(قرامطہ کی ہولناک بدمعاشی ۔۔ اور حوثی باغیوں کے عزائم۔۔۔ )
تاریخی حقائق انسان کے سامنے وہ آئینے رکھتے ہیں جن سے نظر چرانا ممکن نہیں ہوتا۔ 317 ہجری (930 عیسوی) کا واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک ایسا تاریک باب ہے جس کا تصور ہی دل دہلا دیتا ہے۔ اس دور میں عباسی خلافت کا پرچم دنیا کے تین بڑے براعظموں،ایشیا، افریقہ اور یورپ (اندلس)پر لہرا رہا تھا اور مسلمان دنیا کی واحد اور حتمی سپر پاور تھے۔ کروڑوں کی آبادی، عظیم الشان افواج اور بے حساب وسائل کے باوجود، ایک چھوٹے سے سرکش اور باغی گروہ نے پوری اسلامی دنیا کو نصرت اور طاقت کے باوجود مفلوج کر کے رکھ دیا۔
قرامطہ کے ظالم سردار ابو طاہر الجنابی نے حج کے ایام میں مکہ مکرمہ پر اچانک حملہ کر دیا۔ کعبۃ اللہ کے صحن میں طواف کرتے اور عبادت میں مشغول ہزاروں بے گناہ حاجیوں کا بے دردی سے قتل عام کیا گیا۔ تاریخی روایت کے مطابق چاہِ زمزم کو شہداء کے جسدِ خاکی سے بھر دیا گیا اور ابو طاہر نے کعبہ کے مقدس غلاف کو پھاڑ کر اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔ اس نے کعبۃ اللہ کی دیوار سے ہجرِ اسود کو لوہے کے گرزوں سے اکھاڑ لیا، جس سے اس مقدس پتھر کے ٹکڑے ہو گئے۔ اس نے اس وقت تکبر سے کہا: “میں اللہ کے حکم سے پیدا ہوا ہوں اور اسی کے حکم سے خبیثوں کا خاتمہ کر رہا ہوں!”
ابو طاہر اس مقدس پتھر کو اپنے مرکز الاحساء لے گیا۔ یہ امتِ مسلمہ کے لیے عجز اور رسوائی کا وہ مقام تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت ہونے کے باوجود مسلمان 22 سال تک ہجرِ اسود کو واپس نہ لا سکے۔ عباسی خلفاء نے 50,000 سونے کے دینار کی پیشکش کی، منتیں اور سفارتی التجا کی، لیکن قرامطہ نے ہر بات کو ٹھکرا دیا۔ بالآخر 22 سال بعد 952 عیسوی میں فاطمی حکومت کے سخت فوجی دباؤ اور تباہی کی دھمکی کے بعد انہوں نے اس کے ٹکڑے واپس کیے۔ کوفہ کی جامع مسجد میں علماء نے جب اس پتھر کو پانی اور آگ پر رکھ کر آزما لیا تو اس کی اصلیت ثابت ہوئی اور اسے دوبارہ کعبہ میں نصب کیا گیا۔
یہ سلسلہ صرف دسویں صدی تک محدود نہ رہا۔ نجی و سیاسی عزائم اور مذہبی جنون کے نام پر کعبۃ اللہ کی حرمت کو تار تار کرنے کی کوششیں جدید دور میں بھی سامنے آئیں۔ نومبر 1979ء میں جوہیمان العتیبی کے تندرو گروہ نے کعبۃ اللہ پر مسلح حملہ کر کے دو ہفتوں تک بیت اللہ کو یرغمال بنائے رکھا اور صحنِ کعبہ کو خون سے نہلا دیا، جسے بعد ازاں پاکستانی کمانڈوز اور سعودی فورسز نے گیس اور سخت حکمتِ عملی کے بعد آزاد کرایا۔ اسی طرح 1987ء میں انقلابی نظریات کے تحت ایرانی حجاج کی سیاسی شورش نے بھی یہ ثابت کیا کہ کعبۃ اللہ کی حرمت کو ہمیشہ اندرونی فتنوں اور مسلمانوں کا نام لیوا سرکشوں نے ہی نقصان پہنچایا۔
آج جب ہم یمن کے حوثی جنگجوؤں کے عسکری رویوں، مکہ اور جدہ کی جانب میزائل حملوں اور خطے میں بڑھتے ہوئے جارحانہ اثرات کو دیکھتے ہیں، تو یوں لگتا ہے کہ اب اگلی باری حوثیوں کی ہے۔ حوثی جس بے باکی کے ساتھ حرمین شریفین کے قریبی علاقوں اور اہم راستوں پر اپنے اثرات قائم کر رہے ہیں، اس سے امتِ مسلمہ کا دفاعی اور فکری جمود کھل کر سامنے آتا ہے۔ مسلمان آج بھی تمام تر جدید ہتھیاروں اور اربوں کی افواج کے باوجود سیاسی تفرقے کی وجہ سے خاموش اور معذور تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
یہی بے حسی انسان کو اس نبوی فرمان کی طرف متوجہ کرتی ہے:
نبی کریمﷺ نے فرمایا:
“کعبہ کو باریک اور ٹیڑھی ٹانگوں والا حبشی شخص (ذو السویقتین) خراب اور مسمار کرے گا۔”
موجودہ حالات اور امت کے فکری زوال کو دیکھ کر دل دہل جاتا ہے اور یہ سوال ذہن میں کھڑا ہوتا ہے کہ کہیں ہم اسی نازک اور ہولناک وقت کے قریب تو نہیں پہنچ رہے؟
تاریخ گواہ ہے کہ حجاج بن یوسف کی سنگ باری، ابو طاہر الجنابی کی غارت گری، 1979ء کے دہشتگردوں کے محاصرے اور قتل عام یا 1987ء کے مظاہروں تک، کعبۃ اللہ کو ہمیشہ اندرونی فتنوں سے ہی چوٹ پہنچی۔ آج یمن کے حوثی اور ان کے پیچھے کھڑی ایرانی پشت پناہی اسی تاریخی تسلسل کی ایک بدنما کڑی ہیں۔ یہ گروہ غزہ اور فلسطین کی مظلومیت کو اپنے سیاسی غلبے کے لیے آلہ کار بنا رہا ہے اور پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ ایسے متعصب عناصر سے کسی خیر کی توقع رکھنا خود فریب ہے۔ قبل اس کے کہ تاریخ کا کوئی دردناک باب پھر دہرا دیا جائے، ان فتنہ پرور عناصر کا تدارک انتہائی سخت اور آہنی ہاتھوں سے کرنا ہی حرمین شریفین اور امّت کے وجود کی واحد ضمانت ہے۔


