سفرِ حیات — ایک درویش منش استاد کی داستان/فاروق نتکانی

کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں کسی ایک لفظ میں قید کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ وہ بیک وقت کئی جہتوں کی حامل ہوتی ہیں۔ ان میں علم کی سنجیدگی بھی ہوتی ہے، مزاح کی لطافت بھی، اور روحانیت کی ایک ہلکی سی خوشبو بھی۔ ایسی ہی شخصیت کے مالک ہیں پروفیسر فاروق حیات خان ایک استاد، ایک مفکر، ایک صاحبِ ذوق انسان، اور بلاشبہ ایک درویش مزاج شخصیت۔

ان کی خودنوشت “سفرِ حیات” محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک عہد کی روداد ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی خاموش شام میں کسی مجلس کا چراغ روشن ہو اور مصنف اپنے مخصوص انداز میں زندگی کے واقعات سنانے لگے۔ یہ کتاب واقعات کی فہرست نہیں بلکہ تجربات کی روشنی ہے؛ یہ زندگی کے راستوں کی خاکہ کشی نہیں بلکہ اس کے باطن کی تعبیر ہے۔

سفرِ حیات واقعات سے آگے کا ادب ہے. اردو ادب میں خودنوشت کی روایت بہت پرانی ہے، مگر ہر خودنوشت ادب نہیں بن جاتی۔ کچھ سوانح عمریاں محض واقعات کی فہرست ہوتی ہیں، کچھ یادداشتوں کا بکھرا ہوا دفتر، اور کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو زندگی کی فکری تعبیر پیش کرتی ہیں۔ سفرِ حیات اسی تیسرے زمرے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں واقعات ضرور ہیں، مگر واقعات کی ترتیب سے زیادہ اہم وہ زاویۂ نظر ہے جس سے مصنف اپنی زندگی کو دیکھتا ہے۔ یہ زاویۂ نظر نہ تو خود ستائشی ہے اور نہ ہی محض یادوں کی نمائش۔ اس میں ایک طرح کی درویشی، ایک طرح کی بے نیازی اور ایک طرح کی فکری سنجیدگی موجود ہے۔

ہر اچھی کتاب کا پہلا جمال اس کا انتساب ہوتا ہے۔ سفرِ حیات کے انتساب میں نسبتوں کا وقار ہے. سفرِ حیات کا انتساب مصنف نے اپنے تین بڑے بھائیوں عمر علی، عمر حیات اور خضر حیات کے نام کیا ہے۔ یہ انتساب دراصل اس تہذیبی روایت کی یاد دہانی ہے جس میں بڑے بھائی محض خاندان کے افراد نہیں ہوتے بلکہ ایک اخلاقی اور روحانی سایہ بھی ہوتے ہیں. مصنف نے اپنے اس انتساب کے ذریعے دراصل اپنی زندگی کی بنیادوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

کتاب کے ابتدائی صفحات میں پروفیسر ڈاکٹر ظفر عالم ظفری کا مضمون “بستی نتکانی کا فقیر” شامل ہے۔ یہ مضمون محض تعارف نہیں بلکہ شخصیت کی ایک فکری تشریح ہے ڈاکٹر ظفری لکھتے ہیں کہ: فقر، قناعت اور ریاضت سے شروع ہونے والا فاروق حیات کا سفرِ حیات استغنا کی منزلیں طے کر رہا ہے۔ یہ جملہ اس پوری کتاب کا فکری خلاصہ معلوم ہوتا ہے۔ اسی مضمون میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ فاروق حیات جب کسی شخصیت کا تذکرہ کرتے ہیں یا کسی واقعے کو بیان کرتے ہیں تو ان کے جملوں میں ایسی ظرافت اور چبھن ہوتی ہے کہ قاری مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہی وہ صفت ہے جو ایک عام یادداشت کو ادبی نثر میں تبدیل کر دیتی ہے۔

اس کے بعد پروفیسر مہر اختر وہاب کا مضمون “ایک صوفی کی سرگزشتِ حیات” شامل ہے۔ یہ مضمون مصنف کی شخصیت کو ایک روحانی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس میں مصنف کے فکری سلسلے کو نویں صدی کے خراسان کے ملامتی صوفیوں سے جوڑا گیا ہے۔ملامتی صوفیوں کا طریق یہ تھا کہ وہ اپنی نیکیوں کو چھپاتے اور اپنی شخصیت کو نمود سے بچاتے تھے۔ فاروق حیات کی شخصیت میں بھی یہی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ ان کے ہاں خود نمائی نہیں بلکہ ایک خاموش وقار ہے۔

کتاب کا پہلا باب بچپن ہے۔ بچپن کی یادیں کسی بھی انسان کے شعور کا ابتدائی نقشہ ہوتی ہیں۔ یہ ابواب جنوبی پنجاب کے دیہی معاشرے کی ایک دلکش تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہاں غربت بھی ہے، سادگی بھی ہے، خاندانی وابستگیاں بھی ہیں اور تعلیم کی جستجو بھی۔ یہ صفحات پڑھتے ہوئے قاری کو یوں لگتا ہے جیسے وہ ایک ایسے زمانے میں داخل ہو گیا ہے جہاں زندگی کی رفتار آہستہ تھی مگر رشتوں کی گرمی زیادہ تھی۔

تعلیمی سفر دراصل جستجو کا سفر تھا جس میں گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان سے لے کر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی تک کے مراحل بیان ہوئے ہیں۔یہاں ایک ایسے طالب علم کی تصویر سامنے آتی ہے جس کے لیے تعلیم محض روزگار کا وسیلہ ہی نہیں بلکہ شعور کی بیداری کا ذریعہ ہے۔

