راولپنڈی میں اولڈ سپئر پارٹس کے دو بڑے بازار صدر میں مٹھو کا احاطہ اور مری روڈ بینظیر ہسپتال کے پیچھے سلطان کے کھو میں 99 فیصد کاروبار پختونوں کے پاس ہیں ۔راولپنڈی اسلام آباد کی ہول سیل سبزی منڈی میں 90 فیصد کاروبار پختونوں کے پاس ہے ۔راولپنڈی مری روڈ پر سٹلائٹ ٹاون سے منسلک چار بڑے پلازے ہیں یہاں ان سلے اور سلے سلائے کپڑوں کا پچانوے فیصد کاروبار پختونوں کے پاس ہے ۔
اسلام آباد سبزی منڈی موڑ کے ساتھ ایک کلو میٹر کے علاقہ میں گاڑیوں کے اولڈ سپئر پارٹس کا مرکز ہے ، جہاں درامدی کنٹینرز سے اترے سپئر پارٹس کی ہر ہفتے نیلامی ہوتی ہے اور صرف ایک دن میں ایک ارب روپیہ سے زیادہ کا سامان نیلام ہوتا ہے ۔خریدار پنجاب کے تمام شہروں سے آتے ہیں ۔یہ کاروبار سو فیصد پختونوں کے پاس ہے ۔
اہم بات یہ ہے پنجاب کے کسی شہر میں کسی پختون کاروباری کو کوئی مسلہ نہیں ہوتا۔ہوٹل ہو یا پرچون کی دوکان پر جگہ پنجابی خریدار دوکاندار کو “خان صاحب” کہہ کر بلاتے ہیں ۔کوئی جھگڑا تنازعہ ہو تو بیشتر پختونوں کے درمیان ہی ہوتا ہے پنجابی چونکہ ان بازاروں میں بہت کم رہ گئے ہیں اس لئے پختونوں کے ساتھ ان کے جھگڑے بھی نہیں ہوتے ۔
ہم سب پاکستانی ہیں ۔یہ ملک ہم سب کا ہے ۔پختون پنجاب میں اس لئے سہولت سے کاروبار کرتے ہیں یہاں امن ہے پنجابیوں میں تعصب نہیں ۔بڑا صوبہ ہونے کی وجہ سے گاہک بھی زیادہ ہیں ۔
کاروبار کا کوئی مذہب ،کوئی علاقہ یا کوئی نظریہ نہیں ہوتا ۔جہاں امن اور پرکشش ترغیبات ہوں پیسہ خود بخود ادھر کھنچتا چلا جاتا ہے ۔
سبزی منڈی سے منسلک سپئر پارٹس کی نیلامی میں حصہ لینے کیلئے منڈی بہاوالدین،حیدرآباد،کراچی اور گجرات سے بھی گاہک آتے ہیں۔خیبر پختونخوا کے شہر بنوں،لکی مروت یا قبائلی علاقہ جات کے علاقہ دتہ خیل میں امن ہو جائے وہاں سامان کی نیلامی ہو تو ملک بھر کے کاروباری وہاں بھی نیلامی میں حصہ لینے جائیں گے ۔پختون کاروباری اسلام آباد کی سبزی منڈی کے علاقہ کی نسبت اپنے کنٹینرز بنوں ،لکی مروت اور دتہ خیل میں منگوایا کریں گے ۔شرط صرف اتنی ہے وہاں امن ہو جائے ۔
پنجاب میں پختونوں کے کپڑے کی جو دوکانیں پنجابی خواتین سے بھری ہوتی ہیں خیبر پختونخوا میں خواتین کو آزاد کر دیا جائے تو وہاں بھی پختون کپڑے کی دوکانیں کھولیں گے اور وہ دوکانیں بھی خواتین سے بھر جائیں گی ۔سرمایہ کو جہاں منافع ملے گا وہاں خودکار طریقے سے پہنچ جاتا ہے ۔جہان خسارہ ہو گا وہاں سے سرمایہ فرار ہو جاتا ہے کہ اس کا کوئی دین،مذہب ،علاقہ یا ایمان نہیں ہوتا۔
بلوچستان کو یا خیبرپختونخوا جہاں بھی امن امان ہو گا ۔کاروباری ترغیبات ہونگی ۔رنگ نسل اور قوم سے قطع نظر ہر کاروباری وہاں جائے گا ۔بس اتنی سی کہانی ہے ۔


