رات کے سیاہ کنویں سے ایک پرانی گھڑی نےٹھک ٹھک کی آواز نکالی۔ یہ وہ آواز تھی جو کئی دنوں سے ایک نامعلوم کمرے کے ساکت پردے پر دستک دے رہی تھی۔کمرے کے عین وسط میں، ایک لکڑی کا تپائی میز تھا، جس پر ایک زنگ آلود قینچی دھری تھی۔ اس قینچی کا دستہ آسمانی رنگ کا تھا، مگر یہ رنگ اب چِھل چکا تھا۔ اس کے پاس ہی ایک اخبار بکھرا پڑا تھا، جس کے ہر کونے پر چھپائی کی کالی روشنائی آنسوؤں کی طرح پھیلی ہوئی تھی۔
شاید۔۔ ایک لفظ نے سرگوشی کی۔ یہ لفظ شاید تھا، جو ہمیشہ شبہات کی دھند میں لپٹا رہتا تھا۔اس سرگوشی کو سن کر، میز کی چادر میں بل پڑنا شروع ہو گئے۔غیر ضروری۔ ایک اور لفظ نے دھاڑ لگائی۔ یہ تھا غیر ضروری، جو خود کو ہر شے سے برتر سمجھتا تھا اور ہمیشہ اختتام پر کھڑا رہنے کا عادی تھا۔غیر ضروری کی دھاڑ سے اخبار کے ٹکڑوں میں جنبش ہوئی۔ ان ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا— جس پر زنجیرلکھا تھا— میز کے کنارے سے لڑھکتا ہوا فرش پر گرا۔زنجیر کی چھپی ہوئی شکل خود کو ایک آہنی حلقے کی طرح سکیڑ رہی تھی۔
آزادی۔۔! ایک چھوٹا سا، تیز نوک والا لفظ، آزادی۔۔۔۔ جو ایک پھٹے ہوئے اشتہار کے کونے پر لکھا تھا۔ تپائی کے چاروں طرف کسی تتلی کی طرح چکر لگانے لگا۔زنجیر نے کراہتے ہوئے جواب دیا۔
فریب۔ محض ایک صوتی فریب۔آزادی رکا۔ اس کی رفتار میں ایک لرزش آئی، اور وہ فریب کی تلخی کو چکھنے لگا۔میں نے کہا تھا۔شاید نے ہچکچاتے ہوئے پھر کہا، ہمیں اس قینچی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس کا آسمانی رنگ جھوٹا ہے۔
یہ سنتے ہی، زنگ آلود قینچی نے خود کو تھوڑا سا ہلا کر میز پر ایک نکیلی آواز پیدا کی۔ اس کی آواز میں ایک طنزیہ کھنکھناہٹ تھی۔تذبذب ہی اصل تخلیق ہے۔تخلیق؟۔غیر ضروری نے گہری سانس لی۔ تم اس بے ہودہ کٹاؤ کو تخلیق کہتے ہو؟ تم صرف چیزوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے ہو۔ تم جوڑ نہیں سکتے۔جوڑنا میرا کام نہیں۔ میرا کام تو نئے سرے سے آغاز کا موقع فراہم کرنا ہے۔ قینچی نے بے تاثر لہجے میں کہا۔
کمرے کے ایک تاریک کونے سے جہاں پرانے رنگوں کے ڈبے رکھے تھے، ایک لمبا، سیدھا سادا لفظ نمودار ہوا۔ یہ تھامستقبل۔ اس کی شکل بالکل ایک خالی کینوس جیسی تھی۔تم سب محض قینچی کے منتظر ہو۔ تم اپنے انجام کو میری شکل میں تلاش کر رہے ہو۔مستقبل کی آواز گونجدار تھی۔جھوٹ ! زنجیر نے فرش پر اپنے آپ کو زمین میں گہرائی تک گاڑنے کی کوشش کی۔ کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ بس ایک لامتناہی پہلے کا تسلسل ہوتا ہے۔پہلے؟۔آزادی نے لرزتے ہوئے پوچھا۔کیا اس کا مطلب ہے کہ ہم ہمیشہ بندھے ہی رہیں گے؟۔
یہ مکالمہ چل رہا تھا کہ اچانک، میز پر موجود اخبار کا ایک غیر معمولی طور پر بڑا ٹکڑا، جس پر سیاہ اور موٹے حروف میں ہنگامہ چھپا ہوا تھا، زور سے پھڑپھڑایا۔ہنگامہ نے اپنی تمام روشنائی کو سکیڑ کر ایک نکتہ بنا لیا اور پھر چیخا۔سب رک جاؤ! اس بے معنی بحث کا کوئی جواز نہیں۔ہنگامہ نے خود کو قینچی کے ٹھیک نیچے پھینک دیا، اور اس کی شکل، جو اب تک ایک خبر تھی، ایک ٹھوس، گہرے سیاہ بلاک میں تبدیل ہو گئی۔قینچی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے آسمانی دستے پر ایک لمحے کے لیے روشنی چمکی۔پھر، ایک آہنی چک کی آواز آئی۔قینچی نے “ہنگامہ” کے سیاہ بلاک کو عین وسط سے کاٹ دیا۔اور پھر۔۔۔ جو کٹا ہوا ‘ہنگامہ’ تھا، وہ دو نئے، مکمل طور پر غیر متوقع الفاظ میں بدل گیا۔
ایک حصہ۔۔۔ ‘خاموشی’ بن گیا، جو تیزی سے فرش کی طرف گرا اور زمین پر پڑی زنجیر کو پوری طرح ڈھانپ لیا۔دوسرا حصہ۔۔۔ ایک اور بالکل نیا لفظ بنا۔رنگوں کا شور۔رنگوں کے شور نے یک دم خلا میں چھلانگ لگائی اور سیدھا میز کے بیچ میں رکھے قینچی کے زنگ آلود دھات پر گر گیا۔اور اُس لمحے، تمام الفاظ نے دیکھا کہ قینچی نے اپنے عمل سے ایک ایسی چیز کو جنم دیا تھا جو اس کی ذات کے بالکل برعکس تھی۔
رنگوں کا شور جیسے ہی قینچی پر پڑا، زنگ اور دھات کی سختی غائب ہو گئی۔ قینچی کا وجود تحلیل ہونے لگا، اور اُس کی جگہ صرف ایک لکیر باقی بچی۔یہ لکیر نہ تو شاید تھی، نہ غیر ضروری، نہ آزادی اور نہ ہی مستقبل۔یہ لکیر ایک خالی صفحے پر لکھی گئی۔۔۔آخری سانس تھی۔تمام الفاظ آخری سانس کی طرف لپکے، خوف، تجسس اور حیرت سے بے حال ہو کر۔
آخری سانس نے کوئی آواز نہیں نکالی۔ اس نے محض سست رفتاری سے پھسلنا شروع کیا، اور جیسے ہی وہ کاغذ کی سرحد سے پار ہوا، تمام کمرے کی روشنی۔۔۔ نہیں، تمام کائنات کی روشنی۔۔۔ ہمیشہ کے لیے بجھ گئی۔
جب اگلی صبح سورج کی پہلی کرن کمرے میں داخل ہوئی، تو وہاں کوئی گھڑی، کوئی میز، کوئی قینچی، کوئی اخبار نہیں تھا۔ بس ایک سفید دیوار پر کالی روشنائی میں لکھا ہوا ایک جملہ تھا، جو اس سے پہلے کبھی کسی زبان میں موجود نہیں تھا۔
مکالمہ ختم ہونے کے بعد، ہم سب نے خود کو پڑھنا چھوڑ دیا۔