کتاب کے ابتدائی دس ابواب میں تعلیمی سفر کے بعد بنگلہ اچھا کے دنوں کا ذکر نہایت دلچسپ انداز میں کیا گیا ہے۔ یہاں مصنف اسکول ٹیچر سے ہیڈ ماسٹر بنتے ہیں اور ایک مقامی سردار سے اختلاف کا واقعہ پیش آتا ہے۔ یہ واقعہ دراصل مصنف کی شخصیت کے اس پہلو کو نمایاں کرتا ہے جس میں خودداری اور اصول پسندی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی کشمکش کے بعد زندگی ایک نیا رخ اختیار کرتی ہے اور مصنف پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں سائنٹیفک آفیسر کے طور پر شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ مرحلہ اس بات کی علامت ہے کہ زندگی کے راستے اکثر غیر متوقع موڑوں سے گزرتے ہیں۔

اس کے بعد مصنف کی زندگی کا بڑا حصہ تدریس سے وابستہ ہو جاتا ہے۔گورنمنٹ کالج لیہ میں لیکچرار سے اسسٹنٹ پروفیسر اور پھر ایسوسی ایٹ پروفیسر تک کا سفر ایک معلم کی علمی ریاضت کا مظہر ہے۔ بعد ازاں گورنمنٹ کالج کروڑ لعل عیسن کے پرنسپل کے طور پر خدمات انجام دینا اس سفر کی ایک اہم منزل ہے۔

کتاب کے وہ ابواب نہایت دلکش ہیں جہاں مصنف اپنے والدین، اپنی ازدواجی زندگی اور اپنی اولاد کا ذکر کرتے ہیں۔ خاص طور پر اپنی بیگم کے بارے میں ان کا اندازِ بیان نہایت محبت آمیز اور احترام سے بھرپور ہے۔ یہاں ایک استاد نہیں بلکہ ایک حساس انسان نظر آتا ہے۔

کتاب کے چند ابواب میں مصنف نے قومی سیاست، سماجی مسائل اور معاشی معاملات پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔ یہاں ان کا لہجہ ایک مبصر کا ہے جو اپنے تجربات کی روشنی میں معاشرے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کتاب کے آخری ابواب میں مصنف زندگی کی حقیقتوں پر گفتگو کرتے ہیں اور اپنی اولاد کے نام خطوط لکھتے ہیں۔ آخری باب “ایک اجنبی کا اجنبی کے نام خط” اس کتاب کو ایک دلکش اختتام دیتا ہے۔

پروفیسر فاروق حیات کی نثر میں روانی، شگفتگی اور فکری گہرائی موجود ہے۔ ان کی تحریر میں وہی کیفیت ہے جو کسی اچھے قصہ گو کی گفتگو میں ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ کتاب پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مصنف خود سامنے بیٹھا ہو اور زندگی کے واقعات سنا رہا ہو۔

سفرِ حیات ایک ایسی خودنوشت ہے جس میں ایک انسان کی زندگی، ایک استاد کی بصیرت اور ایک درویش کی بے نیازی ایک ساتھ جلوہ گر ہے۔یہ کتاب ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زندگی کی اصل عظمت عہدوں میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتی ہے، اور اصل کامیابی شہرت میں نہیں بلکہ استغنا میں۔ پروفیسر فاروق حیات خان بلاشبہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ: وہ ادب شناساؤں میں ادیب ہیں، عالموں میں عالم ہیں، اور صوفیوں میں صوفی۔ اور سب سے بڑھ کر وہ ایک ایسے استاد ہیں جن کی صحبت میں علم صرف سکھایا نہیں جاتا بلکہ جیا جاتا ہے۔

پروفیسر فاروق حیات خان ایک منفرد شخصیت ہیں۔ پڑھے لکھے، مخلص اور دردمند۔ علم و فضل میں یکتا۔ مطالعہ وسیع اور مشاہدہ عمیق۔ ان کے مزاج میں شعلہ و شبنم کا عجیب امتزاج ہے۔ کبھی گفتگو میں ایسی فکری تیزی ہوتی ہے جو ذہن کو جھنجھوڑ دیتی ہے اور کبھی لہجے میں ایسی نرمی اور لطافت کہ سننے والا دیر تک اس کے اثر میں رہتا ہے۔ ان کے لیکچروں میں ایک خاص جذب و کیف پایا جاتا ہے۔ یہ جذب صرف علم کا نہیں بلکہ شخصیت کا بھی ہے۔ ان کے مزاج میں نہ روایتی عالموں کی خشک پیوستگی ہے اور نہ ملاؤں کی سخت مزاجی۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی دل آویزی ہے جو سننے والے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔

ان کی گفتگو میں ایسا حسنِ بیان ہے کہ وقت کا گزرنا محسوس ہی نہیں ہوتا۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی پرانے صندوق سے رنگ برنگی کہانیاں نکل رہی ہوں اور ہر واقعہ ایک نئے تجربے کی کھڑکی کھول رہا ہو۔

ان کی شخصیت کا ایک دلکش پہلو ان کا شاعرانہ مزاج ہے۔ یہ کیفیت دو مواقع پر شدت سے محسوس ہوتی ہے:

ایک جب وہ کسی کی تعریف کرتے ہیں، اور دوسرا جب کسی پر تنقید کرتے ہیں۔ تعریف میں ان کے الفاظ ایک نرم روشنی کی طرح پھیل جاتے ہیں اور تنقید میں ان کے جملے کسی لطیف طنز کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گفتگو میں ادبی رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔

پروفیسر فاروق حیات خان کی شخصیت کو ایک ہی دائرے میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔

وہ ادب شناساؤں میں ادیب ہیں،

عالموں میں عالم ہیں،

اور صوفیوں میں صوفی۔

یہ وہ مقام ہے جہاں علم، تجربہ اور روحانیت ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں