دس برس ہوگئے۔ بہت کچھ بدل گیا۔ بچوں کی عمریں بدل گئیں، تعداد بھی بدل گئی۔ نوشتہ دیوار کے مطابق بہت کچھ بدلنے بھی والا ہے۔ زندگی کی ہئیت و حالت بدل گئے، اور تو اور۔۔۔ انعام رانا کے بال بھی اتر کر دوبارہ اگ گئے۔
ایک نہ بدلا تو اندازِ مکالمہ نہ بدل پایا۔۔۔
یہ مایوسی سے کئی برس قبل کا ذکر ہے۔ زمانے کے اطوار سمجھ نہ آتے تھے۔ سوال اٹھتے جواب ڈھونڈنے نکل جاتے۔ کچھ جواب مل جاتے کچھ مزید سوالوں کو جنم دیتے۔ خالی برتن شور مچاتا ہے۔ ہم بھی شور مچانے لگے۔ احساس ہوا کہ صرف شور مچانے سے کیا ہی فائدہ۔ چلو کوشش کرتے ہیں خود کو بہتر انسان بنایا جائے۔ کیسے؟ اختلاف کر کے، اختلاف سہہ کر۔
اسی دوران رانا صاحب مکالمے کی صدا لگاتے نظر آئے۔ سوچا آزمائش شرط ہے۔ کر لیا رخ۔
یہاں بات کرنے کی آزادی ہوتی تھی۔ یہ نہیں کہ کسی ایک طرف کی طرف داری، بس ہر جانب کے لیے سہولت کاری۔ آواز ہونی چاہئے بس۔ ایک محدود سا لاؤڈ سپیکر مکالمہ کے پلیٹ فارم کے توسط سے دستیاب ملے گا۔
مکالمہ پر لکھنا شروع کیا۔ جانے رانا صاحب کو کیا نظر آیا، کہ چند برس بعد ایڈیٹر لگ جانے کا حکم نامہ موصول ہوا۔ حکم تھا، تعمیل ضروری تھی۔ انتظامیہ کا حصہ بن کر اندازہ ہوا کہ اچھی خاصی عملی لبرلزم کا نفاذ پہلے سے موجود ہے۔
راقم کا خون تب گرم ہوا کرتا تھا۔ تحاریر کی کاٹ چھانٹ میں تو مسئلہ کبھی نہ ہوا کہ لکھاری زیادہ تر سوچ سمجھ کر زبان استعمال کیا کرتے، سوشل میڈیا پر کمنٹس و تبصرہ جات دیکھ کر شک ہوتا کہ گویا دماغ کی بجائے رانوں کے بیچ سے لکھا گیا ہے (یہاں رانوں سے مراد رانا صاحب کی برادری ہرگز نہیں)۔ رانا صاحب رکھ رکھاؤ والے بندے ہیں، باچیز جسے جانتا نہ ہو اس کے لیے ٹھہرا شدھ بدلحاظ، اٹھا اٹھا کر بندے بلاک کرنے لگا۔ مکالمے پر یقین تھا، طریقہ فریق اول کی زبان و انداز طے کرے گا، پایہ تکمیل تک بطور ایڈمن ہم پہنچائیں گے۔
مکالمہ کرنے کئی آئے کئی گئے۔ یہ البتہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر کم از کم میرے حلقہ احباب میں اہم احباب کسی نہ کسی مرحلے پر مکالمہ سے جڑے نظر آتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ادارے کو شخصیت کے سائے سے بالاتر ہونا چاہیے۔ میرا خیال ہے آج دس برس بعد ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو مکالمہ کے بانی اور مکالمہ کے پلیٹ فارم کو الگ الگ پاتے ہیں۔ کوئی ایک شخص نہیں جس سے ادارہ نتھی ہو، کوئی ایک سوچ نہیں جس کی اجارہ داری ہو، کوئی اور ایسا ادارہ نہیں جس سے خنس ہو۔ ہاں بچپن کی غلط کاریوں سے سبھی گزرتے ہیں، ادارہ بھی گزرا، ادارے کا بانی بھی اور ادارے کی انتظامیہ بھی۔
ارتقاء مگر اسی کا نام تو ہے۔
آج مکالمہ کی دسویں سالگرہ گزرے ایک دن ہوچکا ہے۔ مجھے لگتا ہے ہم میں سے بہت سے چلے جائیں گے۔ مکالمہ باقی رہے گا۔
مکالمہ۔۔۔ باقی رہنا بھی چاہیے، کہ یہ ہم سب کی سوچ سے بڑا تصور ہے۔


