کمرے میں رات سرسرا رہی ہے، اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دیواروں کے اندر کوئی خاموش سانس چل رہی ہو۔
دن بھر کی تھکن صرف جسم میں نہیں، میرے وجود کے کسی دھندلے گوشے میں بھی آ ٹھہری ہوئی ہے—ایک ایسا گوشہ جہاں برسوں سے کوئی نئی کہانی آنکھ نہیں کھول سکی، جہاں لفظ پت جھڑ کے سوکھے پتوں کی طرح پڑے رہتے ہیں۔
نائٹ لائٹ کی مدھم روشنی میں، میں آنکھیں بند کرتا ہوں تو ایک بے نام سا خلا میرے اندر کروٹ لینے لگتا ہے۔ شاید یہ وہی خلا ہے جو مدت سے خاموش آواز میں مجھے پکارتا چلا آ رہا ہے۔
“بابا، کہانی سنائیں۔ نیند نہیں آ رہی۔”
بیٹی عنایہ اپنی نیم خوابیدہ آواز میں کہتی ہے۔
“آج نہیں، بٹیا۔ بہت تھک گیا ہوں۔ سارا دن فائلوں میں دبا رہا، ساری شام باتیں کرتا رہا۔ سر ابھی تک گھوم رہا ہے۔ کل سن لینا کہانی۔” میں جواب دیتا ہوں۔
“آپ نے کل بھی یہی کہا تھا۔”
“جانتا ہوں… اور شاید اسی لیے میری معذرت بھی تمھیں بے جان سی لگتی ہوگی۔”
“پھر بھی کہانی تو آج آپ کو سنانی پڑے گی۔”
“اچھا—ٹھیک ہے۔ کون سی کہانی سنو گی؟”
“کوئی بھی۔”
“اس ‘کوئی بھی’ کا کیا مطلب؟ کچھ بتاؤ—کہانی کس بارے میں ہو؟”
“کسی بارے میں نہیں۔”
“کسی بارے میں نہیں؟”
“ہاں۔ اس میں کوئی انسان نہ ہو۔”
“کوئی جانور بھی نہیں؟”
“نہیں۔”
“تو… خالی کہانی؟”
“ہاں۔ خالی۔”
“بے رنگ؟”
“نہیں۔ بے رنگ نہیں۔ بس… خالی۔”
“دکھنے میں کیسی ہو؟”
“پتا نہیں۔ شاید ویسی، جیسی آنکھیں بند کرنے پر دکھائی دیتی ہے۔”
“ہلکی؟ یا بھاری؟”
“نہیں، بے وزن۔”
“شکل؟”
“نہیں، کوئی شکل نہیں۔”
“بال؟ کان؟”
“نہیں۔”
“دانت؟”
“نہیں۔”
“پھر کھاتی کیسے ہے؟”
“کہانیاں دانتوں سے تو نہیں کھاتیں۔”
“ہاتھ؟”
“ہاتھ بھی نہیں۔ بابا… کہا نا یہ کچھ بھی نہیں۔”
میں ایک بوجھل سی سانس لیتا ہوں، جو کہیں اندر ہی اٹک جاتی ہے۔
مجھے لگتا ہے عنایہ میری تھکن کو لفظوں سے نہیں، خاموشی سے پڑھ رہی ہے۔
ایک ہلکی سی گھبراہٹ میرے اندر اٹھتی ہے: کہیں اس نے میرے اندر کا وہ گوشہ تو نہیں دیکھ لیا جس سے میں برسوں سے نظریں چراتا آرہا ہوں ؛ وہ گوشہ جہاں کبھی خواب خود بہ خود جمع ہوجایا کرتے تھے؛ گوشہ خواب۔
اب وہاں صرف ایک بے خواب خاموشی ہے؛ عنایہ کے سوالوں سے زیادہ گہری، اور میری تھکن سے زیادہ پرانی خاموشی۔
“کہانی بغیر کسی چیز کے کیسے ہوسکتی ہے، بیٹی؟ کہانی کو اپنے وجود کے لیے کچھ نہ کچھ تو چاہیے۔”
“اس میں کوئی نہیں ہوتا، کچھ نہیں ہوتا۔”
“یہ کیسی کہانی ہے؟”
“خالی—”
یہ بڑبڑاتے ہوئے عنایہ دھیرے سے کروٹ بدلتی ہے، جیسے کسی اندرونی تصویر کو دیکھ رہی ہو۔
اس کی آنکھوں میں بچوں والی حیرت نہیں، بلکہ ایک ایسا سکوت ہے جو لفظوں سے پہلے جان لیتا ہے۔
وہ “خالی” کو یوں کہتی ہے جیسے اسے پہچانتی ہو، جیسے خلا عدم نہیں، وجود ہو۔
پہلی بار میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ شاید کہانیاں سنائی جانے سے پہلے یاد کی جاتی ہیں۔
کمرے کی دیواروں میں ایک مدھم سی گونج ابھرتی ہے، یا شاید وہ خاموشی ہے جو کبھی پورے طور خاموش نہیں ہوتی۔
“عنایہ… بیٹی! تم جاگ رہی ہو؟”
اس کی سانسیں نیند کی دھیمی لے میں مدغم ہو چکی ہیں۔ بند آنکھوں کے اس پار کہیں نائٹ لائٹ کی مدھم پیلاہٹ اب بھی قائم ہے۔
اور بیداری اور خواب کے درمیان تیرتے ہوئے اس لمحہ میں، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اب کون جاگ رہا ہے۔
سوائے کہانی کے۔
ہاں، کہانی جاگ رہی ہے۔
وہ بہت دیر سے جاگ رہی ہے۔
خاموشی کو سن رہی ہے۔
اندھیرے میں ٹھہری ہوئی ہے۔
یہ احساس کہیں باہر سے نہیں آیا۔
یہ میرے اندر ہی کہیں سانس لے رہا ہے،
یہ کہانی عنایہ کی خواہش سے پیدا نہیں ہوئی۔
یہ میری اپنی شکست سے ابھر رہی ہے۔
اور شاید اسی لیے مجھ سے زیادہ جاگ رہی ہے۔
ایک لمحہ کےلیے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں کہانی سنانے والا نہیں، بلکہ وہ ہوں جسے کہانی یاد کر رہی ہے۔
وہ سب کچھ یاد رکھتی ہے۔
میری تھکن
میری شکست
اور میرے اندر کا وہ خالی گوشہ
جسے میں کبھی کوئی نام نہیں دے سکا۔
اور جب میں آنکھیں بند کرتا ہوں،
تو اندھیرے میں صرف ایک چیز باقی رہ جاتی ہے؛
کسی کے ہونے کا ایک مانوس، نامانوس سا احساس
جو خاموشی سے میرے اندر ابھر رہاہے،
وہی جسے میں کبھی خلا سمجھتا تھا،
وہی جو اب بولنے کو ہے۔
-————



بہت عمدہ، علامتی افسانہ ہے۔
شکریہ. احمد رضوان بھائی
ممنون ہوں۔