پشاور میں خواتین کی صحت تک رسائی: تاخیر، فاصلے اور مشکلات کی کہانی /اے وسیم خٹک

سڑک پر جنم لینے والا بچہ
(یہ ابتدائیہ ایک فرضی مگر حقیقت پسندانہ منظرنامے پر مبنی ہے، جو قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو درپیش زچگی کے مسائل کی عکاسی کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔)

رات کے پچھلے پہر قبائلی ضلع کے ایک دور دراز گاؤں میں گل مینہ کے دردِ زہ نے شدت اختیار کر لی۔ گھر کی بزرگ خواتین نے ہمیشہ کی طرح گاؤں کی دائی کو بلوایا، کیونکہ خاندان کا خیال تھا کہ زچگی گھر میں، اپنوں کے سائے میں ہونی چاہیے۔ ہسپتال جانا اس خاندان کے نزدیک ایک غیر ضروری اور کسی حد تک معیوب بات سمجھی جاتی تھی۔ گھنٹوں گزرتے گئے، دائی اپنی مہارت کے مطابق کوشش کرتی رہی، مگر معاملہ بگڑنے لگا۔ آخرکار جب دائی خود گھبرا گئی اور اس نے صاف کہہ دیا کہ ”اب اسے فوراً ہسپتال لے جاؤ، میرے بس کی بات نہیں رہی“، تب جا کر خاندان کو صورتحال کی سنگینی کا احساس ہوا۔
گاڑی کا انتظام کیا گیا، رات کے اندھیرے میں دیہی سڑکوں سے ہوتے ہوئے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کا رخ کیا گیا، لیکن فاصلہ طویل تھا اور وقت کم۔ ہسپتال کے مرکزی گیٹ سے کچھ فاصلے پہلے ہی، سڑک کنارے گاڑی میں گل مینہ نے ایک صحت مند بیٹے کو جنم دے دیا۔ خوش قسمتی سے ماں اور بچہ دونوں محفوظ رہے۔
مگر جب خاندان ہسپتال پہنچا اور طبی عملے نے واقعے کی تفصیل سنی، تو وہی خاندان جو کچھ دیر پہلے تک ہسپتال جانے کو غیر ضروری سمجھتا تھا، اب ایک نئی اذیت میں مبتلا ہو گیا: سڑک پر بچے کی پیدائش کو وہ اپنی عزت اور ناموس پر حرف سمجھنے لگے۔ وہی بزرگ خواتین جنہوں نے پہلے دائی کو ترجیح دی تھی، اب پچھتاوے سے کہہ رہی تھیں کہ ”اگر ہم پہلے ہی اسے ہسپتال لے آتے تو یہ نوبت نہ آتی۔“
گل مینہ کی کہانی کسی ایک گھرانے کی نہیں۔ یہ پشاور اور اس کے گرد و نواح کی سینکڑوں خواتین کی اجتماعی کہانی ہے، جو سرکاری ہسپتالوں کی موجودگی کے باوجود بروقت اور محفوظ زچگی کی سہولت سے محروم رہ جاتی ہیں۔
مسئلہ سہولت کی کمی نہیں، رسائی کا فقدان ہے
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس جیسے بڑے تدریسی ہسپتال میں گائناکالوجی اور زچگی کی جدید سہولیات موجود ہیں، تجربہ کار ماہرینِ امراضِ نسواں دستیاب ہیں، اور ہنگامی حالات میں فوری طبی امداد بھی ممکن ہے۔ اصل مسئلہ سہولیات کی عدم موجودگی نہیں بلکہ ان تک بروقت اور آسان رسائی کا فقدان ہے، جو کئی سطحوں پر جنم لیتا ہے۔
علاج میں تاخیر دیہی اور قبائلی پس منظر رکھنے والے کئی خاندان روایتی طریقوں اور گھریلو دائیوں پر انحصار کو ترجیح دیتے ہیں، اور ہسپتال کا رخ اسی وقت کرتے ہیں جب معاملہ ہنگامی صورت اختیار کر چکا ہو۔ یہ تاخیر اکثر ماں اور بچے دونوں کی جان کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔
آمدورفت کی سہولیات کی کمی دور دراز علاقوں سے پشاور تک کا فاصلہ، رات کے اوقات میں گاڑیوں کی عدم دستیابی، اور خراب سڑکیں ان مشکلات کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ ہنگامی حالت میں ایمبولینس سروس تک رسائی بھی ہر جگہ یکساں نہیں۔
مالی مشکلات سفری اخراجات، ہسپتال میں داخلے اور دیگر ضروری اخراجات کئی کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ایک اضافی رکاوٹ بن جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ گھریلو علاج کو ترجیح دیتے ہیں۔
خاندان کی اجازت میں تاخیر قبائلی اور دیہی معاشرت میں بعض اوقات خواتین کو ہسپتال لے جانے کا فیصلہ خود نہیں بلکہ خاندان کے بزرگ افراد کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ سازی کا عمل وقت طلب ہوتا ہے، اور اکثر اسی تاخیر کے دوران حالات سنگین ہو جاتے ہیں۔
حمل اور زچگی کے دوران بڑھتے ہوئے خطرات بروقت طبی نگرانی کے فقدان کی وجہ سے حمل کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کی بروقت تشخیص نہیں ہو پاتی، جو زچگی کے وقت جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔
بنیادی مراکزِ صحت اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کردار لیڈی ہیلتھ ورکرز اور بنیادی مراکزِ صحت دیہی خواتین اور بڑے ہسپتالوں کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی استعداد اور رسائی میں مزید بہتری لائی جائے۔ ابتدائی سطح پر آگاہی، حمل کی باقاعدہ جانچ، اور بروقت ریفرل کا نظام ایسے واقعات کی روک تھام میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔
ایمرجنسی وارڈ کے انچارج کی زبانی: ”یہ آگاہی کے فقدان کا المیہ ہے“
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ ایمرجنسی کے انچارج ڈاکٹر فہد کا کہنا ہے کہ ان کے شعبے میں امراضِ نسواں سے متعلق ایسے کیسز کثرت سے آتے ہیں جن کا ابتدائی علاج گھروں میں دائیوں یا علاقے کے ایسے نام نہاد ”ڈاکٹروں“ کے ہاتھوں ہو چکا ہوتا ہے جو دراصل باقاعدہ معالج نہیں بلکہ ڈسپنسر ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق جب ایسے مریضوں کی طبی تاریخ کا جائزہ لیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل وجہ خاندانی سطح پر فیصلہ سازی میں تاخیر ہے، جس کے باعث مریضہ کو ہسپتال بہت دیر سے پہنچایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر فہد کے مطابق ایسے کیسز میں مریضہ کی حالت اکثر تشویشناک ہوتی ہے، اور خون بہنے کی شدت اتنی زیادہ ہو چکی ہوتی ہے کہ بروقت طبی امداد کے باوجود بعض مریضاؤں کو بچانا ممکن نہیں ہو پاتا، جبکہ کچھ خوش قسمتی سے بچ جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سارا معاملہ بنیادی طور پر عوامی آگاہی کی کمی کا نتیجہ ہے، اور جب تک خاندانوں کو بروقت ہسپتال رسائی کی اہمیت کا شعور نہیں دیا جاتا، ایسے المناک واقعات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ڈاکٹر فہد کے مطابق صرف حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ گائناکالوجی میں ماہانہ اوسطاً پانچ سے سات ایسے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعداد صرف ایک ہسپتال کی ہے، جبکہ خدشہ ہے کہ صوبے کے دیگر ہسپتالوں میں بھی روزانہ کی بنیاد پر ایسے کیسز سامنے آ رہے ہوں گے، جو اس مسئلے کے وسیع تر پھیلاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
نتیجہ گل مینہ جیسی کہانیاں محض انفرادی سانحات نہیں بلکہ اس بڑے مسئلے کی علامت ہیں جو پشاور اور اس کے مضافاتی و قبائلی علاقوں میں مادرانہ صحت کی راہ میں حائل ہے۔ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس جیسے اداروں کی سہولیات کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کے لیے ضروری ہے کہ آگاہی مہمات، ٹرانسپورٹ کے متبادل انتظامات، اور خاندانی و سماجی رویوں میں تبدیلی پر بھی یکساں توجہ دی جائے، تاکہ کوئی ماں محض تاخیر کے باعث اپنی یا اپنے بچے کی جان کے خطرے سے دوچار نہ ہو

اپنا تبصرہ لکھیں