چند دن پہلے ڈاکٹر ریاض ہمدانی ، ڈائریکٹر ،ساہیوال آرٹس کونسل کی دعوت پر ساہیوال جانے کا اتفاق ہوا۔
وہ ہر سال ، کسی اہم موضوع پر کانفرنس منعقد کرتے ہیں۔ اس بار کانفرنس کا موضوع: ماحولیات، ثقافت اور ادب تھا۔ میں،عزیز دوست ڈاکٹر اورنگ زیب نیاز ی کے ہمراہ ،ایک رات پہلے ساہیوال پہنچا۔
رات کے کھانے سے پہلے، غیر رسمی گفتگو میں شہر سے مکالمے کا ذکر چھڑا۔
میں نے کہا کہ ہر شہر کا اپنا مزاج ہوتا ہے، جو وہاں کے لوگوں ، ان کے لباس ،کھانوں ، نشست وبرخاست سے لے کر،ان کی مجلسی ، ذہنی اور تخیلی زندگی سے وجود میں آتا ہے،اور یہ مزاج وہاں کے فطری ماحول کے علاوہ ، وہاں کی گلی کوچوں، عبادت گاہوں، بازاروں ، خانقاہوں،ہوٹلوں، کلبوں ، چائے خانوں ، کتب خانوں، تعلیمی اداروں،تفریح گاہوں، ہر طرح کی عمارتوں ، شاہراہوں ، اور ان کے سلسلے میں لوگوں کے طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔
شہر سے مکالمہ تب مکمل ہوتا ہے، جب لوگوں کے علاوہ ، ان سب جگہوں سے بھی بات کی جائے؛ ان کے قہقہوں،چیخوں ، سرگوشیوں سے لے کر،ان کی خاموشی، اداسی ،ویرانی کوبھی دیکھا، سنا اور سمجھا جائے۔
تبھی اچانک سٹیڈیم ہوٹل کا خیال آیا۔اس سے پہلے کئی بار ساہیوال آچکا تھا ،مگر اس جگہ سے مکالمے کی خواہش پوری نہ ہوسکی۔ اس بار یہ خواہش پوری ہوئی مگر….
ساہیوال میں مجید امجد کا تصور ، سٹیڈیم ہوٹل کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔یہ ہوٹل،مجید امجد کی سوانح کا ایک باب ہے۔ بڑے لوگوں کی سوانح کا حصہ بننے والی ہر شے، ابدی حیات پاجاتی ہے۔
ساہیوال کے درجنوں ہوٹلوں میں سے، اس عام سے ہوٹل کو ، مجید امجد سے نسبت کے سبب، ہمیشگی نصیب ہوئی ہے۔کل یہ مٹ بھی جائے تو مجید امجد کی کتابِ زندگی میں باقی رہے گا۔
مجید امجد ۱۹۵۰ کی دہائی کے بالکل اوائل میں ساہیوال آئے اور یہیں کے ہورہے۔ وہ دفتر کے بعد اپنا کچھ وقت بزم فکر وادب کی لائبریری میں، پھر سٹیڈیم ہوٹل پہنچتے؛ یہیں کہیں اپنی سائیکل کھڑی کرتے ، صادق جوگی سے سلام دعا کرتے اور ایک کونے میں بیٹھ جاتے۔
شروع میں وہ کیفے ڈی روز جایا کرتے تھے۔ تاہم ساہیوال میں جن دو ایک جگہوں نے،ان کے دل میں گھر کیا تھا، ان میں ایک یہ سٹیڈیم ہوٹل بھی تھا۔ یہ چند چھوٹے چھوٹے کمروں پر مشتمل، سادہ سا ہوٹل تھا،جو سٹیڈیم کی شاہانہ چوکور دیوار کے پہلو میں سمٹا سکڑا دکھائی دیتا تھا۔
اگرچہ یہ ایک عوامی جگہ تھی ،مگر مجید امجد کے لیے یہ ایک عجب گوشہ عافیت تھا۔ یعنی ایک ایسی پناہ گاہ تھا،جہاں وہ شہر کے شور اور گھر کی تنہائی ،دونوں سے خود کومحفوظ تصور کرتے تھے،اور دوسری طرف، ایک ایسا ’زاویہ ‘ تھا ،جہاں سے وہ دنیا کو ، دنیا سے فاصلے قائم رکھتے ہوئے دیکھ سکتے تھے۔
اپنے احباب سے ملاقات اور مکالمے کا مقام تو تھا ہی۔
یہیں ،ان کا تعارف شالاط سے ہوا۔ جس نے مجید امجد کو درد فراق اور کئی لازوال نظمیں عطا کیں۔ ایک عام سی جرمن لڑکی ( جسے امجد نے کسی اور آن میں دیکھا)،مجید امجد کی کتاب حیات و فن میں امر ہوگئی۔
اس جگہ سے گہری موانست کے سبب ہی، اس ہوٹل نے مجید امجد کے تخیل کو مہمیز کیے رکھا،اور ان سے، خود اپنے بارے میں ایک یاد گار نظم لکھوائی :’’ ایک صبح ….سٹیڈیم ہوٹل میں‘‘۔ گیارہ نومبر انیس سو اڑسٹھ کو۔
یہ ایک ایسی صبح سے متعلق نظم ہے جو سٹیڈیم ہوٹل میں طلوع ہوئی، مجید امجد کی اس نظم میں امر ہوگئی۔ ایک تپائی پر گلدان رکھا ہے، اس پرہوا کا ترچھا جھرنا گرتا ہے، جس میں دھوپ کی نازک سے جھلکی ، سونے کا رنگ بکھیر جاتی ہے( کیا غضب کا رواں دواں امیج ہے!) ۔ جب کہ باقی سب کچھ ساکت ہے۔ چار خالی کرسیوں سمیت۔
یہیں مجید امجد کو خیال آتا ہے کہ جانے ،ان کرسیوں پر کون آکے بیٹھے گا….یعنی اگلے لمحے سے لےکر اگلے زمانوں تک۔ بہ قول امجد:
سب کچھ اک آنے والے اچھے سمے کا ان ہونا پن ہے
یہ سوال کہ ’کون یہاں آکر بیٹھے گا‘ ، اسی سوال کی بازگشت لیے ہوئے ہے جو ان کی نظم ’کون دیکھے گا ‘ میں پیش ہوا ہے،اور جس میں یہ لازوال لائنیں بھی ہے:
میں روز ادھر سے گزرتا ہوں، کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گزروں گا ، کون دیکھے گا
کانفرنس کے دوسرے سیشن کے بعد، میں نیازی صاحب کے ساتھ، دوپہر کے وقت ،سٹیڈیم کے آس پاس سے گزررہاتھا، مجھے خیال آرہا تھا کہ مجید امجد کا یہ شعر ، اس جگہ سے کس قدر متعلق ہوگیا ہے ۔
جس لمحے اس سٹیڈیم ہوٹل کے خرابے پر نظر پڑی تو دل پر ایک چوٹ پڑی اور بے ساختہ منھ سے نکلا کہ مجید امجد جب اِ دھر سے گزرکر اُدھر، ابد کی دھند میں چلے گئے، کچھ نے انھیں دیکھا، اکثر نے نہیں دیکھا؛ ان لوگوں نے تو بالکل نہیں دیکھا، جو مجید امجد کی یادگاروں کو محفوظ بنانے کی استطاعت (اور شاید ذمہ داری بھی ) رکھتے تھے۔
میں نے اس عمارت پر احترام آمیز نگاہ ڈالی،مگر اس نگاہ کو دیکھنے کو کیا ملا؟ خستہ، شکستہ ، بد رنگ ہوتی، اپنے ہی بوجھ سے گرتی دیواریں؛ کوڑے اور آلائشوں کے ڈھیر۔ڈھیر ساری غفلت و کج نگاہی۔
چند لمحے رکنا محال تھا مگر میں نے اس کمرے میں جھانک کروہ جگہ تلاش کرنے کی کوشش کی، جہاں مجید امجد نے صبح کے وقت گلدان پر ، ہوا کا ترچھا جھرنا دیکھا تھا،مگر وہاں ، گریے اور نوحے کی ٹوٹی پھوٹی، گرتی پڑتی صداؤں ، بساند اور نیم تاریکی کے سوا کچھ نہیں تھا،جو خستہ دیوارو ں کی قید سے آزادی کے لیے کوشاں محسوس ہوئیں۔
کاش یہ عمار ت مکمل گرجاتی ۔میں نے دعا کی۔ تب یہاں ، ایک مکمل خالی پن ہوتا ، جس میں سے انیس سو ساٹھ کی دہائی کے سٹیڈیم ہوٹل اور اس میں براجمان مجید امجد کا تصور کرنا آسان ہوتا ۔ موجود ہ صورت میں، یہ وقت کی قوتِ فنا، زمانے کی کم نظری اور یہاں کے لوگوں کی اپنے مشاہیر کی یادگاروں سے سنگین بے پروائی اور بیگانگی کا مظہر ہے۔
غالب کہتے تھے کہ مکان کو مکیں سے شرف ہوا کرتا ہے اور مکیں ،چلے جائیں تو مکان اداس ہوتے ہیں: ’’مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے‘‘،مجید امجد چلا گیا ہے توسٹیدیم ہوٹل ، اداس ہی نہیں، گریہ کناں بھی ہے، خود اپنا سینہ پیٹتا ہے، اپنے زخم کھرچتا ہے،یہ جانتے ہوئے کہ ان زخموں کا کوئی مرہم نہیں ہوا کرتا۔ آدمیوں کی مانند، جگہوں کو بھی گہرے گھاؤ لگ جایا کرتے ہیں جو ہر ایک کو دکھائی نہیں دیتے۔
سٹیدیم ہوٹل ایک جیتی جاگتی ، آباد جگہ سے ، ایک غلاظت کدے میں بدلنے پر خود اپنی ہی ملامت کرتا ہے ،اور دیکھنے والوں کی آنکھوں میں عبرت ،وحشت اور کچھ آنسو بھردیتا ہے۔
سچ یہ ہے کہ سٹیڈیم ہوٹل، موجودہ صورت میں خود اپنا بھوت ہے جو خود ہی پر دن رات زہریلے قہقہے برساتا رہتا ہے ،اور وقفے میں بین کرتا ہے۔
شہر سے یہ مکالمہ ، دل پر ایک چٹان کی مانند ثابت ہوا ہے!


