ایرانی ہدایت کار سیاوش اسعدی کی فلم “غریزہ” کو بالآخر چار سال بعد نمائش کی اجازت مل گئی ـ سال 2021 میں بننے والی اس فلم پر جب حکومت نے پابندی لگائی تو بیشتر افراد کا یہی خیال تھا کہ یہ شاید ایک مزاحمتی تخلیق ہے ـ طویل جدوجہد کے بعد امسال اس پر سے پابندی ہٹا دی گئی مگر …… کھودا پہاڑ نکلا چوہا ـ
فلم قبل از انقلاب شاہی ایران کی کہانی ہے ـ یہ تہران کے نواح میں واقع گاؤں میں ایک وسیع مکان کے مالک رسول خان کی کہانی ہے ـ چمڑے کے کارخانے کے مالک رسول خان کی ایک جوان بیٹی اور ایک جوان بیٹا کامران (فلم کا ہیرو) ہے ـ اسی دوران ان کے گھر دو ماں بیٹی کی امد ہوتی ہے ـ جلد ہی تہران سے آئی شہری مہمان لڑکی آتیا سے کامران کو محبت ہوجاتی ہے ـ یہ محبت ابھی ابتدائی مراحل میں ہی ہوتی ہے کہ کامران کا باپ دیوار بن کر کھڑا ہوجاتا ہے اور آتیا سے خود شادی کا امیدوار بن جاتا ہے ـ نوخیز آتیا بھی اپنے مرحوم باپ کے دوست سے شادی پر رضامند ہوجاتی ہے ـ
فلم کی منظر نگاری اور پیش کش فارسی فلموں جیسی ہے یعنی اس میں ایرانیت کا عنصر تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے ـ لڑکی چھپ کر سگریٹ پیتی، کلاسیک امریکی، بھارتی اور اطالوی فلموں کے رسیا کامران کے تاریک کمرے میں جا کر اس کے ساتھ کلاسیک فلمیں دیکھتی ، اس کے سامنے کپڑے بدلنے کا ناٹک کرتی ہے ـ بظاہر لگتا ہے اسے بھی لڑکے میں دلچسپی ہے مگر درحقیقت وہ صرف اپنے عاشق کی بے قراری بڑھا کر اس سے لطف اندوز ہوتی ہے ـ دوسری جانب کامران معصوم حرکتوں سے اس کا دل جیتنے کی کوشش میں ہمیشہ شرمندہ ہوتا رہتا ہے ـ
اسکرین پلے دونوں مرکزی نوجوان کرداروں کی کردار سازی پر زیادہ توجہ نہیں دیتی ـ لڑکی اتنی لاپرواہ، فلرٹ اور بے رحم کیوں ہے؟ ـ اس سوال کا جواب نہیں ملتا ـ کامران کی بہن اور اس کا باپ اس کے ساتھ اتنا سخت رویہ کیوں رکھتے ہیں اور اس سختی کا اس کی شخصیت پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس کا سراغ بھی نہیں ملتا ـ
برستی بارش میں ڈرائیونگ کے دوران آتیا کی ماں اور کامران کے باپ کے درمیان خاموش مکالموں سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے شاید بیوہ کو اپنی بیٹی کے لیے باپ چاہیے ـ فلم آخر تک اس سسپنس کو برقرار رکھتی ہے ـ تاہم جب یہ سسپنس ختم ہوتا ہے تب بھی کوئی گہرا اثر پیدا نہیں ہوتا ـ
ممکن ہے سینسر کی وجہ سے کہانی میں اتنے جھول ہیں یا ہوسکتا ہے ہدایت کار اتنا نالائق ہے کہ کہانی کو درست طریقے سے بیان نہیں کرپایا ـ اسکرین پلے نہایت ہی ادبی انداز میں بتاتی ہے کہ آتیا کے ساتھ ریپ ہوا ہے اور وہ حاملہ ہے ـ رسول خان اپنے دوست کی عزت بچانے کے لیے اپنے پورے خاندان (بیٹا اور بیٹی سمیت متعہ کی ہوئی بیوی) کے جذبات کو داؤ پر لگا دیتا ہے ـ حالاں کہ حمل گرایا بھی جاسکتا ہے مگر پرانی ہندی فلموں کی طرح بچے کو باپ کا نام دینا زیادہ مناسب سمجھا گیا ـ بہرکیف؛ وجہ جو بھی ہو آتیا کی شوخ و چنچل شخصیت سے کسی بھی طرح نہیں لگتا کہ وہ ایک ریپ وکٹم ہے ـ
فلم کی موسیقی اور کیمرہ ورک سراہنے کے قابل ہیں مگر اسکرین پلے اور ہدایت کاری میں اتنے شگاف ہیں اسے ایک اچھی تخلیق کے زمرے میں نہیں رکھا جاسکتا ـ ایرانی سینما طویل عرصے سے منجمد ہوچکا ہے ـ وہ گزشتہ کئی سالوں سے زوال کی جانب گامزن ہے ـ “غریزہ” بھی اس زوال کی ایک کڑی لگتی ہے ـ


