تقسیمِ ہند: جشن یا سوال/ سائرہ رباب

پچھلے سال آزادی کے دن ہندوستانی نوجوانوں کی کچھ ریلز دیکھنے کو ملیں۔ ان میں کچھ نوجوان ایک بہت سادہ سا سوال کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آزادی انگریزوں سے ملی تھی تو 15 اگست کو اتنا سارا وقت پاکستان کے خلاف نفرت اور جنگی نعروں میں کیوں گزارا جاتا ہے؟ آخر ہمیں آزادی کس سے ملی تھی؟

مجھے یہ سوال بہت اہم لگا۔ کیونکہ یہی سوال ہم پاکستان میں بھی پوچھ سکتے ہیں۔ ہمیں آزادی کس سے ملی تھی؟ اور آج، تقریباً اسی برس بعد، ہم کس چیز سے آزاد ہیں؟

1947ء صرف دو نئی ریاستوں کے بننے کا سال نہیں تھا۔ یہ برصغیر کے لیے ایک بہت بڑا انسانی المیہ بھی تھا۔ تقریباً ڈیڑھ کروڑ انسان ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ لاکھوں گھر اجڑ گئے، خاندان بچھڑ گئے، لوگ قتل ہوئے اور عورتوں پر ناقابلِ تصور مظالم ہوئے۔ صدیوں سے ایک ہی زمین پر رہنے والے لوگ اچانک نئی سرحدوں کے دونوں طرف کھڑے کر دیے گئے۔

اس لیے مجھے ہمیشہ یہ سوال اہم لگتا ہے کہ کیا اتنے بڑے انسانی المیے کو صرف جھنڈوں، نعروں، ملی نغموں اور آتش بازی کے ذریعے یاد کیا جا سکتا ہے؟ شاید نہیں۔ جشن اپنی جگہ، لیکن سوال بھی اپنی جگہ ہونا چاہیے۔

انگریز چلے گئے اور دو نئی ریاستیں بن گئیں۔ لیکن اگر ہم ریاستی ڈھانچے کو دیکھیں تو پولیس، بیوروکریسی، قانون اور انتظامی نظام کی بہت سی بنیادی شکلیں وہی رہیں جو نوآبادیاتی دور میں حکمرانی اور لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں۔ حکمران بدل گئے، لیکن عام انسان اور ریاست کے درمیان تعلق میں وہ بنیادی تبدیلی نہیں آئی جس کی توقع ایک حقیقی آزادی سے کی جاتی ہے۔

آزادی صرف یہ نہیں کہ غیر ملکی حاکم چلا جائے اور اس کی جگہ مقامی حاکم آ جائے۔ اصل آزادی تو اس وقت ہوگی جب عام انسان بھوک، خوف، جہالت، بیماری، غربت، استحصال اور بے اختیاری سے آزاد ہو۔

لیکن تقسیم کے بعد ایک اور بہت اہم مسئلہ پیدا ہوا، جس پر شاید ہم اتنی بات نہیں کرتے۔ وہ ہے شناخت کا بحران۔

ہندوستان اور پاکستان دونوں کو اپنی نئی قومی شناخت بنانا تھی۔ اس عمل میں دونوں طرف ماضی کو ایک خاص انداز میں دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ہندوستان میں مسلم دور اور مسلم شناخت کو ایک مخصوص سیاسی نظر سے دیکھا جانے لگا، جبکہ پاکستان میں ہندو اور سکھ ماضی اور ان کی صدیوں پر محیط موجودگی کو آہستہ آہستہ ہماری قومی کہانی سے غائب کر دی گیا۔

یہاں مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کا ماضی صرف 1947ء سے شروع نہیں ہوتا۔ جیسے پنجاب کی تاریخ میں مسلمان، سکھ اور ہندو صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے تھے۔ سندھ کی تہذیب اور تاریخ میں بھی مختلف مذہبی اور ثقافتی اثرات شامل تھے۔ بنگال کی تاریخ کو ہندو اور مسلمان دونوں کی مشترکہ زندگی کے بغیر سمجھنا مشکل ہے۔ ہماری زبان، موسیقی، ادب، لوک روایتیں، فن اور تہذیب سب اسی مشترکہ تاریخ سے بنے ہیں۔

لیکن اگر ہم اپنے ماضی کے ایک بڑے حصے کو ہی بھلا دیں تو پھر اپنی شناخت کہاں سے بنائیں گے؟

یہیں سے شناخت کا بحران پیدا ہوتا ہے۔ جب انسان کو اپنی اصل تاریخ معلوم نہ ہو تو اسے یہ بتانا آسان ہو جاتا ہے کہ تم کون ہو۔ اور اکثر اسے یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ تمہاری شناخت دوسرے کے خلاف ہے۔ تم وہ نہیں ہو، تم ان جیسے نہیں ہو، تمہارا ماضی ان سے الگ ہے۔

پھر شناخت اس سوال کا جواب بن جاتی ہے کہ ’’ہم کون ہیں؟‘‘ کے بجائے ’’ہم کون نہیں ہیں؟‘‘

اور جب شناخت اس طرح بنتی ہے تو دشمن بھی ضروری ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں یہ دشمن کبھی ہندو بنتا ہے، کبھی ہندوستان، کبھی کوئی فرقہ، کبھی کوئی قوم، کبھی کوئی زبان بولنے والا۔ ہندوستان میں بھی مسلمانوں کو ایک خاص سیاسی شناخت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ یوں عام انسان کے اصل مسائل پیچھے چلے جاتے ہیں اور شناخت کی لڑائیاں سامنے آ جاتی ہیں۔

اس حوالے سے پاکستان کے ابتدائی دنوں کی ایک بہت اہم شخصیت جوگندر ناتھ منڈل ہیں۔ وہ بنگال کی دلت برادری سے تعلق رکھنے والے ہندو رہنما تھے۔ انہوں نے مسلم لیگ کے ساتھ سیاسی طور پر کام کیا اور پاکستان بننے کے بعد ملک کے پہلے وزیرِ قانون بنے۔ یہ بات آج کے بہت سے پاکستانیوں کے لیے شاید حیران کن ہو کہ پاکستان کی ابتدائی سیاسی تاریخ میں ایک دلت ہندو بھی ملک کی حکومت اور قانون سازی میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔

منڈل بالآخر 1950ء میں استعفا دے کر ہندوستان چلے گئے۔ اپنے استعفے میں انہوں نے مشرقی پاکستان میں ہندوؤں اور دلتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک اور ریاستی پالیسیوں پر شدید اعتراضات کیے۔

یہ واقعہ صرف منڈل کی ذاتی کہانی نہیں ہے۔ یہ ہمیں پاکستان کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ جس پاکستان کے ابتدائی سیاسی منظرنامے میں ایک دلت ہندو وزیرِ قانون بن سکتا تھا، وہ چند برسوں میں اپنی شناخت کے بارے میں اتنا غیر محفوظ کیوں ہوگیا؟

اور شاید یہی وہ جگہ ہے جہاں ہمیں اپنی تاریخ کو دوبارہ پڑھنے اور ماضی سے جڑنے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ اگر ہم اپنی اصل تاریخ سے ہی رشتہ توڑ دیں گے تو روشنی کہاں سے لیں گے؟ جیسے ہندوستان میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ عوام ماضی سے روشنی لے کر ہندتوا کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

ہمیں اپنے ماضی میں صرف وہی لوگ اور واقعات نہیں ڈھونڈنے چاہییں جو ہماری آج کی قومی کہانی کو درست ثابت کرتے ہوں۔ ہمیں ان لوگوں کو بھی دیکھنا ہوگا جو اس کہانی کو زیادہ پیچیدہ، زیادہ انسانی اور زیادہ سچا بناتے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں۔ ہندوستان میں بھی تاریخ کو سیاسی ضرورت کے مطابق پڑھنے کا مسئلہ موجود ہے۔ لیکن شاید ہمارے ہاں مسئلہ زیادہ گہرا ہے کیونکہ ہم نے اپنے ماضی کے بہت بڑے حصے کو قومی شناخت کے لیے خطرہ سمجھ کر اس سے فاصلہ پیدا کر لیا ہے۔

