بیسویں صدی میں جدید لسانیات کی بنیاد رکھنے والوں نے جن نظریات کو سائنسی یا ساختیاتی انداز میں پیش کیا ، ان کی بھرتہری کے نظریہ سفوٹ سے دلچسپ مماثلت نظر آتی ہے۔ ولیم لیویلٹ Willem Levelt بیسویں صدی میں یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ جب ہم ایک جملہ بولتے ہیں تو دماغ کے اندر کیا ہوتا ہے؟ اگر میں کہوں “میں کھانا کھانا چاہتا ہوں”۔ یہ جملہ زبان پر آنے سے قبل کن مراحل سے گزرتا ہے؟ ۱۹۸۹ میں انہوں نے ایک ماڈل پیش کیا جسے Blueprint for the Speaker کہا جاتا ہے، اس میں تین مراحل ہیں؛
1- تصور conceptualization : -جہاں ذہن میں ایک ارادہ اور مفہوم پیدا ہوتا ہے، میں کھانا چاہتا ہوں، لیکن ابھی کھانا، چاہیے، میں جیسے الفاظ موجود نہیں صرف معنی موجود ہے۔
2- تشکیل formulation یہاں ذہن معنی کو الفاظ میں ڈھالنے کا کام کرتا ہے، کون سے الفاظ منتخب ہوں، جملے کی ترتیب کیا ہو گی، فعل کیا ہو گا، زبان اردو ہے، پنجابی انگریزی یا کیا۔ یہاں مفہوم پنپنے لگتا ہے۔
3- ادائیگی Articulation یہاں دماغ زبان، ہونٹوں ، حلق /سانس کے نظام کو حکم دیتا ہے جس سے آواز پیدا ہوتی ہے۔
بھرتہری صدیاں قبل واکیہ پد میں کلام کے ظہور کی تین سطحیں بیان کر گئے۔
پشیانتی: وہ ابتدائی، مجرد اور تحت الشعوری کیفیت ہے جہاں ارادہ یا فکر ابھی زبان کی صورت اختیار نہیں کرتی، یہ ایک طرح سے ان دیکھے بیج کا پہلا پھوٹنا ہے۔
مدھیما: وہ درمیانی سطح جہاں یہی فکر الفاظ، ترتیب اور ساخت کی تلاش میں ڈھلتی ہے۔
ویکھری: وہ مکمل صورت جس میں انسان کی نیت الفاظ و جملوں کی شکل میں باہر ظاہر ہوتی ہے۔
اب دیکھیے تو ان میں دلچسپ مماثلت ملتی ہے، لیولٹ کا تصور، پشیانتی کے قریب ہے، تشکیل، مدھیما سے ملتا جلتا ہے اور ادائیگی ویکھری جیسا۔
فرق شاید یہ ہے کہ بھرتہری کی دلچسپی شعور، معنی اور وجودی سطرح پر ہے، جبکہ لویلٹ کی دلچسپی نفسیاتی اور cognitive سطح پر ہے جہاں وہ دماغ کے انفارمیشن پروسیسنگ ماڈل کو بیان کر رہے ہیں۔
ایسا ہی ایک نکتہ نفسیات کے شعبہ Gestalt Psychology میں جھلکتا ہے، جسے بیسویں صدی میں میکس ورتھیمر، وولف گینگ کوہلر اور کوفکا نے متعارف کروایا۔ ان کا بنیادی مقدمہ ہے کہ کُل، اپنے حصوں کے مجموعے سے بڑھ کر ہوتا ہے.The whole is greater than the sum of its parts.
ان کا ماننا ہے کہ انسان کا دماغ کسی بھی چیز کو ٹکڑوں میں نہیں بلکہ بیک وقت ایک وحدت /یونٹ کے طور پر دیکھتا اور سمجھتا ہے۔
یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے سفوٹ جملے کے مکمل ہونے پر ایک وحدت کی صورت میں ذہن میں ابھرتا ہے۔ اسی وجہ سے سفوٹ کو Gestalt of Meaning بھی کہا جا سکتا ہے۔ مثلاً اگر میں لکھوں ا ر د و ۔۔ تو ہم الف، رے، دال، واو پڑھیں گے، مگر جب یہی حروف ملا کر ‘اردو’ لکھتا ہوں تو ہم انفرادی حروف نہیں بلکہ ایک مکمل معنیاتی اکائی پہچانتے ہیں۔
اگلی مثال جو ذہن میں آتی ہے وہ نوم چومسکی ہیں، جنہوں نے جدید لسانیات میں انقلاب برپا کرتے ہوئے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان زبان سیکھنے کی طبعی صلاحیت کے ساتھ ہی پیدا ہوتا ہے اور جملوں کی ساخت انسانی ذہن کی گہرائیوں میں پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ یہاں بھرتہری کا شبد برہمن اور پرتیبھا یاد آتا ہے: وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ زبان کوئی بیرونی ایجاد نہیں بلکہ انسانی شعور کی بنیادی ساخت کا حصہ ہے۔


