آجکل ہمیں سب سے دشوار کام جو محسوس ہوتا ہے، وہ سبزی، دال اور روزمرہ کی ضروریات کی خریداری کرنا ہے۔ کیا کریں؟ خریداری نہ کریں تو اسکے بغیر گزارا نہیں۔ نہ چاہتے ہوۓ بھی یہ کام کرنا پڑتا ہے۔ ورنہ کھانا پکے گا اور نہ بھوک مٹے گی۔ چنانچہ جیسے ہی بازار جانے کا پروانہ ہمیں ملتا ہے، ہماری جان پہ بن جاتی ہے۔گویا ہمیں اپنی فرصت کا ہرجانہ دینا پڑتا ہے۔ ہم سر تا پا پسینے سے شرابور ہو جاتے ہیں۔۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم خود ہی پروانہ بن کر جلتی شمع پر بیٹھ گئے ہوں۔ جسے نذر جیب کر کے تن بدن میں آگ سی لگ جاتی ہے۔ کبھی ہم فہرست کو گھورتے اور کبھی جیب میں موجود نوٹ کو ٹٹولتے ہیں۔ یہ کٹھن کام ہفتہ وار خریداری میں بھی ہوتا ہے، جس کو عرف عام میں گروسری اسٹور کی شاپنگ کہتے ہیں ، ہمارے لئے یہ مرحلہ کسی مشکل امتحان سے کم نہیں ہوتا۔ مگر اس میں امتحان میں کسی کی نقل کر کے پاس ہونے کی قطعآ امکان نہیں ہوتا۔ نقل کریں بھی تو کیسے؟ ذرا سی دیر میں لاکھوں کی خریداری کرنے والوں کی نقل ہم ایسے پھوکٹ کیسے کر سکتے ہیں؟ بلکہ جب ہمیں بڑی بڑی خریداری کرنے والوں کی معیت کا سامنا ہوتا ہے تو اپنی عدم استطاعت پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سوچتے ہیں کہ جان بچی سو لاکھوں پاۓ۔ چنانچہ ہم ایسی صورتحال میں آنکھ بچا کر پتلہ گلی سے نکل۔ جاتے ہیں۔
ہم جب بھی گھر والوں کے ہاتھ آتے ہیں تو ہمیں گروسری شاپ پہ انگلی پکڑ کر یوں لے جایا جاتا ہے جیسے ہمارا بچپن لوٹ آیا ہو اور ہمیں کسی چڑیا گھر یا چلڈرن پارک لے جایا جا رہا ہو۔ ہم بھی اڑھتے، پھنستے پہیوں والی ٹرالی کو ہاتھوں سے گھسیٹتے، خود کو امیر لوگوں کی قطار میں کھڑے ہو کر کاؤنٹر پر پہنچتے ہیں تو اس احساس تفاخر سے باچھیں کھل اٹھتی ہیں کہ ہم بھی ٹرالیوں میں شاپنگ کرنے والوں سے کسی طرح کم نہیں۔ ‘کوئی ہم سا ہو تو سامنے آۓ’۔ مگر اگلے ہی لمحے ہماری خوش فہمی پر شرمندگی کے تازہانے برسنے شروع ہو جاتے ہیں, جب کاؤنٹر والا ٹرالی میں پڑی دو گاجریں، دو کھیرے ایک شملہ مرچ، ایک چھوٹا سا بند گوبھی کا پھول، ایک گٹھی سلاد پتہ اور دو عدد ٹماٹروں کو ٹرالی میں لڑھکتے دیکھ کر ہمیں معنی خیز نظروں سے گھورتا ہے کہ اخر اتنی کم چیزوں کی خریداری کے لئے اتنی بڑی ٹرالی کی کیا ضرورت تھی؟ یہ چیزیں تو چھوٹی ٹوکری میں بھی, گلی محلے میں آنکھ مچولی کھیلتے بچوں کی طرح اچھلتی کودتی سما سکتی تھیں۔ اس نے زبان سے کچھ نہیں کہا۔ ورنہ ہم آب آب ہو جاتے یا ہمارا پارہ ہائی ہو جاتا۔ ہم نے برسوں آب پارہ کے قریب قیام نہ کیا ہوتا تو اس صورت حال سے نمٹنے کا سیر تجربہ نہ ہوتا ۔ شکر ہے ہماری عقابی نظر ایک ایگل کا قلم خریدنے کی تلاش کے دوران قلمی آموں کی پیٹی پر جا پڑی۔ ہمارے منہ میں پانی بھر آیا، جسے ہم نے غصہ سمجھ کر تھوکنا چاہا مگر ہم پی گئے، اس طرح ہم بڑے کھڑاک سے بچ گئے۔ اسٹور کے نادان ملازم کو کیا پتا تھا کہ اس دور میں سلاد کا سامان خریدنا بھی ایک عام آدمی کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ان چند چیزوں کا بل ادا کرنے کے لئے بھی بڑی ٹرالی کی طرح دل بڑا کرنا پڑتا ہے۔ ایک تو ہمیں روزانہ کھانے کے ساتھ سلاد کھانے کی ایسی عادت پڑ گئی ہے کہ کھائیں تو کھانے میں ذائقہ کم آتا ہے اور بجٹ آؤٹ ہونے کا مزا ذیادہ چکھنا پڑتا ہے۔
بیگم صاحبہ کے ساتھ ماہانہ یا مہینے بھر کی خریداری سے تو ہماری جان جاتی ہے۔ وہ اسٹور کی الماریوں سے چیزیں اٹھا کر ٹرالی میں ڈالتی رہتی ہیں اور ہم اپنی ننھی منی سی نواسی زینب کی پرام چلاتے چلاتے ٹرالی پر جھکتے اور چپکے سے کچھ چیزیں اٹھا اٹھا کر واپس اسٹینڈز میں رکھ دیتے۔ تاکہ زیادہ لمبا چوڑا بل نہ بنے۔ مگر ہماری یہ تدبیر ڈیادہ تر رائیگاں چلی جاتی ۔ یوں سمجھ لیں کہ اسطرح کبھی ہماری دال نہیں گلتی۔ کیونکہ گھر آکر جب کچھ چیزیں کم نکلتیں تو ہمیں انہیں خرید کر لا نے کے لئے طوعاً و کرہاً دوبارہ اسٹور کا رخ کرنا پڑتا۔
ہم نے جب بھی کوئی سی دال خرید کر کا کر دی۔ ہمیں باتیں سننے کو ملیں۔ گھر والوں نے اکثر دال نہ گلنے کی شکائت کی۔ دال نہ گلنے کا ذکر کیا تو یاد آیا ک دال چنے کی ہو یا مسور کی، ماش کی ہو یا مونگ کی، ایک تو گل کے نہیں دیتی دوسرے قیمتآ اتنی گراں ہوتی ہیں کہ اگر صبر شکر کر کے کھا لیں تو سینے پہ ایسی گرانی شروع ہو جاتی ہے، جیسے سینے پہ مونگ دل رہی ہوں۔ پہلے دالیں کھانے والوں کا شمار غریبوں میں ہوتا تھا، مگر اب یہ امیروں کا کھابہ ہے اور اب ہمارا گھر بھی دال روٹی والا ڈھابہ ہے۔ کبھی کبھی ہمارا دل دالوں سے اکتا جاۓ تو اہل خانہ ذائقہ بدلنے کو چاروں دالوں میں گندم ملا کر حلیم نما سالن بنا لیتیں۔ بغیر گوشت کے حلیم کے نام پر دالیں کھانا مشکل تو ہوتا ہے۔مگر کیا کریں ایک تو مہنگی دالیں پکا کر نیم حلیم کا چمچا حلق سے نیچے نہیں اترتا، دوسرے اتنی ساری دالوں کا حلیم بنانا تو اور بھی کٹھن کام ہوتا ہے۔ دال کو بڑا مال کہنے والے حلیم الطبع لوگ اب یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ گھر کی دال مرغی ںرابر۔ ہمارا خیال تھا کہ اب حلیم گھر والے ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے بیٹھ جائیں گے۔ مگر ذائقے اور لذت کی دنیا میں رہنے والوں نے خریداروں کی قطاروں کو کم نہیں ہونے دیا۔
گروسری اسٹور سے گوشت خریدنا ہو یا چکن، پیسوں کی ہوتی ہے بربادی اور جسم پہ ہوتی ہے تھکن۔ طاری۔ یہ سوچ کر ماتھے پر آجاتے ہیں شکن۔ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ گوشت لیں تو کونسا؟ بڑے بڑے گوشت کے لوتھڑے دیکھ کر فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ ران کا گوشت صحیح رہے گا یا سینے کا، پٹ کا اچھا ہوتا ہے، یا دستی کا؟ بونگ کا لینا ہے یا کمر کا۔ غصہ اس بات پہ بھی آ تا ہے کہ گھر والے ادھوری بات کہہ کر گوشت لینے بھیج دیتے ہیں، بھلا یہ بتا دینے میں کیا حرج ہوتا ہے کہ سری لینی ہے کہ پائے۔ جب گوشت لے کر گھر آئے تو ہر ایک نے دسیوں اعتراض اٹھاۓ کہ یہ کیا لے أئے، وہ کیوں نہیں لاۓ۔ آج تو نہاری بنانا تھی۔ مچھلی کا گوشت لانا تھآ، اور نلی والی ہڈیاں بھی۔ چلو اس بار تو اس چکنے گوشت کو رہنے دو اسکی پلاؤ بن جاۓ گی۔ آئندہ را احتیاط! پوچھ کر جانا کہ چانپیں لانی ہیں یا مغز۔ قریب تھا کہ ہمارا پھرجاتا مغز، ہم نے کچن کی الماری کھولی اور ایک ڈبہ کھول کر کھانے لگے مٹھی بھر بادام۔ ہم نے سوچا ، چاروں مغز۔ چاروں گوند اور کمر کس بھی میسر آجائیں تو اچھا ہے۔ کیونکہ اچھا بھیجا اور مضبوط کمر دونوں لازم ہیں، جب خریداری کے لئے ہمیں جاۓ بھیجا۔


