صبح ابھی پوری طرح روشن نہیں ہوئی تھی۔ دھند کی ایک باریک تہہ چراگاہ پر بچھی ہوئی تھی اور شبنم کے قطرے گھاس کے تنکوں سے یوں لپٹے تھے جیسے رات نے اپنی آخری یادگار زمین کے سپرد کی ہو۔ دور پہاڑی کی اوٹ سے سورج کی کرنیں جھانکنے کی کوشش کر رہی تھیں، مگر فضا میں ایک غیر معمولی خاموشی تھی۔
ریوڑ حسبِ معمول ایک دوسرے سے جڑا کھڑا تھا۔ بھیڑیں اس طرح سمٹی ہوئی تھیں جیسے ایک دوسرے کے وجود میں پناہ ڈھونڈ رہی ہوں۔ درمیان میں ایک دیوقامت مینڈھا کھڑا تھا۔ اس کے مضبوط سینگ اور چوڑا سینہ باقی سب کے لیے اعتماد کی علامت تھے۔ چرواہا بھی اسے “سردار” کہہ کر پکارتا تھا۔
مینڈھے کو برسوں سے یقین تھا کہ ریوڑ اس کی طاقت پر بھروسا کرتا ہے اور وہ ریوڑ کی ڈھال ہے۔ جب بھی کوئی کتا بھونکتا یا دور کہیں بھیڑیے کی آواز سنائی دیتی، سب اس کے گرد جمع ہو جاتے۔ اسے محسوس ہوتا کہ شاید محبت کا دوسرا نام یہی اعتماد ہے۔
اسی صبح کسان نے ایک عجیب کام کیا۔
وہ ایک بوری گھسیٹتا ہوا چراگاہ میں آیا۔ بوری کے اندر کچھ ہل رہا تھا۔ اس نے خاموشی سے بوری کھولی اور اس میں سے ایک بوڑھا، لاغر اور زخمی بھیڑیا ریوڑ کے عین درمیان پھینک دیا۔
بھیڑیا اس قدر کمزور تھا کہ کھڑا بھی نہ ہو سکتا۔ اس نے صرف گردن اٹھائی، ایک بے جان سی غرّاہٹ نکالی اور دوبارہ زمین پر ڈھیر ہو گیا۔
لیکن ریوڑ نے حقیقت نہیں دیکھی۔اس نے صرف “بھیڑیا” دیکھا۔ایک لمحے میں سکون چیخوں میں بدل گیا۔ ہر طرف سموں کی دھمک گونجنے لگی۔ ہر جانور صرف ایک سمت بھاگنا چاہتا تھا، مگر ہر سمت بند تھی، کیونکہ ہر کوئی دوسرے سے پہلے بچ نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔
مینڈھے نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔وہ حیران رہ گیا۔جو بھیڑیں کل تک اس کے ساتھ لگ کر کھڑی رہتی تھیں، آج انہی کی آنکھوں میں صرف اپنا خوف تھا۔ کسی کی نگاہ میں پہچان نہ تھی، کسی چہرے پر وفاداری نہ تھی۔پہلا دھکا اس کی پشت پر لگا۔پھر دوسرا۔پھر درجنوں سم اس کے جسم سے ٹکراتے چلے گئے۔
وہ چیخا، “رک جاؤ… میں ہوں… تمہارا ساتھی…”لیکن خوف کی بھی کوئی سماعت ہوتی ہے؟اگلے ہی لمحے ایک بھاری جسم اس کی ٹانگ پر آ گرا۔ ہڈی ٹوٹنے کی خشک آواز اس نے خود سنی۔ وہ زمین پر گر پڑا۔بھیڑیا اب بھی وہیں پڑا تھا۔اس نے آہستہ آہستہ سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں بھوک سے زیادہ حیرت تھی، جیسے وہ خود بھی اس منظر کا یقین نہ کر پا رہا ہو۔مینڈھے نے درد سے کراہتے ہوئے سوچا:”مجھے بھیڑیا نہیں مار رہا… مجھے تو میرا اپنا ریوڑ ختم کر رہا ہے۔”
کسان دور ایک درخت کے نیچے کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ اس نے اپنے ساتھ کھڑے نوجوان بیٹے سے کہا:”بیٹا! طاقتور دشمن ہمیشہ خطرناک نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی صرف دشمن کا نام ہی کافی ہوتا ہے۔ باقی کام خوف خود کر دیتا ہے۔”لڑکے نے حیرت سے پوچھا:”لیکن ابا! بھیڑیا تو مرنے کے قریب ہے۔”کسان نے گہرا سانس لیا۔”ہاں، مگر خوف ہمیشہ حقیقت سے بڑا ہوتا ہے۔ اور جب خوف ہجوم میں داخل ہو جائے تو لوگ دشمن سے پہلے ایک دوسرے کو روندتے ہیں۔”
شام ڈھلنے تک بھیڑیا اپنی جگہ سے زیادہ نہیں ہلا، لیکن مینڈھا اب حرکت کے قابل نہیں رہا تھا۔
اس نے آخری بار اپنے اردگرد دیکھا۔وہی چہرے تھے، وہی بھیڑیں تھیں، مگر اب کوئی اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔ ہر ایک کو یقین تھا کہ وہ بچ گیا ہے۔اور شاید یہی سب سے بڑا فریب تھا۔
رات آہستہ آہستہ ڈھلنے لگی تھی۔ ہوا میں نمی بڑھ گئی تھی، اور ٹوٹی ہوئی ٹانگ کے درد سے مینڈھے کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ چند قدم کے فاصلے پر وہ بوڑھا بھیڑیا اب بھی نیم جان پڑا تھا۔ وہ بھی زخمی تھا، بھوکا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی؛ ایسی چمک جو طاقت کی نہیں بلکہ انسانی… یا شاید حیوانی… نفسیات کو سمجھ لینے کی تھی۔
اس نے کمزور آواز میں کہا،”میں نے تمہیں زخمی نہیں کیا۔”مینڈھے نے تلخی سے مسکرا کر جواب دیا،”ہاں، مجھے معلوم ہے۔””پھر بھی تم میری خوراک بن جاؤ گے۔”مینڈھے نے نظریں آسمان کی طرف اٹھائیں۔”یہی تو المیہ ہے۔ قاتل اکثر وہ نہیں ہوتا جسے ہم قاتل سمجھتے ہیں۔”بھیڑیا خاموش رہا۔
کچھ دیر بعد اس نے کہا،”میں جوان تھا تو ریوڑ میرا نام سن کر بھاگ جاتا تھا۔ آج میں چل بھی نہیں سکتا، لیکن تم سب پھر بھی ایک دوسرے کو روندتے رہے۔ شاید تم لوگ مجھ سے نہیں، اپنے تصور سے ڈرتے ہو۔”مینڈھے نے پہلی بار غور سے بھیڑیے کو دیکھا۔
وہ واقعی مرنے کے قریب تھا۔اس کے دانت گھس چکے تھے، پنجوں میں لرزش تھی، سانس پھول رہی تھی۔مینڈھے کے دل میں ایک عجیب خیال ابھرا۔
“اگر ریوڑ ٹھہر جاتا… اگر صرف ایک لمحہ سوچ لیتا… تو آج نہ میں زخمی ہوتا اور نہ تم کچھ کر سکتے۔”
بھیڑیا آہستہ سے ہنس پڑا۔”ہجوم کبھی نہیں سوچتا۔ سوچنا افراد کا کام ہے۔”
ادھر ریوڑ کافی دور جا کر رک چکا تھا۔ہر بھیڑ دوسرے سے پوچھ رہی تھی،”سب خیریت ہے؟”
“ہاں… بچ گئے۔””بھیڑیا کہاں رہ گیا؟”کسی نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
سب نے اپنے اپنے بچ جانے کو فتح سمجھ لیا تھا۔صرف ایک بوڑھی بھیڑ خاموش تھی۔اس نے آہستہ سے کہا،”سردار کہاں ہے؟”چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔پھر کسی نے بے پروائی سے جواب دیا،”وہ شاید پیچھے رہ گیا ہوگا۔””مگر وہ تو ہمیشہ ہمارے درمیان کھڑا رہتا تھا۔”ایک نوجوان بھیڑ نے کندھے اچکا دیے۔”وقت آنے پر ہر کوئی اپنی جان بچاتا ہے۔”یہ جملہ سنتے ہی بوڑھی بھیڑ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔اس نے سوچا، اگر یہی اصول تھا تو پھر ہم ریوڑ کیوں تھے؟اگلی صبح کسان پھر چراگاہ میں آیا۔مینڈھا دم توڑ چکا تھا۔بوڑھا بھیڑیا بھی زیادہ دور نہ جا سکا تھا۔ وہ بھی چند گز کے فاصلے پر مردہ پڑا تھا۔
کسان کے بیٹے نے حیرت سے پوچھا،”ابا، آخر اس تجربے سے آپ نے کیا سیکھا؟”کسان نے مینڈھے کی لاش کی طرف دیکھا اور بولا،”بیٹا، دنیا میں دو طرح کی طاقتیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو حملہ کرتی ہے، دوسری وہ جو خوف پیدا کرتی ہے۔ پہلی ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتی، مگر دوسری اکثر بغیر لڑے جیت جاتی ہے۔”
“اور ریوڑ؟””ریوڑ اس وقت تک محفوظ ہوتا ہے جب تک ہر فرد سوچ سکتا ہو۔ جس دن سب نے سوچنا چھوڑ دیا اور صرف دوسروں کی دوڑ کی نقل کرنا شروع کر دی، اس دن دشمن کو حملہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔”لڑکا دیر تک خاموش رہا۔چند ماہ بعد اس چراگاہ میں ایک نیا مینڈھا آ گیا۔پرانے مینڈھے کا ذکر رفتہ رفتہ قصہ بنتا گیا۔
لیکن بوڑھی بھیڑ اپنے بچوں کو اکثر ایک بات سنایا کرتی تھی۔وہ کہتی،”یاد رکھنا، خطرہ ہمیشہ باہر سے نہیں آتا۔ کبھی کبھی ہمارے قدم ہی ہمارے اپنے لوگوں کو کچل دیتے ہیں۔ جب سب بھاگ رہے ہوں تو ایک لمحہ رک کر یہ ضرور دیکھ لینا کہ تم کس سے بھاگ رہے ہو… اور کس کو روند رہے ہو۔”
بچے حیرت سے پوچھتے،”کیا واقعی ایک بیمار بھیڑیا پورے ریوڑ کو ہرا سکتا ہے؟”وہ دھیرے سے جواب دیتی،”نہیں۔ ایک بیمار بھیڑیا کبھی ریوڑ کو نہیں ہرا سکتا۔ مگر ریوڑ، اگر خوف کے حوالے ہو جائے، تو خود کو ضرور ہرا دیتا ہے۔”
اس چراگاہ کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ یہ ہر دفتر، ہر جماعت، ہر خاندان، ہر قوم اور ہر معاشرے میں نئے کرداروں کے ساتھ بار بار دہرائی جاتی ہے۔ کبھی بھیڑیا ایک افواہ کی شکل میں آتا ہے، کبھی ایک بحران، کبھی ایک مخالف، کبھی ایک معاشی خوف، اور کبھی ایک سیاسی نعرہ بن کر۔
اصل سانحہ یہ نہیں کہ بھیڑیا موجود تھا؛ اصل سانحہ یہ تھا کہ ریوڑ نے سوچنا چھوڑ دیا تھا۔اور جب معاشرے سوچنے کے بجائے صرف خوف کے پیچھے دوڑنے لگیں تو سب سے پہلے وہی لوگ قربان ہوتے ہیں جو کل تک ان کے درمیان سب سے مضبوط سمجھے جاتے تھے۔اس دن بھی مینڈھے کو بھیڑیا نہیں کھا گیا تھا۔اسے اس کے اپنے ریوڑ نے بھیڑیے کے لیے آسان شکار بنا دیا تھا۔


