آپ ایک کام کریں۔ ابھی اپنے سامنے ظاہر ہونے والی اگلی بیس سے تیس تحریروں کو تھوڑا رک کر دیکھیے۔ بلکہ پچاس تک جائیے۔ نوٹ کیجیے کہ ان سب میں سے آپ کی دلچسپی یا فائدے کا مواد کتنے فیصد تھا؟ جو لوگ آپ کی وال پر شو ہوتے ہیں کیا ان کو پڑھنا یا فالو کرنا آپ کے لیے فائدہ مند ہے؟ یا بس آپ کا کام سارا دن انگلی پھیر کر ان کو اوپر بھیجنا ہی ہے؟
میں نے ابھی یہ کام کیا ہے۔ چالیس والز سامنے آئیں۔ تیس سے اکتیس لوگوں کی شئیرنگ کا پیٹرن سیم تھا۔ قومی و عالمی وائرل نیوز پر تبصرہ، ایران امریکہ جنگی اپ ڈیٹس، یہاں وہاں سے ایموشنل گاربیج پکڑ کر اپنی وال پر ٹانگ دینا، ریچ کے اس میراتھن کا کھلاڑی ہونا جس میں جیت کر کچھ نہیں ملنا خود کو اور اپنی آڈئنس کو بور کرنے یا تھکانے کے سوا، یعنی شئیرنگ کی کوئی ڈائریکشن اور فیلڈ ہی متعین نہیں ہے۔ شئیرنگ میں کوئی ہم آہنگی نہیں۔ کانٹینٹ میں جان نہیں۔
بہت سے ایسے تھے جو نجانے کب سے فرینڈ لسٹ میں تھے۔ جن سے کوئی جان پہچان ہی نہ تھی ان کو ان فرینڈ کر دیا۔ کچھ سے رسمی سی شناسائی تھی ان کو ان فالو کر دیا۔ مگر دوست رہنے دیا۔
آپ ایک دو دن لگا کر یہ کر سکیں تو امید ہے بہت حد تک آپ کو وہ دکھنا شروع ہو جائے گا جو آپ پڑھنا اور دیکھنا سننا چاہیں گے۔ لیکن اسکے لیے آپ کو الگورتھم کو بتانا ہوگا کہ آپ کیا پڑھنا اور دیکھنا سننا چاہتے ہیں۔ یعنی آپ سرچ کرکے وہ پڑھیے اور دیکھیے جو آپ کی انٹرسٹ کا ہے۔ الگورتھم جاننا شروع کر دے گا کہ آپ ایسا کانٹینٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ آپ کو وہی سب دوبارہ دکھائے گا۔
آخری بات۔ یہ سوشل میڈیا کتب کا متبادل نہیں ہے۔
کتب کا مطالعہ کئجیے اگر اپنے آپ کو نیکسٹ لیول پر لے کر جانا چاہتے ہیں۔ سفر کیجیے۔ اپنے گاؤں شہر صوبے ملک سے باہر نکل کر کچھ وقت گزاریے۔
آپ کے اندر کا حسد، منافقت، تکبر، تعصب وغیرہ بہت حد تک کم ہو جائیں گے۔ جن کو آپ ابھی اپنی موجودہ لوکیشن اور موجودہ سرکل میں رہ کر ختم نہیں کر پا رہے۔ اسکے بعد آپ معاف کرنے کی طاقت حاصل کر سکیں گے۔ معافی مانگنا سیکھ پائیں گے۔
یہ وہ باتیں یا کام ہیں۔ جن پر عمل آپ کا بھائی خود کرکے آپ کو بتا رہا ہے۔ میں کوئی فلاسفی خیالی یا کتابی باتیں نہیں کر رہا۔ میں آج لمحہ موجود میں جب خود کو دیکھتا ہوں تو اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ آج سے پانچ دس سال پہلے والا خطیب کیا میں ہی ہوں؟ آپ بھی کرکے دیکھیے اپنے ہی ایک نئے ورژن سے آپ کی ملاقات ہوگی۔


