تم چلے آؤ پہاڑوں کی قسم / زبیر اسلم بلوچ

کبھی کبھی آدمی کو موت سے زیادہ ان الفاظ پر حیرت ہوتی ہے جو کسی کی موت کے فوراً بعد اس کے گرد جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ حادثہ ابھی تازہ ہوتا ہے، گھر والوں کے آنسو ابھی خشک نہیں ہوئے ہوتے، خبر ابھی لوگوں کے ذہنوں میں پوری طرح اتری بھی نہیں ہوتی کہ ہمارے ہاں ایک عجیب سی عادت حرکت میں آ جاتی ہے؛ کوئی نیت کا فیصلہ سناتا ہے، کوئی کردار کا، کوئی ایمان کا اور کوئی موت کی نوعیت کا۔ گویا میت ابھی پہاڑ سے نہیں ملی، مگر فیس بک کی عدالت اپنا فیصلہ سنا چکی۔

سید علی شاہ میاں گیارہ جولائی کو فلک سیر کی چوٹی سے واپسی کے دوران برف پوش پہاڑوں میں آنے والے ایک طوفان کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے تھے۔ انچاس دن بعد ان کا جسدِ خاکی برف کی تہوں سے دریافت ہوا۔ پہاڑ نے ایک انسان کو اپنے سینے میں اتنے دن چھپائے رکھا اور ادھر ہم نے چند لمحوں میں اس موت کی نیت بھی متعین کرلی۔ کسی نے کہا، یہ خودکشی ہے؛ کسی نے پوچھا، آخر وہاں جانے کی ضرورت ہی کیا تھی؛ اور کسی نے اس سارے واقعے کو چند سطروں کے ایک ایسے فیصلے میں سمیٹ دیا جس کے لیے نہ اسے حالات کا علم تھا، نہ مرحوم کی نیت کا، نہ کوہ پیمائی کے فن کا۔

خودکشی ایک ارادی عمل ہے۔ انسان جان بوجھ کر اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کرے اور اسی مقصد کے لیے قدم اٹھائے تو اسے خودکشی کہا جاتا ہے۔ اب ایک ایسے شخص کے بارے میں، جو کوہ پیمائی کے لیے نکلا، جس نے واپسی کا سفر شروع کیا، جس نے اس خطرناک ماحول میں اپنی جان بچانے کے لیے جدوجہد کی اور بالآخر ایک ناگہانی طوفان کی زد میں آگیا، صرف اس بنیاد پر خودکشی کا حکم لگا دینا کہ وہ پہاڑ پر کیوں گیا تھا، نیت اور حادثے کے درمیان موجود بنیادی فرق کو مٹا دینے کے مترادف ہے۔

دنیا میں بہت سے کام ایسے ہیں جن میں خطرہ شامل ہے، مگر خطرہ موجود ہونا موت کو خودکشی نہیں بنا دیتا۔ دریا میں اترنے والا تیراک ڈوب سکتا ہے، سڑک پر نکلنے والا مسافر حادثے کا شکار ہوسکتا ہے، سمندر میں جانے والا ملاح طوفان میں پھنس سکتا ہے اور پہاڑ پر جانے والا کوہ پیما برفانی طوفان کی زد میں آسکتا ہے۔ اگر کسی کام میں موت کا امکان ہی اس کام کو خودکشی قرار دینے کے لیے کافی ہوتا تو زندگی کا شاید کوئی راستہ محفوظ نہ رہتا۔

اس حوالے سے ایک پرانا واقعہ ذہن میں آتا ہے۔ چند لوگ دریا کی سیر کو نکلے اور ایک ملاح کو ساتھ لے لیا۔ سفر کے دوران ایک صاحب نے ملاح سے اس کے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ معلوم ہوا کہ اس کا دادا بھی ملاح تھا اور دریا میں ڈوب کر مرا تھا، باپ بھی ملاح تھا اور دریا ہی میں جان سے گیا۔ صاحب نے اپنی دانائی کے مطابق ملاح کو سمجھایا کہ جب اس کے بزرگ اسی پیشے میں مرے تو اسے بھی یہ کام چھوڑ دینا چاہیے۔

ملاح نے خاموشی سے پوچھا کہ ان صاحب کے دادا کہاں فوت ہوئے تھے۔ جواب ملا، گھر میں۔ باپ کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی گھر ہی میں فوت ہوئے تھے۔ ملاح نے عرض کیا کہ پھر گھر سے بھی احتیاط کیجیے، کیونکہ وہاں بھی موت آپ کے خاندان تک پہنچ چکی ہے۔

اس مختصر سے واقعے میں طنز بھی ہے اور زندگی کی ایک ایسی حقیقت بھی جسے ہم اکثر اپنی سہولت کے مطابق بھول جاتے ہیں۔ موت کسی ایک پیشے، ایک مقام یا ایک عادت کی پابند نہیں۔ انسان جہاں جاتا ہے، زندگی اپنے امکانات اور خطرات دونوں کے ساتھ اس کے ساتھ چلتی ہے۔

کوہ پیمائی کو محض پہاڑ پر چڑھنے کا شوق سمجھ لینا بھی اس معاملے کو سطحی نظر سے دیکھنا ہے۔ ایک تربیت یافتہ کوہ پیما عام سیاحت کرنے والے شخص کی طرح گھر سے نکل کر چوٹی کی طرف نہیں چل پڑتا۔ موسم کا جائزہ، راستے کا انتخاب، جسمانی تیاری، مخصوص لباس، حفاظتی سامان، رسیاں، برفانی علاقوں کے لیے ضروری آلات اور واپسی کے امکانات، یہ سب اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ پہاڑ پر ایک معمولی سی غلطی بھی بھاری پڑ سکتی ہے، موسم چند لمحوں میں اپنا مزاج بدل سکتا ہے اور وہ راستہ جو کچھ دیر پہلے واضح تھا، برف کے ایک تودے کے نیچے غائب ہوسکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کوہ پیمائی میں احتیاط کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ خطرے کو سمجھنا، اپنی استطاعت کا اندازہ لگانا اور ضروری حفاظتی تدابیر اختیار کرنا عقل مندی ہے۔ لیکن تمام احتیاطوں کے بعد بھی ہر نتیجہ انسان کے اختیار میں نہیں رہتا۔ قدرت کے بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے تجربہ، منصوبہ بندی اور تیاری بھی ایک حد تک ہی ساتھ دے سکتے ہیں۔

ہم میں سے بیشتر لوگ پہاڑ کو صرف تصویر میں دیکھتے ہیں۔ موبائل کی اسکرین پر برف سے ڈھکی ہوئی چوٹی خوب صورت معلوم ہوتی ہے، مگر اس سفیدی کے اندر چھپی ہوئی سردی، تنہائی، تیز ہوا، برفانی ڈھلوان اور چند لمحوں میں بدل جانے والا موسم اس تصویر کا حصہ نہیں ہوتا۔ جو شخص پہاڑوں کے بیچ زندگی گزارتا ہے، وہ ان خطرات کو ہم سے کہیں زیادہ قریب سے جانتا ہے۔ اسی لیے کسی کو محض اس بنیاد پر غیر محتاط قرار دے دینا کہ وہ پہاڑوں کی طرف کیوں گیا، شاید اس دنیا کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے جس میں وہ شخص زندگی گزار رہا تھا۔

حادثات صرف پہاڑوں پر نہیں ہوتے۔ کراچی جانے والی بس خیرپور کے قریب حادثے کا شکار ہوسکتی ہے، موٹر وے پر چلتی گاڑی کسی لمحے بے قابو ہوسکتی ہے، سردیوں کی رات کسی گھر میں گیس کے اخراج سے آگ بھڑک سکتی ہے۔ ہسپتال، جہاں انسان زندگی بچانے جاتا ہے، وہاں بھی موت آتی ہے۔ گھر، جسے ہم دنیا کی محفوظ ترین جگہ سمجھتے ہیں، وہاں بھی موت اپنا راستہ تلاش کرلیتی ہے۔ اس کے باوجود ہم نہ سفر ترک کرتے ہیں، نہ ہسپتال جانا، نہ گھروں میں رہنا۔

زندگی شاید اسی کا نام ہے کہ انسان خطرے کے امکان کے باوجود آگے بڑھتا ہے۔ احتیاط اس سفر کا حصہ ہے، ضمانت نہیں۔

سید علی شاہ میاں کی موت کے معاملے میں بھی شاید سب سے مناسب رویہ یہی ہے کہ حادثے کو حادثہ رہنے دیا جائے۔ کسی شخص کے آخری انجام، نیت یا باطن کے بارے میں وہ فیصلہ نہ سنایا جائے جس کا اختیار انسان کو حاصل ہی نہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب سامنے ایک ایسی موت ہو جس نے ایک شخص کو برف کی تہوں میں اتنے طویل عرصے تک دنیا کی نگاہوں سے اوجھل رکھا ہو اور جس کے بعد انچاس دن تک خاندان والے امید، انتظار اور اذیت کے درمیان رہے ہوں۔

موت کے بعد انسان کے بارے میں ہمارا ایک جملہ بھی کسی زندہ انسان کے دل پر اترتا ہے۔ مرنے والا تو واپس نہیں آتا، مگر اس کے پیچھے رہ جانے والے لوگ ہماری زبان کے وار سہتے رہتے ہیں۔ ایسے مواقع پر الفاظ کا انتخاب محض تہذیب کا تقاضا نہیں، انسانیت کی ضرورت بھی ہے۔

ہمیں دوسروں کی موت پر فیصلہ سنانے کے بجائے اپنے علم کی حد پہچاننے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ جہاں حقیقت معلوم نہ ہو وہاں گمان کو حقیقت کا لباس نہ پہنایا جائے، جہاں نیت کا علم نہ ہو وہاں نیت کا فیصلہ نہ لکھا جائے، اور جہاں حادثہ سامنے ہو وہاں اسے کسی اخلاقی جرم میں تبدیل کرنے کی جلدی نہ کی جائے۔

ہر مسلمان کے بارے میں حسنِ ظن رکھا جائے، مرحوم کے لیے مغفرت کی دعا کی جائے اور فیصلہ اس ذات پر چھوڑ دیا جائے جس کے سامنے آخرکار ہم سب کو حاضر ہونا ہے۔

پہاڑ نے سید علی شاہ میاں کو اپنی برف میں چھپا لیا تھا، مگر ان کی میت کو ہمارے لفظوں میں دفن کرنے کی ضرورت نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں