مہاجر: ایک لفظ، ایک تاریخی حقیقت اور ایک آئینی بحث/شہباز الرحمن خان

میں اردو زبان کا بولنے والا ہوں اور لفظ “مہاجر” کے لغوی اور تاریخی مفہوم سے بخوبی واقف ہوں۔ میرے نزدیک اس لفظ کے استعمال پر ایک سنجیدہ اور اصولی بحث کی ضرورت ہے، کیونکہ “مہاجر” محض ایک سیاسی یا نسلی شناخت نہیں بلکہ بنیادی طور پر ہجرت کرنے والے شخص کی نسبت ہے۔

ہجرت کی نوعیت مستقل بھی ہو سکتی ہے اور عارضی بھی۔ دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ، سیاسی بحران یا دیگر حالات کے باعث لوگ عارضی طور پر دوسرے ممالک یا علاقوں میں پناہ لیتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی اصطلاح میں ایسے افراد کے لیے مہاجرین (Refugees) کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے، جن کے حقوق اور قانونی حیثیت ان کے حالات اور متعلقہ قوانین و بین الاقوامی اصولوں کے تحت متعین ہوتی ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر کوئی شخص کسی ریاست میں مستقل سکونت اختیار کر لے، اس ریاست کی شہریت حاصل کر لے، اس کے آئین اور قانون کے تحت حقوق و فرائض قبول کرے، تو پھر “مہاجر” کی اصطلاح کو کس معنی میں استعمال کیا جا رہا ہے؟

اگر کوئی شخص خود کو مہاجر کہتا ہے تو پھر یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ وہ مہاجر کی تعریف، قانونی حیثیت اور حقوق کو کس تناظر میں بیان کر رہا ہے۔ کیا وہ خود کو عارضی طور پر مقیم شخص سمجھتا ہے یا ایک مستقل شہری؟ کیونکہ ایک ریاست کے شہری کو ووٹ دینے، اسمبلی کا رکن بننے، سرکاری ملازمت حاصل کرنے، شناختی دستاویزات، پاسپورٹ، بجلی، پانی، گیس اور ریاستی وسائل میں مساوی حصہ لینے جیسے حقوق اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب وہ اس ریاست کے آئینی و قانونی ڈھانچے کا حصہ ہو۔

اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ جب کوئی فرد ریاست کے آئین کے تحت حلف اٹھاتا ہے اور یہ عہد کرتا ہے کہ وہ آئین کی پاسداری اور حفاظت کرے گا، حتیٰ کہ ذاتی مفاد کے خلاف بھی آئین کو مقدم رکھے گا، تو پھر اس کی بنیادی آئینی شناخت کیا ہے؟ وہ ایک شہری ہے یا ایک الگ مستقل مہاجر شناخت رکھنے والا شخص؟

یہ بحث کسی زبان، قوم، نسل یا علاقے کے خلاف نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان میں مختلف علاقوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اس ریاست کے برابر شہری ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم شہریت اور ثقافتی شناخت کے درمیان فرق کو سمجھیں۔ کوئی شخص اپنی زبان، ثقافت، آبائی پس منظر یا تاریخی نسبت پر فخر کر سکتا ہے، لیکن ریاستی حقوق اور ذمہ داریاں بنیادی طور پر آئین اور قانون سے متعین ہونی چاہئیں۔

لہٰذا ہمیں ایک مرتبہ سنجیدگی سے یہ سوال زیرِ بحث لانا چاہیے کہ “مہاجر کون ہے؟ مہاجر کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ اور مستقل شہری بن جانے کے بعد اس اصطلاح کی آئینی اور سیاسی معنویت کیا رہ جاتی ہے؟”

یہ بحث کسی تقسیم کو گہرا کرنے کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو اس الجھن سے نکالنے کے لیے ہونی چاہیے کہ ہم اپنی شناخت کو زبان، قومیت، مسلک یا تاریخی نسبت کی بنیاد پر متعین کریں یا ایک مشترکہ آئینی اور قومی شناخت کے تحت۔

ہمیں اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے اس موضوع پر کھل کر، دلیل کے ساتھ اور آئین و قانون کے دائرے میں بات کرنی چاہیے، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں شناخت کے اس سوال کو تقسیم کے بجائے اتحاد، مساوات اور مشترکہ شہریت کے تناظر میں سمجھ سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں