میں کافی زیادہ نہیں پیتا- لیکن جب جب میں کافی پینے بیٹھتا ہوں تو مجھے اکثر معلوم نہیں ہوتا کہ میں کافی پینے بیٹھا ہوں یا اپنے آپ سے ملنے۔ کپ سامنے رکھا ہوتا ہے۔ بھاپ کی ایک باریک سی لکیر اوپر اٹھتی ہے، تھوڑی دیر ٹھہرتی ہے اور پھر غائب ہو جاتی ہے۔ عجیب بات ہے، بھاپ تو غائب ہو جاتی ہے، خوشبو نہیں جاتی۔ وہ کچھ دیر تک کمرے میں رہتی ہے؛ کسی پرانی یاد کی طرح جس کا کوئی واضح چہرہ نہیں ہوتا، مگر موجودگی کا یقین رہتا ہے۔
میں کپ اٹھاتا ہوں۔ پہلا گھونٹ اور بس۔۔۔میں یہاں نہیں رہتا۔ میرا کمرہ پیچھے رہ جاتا ہے، میز، کمپیوٹر کی روشن اسکرین، فون، باہر گزرتی ہوئی گاڑیوں کی آواز، سب کچھ کہیں دور غائب ہو جاتا ہے۔ جبکہ میں کسی اور جگہ پہنچ جاتا ہوں۔ پتا نہیں یہ کیا معاملہ ہے- میرے لیے کافی صرف ذائقہ نہیں، وقت کا کوئی پرانا دروازہ ہے۔ کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے کہ کافی کی اصل کہانی اس وقت شروع نہیں ہوئی جب کسی نے پہلی بار اسے پیالی میں انڈیلا تھا- اصل کہانی تو اس وقت شروع ہوئی جب چند آدمیوں نے ایک جگہ بیٹھ کر اسے پینا شروع کیا۔
میں تصور کرتا ہوں یمن کی کوئی رات ہوگی۔ پہاڑوں کے درمیان خاموشی پھیلی ہوگی۔ کسی کمرے میں چراغ جل رہا ہوگا۔ چند صوفی، طالب علم یا مسافر بیٹھے ہوں گے۔ نیند اپنی پوری طاقت کے ساتھ ان کی آنکھوں پر اتر رہی ہوگی اور ان کے درمیان ایک ایسا مشروب پڑا ہوگا جو انہیں کچھ دیر اور جگائے رکھ سکتا ہے۔ کتنی معمولی بات ہے۔ لیکن تہذیبیں ایسے ہی معمولی لمحوں سے بنتی ہیں۔
کافی کی ابتدا کے بارے میں جتنی کہانیاں ہیں، ان میں حقیقت سے زیادہ حسن ہے۔ ایتھوپیا کا چرواہا کالدی، سرخ دانے؛ پھر یمن کے صوفی، جمال الدین الذہبانی کی روایت، رات کی عبادت اور بیداری۔ میں نہیں جانتا ان میں سے کتنا واقعہ ہے اور کتنا حافظے نے وقت کے ساتھ اسے کہانی بنا دیا ہے۔ مگر مجھے اس سے زیادہ فرق بھی نہیں پڑتا۔ کسی چیز کی تاریخ اس کے واقعات سے زیادہ اس کے بارے میں بنائی گئی کہانیوں میں محفوظ رہتی ہے۔ اور کافی کے بارے میں انسان نے بہت کہانیاں بنائی ہیں۔ اس لیے کہ یہ مشروب شروع ہی سے تنہائی کا مشروب نہیں تھا۔ یہ لوگوں کے درمیان پیدا ہوئی۔ میں سوچتا ہوں، اگر کافی واقعی اتنی معمولی چیز تھی تو اس کے حلال و حرام پر اتنی بحث کیوں ہوئی تھی؟
دسویں صدی ہجری کے عالم عبداللہ الجزائری کی کتاب “عمدة الصفوة في حل القهوة” کھولتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے ایک پیالی کافی اچانک فقہ کا مسئلہ بن گیا ہو۔ علماء، فقہا، اطبا، صوفیا، سب اس کے گرد جمع ہیں۔ کوئی اس کے اثرات پر غور کر رہا ہے، کوئی اس کی اباحت پر، کوئی اس کی بیدار رکھنے والی خاصیت پر۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں، آخر ایک پیالی میں ایسا کیا تھا کہ اہلِ علم کو اس پر اتنا غور کرنا پڑا؟ پھر خیال آتا ہے، شاید مسئلہ پیالی میں نہیں تھا- مسئلہ اس مجلس میں تھا جو پیالی کے گرد بن رہی تھی۔
الجزائری کی روایت میں 917 ہجری کے قریب مکہ میں کافی کے گرد جو ہنگامہ اٹھا، وہ بھی مجھے اسی لیے دلچسپ لگتا ہے۔ لوگ مسجد الحرام کے قریب بیٹھ کر کافی پی رہے تھے۔ معاملہ حکام تک پہنچا۔ سوال اٹھا کہ یہ مشروب کیا ہے، اس کا اثر کیا ہے، اسے پینا جائز ہے یا نہیں۔ کچھ عرصے کے لیے کافی پر پابندی کی بات ہوئی، مجالس بند کرانے کی کوشش ہوئی، پھر معاملہ قاہرہ کے علما تک گیا اور کافی کے جواز کی رائے غالب آئی۔ میں جب یہ سب پڑھتا ہوں تو مجھے بار بار وہی منظر دکھائی دیتا ہے۔
کچھ لوگ بیٹھے ہیں۔ درمیان میں کافی ہے۔ اور باہر کی دنیا اس بات پر بحث کر رہی ہے کہ یہ لوگ آخر بیٹھے کیوں ہیں۔
یہیں سے الجزائری کی کتاب میں کافی کے حق میں کہے گئے اشعار میرا دل لبھانے لگتے ہیں ۔
یا قَهْوَةً تَذْهَبُ هَمَّ الْفَتَى
أَنْتِ لِحَاوِي الْعِلْمِ نِعْمَ الْمُرَادُ
شَرَابُ أَهْلِ اللهِ فِيهَا الشِّفَا
لِطَالِبِ الْحِكْمَةِ بَيْنَ الْعِبَادِ
نَطْبُخُهَا قِشْراً فَتَأْتِي لَنَا
فِي نَكْهَةٍ تُطْرِدُ النَّوْمَ عَنَّا
کسی نے اسے اہلِ علم کا مشروب کہا، کسی نے نیند اور غم دور کرنے والی چیز۔ کسی نے اس کی سیاہی کو روشنائی سے تشبیہ دی۔
سَوَادُهَا فِي الْعَيْنِ نُورُ الْهُدَى
تُشْبِهُ سَوَادَ الْحِبْرِ لِلْكُتُّابِ
تُنَشِّطُ الْجِسْمَ عَلَى طَاعَةٍ
وَتَطْرُدُ الْغَفْلَةَ وَالأَوْصَابِ
انسان ہمیشہ سے ایسے مشروب کی تلاش میں رہا ہے جو اسے کچھ دیر کے لیے اپنے معمول سے نکال دے۔
میں کافی کا ایک اور گھونٹ بھرتا ہوں۔ اب مجھے وہ حلقہ دکھائی دیتا ہے۔ لوگ دائرے میں بیٹھے ہیں۔ درمیان میں مٹی کا بڑا برتن ہے۔ ایک شخص پیالہ بھرتا ہے اور دوسرے کی طرف بڑھا دیتا ہے۔ مجھے لگتا ہے، انسان جہاں بھی کسی چیز کو پینے کے لیے بیٹھتا ہے، جلد یا بدیر وہاں بات شروع ہو جاتی ہے۔ پانی کے چشمے پر بھی۔ چائے کے تھڑے پر بھی- اور کافی کے پیالے کے گرد بھی۔
پھر کافی کے ساتھ میں حلب پہنچتا ہوں- یہاں مجھے لیونہارڈ راوولف کا سفرنامہ یاد آتا ہے- ایک اجنبی یورپی مسافر حلب میں ہے اور دیکھ رہا ہے کہ لوگ ایک سیاہ اور گرم مشروب پی رہے ہیں۔ قالینوں یا چٹائیوں پر بیٹھے ہوئے۔ باتیں کرتے ہوئے۔ پیالے آ جا رہے ہیں۔ کوئی جلدی نہیں۔
وہ ایک ایسے مشروب کو دیکھ رہا ہے جس سے اس کی اپنی تہذیب ابھی پوری طرح واقف نہیں۔ اور میں، چار پانچ صدیاں بعد، ایک اور کپ کافی کے سامنے بیٹھا اس آدمی کی آنکھ سے ان لوگوں کو دیکھ رہا ہوں۔ کیا عجیب سفر ہے ایک پیالی کا۔ ایک آدمی اسے دیکھتا ہے۔ پھر وہ منظر کتاب میں لکھ دیتا ہے۔ صدیوں بعد کوئی دوسرا آدمی وہ کتاب پڑھتا ہے۔ اور کافی کا ایک گھونٹ اسے پھر اسی مجلس میں پہنچا دیتا ہے۔ کتابیں بھی کافی کی طرح ہوتی ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ کتابیں آدمی کو وقت کے اندر لے جاتی ہیں اور کافی کبھی کبھی وقت کے باہر۔
راوولف کے بیان میں مجھے سب سے زیادہ وہ لوگ یاد رہتے ہیں جو بیٹھے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی جلدی، نہ کوئی اسکرین، نہ کوئی نوٹیفکیشن۔ صرف لوگ۔ میں اپنے سامنے پڑے فون کو دیکھتا ہوں۔ کتنی عجیب بات ہے۔ ہم نے ایک دوسرے تک پہنچنے کے راستے آسان کر دیے ہیں، مگر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنا شاید اتنا آسان نہیں رہا۔ پیغام پہنچ جاتا ہے، آدمی نہیں۔ تصویر پہنچ جاتی ہے، موجودگی نہیں۔ آواز پہنچ جاتی ہے، خاموشی نہیں۔ اور شاید کافی ہاؤس کی اصل چیز یہی خاموشی تھی۔ وہاں آدمی صرف بات کرنے نہیں جاتا تھا؛ دوسرے آدمی کے ساتھ وقت گزارنے جاتا تھا۔
حلب سے اب کافی لندن پہنچتی ہے۔ سترھویں صدی کے کافی ہاؤس ایک عجیب سی دنیا لگتے ہیں۔ وہاں کوئی تاجر بیٹھا ہے، کوئی شاعر، کوئی سیاست پر بحث کر رہا ہے، کوئی کتاب پڑھ رہا ہے، کوئی خبر سنا رہا ہے۔ دنیا بھر سے آنے والی خبریں ایک چھوٹی سی جگہ میں جمع ہو رہی ہیں۔ کافی اور کافی خانے کی اہمیت پر طرح طرح کے اشتہارات لگ رہے ہیں-
“You that delight in Wit and Mirth, and long to hear such News,
As comes from all parts of the Earth, Dutch, Danes, and Turks and Jews,
I’ll send you a Rendezvous, where it is smoaking new:
Go hear it at a Coffee-house—it cannot but be true…
There’s nothing done in all the World, From Monarch to the Mouse,
But every Day or Night ’tis hurl’d into the Coffee-house.”
میں سوچ رہا ہوں، انٹرنیٹ سے بہت پہلے بھی دنیا کا ایک نیٹ ورک تھا۔ مگر اس نیٹ ورک میں پروفائل نہیں تھے، چہرے تھے۔ لنکس نہیں تھے، لوگ تھے۔ فارورڈ شدہ پیغامات نہیں تھے، کسی کی اپنی زبان میں سنائی ہوئی خبر تھی۔ اور جھوٹ بھی شاید اسی طرح سفر کرتا تھا جیسے سچ ایک آدمی سے دوسرے آدمی تک- کافی ہاؤس میں خبر صرف پہنچتی نہیں تھی، اس پر بحث بھی ہوتی تھی۔ اسے قبول کیا جاتا، رد کیا جاتا، بڑھایا جاتا اور اس میں قصہ شامل ہو جاتا۔ شاید اسی لیے کافی ہاؤس صرف خبر کی جگہ نہیں تھا۔ وہ کوئی مخصوص بیانیہ بننے کی جگہ بھی تھا۔
جم جارموش کی Coffee and Cigarettes یاد آتی ہے۔ لوگ بیٹھے ہیں۔ کافی ہے۔ سگریٹ ہے۔ گفتگو ہے۔ بظاہر کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ لیکن مجھے لگتا ہے، یہی تو زندگی ہے۔ ہر ملاقات کسی نتیجے کے لیے نہیں ہوتی۔ ہر بات کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ بعض مکالمے اس لیے کیے جاتے ہیں کہ آدمی کسی دوسرے آدمی کے ساتھ چند لمحے گزار سکے۔ کبھی کبھی بے معنی گفتگو بھی معنی رکھتی ہے۔ کیونکہ اس میں کم از کم دو آدمی ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ موجود ہوتے ہیں۔
میں پھر اپنے کپ کی طرف دیکھتا ہوں۔ کافی آدھی رہ گئی ہے۔ اور مجھے اچانک خیال آتا ہے کہ شاید کافی کی پوری تاریخ دراصل ایک ہی کہانی ہے۔ یمن میں چند لوگ بیٹھے تھے۔۔۔مکہ میں لوگ بیٹھے تھے۔۔۔حلب میں لوگ بیٹھے تھے۔۔۔لندن میں لوگ بیٹھے تھے۔۔۔جارموش کی فلم میں لوگ بیٹھے ہیں۔۔۔اور میں بھی بیٹھا ہوں۔ صدیاں بدل گئیں، زبانیں بدل گئیں، کپ بدل گئے، کافی بنانے کے طریقے بدل گئے۔ مگر آدمی کا بیٹھنا نہیں بدلا۔ ہم سب کسی نہ کسی شکل میں ایک ہی چیز چاہتے ہیں، کوئی ہمارے سامنے بیٹھا ہو۔ ہم کچھ کہیں، وہ سنے۔ وہ کچھ کہے، ہم سنیں۔ یا کبھی دونوں خاموش رہیں۔
میں آخری گھونٹ کے قریب پہنچ چکا ہوں۔ یہ ہمیشہ مجھے کچھ اداس کرتا ہے۔ پتا نہیں کیوں۔ شاید اس لیے کہ آخری گھونٹ کے ساتھ ایک چھوٹی سی دنیا ختم ہو جاتی ہے۔ میں کپ کو ہونٹوں تک لے جاتا ہوں۔ آخری گھونٹ بھرا اور اچانک میں واپس اپنے کمرے میں آ گیا ہوں۔ فون وہیں ہے۔ کمپیوٹر کی اسکرین ابھی بھی روشن ہے- دنیا نے میرے غائب ہونے کا نوٹس تک نہیں لیا۔ پیغامات اپنی جگہ پڑے ہیں۔ وقت، جس سے میں چند لمحوں کے لیے نکل گیا تھا، میرے واپس آنے کا انتظار کیے بغیر آگے بڑھ چکا ہے۔
میں خالی کپ کو دیکھتا ہوں۔ اور سوچ رہا ہوں کہ کافی کا کمال یہ نہیں کہ وہ ہمیں جگاتی ہے۔ اس کا کمال یہ ہے کہ وہ کچھ دیر کے لیے ہمیں ہماری روزمرہ بیداری سے آزاد کر دیتی ہے۔ پہلا گھونٹ مجھے مجھ سے دور لے گیا تھا۔ آخری گھونٹ مجھے واپس لے آیا ہے۔
————————————————————-
ترجمہ:
1- اے کافی! تو انسان کا غم دور کرتی ہے، علم حاصل کرنے والوں کے لیے تو بہترین مقصد ہے۔ یہ اللہ کے نیک بندوں (صوفیاء) کا مشروب ہے جس میں دانائی و حکمت کی تلاش کرنے والوں کے لیے شفا ہے۔ ہم اس کے چھلکے کو پکاتے ہیں تو یہ ایک ایسی خوشبو اور ذائقے کے ساتھ تیار ہوتی ہے جو ہم سے نیند اور سستی کو دور کر دیتی ہے۔
2- اس کی سیاہی آنکھوں میں ہدایت کا نور ہے، یہ اہل قلم اور علمائے کرام کی سیاہی (روشنی) سے مشابہت رکھتی ہے۔ یہ طاعت و عبادت کے لیے جسم کو چست کرتی ہے اور غفلت و تھکن کو دور بھگاتی ہے۔
3- تم لوگو! جو ظرافت اور خوش طبعی سے لطف اندوز ہوتے ہو،
اور ایسی خبریں سننے کے مشتاق رہتے ہو
جو روئے زمین کے ہر گوشے سے آتی ہیں،
ڈچ سے، ڈینش سے، ترکوں سے اور یہودیوں سے،
میں تمہیں ایک ایسی جگہ کا پتا دیتا ہوں
جہاں تازہ ترین خبریں دھواں دیتی پہنچی ہوتی ہیں۔
جاؤ، کسی کافی ہاؤس میں جا کر سنو،
وہاں جو کچھ سنو گے، جھوٹا ہو ہی نہیں سکتا!
دنیا میں کہیں بھی کچھ واقع ہو،
بادشاہ سے لے کر چوہے تک۔۔۔
کوئی بات ایسی نہیں
جو دن ہو یا رات،
بالآخر اچھلتی کودتی کافی ہاؤس میں نہ پہنچ جائے۔


