا۔ صرف طاقت کا فرق سمجھتا ہوں۔”

“طاقت؟ میرے پاس؟”

“آپ کے پاس ادارہ ہے، عمر ہے، مستقبل ہے، نام کے ساتھ آنے والا ڈاکٹر ہے۔ میرے پاس ایک اخبار کا کارڈ ہے جو ہر سال بدل جاتا ہے۔ آپ آج مجھے چاہتی ہیں۔ کل شاید یہی فرق آپ کو زخمی کرے۔”

“یا آپ کو؟”

عارف نے جواب نہیں دیا۔

زریں نے گاڑی کا دروازہ کھولا۔ باہر رات سرد تھی۔ نہر کا پانی دکھائی نہیں دیتا تھا، صرف اس کی آواز تھی۔

“مجھے گھر چھوڑ دیں۔”

واپسی میں دونوں نے بات نہیں کی۔

اگلے کئی دن رابطہ کم رہا۔

عارف تحقیق سے متعلق مواد بھیجتا۔ زریں “موصول ہوا” لکھ دیتی۔ زریں سوال پوچھتی۔ عارف مختصر جواب دیتا۔ ان کے درمیان محبت باقی تھی، مگر اس پر سرکاری مہر لگ گئی تھی: صرف علمی استعمال کے لیے۔

پھر ایک دن پروفیسر سلیم اختر نے زریں کو اپنے دفتر بلایا۔

“پہلے باب کی زبان اچانک بہت بدل گئی ہے۔”

زریں کی انگلیاں ٹھنڈی ہوگئیں۔

“بدل گئی ہے؟”

“پہلے سے بہتر ہے۔ مگر بعض جگہوں پر آواز آپ کی نہیں لگتی۔”

“خیالات میرے ہیں۔”

“میں خیالات کی بات نہیں کر رہا۔ ساخت، حوالوں کی ترتیب، بعض جملوں کی فکری گرفت۔ کسی سے مدد لے رہی ہیں؟”

زریں نے چند لمحے خاموش رہ کر کہا، “علمی مشاورت ہے۔”

“عارف سے؟”

زریں نے سر ہلایا۔

پروفیسر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔

“دیکھیے، غیر رسمی مدد بری بات نہیں۔ مگر تھیسس کی علمی ذمہ داری آپ کی ہے۔”

“میں جانتی ہوں۔”

“اور یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ ایسے لوگ بعض اوقات اپنی حدود نہیں جانتے۔”

“کون سی حدود؟”

“اکیڈمک حدود۔ پڑھا لکھا ہونا اور تربیت یافتہ محقق ہونا الگ باتیں ہیں۔”

زریں نے اپنے استاد کو دیکھا۔

یہ وہی آدمی تھا جس نے ادبی میلے میں عارف کی ہر بات پر سر ہل

اپنا تبصرہ لکھیں