ہرمز کی گرہ، معیشت کی سانس/سحر وقار

نقشے پر سمندر نیلا رہتا ہے، خواہ اس کے کناروں پر سیاست کتنی ہی سرخ ہوجائے۔ لیکن منڈی کا رنگ بدل جاتا ہے، بندرگاہ کی رفتار بدل جاتی ہے اور آخرکار اس گھر کا حساب بدل جاتا ہے جس کا کسی جنگی فیصلے میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ ایوانوں میں اسے تزویراتی دباؤ کہا جاتا ہے؛ عام آدمی اسے مہنگے سفر، گھٹتے روزگار اور بڑھتے بل کی صورت پہچانتا ہے۔ میں اسی لیے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کو دور دیس کی خبر سمجھ کر نہیں پڑھ سکتی۔

اس وقت بنیادی ضرورت آبنائے ہرمز میں محفوظ اور معمول کی جہاز رانی کی بحالی ہے۔ بحیرۂ احمر اور باب المندب کو مکمل بند سمجھ لینا صورتِ حال کی غلط تصویر بناتا ہے۔ 17 ستمبر 2026 کی جہاز رانی رپورٹ میں گزشتہ روز ہرمز سے صرف 3 تجارتی جہازوں، جبکہ باب المندب سے 21 جہازوں کے گزرنے کی اطلاع تھی۔ یہ ابتدائی اعداد ہیں، مگر فرق واضح کرتے ہیں: ایک راستہ شدید تعطل کا شکار ہے، دوسرے پر آمدورفت خطرات کے باوجود جاری ہے۔

راستہ کھلا ہونا اور راستے پر اعتماد ہونا بھی الگ کیفیتیں ہیں۔ سمندر میں جہاز گزر رہا ہو، مگر اس کے مالک، عملے اور بیمہ کنندہ کو اگلے حملے کا اندیشہ ہو تو تجارت معمول پر نہیں ہوتی۔ جنگ کبھی راستہ روک کر نقصان پہنچاتی ہے، کبھی راستے کو اتنا غیر یقینی بنا کر کہ اس سے گزرنا مہنگا پڑنے لگے۔

ہرمز خلیج سے خلیج عمان اور آگے بحیرۂ عرب کی جانب نکلنے کی گزرگاہ ہے۔ سعودی عرب کی مشرق مغرب پائپ لائن مشرقی تیل کو ینبع پہنچاتی ہے، جو خود بحیرۂ احمر پر واقع ہے۔ یوں ہرمز سے گزرے بغیر تیل مغربی ساحل تک آسکتا ہے۔ لیکن ینبع سے پاکستان کی سمت معمول کے مختصر بحری راستے میں باب المندب، خلیج عدن اور پھر بحیرۂ عرب آتے ہیں۔ یورپ کی طرف نہر سویز کا راستہ الگ ہے۔

یہی باب المندب کا اصل معاشی سیاق ہے۔ ہرمز کی رکاوٹ کے مقابل جس متبادل سے امید باندھی جائے، اس کی پائپ لائن، بندرگاہ یا جنوبی سمندری گزرگاہ کو خطرہ لاحق ہوجائے تو تحفظ کی دوسری تدبیر بھی دباؤ میں آجاتی ہے۔ مسئلہ کسی آبنائے کا نام دہرانے سے نہیں سمجھ آتا؛ دیکھنا پڑتا ہے کہ تیل کہاں سے نکلتا، کس راستے سے گزرتا اور کس منڈی تک پہنچتا ہے۔

سعودی عرب پر حالیہ حملوں کو بھی اسی وضاحت سے پڑھنا چاہیے۔ 16 ستمبر 2026 کو سعودی قیادت والے اتحاد نے بتایا کہ گزشتہ شام مکہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کردیا گیا۔ اتحاد نے اسے مکہ کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا۔ حوثی نمائندوں نے مکہ اور مقدس مقامات کو ہدف بنانے کی تردید کی۔

ان کا مؤقف یہ نہیں تھا کہ مقدس مقام پر حملہ ہوگیا مگر ارادہ نہیں تھا؛ انہوں نے اس ہدف کی نسبت ہی مسترد کی۔ دونوں بیانات درج کرنا ضروری ہے۔ مقدس شہر کو ہدف بنانے کے مخصوص دعوے کی آزادانہ تصدیق کے بغیر فیصلہ سنانا درست نہیں، اور تردید کو تمام سعودی اہداف پر حملوں سے بریت سمجھ لینا بھی درست نہیں۔

حرمین کی حرمت ہمارے ایمان اور احساس کا حصہ ہے۔ اس نسبت کا تقاضا سنجیدگی ہے، خبر میں اضافہ نہیں۔ کسی شہری آبادی پر حملے کی سنگینی اپنی جگہ قائم رہتی ہے؛ اسے قابلِ مذمت بنانے کے لیے غیرمصدقہ تفصیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔

سعودی مشرق مغرب پائپ لائن پر حملہ الگ واقعہ ہے۔ سعودی حکام نے اس کی نسبت عراق میں موجود ایران نواز گروہ سے کی، جبکہ 17 ستمبر کی رپورٹ میں متعدد پمپنگ اسٹیشنوں کو نقصان کی اطلاع سامنے آئی۔ اسے بھی حوثی حملہ کہہ دینا مختلف محاذوں کو ایک کردے گا۔ ایک ہی خطے کی خبریں لازماً ایک ہی حملہ آور کی کارروائیاں نہیں ہوتیں۔

ایرانی کردار پر بھی صاف بات ہونی چاہیے۔ حوثیوں کی عسکری قوت کے ساتھ ایرانی معاونت کا تعلق معتبر رپورٹنگ میں سامنے آتا رہا ہے۔ اس معاونت کے باوجود ہر حوثی فیصلہ براہِ راست تہران کا حکم قرار دینا الگ ثبوت چاہتا ہے؛ لیکن اس احتیاط کے پیچھے ایران کی علاقائی ذمہ داری چھپائی بھی نہیں جاسکتی۔ اگر مسلح اتحادیوں کی صلاحیت بڑھتی رہے اور پڑوسیوں کی تجارت غیرمحفوظ ہوتی جائے تو صرف یکجہتی کے بیانات کافی نہیں رہتے۔

میری نظر میں ایران سے یہ سوال بالکل جائز ہے کہ وہ اپنے اثرورسوخ کو کشیدگی کم کرنے میں کتنا استعمال کررہا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں پر اعتراض اپنی جگہ، مگر سمندری تجارت کو دباؤ کا ذریعہ بنانے کی قیمت صرف واشنگٹن ادا نہیں کرتا۔ پاکستان سمیت وہ معیشتیں بھی متاثر ہوتی ہیں جو اس جنگ کی فریق نہیں۔

یہی اصول امریکا پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ فوجی دباؤ، پابندیوں اور ناکہ بندی کے نتائج کو امن کی خواہش کے ایک بیان سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر پالیسی خطے کو مزید عسکری ردعمل کی طرف دھکیل رہی ہو تو اس کے معاشی نتائج بھی پالیسی کے حساب میں آنے چاہییں۔ طاقت کے پاس اپنے اقدام کا جواز ہوسکتا ہے؛ اس جواز سے دوسروں کا نقصان غائب نہیں ہوجاتا۔

یمن کے تنازع کی مقامی جڑیں بھی یاد رکھنا ضروری ہیں۔ 1990ء کی دہائی میں ابھرنے والی حوثی تحریک، 2004 کی مسلح بغاوت، 2014 میں صنعاء پر قبضہ اور 2015 کی سعودی مداخلت ایک طویل سیاسی بگاڑ کے مختلف مرحلے ہیں۔ محرومی، اقتدار کی کشمکش اور بیرونی معاونت نے مل کر اسے پیچیدہ بنایا۔ اس تاریخ میں کسی ایک فریق کو مکمل معصوم لکھنا ممکن نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے اہلِ یمن کی نرم دلی اور حکمت کی فضیلت بیان فرمائی۔ اس نسبت کا احترام اپنی جگہ، آج کے مسلح گروہوں کی سیاسی جواب دہی اپنی جگہ ہے۔ حدیث کسی تنظیم کے ہر اقدام کی توثیق نہیں بنتی۔ اسی طرح کسی تنظیم پر تنقید پوری یمنی قوم کے خلاف فیصلہ نہیں ہونی چاہیے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ذمہ داری عمل اور عامل کے مطابق متعین ہو۔

شام بھی ہمیں خارجہ سہاروں کی حدود سمجھاتا ہے۔ روس نے 2015 میں بشار الاسد کی حکومت کے لیے براہِ راست فوجی مداخلت کی، مگر دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد اسد ماسکو چلے گئے۔ میں اس واقعے کو یاد رکھتی ہوں، کیونکہ علاقائی سیاست میں مستقل تحفظ کے وعدے اکثر داخلی کمزوری کے سامنے محدود ثابت ہوتے ہیں۔ بیرونی دوست اہم ہوسکتا ہے، شہری اعتماد کا بدل نہیں۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا دفاعی تعاون اسی لیے جذباتی نعرے سے آگے جانچنے کی ضرورت ہے۔ اگست 2026 کے معاہدے کے بعد مشترکہ مشقوں اور دفاعی صنعت میں تعاون کے منصوبے سامنے آئے۔ ان کی قدر اس وقت بڑھے گی جب واضح ذمہ داریاں، عملی صلاحیت اور بحران کو پھیلنے سے روکنے کی حکمت بھی ساتھ ہوگی۔

میں سمجھتی ہوں کہ ان ممالک کی زیادہ خودمختار اور مربوط پالیسی بڑی طاقتوں کے اثرورسوخ کی حدود بدل سکتی ہے۔ مگر اسے امریکی خوف کی ثابت شدہ خبر بنانا تجزیے سے آگے چھلانگ ہوگی۔ ہمیں اپنے تعاون کی کامیابی کا معیار یہ رکھنا چاہیے کہ اس سے سلامتی، فیصلہ سازی کی آزادی اور معاشی استحکام میں کیا اضافہ ہوتا ہے۔

پاکستان کے لیے فوری مفاد ہرمز کی محفوظ آمدورفت، سعودی توانائی تنصیبات کے تحفظ اور باب المندب میں جاری تجارت کو مزید تعطل سے بچانے میں ہے۔ ان مقاصد کے لیے ایران سے گفتگو، سعودی عرب سے تعاون اور متعلقہ طاقتوں پر سفارتی دباؤ ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے۔ دوستی کا مطلب دوست کی ہر تدبیر پر خاموشی بھی نہیں؛ کبھی خیرخواہی مزید تصادم سے روکنے میں ہوتی ہے۔

ساتھ ہی حکومت کو مقامی حساب بھی کھولنا ہوگا۔ عالمی تیل کی قیمت، جہاز رانی کا خرچ، شرحِ مبادلہ اور ملکی ٹیکس الگ عوامل ہیں۔ شہری کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے بل میں اضافہ کہاں سے آیا۔ بیرونی بحران حقیقی ہو تب بھی داخلی فیصلوں کی جواب دہی ختم نہیں ہوتی۔ جنگ کا حوالہ ہر معاشی سوال کا مستقل جواب نہیں بن سکتا۔

میرا مؤقف کسی دارالحکومت کی وکالت نہیں، اپنے ملک کے مفاد کی ترجمانی ہے۔ ہم حرمین کی سلامتی پر فکرمند رہیں، ایرانی مداخلت پر سوال اٹھائیں، امریکی دباؤ کے نتائج دیکھیں اور حوثی حملوں کی جواب دہی مانگیں۔ ہر مقام پر معیار ایک رہے: شہری کی حفاظت، ریاستوں کی سلامتی اور تجارت کے محفوظ راستے۔

ہرمز میں معمول کی جہاز رانی بحال ہونی چاہیے، بحیرۂ احمر کی جاری آمدورفت محفوظ رہنی چاہیے، اور باب المندب کو اگلی معاشی گرفت میں تبدیل ہونے سے بچانا چاہیے۔ سمندر کسی ایک فریق کی فتح کا راستہ بنے یا نہ بنے، کروڑوں انسانوں کے رزق کا راستہ ضرور ہے۔ اسے کھلا رکھنا صرف بحری ضرورت نہیں، سیاسی بصیرت کا امتحان ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں