نیپال کے شمالی پہاڑی علاقوں میں پیش آنے والا گلیشیئر ٹوٹنے اور بادل پھٹنے کا ہولناک واقعہ دراصل پورے ہمالیائی خطے کے لیے قدرت کا ایک بڑا اشارہ اور سائنسی پیشگوئی ہے۔ پاکستان اور نیپال ایک ہی جغرافیائی چھت کے نیچے آباد ہیں اور دنیا میں قطبین کے بعد سب سے زیادہ یعنی سات ہزار سے زائد گلیشیئرز ہمارے پاس موجود ہیں۔ اس سال عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی گرمی اور ایل نینو کے سائنسی مظہر نے سمندری اور ہوائی درجہ حرارت کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے جس کے باعث فضا میں نمی کا توازن بگڑ چکا ہے۔ ایل نینو کی اسی شدید گرمی کی وجہ سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور اچانک بادل پھٹنے یعنی کلاؤڈ برسٹ کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ اگست کے آخری ایام سے ستمبر کے درمیانی ایام تک گلگت بلتستان خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر جیسے بالائی علاقوں میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے اور کلاؤڈ برسٹ کے شدید خطرات موجود ہیں۔
اس موسم میں پہاڑی علاقوں کی طرف سفر کرنے والے سیاحوں اور مسافروں کے لیے انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ سیاحت کے شوقین افراد ندی نالوں اور دریاؤں کے بالکل قریب رہائش اختیار کرنے یا وہاں کیمپنگ کرنے سے مکمل طور پر گریز کریں کیونکہ بادل پھٹنے یا گلیشیئر پھٹنے کی صورت میں پانی کا ریلہ سیکنڈوں میں وادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سمجھنا بھی غلط ہوگا کہ بادل صرف پہاڑوں پر پھٹتے ہیں کیونکہ اگر کسی بڑے شہر پر ایسا کلاؤڈ برسٹ ہوا تو منٹوں میں اربن فلڈنگ کی تباہی مچ جائے گی لہذا عام شہریوں کو چاہیے کہ اپنے گھروں اور محلوں کے پاس نالوں اور پانی کی نکاسی کے راستوں کو صاف رکھیں اور کچرا ہرگز نہ پھینکیں۔
ہمالیائی خطے کی اس صورتحال سے ڈرنے کی بجائے ہمیں ہوش مندی اور تدبیر کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنا ہوگا اور ظاہری تیاریوں کے ساتھ ساتھ بارگاہ الہی میں سچی توبہ اور کثرت سے استغفار بھی لازمی کرنا ہوگا کیونکہ جب قدرت کی آزمائش آتی ہے تو اس کی لپیٹ میں اچھے اور برے سبھی آ جاتے ہیں۔ روحانی اور اخلاقی رجوع کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے محلے کے غریب اور مستحق لوگوں کے کچے گھروں اور چھتوں کی مرمت میں ان کا ہاتھ بٹائیں اور علاقے کی مساجد یا دیگر پائیدار عمارتوں کو پیشگی پناہ گاہوں کے طور پر منتخب کر لیں تاکہ ناگہانی آفت یا ہنگامی صورتحال میں سب کو معلوم ہو کہ فوراً کہاں اکٹھا ہونا ہے۔ قدرت کے بدلتے پیٹرن کے سامنے باہمی رواداری اتحاد تدبیر اور رجوع الی اللہ ہی ہماری بقا کا واحد ذریعہ ہے۔
چنانچہ NDMA اور دیگر اداروں سے سیاح اور مقامی لوگ شدید تعاون کریں ۔۔ اور ہر علاقہ اپنے طور پر ابتدائی وارننگ کا ایک نیٹ ورک علاقوں کے نوجوانوں کے ساتھ مل کر فعال رکھیں۔۔ اللہ کریم سب کی حفاظت فرمائیں آمین


