ایک جنگ کے اثرات :سماج، افراد کی نفسیات، زمین، ماحول،تاریخ اور انسانی تہذیب پر کیا ہوتے ہیں؟ اس کے سلسلے میں کوئی مقتدر حکمران حقیقت پسند نہیں ہوتا جو جنگ برپا کرتا ہے۔ وہ اس ناگزیر حقیقت سے آنکھیں چراتا ہے یا سفاک ہوجاتا ہے کہ جنگ ، دوسروں اور خاص طور پر عام لوگوں کے لیے ایک دوزخ برپا کرنے کا نام ہے۔
ا س دوزخ کے بھی درجات ہوتے ہیں۔نیز یہ مرحلہ وار ظاہر ہوتا ہے،اور کئی صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔جنگ کے عروج کے دنوں میں یہ آتش وآہن وبارود ہوتا ہے۔ یہ بھسم کرتا، اور راکھ کرتا ہے۔اس کا ایندھن لوگ، شہر ، گھر ، تاریخٰی جگہیں ،درخت ،فصلیں چرند پرندہوتے ہیں ۔
اس کے بعد یہ ایک مستقل دکھ کی آتشِ رواں کی صورت لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں اور تاریخ کے اوارق میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایک جنگ، ایک پوری نسل کو ناقابلِ برداشت ، صدمے کے سپرد کردجاتی ہے ،اور یہ صدمہ کہانیوں کی صورت، اگلی نسلوں میں منتقل ہوتا ہے۔ یوں جنگ کے دوزخ کا ایندھن وہ لوگ بھی بنتے ہیں ، جو کسی جنگ سے صدیوں بعد جنم لیتے ہیں۔ وہ اس سزا کو جھیلتے ہیں، جس کے لیے انھوں نے کوئی جرم کیا ہوتا ہے ،نہ شریک جرم رہے ہوتے ہیں۔
جنگ سے زیادہ مشکل ترین حالت کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ قحط اور آفات بھی نہیں۔ فطرت بھی تباہ کن ہوسکتی ہے،مگر وہ صرف باہر کی معلوم دنیا میں تباہی لاتی ہے،اور اس کا عمل یکساں اور اس کا ہدف قطعی واضح ہوا کرتا ہے۔ جنگ معلوم اور نامعلوم ….یعنی انسانی ذہن ودل وروح وتخیل وتاریخ و ثقافت ہر ایک کو نشانہ بناتی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انتہائی کریہہ چیزوں کو نظروں سے اوجھل کرنے کی خاطر کئی دل چسپ ، سنسنی خیز، امیدافزا قسم کی آئیڈیالوجیاں گھڑ لی جاتی ہیں۔ لوگ حقیقت میں انتہائی دل دوز مصیبت اٹھاتے ہیں، وہ اپنی ہڈیوں کے گودے تک مایوس اور دل گرفتہ ہوتے ہیں،اور وہ اس کے ذمہ داروں کو بھی کچھ کچھ پہچانتے ہیں،مگر انھیں کئی رومانی کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔
انھیں ایک سچی مایوسی کے مقابل،ایک غیر حقیقی امید دلائی جاتی ہیں۔انھیں کسی مستقبل بعید کی کوئی خوش خبری سنائی جاتی ہے۔
جنگ کریہہ، سفاک ، تباہ کن ہوا کرتی ہے، ایک سچی، ناقابل برداشت ، انسانی روح کی عمیق سطحوں کو اپنے جبڑے میں کسنےو الی لغویت کی حامل ہوتی ہے۔کوئی جنگی اشرافیہ اس حقیقت کو سامنے نہیں آنے دینا چاہتی۔ اس لغویت پر کئی رومانی پردے ڈالنے کی خاطر اقدامات کیے جاتے ہیں۔
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جنگ ایک واضح لکیر کھینچ دیتی ہے: ہم اور وہ کی۔ میرا خیال ہے کہ یہ لکیر پہلے سے موجود ہوتی ہے، جنگ اسے واضح کردیتی ہے۔ دو ملکوں میں سب سے نمایاں لکیر تو جغرافیائی سرحد کی ہوتی ہے، جس پر آٹھوں پہر، پہرا رہا کرتا ہے۔
سرحدی لکیر سب سے نمایاں ہوا کرتی ہے، سب سے بڑی نہیں۔ سب سے بڑی لکیر، ہم اور وہ ہی کی ہوا کرتی ہے۔ سرحدی لکیرتو اس کی مستقل نمائندگی کررہی ہوتی ہے۔ ہم اور وہ کی لکیر ، کم از کم ،ہمارے یہاں کئی صورتوں اور ہیئتوں میں اپنا اظہار کرتی ہے۔ زبان ،مذہب، تاریخ ، ثقافت ، آرٹ ، رقص، موسیقی، ادب ، گویا ہر جگہ جہاں کسی بھی قسم کا اظہار اور عمل ممکن ہوا کرتا ہے، وہاں یہ لکیر بھی موجود ہوا کرتی ہے۔ یہ ایک تیز دھار چاقو کی مانند ہوا کرتی ہے۔
یہ پہلے فرق دیکھتی ہے اور پھر ہر شے کو کاٹ کر ،ان کے ٹکڑوں کو، ہم اور وہ کی ٹوکریوں میں ڈالتی جاتی ہے۔ جنگ کے دنوں میں اس چاقو کی دھار تیز ہوجاتی ہے۔ ٹوکریاں بڑی ہوجاتی ہیں۔
(یہ روزنامچہ گزشتہ سال ، پاک بھارت جنگ کے دنوں میں لکھا گیا تھا)


