پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں سیلاب، شدید بارشیں، گرمی کی لہریں، خشک سالی اور زلزلے سب بڑے خطرات ہیں۔ اس کے باوجود ہماری آبادی کا بڑا حصہ ایسے علاقوں میں مسلسل پھیل رہا ہے جہاں مستقبل میں قدرتی آفات کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت صرف موجودہ شہروں کو پھیلانے کے بجائے نئی، منصوبہ بند اور نسبتاً محفوظ آبادیاں قائم کرنے کی قومی پالیسی بنائے۔
مثلاً چولستان جیسے وسیع اور کم آباد علاقوں کو صرف صحرا سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے انہیں مستقبل کی آبادکاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
لیکن یہ آبادکاری صرف گھر بنا دینے کا نام نہیں ہونی چاہیے۔ پہلے پانی، سڑک، بجلی، اسکول، اسپتال، روزگار، زرعی زمین، صنعت اور مواصلات کا مکمل منصوبہ بنایا جائے، پھر آبادی منتقل کی جائے۔
سیلاب کو تباہی کے بجائے وسیلہ بنایا جا سکتا ہے
دریاؤں میں جب غیر معمولی سیلاب آئے تو اس اضافی پانی کو مخصوص سیلابی نہروں کے ذریعے صحرائی علاقوں کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے، جہاں بڑے ذخیرہ آب، تالاب اور مصنوعی جھیلیں بنائی جائیں۔
ان نہروں کا مقصد مستقل طور پر دریاؤں کا پانی موڑنا نہیں بلکہ صرف انتہائی سیلاب کے دنوں میں اضافی پانی کو محفوظ علاقوں کی طرف منتقل کرنا ہو۔
اس کے لیے صوبوں کو اعتماد میں لینا اور جدید گیٹ و مانیٹرنگ سسٹم قائم کرنا لازمی ہوگا۔
یوں جو پانی آج تباہی کا سبب بنتا ہے، وہی کل آبپاشی، زیرِ زمین پانی کی بحالی، زراعت، مویشی پالنے اور نئی آبادیوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
اسی تصور کی ایک تفصیلی شکل ہم پہلے بھی بنا چکے ہیں جس میں سیلابی نہروں کے ذریعے صحرائی علاقوں میں پانی پہنچانے اور وہاں زرخیزی پیدا کرنے کا منصوبہ دکھایا گیا تھا۔
زلزلوں کے خطرے کو بھی منصوبہ بندی میں شامل کرنا ہوگا
پاکستان کے کئی بڑے شہری مراکز زلزلہ خیز علاقوں میں واقع ہیں۔ ہر بار زلزلہ آنے کے بعد عمارتیں گرانے، لوگوں کو بچانے اور اربوں روپے کا نقصان پورا کرنے کے بجائے نئی تعمیرات کو پہلے ہی محفوظ جغرافیائی اور انجینئرنگ اصولوں کے مطابق منصوبہ بند کرنا زیادہ دانشمندانہ ہوگا۔
نئی بستیاں کم کثافت، کھلی جگہوں، مضبوط عمارتوں اور جدید انفراسٹرکچر کے ساتھ بنائی جائیں تاکہ کسی قدرتی آفت کی صورت میں نقصان کم سے کم ہو۔
یہ صرف آبادکاری نہیں، معاشی منصوبہ بھی ہوگا
ایسے منصوبے پر اربوں روپے خرچ ہوں گے، لیکن یہ رقم صرف خرچ نہیں ہوگی بلکہ ملکی معیشت کے اندر گردش کرے گی۔
نئی سڑکیں بنیں گی، تعمیراتی صنعت چلے گی، سیمنٹ، سریا، اینٹ، ٹرانسپورٹ اور مشینری کی طلب بڑھے گی، نئی منڈیاں بنیں گی، زرعی زمین وجود میں آئے گی، چھوٹی صنعتیں قائم ہوں گی اور لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار پیدا ہوگا۔
یعنی جس رقم کو ہم آج قدرتی آفات کے بعد نقصان پورا کرنے پر خرچ کرتے ہیں، اسی رقم کا ایک حصہ اگر پہلے سے منصوبہ بندی پر لگا دیا جائے تو وہ اثاثے، روزگار اور نئی معاشی سرگرمی پیدا کر سکتی ہے۔
ہمیں آبادی کو قدرت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہیے
پاکستان کو اب صرف یہ سوچنے کے بجائے کہ سیلاب آئے گا تو کیا کریں گے؟ یہ سوچنا ہوگا کہ:
سیلاب آئے تو اس پانی کو کہاں لے جائیں گے؟
خشک سالی آئے تو محفوظ پانی کہاں سے ملے گا؟
زلزلہ آئے تو ہماری آبادیاں کتنی محفوظ ہوں گی؟
اور سب سے اہم:
آنے والی نسلیں کہاں آباد ہوں گی؟
اگر آج سے 20، 30 اور 50 سال آگے کی منصوبہ بندی کی جائے تو چولستان جیسے وسیع علاقوں کو بھی پانی، زراعت، صنعت اور جدید منصوبہ بند شہروں کے ذریعے نئی زندگی دی جا سکتی ہے۔
قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، لیکن ان کے نقصانات کو بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
اور اگر ہم دانشمندی سے منصوبہ بندی کریں تو بعض اوقات زحمت کو نعمت میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔


