یزدانی جالندھری صاحب سے ایک مکالمہ/عرفان باری

محترم بھائی احمد رضوان صاحب
آپ کو یاد ہوگا کل شام ہماری ملاقات کے دوران میں ایک آزاد ملک کی شہریت کے اعزاز اور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے پاکستان کے قیام کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے میں نے والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا تھا جس میں دیوان سنگھ مفتوں صاحب کی جانب سے یزدانی صاحب کی پاکستان ہجرت کے فیصلہ کو سراہا گیا تھا۔ ہماری گفت گو میں رسالہ ’’بیسویں صدی‘‘ کے مالک و مدیر جناب خوشتر گرامی کا ذکر بھی ہوا۔ حُسنِ اتفاق کہ مجھے یزدانی صاحب کا وہ کم یاب انٹرویو دستیاب بھی ہوگیا۔ شریک گفتگو عرفان باری ہیں جو معروف شاعر اور ماہنامہ ’’محفل‘‘ کے مدیرِ اعلیٰ جناب طفیل ہوشیارپوری کے صاحب زادے ہیں اور لاہور میں مقیم ہیں۔ اُن دنوں تو وہ نوجوان تھے جب انھوں نے یزدانی صاحب سے یہ بات چیت کی تھی اور اس انٹرویو کا مقصد یزدانی صاحب کو اپنی یاداشتیں قلمبند کرنے پر مائل کرنا اور بہ طور ایک پاکستانی نوجوان قیامِ پاکستان کی ضرورت و اہمیت کو سمجھنا تھا۔ یہ انٹرویو مختصر ضرور ہے مگر میرے نزدیک بے حد اہم ہے کہ اس میں تقسیم ِ برصغیر کے چشم دید گواہان کی باتیں شامل ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالہ سے انھی کی گواہی معتبر تر ٹھہرے گی۔
اور پھر اس میں نعتیہ شاعری کی جانب  ان کے رجحان پر بھی بات کی گئی ہے اور نئی نسل سے امیدیں بھی باندھی گئی ہیں۔
اس بات کا دکھ تو اپنی جگہ کہ والد صاحب اپنی سوانح تحریر نہ کرسکے مگر مقام ِ شکر یہ کہ مجھے ’’سوسن کے پھول‘‘کے نام ان کی یاداشتوں کی منظر منظر جھلکیاں محفوظ کرنے کا موقع مل گیا۔ اس ضمن میں بھی میں ’’مکالمہ‘‘کا احسان مند ہوں کہ جس میں یہ یادنامہ ’مجھے یاد ہے‘ کے عنوان سے سلسلہ وار شائع ہوتا اور پذیرائی حاصل کرتا رہا۔
امید کہ ایک شاعر، ادیب، صحافی اور مترجم کا یہ تاریخی انٹرویو بھی آپ کی وساطت سے ’’مکالمہ‘‘ کے قارئین تک پہنچ پائے گا اور شوق سے پڑھا جائے گا۔
آپ کے فن و شخصیت کا مداح:
حامدیزدانی
(واٹر ڈاون، کینیڈا)
دو مارچ دوہزار چھبیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عرفان باری  : یزدانی صاحب! آپ نے بھرپور ادبی اور صحافتی زندگی گزاری ہے اور اس سلسلے میں بے شمار دلچسپ باتیں تشنۂ اظہار ہوں گی۔ اگر آپ کی سوانح حیات منظرِ عام پر آ جائے تو کیا بہت سی باتوں سے مکمل آگاہی زیادہ آسان نہ ہوجائے گی؟
یزدانی جالندھری  : ارادہ تو ہے بلکہ سات آٹھ سال پہلے لکھنا بھی شروع کردیا تھا، لیکن بیماری اور معاشی مصروفیات کے باعث یہ سلسلہ معرض التواء میں پڑ گیا۔ صحت اور حالات نے اجازت دی تو اسے ضرور مکمل کروں گا تاکہ اس خوشگوار ادبی قرض سے سبک دوش ہوسکوں۔

عرفان باری  : نعت کی روایت آپ تک کب اور کیسے پہنچی؟
یزدانی جالندھری  : اُردو نعت کی روایت مجھ تک مولانا ظفر علی خاں اور حفیظ جالندھری کے کلام سے پہنچی۔ چنانچہ میں نے پہلی نعت ۱۹۳۸ء کے قریب کہی۔ اس وقت مجھے اس کا صرف ایک مصرع یاد ہے باقی تو دیگر کلام کے ساتھ تلف ہوگئی۔
’’پُج رہے تھے جہل و مردوخ و ہبل، لات و منات‘‘
 اور دوسری نعت حفیظ جالندھری کے سلام: ’’سلام اے آمنہ کے لعل اے محبوبِ سبحانیﷺ‘‘ سے متاثر ہوکر اسی زمین میں کہی تھی۔ آٹھ اشعار کا یہ سلام نعتیہ مجموعہ ’’سلامِ مقدس‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ اس نعتیہ سلام کو میں نے حال ہی میں ایک نعتیہ قصیدے کی شکل دے دی ہے۔ اس کے بعد کبھی کبھار ایک آدھ نعت ہوجاتی تھی۔ باقاعدہ نعت گوئی کا آغاز جس نعت سے ہوا اس کا مطلع یہ ہے:
حفیظ جالندھری، یزدانی جالندھری، بشیر موجد

 

اُسلوبِ حمد، نعتِ پیمبرﷺ کا فن ملے
درویشِ بے نوا کو بھی اذنِ سخن ملے
اور میرے تین نعتیہ مجموعے طباعت کے منتظر ہیں۔
 
عرفان باری: قدیم اور جدید نعت گو شعرا میں سے آپ کن کن سے متاثر ہوئے ہیں۔

یزدانی جالندھری: قدیم فارسی شعراء میں سے جامی و سعدی سے، پرانے اُردو نعت گو شعراء میں سے محسن کاکوروی، امیر مینائی، مولانا ظفر علی خان اور دلو رام کوثری سے متاثر  ہوا ۔ دلورام ہندو تھےجو بعد میں مسلمان ہوگئے تھے

یزدانی جالندھری، خوشتر گرامی، ثاقب زیروی، حفیظ قندھاری

 اور کوثر علی نام اختیار کیا تھا۔ ہم عصر نعت گو شعراء میں سے حافظ مظہر الدین، حفیظ تائب، حافظ لدھیانوی، احمد ندیم قاسمی، علیم ناصری، اقبال عظیم، عبدالعزیز خالد، راغب مراد آبادی، طفیل ہوشیار پوری اور خالد احمد کا کلام مجھے بے حد پسند ہے۔

 
عرفان باری: آپ کو اپنے بعد آنے والی نسلوں میں سے کون سی نسل زیادہ توانا نظر آتی ہے؟
یزدانی جالندھری: زمانے میں ارتقاء کا ایک مسلسل عمل جاری ہے اور اس عملِ ارتقا کے پیشِ نظر آنے والی نسلوں سے بہتر کارکردگی کی توقع ہے۔ اُمید ہے کہ وہ خاصی توانا ہوں گی۔ بہرحال میں ایسا ماضی پرست نہیں ہوں کہ مستقبل کے روشن امکانات کو پیشِ نظر نہ رکھوں اور ایسا مستقبل پرست بھی نہیں کہ ماضی کی توانا روایت سے رشتہ منقطع کرنے کی کلّی حمایت کروں۔
 
عرفان باری: قیامِ پاکستان کے دوران آپ اپنے مشاہدات پر روشنی ڈالیں گے؟
یزدانی جالندھری: میں ان دنوں بمبئی میں تھا جب کہ بقیہ افرادِ خانہ منٹگمری (ساہیوال) میں تھے۔ جہاں والدین ۱۹۲۲ء میں نقل مکانی کرکے آباد ہوگئے تھے۔ بمبئی شہر بھی ہندوستان کے دیگر علاقوں کی طرح ان دنوں متصادم قوموں میں بٹا ہوا تھا۔ ایک مسلمان دوسری ہندو۔ جس روز پاکستان کا قیام عمل میں آیا، اس دن بھی میں بمبئی میں تھا۔ میں نے دیکھا کہ دونوں قوموں نے یومِ آزادی اپنے اپنے رنگ میں منایا۔ بھنڈی بازار اور محمد علی روڈ کے علاقوں میں، جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی، 14، اگست کو یومِ آزادیِ پاکستان خاصے جوش و خروش سے منایا جب کہ ہندو اکثریت نے 15 اگست کو یومِ آزادی منایا۔ اگرچہ پنجاب اور ہندوستان کے دیگر علاقوں سے فسادات کی خبریں آرہی تھیں تاہم بمبئی میں اس موقع پر زیادہ خونی وارداتیں نہیں ہوئیں۔
عرفان باری: آپ کے نزدیک برصغیر میں مسلمانوں کی جداگانہ مملکت کے قیام کی کیا ضرورت و اہمیت تھی؟
یزدانی جالندھری: دو قومی نظریہ اور برصغیر میں مسلمانوں کی الگ آزاد مملکت کے قیام کی ضرورت و اہمیت پر سرسید سے لے کر قیامِ پاکستان تک بہت کچھ کہا اور لکھا جاچکا ہے۔ حتیٰ کہ قیامِ پاکستان کے بعد اس کے اکثر مخالفین بھی اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہوگئے۔ اس سلسلے میں یہاں اپنے ایک واقعے کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں۔ 1950ء میں جب میں بمبئی سے ہجرت کرکے پاکستان آرہا تھا تو دہلی میں خوشتر گرامی مدیر ’’بیسویں صدی‘‘ کی معیت میں بھارت کے معروف، بے باک اور غیر متعصب سکھ صحافی سردار دیوان سنگھ مفتون ، ایڈیٹر ویکلی ’’ریاست‘‘ سے ملاقات ہوئی تو میرے پاکستان آنے کے ارادے کا سن کر مفتون  صاحب نے کہا:
“یزدانی صاحب! آپ نے بالکل صحیح فیصلہ کیا ہے کیونکہ ہندوستان میں مسلمانوں کا مستقبل قطعی غیر یقینی اور مخدوش ہے۔”
  

یزدانی جالندھری صاحب سے ایک مکالمہ/عرفان باری“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ لکھیں