پھر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمیں اپنی شناخت مضبوط رکھنے کے لیے بار بار کسی دوسرے کے خلاف کھڑا ہونا پڑتا ہے۔

جب معاشرے میں شناخت کا بحران پیدا ہو تو حکمرانوں کے لیے عوام کو تقسیم کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو ان کے اصل مسائل سے ہٹا کر یہ بتایا جا سکتا ہے کہ اصل خطرہ فلاں قوم ہے، فلاں مذہب ہے، فلاں فرقہ ہے یا فلاں ملک ہے۔

اس طرح ایک غریب انسان دوسرے غریب انسان کو اپنا دشمن سمجھنے لگتا ہے۔ ایک محکوم دوسرے محکوم سے لڑتا رہتا ہے اور اصل سوال پیچھے چلا جاتا ہے کہ دولت کس کے پاس ہے، زمین کس کے پاس ہے، وسائل پر اختیار کس کا ہے اور فیصلے کون کرتا ہے۔

آج تقریباً اسی برس بعد بھی ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے کہ عام انسان کی زندگی میں واقعی کیا بدلا ہے؟

کشمیر میں حقوق کا سوال موجود ہے۔ بلوچستان میں سیاسی حقوق، لاپتہ افراد اور وسائل و اختیار کے سوالات موجود ہیں۔ خیبر پختونخوا میں جنگ، امن اور شہری حقوق کے سوالات موجود ہیں۔ پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں لوگ بجلی، مہنگائی، روزگار اور بنیادی سہولتوں کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔

ہماری معیشت بھی آج تک بیرونی قرضوں اور عالمی مالیاتی اداروں کے پروگراموں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ ملک کے اکثر فیصلے IMF کرتا ہے۔۔
تو پھر ہمیں صرف یہ کہہ کر مطمئن کیوں ہو جانا چاہیے کہ ہم آزاد ہیں؟

یہ سوال ہندوستان سے بھی کیا جا سکتا ہے اور پاکستان سے بھی۔

آزادی کا مطلب صرف سرحد پر پرچم بدلنا نہیں۔ آزادی کا مطلب یہ بھی ہے کہ عام انسان اپنی زندگی، اپنی معیشت اور اپنے سیاسی فیصلوں میں حقیقی اختیار رکھتا ہو۔ وہ خوف کے بغیر بول سکے، انصاف حاصل کر سکے، تعلیم اور صحت حاصل کر سکے اور اپنے وسائل پر حق رکھتا ہو۔

اسی لیے میرے خیال میں 14 اگست کے دن جشن سے زیادہ سوال ہونے چاہییں۔

ہمیں ان لوگوں کو یاد کرنا چاہیے جو تقسیم میں مارے گئے۔ ان خاندانوں کو یاد کرنا چاہیے جن کے گھر اجڑ گئے۔ ان عورتوں اور بچوں کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے وہ خوف دیکھا جس کا تصور بھی آج مشکل ہے۔ اور اس مشترکہ تاریخ کو بھی یاد کرنا چاہیے جس میں آج کے ہندوستان اور پاکستان کے لوگ صدیوں تک ایک دوسرے کے ساتھ رہتے رہے۔

کیونکہ اگر ہم اپنی اصل تاریخ سے رشتہ ہی توڑ دیں گے تو پھر ہم اپنے حال کو کیسے سمجھیں گے؟ اور اپنے مستقبل کے لیے روشنی کہاں سے لائیں گے؟

تقسیم کے زخموں کو بھلا کر جشن منانا شاید آسان ہے۔ لیکن ان زخموں کو یاد رکھنا، ان کی وجوہات سمجھنا اور یہ پوچھنا کہ آج بھی عام انسان کیوں محروم ہے، شاید زیادہ ضروری ہے۔

اس لیے 14 اگست پر ایک سوال ضرور کیجیے:

ہم آزاد ہوئے تھے، مگر کس سے؟

اور تقریباً اسی برس بعد ایک دوسرا سوال بھی:

کیا آج عام انسان واقعی آزاد ہے؟

اپنا تبصرہ لکھیں