ہم بچے پال رہے ہیں یا مقابلے کے گھوڑے؟- رانا جی جعفر

کچھ دن پہلے میں نے ایک باپ کو اپنے آٹھ سالہ بیٹے پر دھاڑتے دیکھا۔ جرم صرف اتنا تھا کہ بچے کے رپورٹ کارڈ پر 95 فیصد نمبر درج تھے، 98 فیصد نہیں! باپ کا طیش بتا رہا تھا کہ اس کے سامنے اس کا جگر گوشہ نہیں، بلکہ اس کی اپنی انا کا زنگ آلود مہرہ کھڑا ہے۔
یہ منظر دیکھ کر میرا دل دہل گیا۔ میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ 95 فیصد پر یہ حشر ہے، تو 70 یا 60 فیصد نمبر لانے والے بچے پر کیا قیامت ٹوٹتی ہوگی، اور اس کے کچے ذہن پر خوف کے کیسے نقش ثبت ہوتے ہوں گے؟
اگر ہمارا رویہ یہی رہا، تو بچوں سے قربت کی توقع عبث ہے۔ جب گھر کا ماحول طعنوں اور مقابلے کی زد میں ہو، تو بچہ اپنے ہی گھر میں اجنبی بن جاتا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ والدین سے جذباتی طور پر دور ہوتا جاتا ہے اور اپنے ہی گھر میں دل کا اجنبی بن جاتا ہے۔ پھر وہ موبائل اور اپنی ضد کے حصار میں پناہ لیتا ہے۔ انٹرنیٹ کے اس دور میں وہ والدین کو بے خبر اور خود کو عقلِ کل سمجھنے لگتا ہے، اور ٹوکے جانے پر سیدھا بغاوت پر اتر آتا ہے۔
تعلیمی میدان میں المیہ اور گہرا ہو جاتا ہے۔ بے رحم مسابقت کا طوق ڈال کر ہم نے بچے کو صرف “جیتنا” سکھایا ہے۔ نتیجہ؟ وہ گھر میں بہن بھائیوں کو حریف، اور کلاس روم میں ہر آگے نکلنے والے بچے سے شدید حسد کرتا ہے اور اسے اپنا دشمن گردانتا ہے۔ ہم نے اسے دوست بنانا نہیں، صرف حریف پچھاڑنا سکھایا ہے۔
والدین روتے ہیں کہ بچہ دل سے دور کیوں ہو گیا؟ تلخ سچ یہ ہے کہ ہم نے اسے سامان تو سب دیا، مگر “احساس” کی روح چھین لی۔
یاد رکھیے، احساس نصیحتوں سے نہیں، روح میں اترنے والے رویوں سے جاگتا ہے۔
احساس تب بیدار ہوتا ہے جب 60 فیصد نمبر لانے والے بچے کو اس کا باپ دوسروں کے سامنے شرمندہ کرنے یا طعنہ دینے کے بجائے سینے سے لگا کر کہے:
“مجھے تم پر ناز ہے، تم نے محنت کی!”
اس لمس سے بچے کی ضدی برف پگھلتی ہے اور اسے لگتا ہے کہ ماں باپ کے لیے اس کی ذات اہم ہے، نمبروں کی دوڑ نہیں۔
احساس تب جڑ پکڑتا ہے جب بچہ والدین کو غلطی پر معافی مانگتے دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ جھکنا ظرف کی پہچان ہے۔
احساس تب جنم لیتا ہے جب ماں غیبت کے بجائے پردہ پوشی سکھاتی ہے۔
احساس تب پروان چڑھتا ہے جب باپ اپنی مصروفیت میں سے چند لمحے نکال کر بچے کی بات خاموشی سے سنتا ہے، بغیر ٹوکے، بغیر فیصلہ سنائے۔
احساس تب بالیدگی پاتا ہے جب گھر میں امیر اور غریب رشتے دار کے لیے ایک ہی خلوص اور ایک ہی دسترخوان ہوتا ہے۔
احساس تب اپنی اصل صورت اختیار کرتا ہے جب بچہ اپنے والدین کو کسی غریب، یتیم یا ضرورت مند کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر مدد کرتے دیکھتا ہے، کیونکہ بچے نصیحتوں سے کم اور کردار سے زیادہ سیکھتے ہیں۔
احساس تب روح میں اترتا ہے جب بچہ اپنے صاحبِ اختیار باپ کو کسی کمزور کے سامنے عاجز دیکھتا ہے۔
یہی رویے بچے کی شخصیت تراشتے ہیں۔ جس میں یہ احساس جاگ جائے، وہ نہ گھر میں اجنبی بنتا ہے، نہ والدین کی توہین کرتا ہے۔ وہ باپ کی تھکن پڑھ لیتا ہے، ماں کی ممتا کی قدر کرتا ہے، اور بہن بھائیوں کا حسد کے بجائے سایہ بنتا ہے۔ ایسا بچہ ڈگریوں کی دوڑ میں آگے نکلے یا نہ نکلے… وہ معاشرے کے لیے سایہ دار درخت بنتا ہے۔
برعکس اس کے، بے احساس بچے کے لیے کامیابی کا مطلب صرف “اوپر پہنچنا” رہ جاتا ہے۔ وہ ہر قیمت پر فتح چاہتا ہے، پھر چاہے اصولوں کا سودا کرنا پڑے یا دوسروں کے سروں پر پاؤں رکھ کر آگے بڑھنا پڑے۔
ہم نے بچوں کے مستقبل کا نام ڈگریاں اور سہولیات رکھ دیا ہے، لیکن ان کا اخلاق اور روح سنوارنا بھول گئے۔ ہم نے انہیں دوڑتا ہوا گھوڑا تو بنایا، مگر باحس انسان نہ بنا سکے!
آج ہر باپ کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا…
اگر کل یہی بچہ ہمارے بڑھاپے میں ہمیں تنہا چھوڑ دے، رشتوں کی حرمت، انسانیت کی قدر اور دوسروں کے درد کا احساس کھو بیٹھے، تو گلہ نہ کیجیے گا…
یہ اس کی بے حسی نہیں ہوگی… یہ اسی بے روح مسابقت کی فصل ہوگی، جس کا بیج ہم نے خود اس کے معصوم دل میں بویا، اور پھر عمر بھر اسے کامیابی کا نام دیتے رہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں