کتے کے کاٹنے سے حمل ضائع ہو گیا امیر لوگ اکثر گھروں میں کتے بلیاں پالتے ہیں جو کہ صرف شوق ہی نہیں امارت کا دکھاوا بھی ہے مگر ایسا کبھی نہیں سنا کہ کسی کتے نے گھر کی مالکن کو ہی کاٹ کھایا ہو اور وہ بھی تب جب وہ حاملہ ہو اور اس کے کاٹنے سے حمل ضائع ہو جاۓ ۔ معلوم تو ایسا ہوتا ہے کہ فریال گوہر اور جمال شاہ دونوں کے بیانات متنازع ہیں خیر حیرت کی بات تو نہیں معمول کا رویہ ہے کہ تمام مرد جمال شاہ کے حق میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور فریال گوہر کی کردار کشی شروع کر دی ہے۔ فریال گوہر پر بہت سے سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ انہوں نے اس وقت اس بات کا ایکشن کیوں نہیں لیا اور اب اتنے برس گزرنے کے بعد ایک انٹرویو میں بیٹھ کر وہ اپنے پر ہوئے مظالم کی داستان سنا رہی ہیں وہ سچ کہہ رہی ہیں یا جھوٹ اور جمال شاہ جو ایک بہت ہی مہذب اور سلجھے ہوئے انسان دکھائی دیتے ہیں کیا گھر میں ان کا رویہ ایسا تھا یا نہیں اس بات کا فیصلہ عوام نہیں کر سکتی کیونکہ کچھ لوگ باہر کی دنیا میں بہت اچھے بہت خوشی اخلاق نظر اتے ہیں لیکن گھر میں بیویوں کے ساتھ ان کا رویہ مختلف ہوتا ہے۔ جو بھی وجوہات ہوں اصل بات تو اس رویہ کی ہے جس جس میں عورت کو برداشت کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور اگر وہ برداشت نہ کرے اور خود پر ہوئے مظالم کی پولیس میں رپورٹ کرے تو معاشرہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی عورت کو ہی مورد الزام ٹھہراتا ہے کہ بچوں کی خاطر برداشت کرنا تھا کیا ہوا جو شوہر نے کچھ کہہ دیا اور اور معاشرہ بھی وہ جس میں تعلیم یافتہ سوجھ بوجھ رکھنے والے اعلی عہدوں پر فائز لوگ ایسے اعتراضات کرتے ہیں اور سب کچھ جانتے ہوئے بھی کہ مرد کس کردار کا مالک ہے اگر اس کے پاس چار پیسے ہوں تو اسی کے حق میں بات کرتے ہیں۔ تمام بہنیں بیٹیاں خواتین اور وہ چند مرد بھی جہاں کہیں آپ ظلم اور ہراسگی کا شکار ہو رہے ہوں۔ اس کی رپورٹ درج کروائیں اپنی عزت کا بھرم رکھنے کے لیے اپنی زبان بند مت کریں اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھیں کسی دوسرے فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ مار پیٹ تو دور آپ سے اونچی آواز میں بات بھی کرے۔ رشتے بچانے سے زیادہ اپنی عزت نفس اور جسمانی اور دماغی صحت بچائیے۔ کیونکہ ایسے مظالم کے نقوش پوری زندگی پر چھا جاتے ہیں اور ایسے بدنما دھبے اپ کے ذہن پر ایسے اثرات چھوڑتے ہیں کہ بار بار دھونے سے شاید مدھم تو پڑ جائیں مگر ختم نہیں ہوتے۔


