سِیٹی
افسانہ: حامد یزدانی
’ٹُوں، ٹُوں، ٹُوں‘۔۔۔
ہاشُو نے ہاتھ میں تھامی سیٹی بجا کر اسے اپنی رضاکار والی خاکی شرٹ سے صاف کیا تھا اور دائیں جیب میں اُڑس لیا تھا۔ پھر احتیاط سے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے بڑے رازدارانہ انداز میں اعلان کرنے لگا تھا:
’’خبردال، ہوشیال! اپنے اپنے گھلوں کی لوشنیاں بند رکھیں۔ دُسمن کے جہاج کسی وقت بھی آ سکتے ہیں۔۔۔خبردال، ہوشیال !‘‘
(خبردار، ہوشیار! اپنے اپنے گھروں کی روشنیاں بند رکھیں۔ دُشمن کے جہاز کسی وقت بھی آ سکتے ہیں۔۔۔خبردار، ہوشیار!)۔
سائل پور کی مہاجر کالونی ’غلاماں باد‘ کے اکہرے مکانوں سے بندھی کچی پکی گلیوں میں اُس وقت اندھیرا بھی تھا اور خاموشی بھی۔ اس لیے ہاشو کی آواز ہلکی ہونے کے باوجود صاف سُنی جا سکتی تھی۔
ہاشو جس کا اصل نام ہاشم تھا، ایک تو وہ بے چارہ تھا توتلا اور اس پر اس کا یہ رازدارانہ انداز ۔۔۔ اُس کی آواز میں عجب پر اسراریت سی پیدا ہو گئی تھی۔ ہاشو کا خاندان بھی اس بستی میں آباد اکثر خاندانوں کی طرح اٹھارہ برس قبل یعنی برِ صغیر کی تقسیم کے بعد یہاں آیا تھا۔ اس کی عمر تو اب تیس پینتیس برس ہو گی مگر ذہنی طور پر شاید ابھی پوری طرح بالغ بھی نہ ہوا تھا۔ بالکل سیدھا سادا اور معصوم۔ ہندوستان سے آ کر آباد ہوئے مہاجر خاندانوں کی اس بستی میں لگ بھگ سبھی ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ کچھ تو سن سینتالیس سے بھی پہلے ایک دوسرے کے واقف تھے کہ ہندوستان میں ایک ہی محلہ، گاؤں یا شہر میں رہتے تھے یا پھر نو زائیدہ پاکستان کے مہاجر کیمپوں کی صعوبتوں نے انھیں ایک دوجے کا ہمدرد و ہمراز بنا دیا تھا۔ کُل چالیس پچاس مکان ہوں گے اس بستی میں۔ سب ایک منزلہ۔ کچھ مٹی، گارے سے لِپے اور کچھ پکی اینٹوں سے بنے مگر ان میں ایک قدر مشترک تھی اور وہ یہ کہ ہر مکان کے صحن میں ایک یا دو پھل دینے والے درخت ایستادہ تھے۔ کسی گھر سے امرود جھانک رہا ہے اور کسی سے انار۔ کسی گھر کی دیوار سے آم نے سر ٹِکا رکھا ہے اور کسی کی چھت کو بیری چُھو رہی ہے۔
بستی کے عین بیچ میں ایک چوکور سا میدان تھا جس میں یہاں وہاں خود رو گھاس کے دھبے بھی ابھرے ہوئے تھے۔ ورنہ دھول مٹی ہی تھی۔ میدان کے گردا گرد جو پیڑ بے ترتیب انداز میں کھڑےتھے ان میں کچھ کیکر تھے اور کچھ ٹاہلیاں جن کی چھاؤں میں عورتیں دن چڑھے اپنے اپنے چرخے لے کر آ بیٹھتیں اور شام ڈھلے تک سُوت کاتا کرتیں۔ کپڑا بنانے والی ہاتھ کی کھڈیوں پر کام کرنے والے مرد بھی گرمیوں کی دوپہریں انھی پیڑوں کی چھاؤں میں گزارتے۔ جہاں ذرا چھاؤں دیکھی بان سے بنی اپنی چارپائی بچھائی اور سو رہے۔ دھوپ سے بچنے کو بچوں کی پناہ بھی انھی پیڑوں کی چھاؤں تھی۔
شاہ جی کا مکان بستی کے پہلے ہی کونے پر واقع تھا جہاں اس وقت رات کی تاریکی میں ہاشُوکھڑا تھا۔یہ شاہ جی کی بیٹھک کی کھڑکی کی درزوں میں سے باہر لپکتی دھیمی دھیمی روشنی تھی جس نے بستی میں چکر لگاتے ہاشُو کے قدم یک دم روک لیے تھے۔ ہاشو احتیاط سے قدم اٹھاتا ہوا کھڑکی کے بالکل قریب پہنچا تھا اور سرگوشی کے انداز میں بولا تھا:
’’ساہ جی! لیت بند کلو۔ آپ نے بلیک اوت کا سائلن نہیں سنا کیا؟ میں نے سیتی بھی بجائی تھی‘‘۔
’’بلیک آؤٹ کا سائرن بھی سن لیا تھا اور یہ تیری اس سیٹی کی آواز بھی مگر تو بتاہاشو کے بچے کہ تو باہر کیا کرتا پھر رہا ہے اِس وقت؟‘‘ اندر سے مردانہ آواز سنائی دی تھی اور اس کے ساتھ ہلکی سی زنانہ ہنسی بھی۔
’’ہولی بولیں ساہ جی۔ ہولی۔۔۔دسمن کے جہاج آس پاس ہی ہیں۔ کسی وقت بھی حملہ کل سکتے ہیں۔‘‘ ہاشو نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
’’اوئے میری آواز تیری اس سِیٹی کی آواز سے تو اونچی نہیں۔ اگر تیری سیٹی کی یہ ٹُوں ٹُوں ان کے پائلٹوں کے کانوں تک پہنچ گئی تو۔۔۔؟ ‘‘ شاہ جی نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تھا۔
’’یہ سیتی مجھے تلیننگ کے بعد ملی ہے۔ جیسے وہ سائلن گولمنت کا ہے ویسے ہی یہ سیتی بھی گولمنت کی ہے۔ یہ بس میلے پاس ہی ہے۔ بس آپ اپنے کملے کی لیت بند لکّھیں۔ وہ تو پائلت دیکھ سکتے ہیں نا۔ ہم لضاکالوں کی تلیننگ میں یہ بتایا گیا تھا کہ جب بلیک اوت ہو تو لیتیں بالکل بند ہونی چاہئیں۔‘‘ ہاشو نے انھیں سمجھانے کے انداز میں کہا تھا۔
’’ہاشو، تیری زبان میرے پلّے نہیں پڑتی۔ کوئی لفظ سمجھ آتا ہے اور کوئی نہیں۔ میرے کمرے کی اتنی سی لائٹ سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ تو بے فکر رہ اور اپنے گھر جا۔‘‘ شاہ جی نے نرمی سے کہا تھا۔
’’ نئیں، نئیں۔ میں تو دیوتی پل ہوں۔ گھال ابھی نئیں جا سکتا۔ میں لضا کال جو ہوا۔ بس آپ لیت بن کل دیں۔ نئیں تو دسمن کے جہاج خواہ مخواہ ادھل بمب پھینک دیں گے اول سب کی جان جائے گی۔‘‘ ہاشو نے فکر مندی سے کہا تھا۔
’’ارے، نہیں پھینکتے وہ بم یہاں۔‘‘ شاہ جی نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔
’’ساہ جی، آپ سمجھ نئیں لہے۔ بوہت خطلا ہے۔ بس آپ لیت بند کل دیں تو میں چلا جاؤں گا۔ مہلبانی ہو گی آپ کی۔‘‘ ہاشو نے التجا کی تھی۔
دیکھا جائے تو اس نے آج پہلی بار شاہ جی سے اتنی لمبی بات کی تھی۔ وہ بھی شاید اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے خیال سے ورنہ وہ کیا اُس کے بڑے بھی شاہ جی سے گفت گو کرنے کی جرأت نہ کر سکتے تھے۔ راہ چلتے اگر کبھی نظر مل بھی جاتی تو بس جھک کر سلام دعا کی، ہاتھ کو بوسہ دیا اور احترام سے ایک طرف ہو گئے۔ شاہ جی تھے بھی بڑے با رعب اور جلالی قسم کے۔ ان کی آنکھوں میں پھرتے لالی کے ڈورے اور آواز کی کڑک سے سبھی دب جاتے تھے۔
بستی میں کسی کی بھی طبیعت خراب ہوتی تو وہ شاہ جی سے ہی دم کرواتا۔ کبھی وہ ضروری سمجھتے تو کوئی تعویذ بھی لکھ دیتے۔ ہاشو کبھی بیمار ہوتا تو اسے بھی اس کی ماں دم کروانے یا نظر اتروانے کے لیے شاہ جی کے پاس ہی لے جاتی۔ اس کے بیمار ہونے پر اس کی ماں بہت پریشان ہو جاتی تھی۔ وہ اپنی ماں کا اکلوتا اور لاڈلا بیٹا تھا۔ اس کی دو چھوٹی بہنیں تھیں۔ وہ بھی اس سے بہت پیار کرتی تھیں۔ پیار کیا کرتی تھیں باقاعدہ اس کا خیال رکھتی تھیں۔ سیدھا سادا ہاشو دیکھنے میں تو بڑا ہو گیا تھا مگر اپنی سوچ اور رویے سے ابھی بچہ ہی تھا۔ لہٰذا بہنوں کو ہی اسے محلے کے شریر بچوں کی حرکتوں سے بچانا پڑتا تھا۔ ہاشو پڑھا لکھا نہ تھا۔ نوکری پر کون رکھتا اسے؟ سو، وہ کچھ بھی کام کر لیتا تھا۔ گرمیوں میں برف کی ریڑھی، سردیوں میں بُھنے ہوئے چنے اور کبھی کبھی پڑوسی کی پاور لُوم پر بھی کام مل جاتا جہاں وہ کپڑا بُنا کرتا۔ کبھی کبھار اس کی ریڑھی پر گہرے زرد رنگ کے ’ڈوکے‘ بھی سجے ملتے جنھیں بیچنے کو وہ یہ صدا لگاتا:
’’دوکے۔۔۔ زلئی کالج تے دوکے۔ شیت والے مِتھے دوکے ۔‘‘
بہت سے دوسرے مقامی افراد کی طرح وہ بھی زرعی یونی ورسٹی کو اب تک زرعی کالج کے نام ہی سے پکارتا تھا۔
اس کے توتلے پن اور سادگی کے سبب بستی کے بچے اسے تنگ کرتے تو انھیں دیکھ کر آتے جاتے بزرگ بس مسکرا دیتے۔ وہ لڑکوں کو اسے چھیڑنے سے باز نہیں کرتے تھے جیسے وہ انسان نہ ہو تفریح کا کوئی سامان ہو۔
جنگ شروع ہوئی تو اور کوئی کام تو تھا نہیں۔ یہ تو معلوم نہیں کہ کس کے مشورے پر وہ رضاکاروں میں جا بھرتی ہوا تھا مگر لوٹا وہ اسی دن تھا، کئی روزہ ٹریننگ مکمل کر کے ۔۔۔ وردی پہنے، کندھے سے قمیص کی جیب کو جاتی سیٹی کی ڈوری لٹکائے۔ وہ بڑی شان سے بستی کا چکر لگا رہا تھا۔ جانے کس نے اُسے کہہ دیا تھا کہ سیٹی باقاعدہ اس کی وردی کا حصہ ہے۔ وردی میں وہ خود کو شاید ایک فوجی جوان تصور کرنے لگا تھا۔ ایک ذمہ دار فوجی جوان جو سائرن بجتے ہی اپنی ڈیوٹی کے لیے بھاگ اٹھتا تھا اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ سب بستی والے محفوظ ہیں۔ اس کے باپ کو جب اس کی اس ڈیوٹی کا پتا چلا تو اس نے سمجھاتے ہوئے کہا بھی تھا کہ دشمن کے حملے کا خطرہ لاہور کو ہے لائل پور کو نہیں اس لیے اسے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں مگر اسے یہ ڈیوٹی اچھی لگ رہی تھی۔
جنگ اب دنوں سے نکل کر ہفتوں تک پھیل گئی تھی۔ زندگی اپنے معمولات سے کٹی ہوئی تھی۔ ایک دکان کھلی دکھائی دیتی تو دوسری بند۔ سکول اور دفتر تو بند تھے ہی۔ دن کو بھی سڑکوں بازاروں میں رونق کم ہوتی۔ رات کو تو اکثر کرفیو اور بلیک آؤٹ رہتا۔
ایک روز کیا ہوا کہ سائرن دن کے وقت ہی بج اٹھا۔ ہاشو جلدی سے دتّے کی پرچون کی ہٹّی کے تھڑے پر جا کھڑا ہوا اور دشمن کے جنگی جہازوں سے بموں کے برسنے کا انتظار کرنے لگا۔ بم تو کوئی گرا نہیں البتہ پگلی بھاگاں ضرور سڑک پر گر گئی تھی۔ وہ صدر بازار کی طرف سے اپنی ہی دُھن میں بھاگی چلی آ رہی تھی۔ سامنے سڑک کے کنارے پڑا پتھر دیکھا نہیں اور اس سے ٹکرا کر دھڑام سے زمین پر آرہی تھی اور بچوں کی طرح بھاں بھاں رو رہی تھی حال آں کہ اس کی آنکھوں میں ایک بھی آنسو نہ تھا۔
’نہ جانے کیسے لو لیتی ہے یہ بھاگاں کی بچی یوں آنسوؤں کے بغیل!‘ ہاشو نے توتلے انداز میں سوچا تھا۔ ہاشو کو تو ذرا سی چوٹ بھی لگ جاتی تو اس کے آنسو تھمنے میں نہ آتے تھے۔ پھر بہنیں آ کر اسے دلاسا دیتیں تو کہیں جا کر چُپ ہوتا۔
اب بھاگاں کو یوں زور زور سے چلّاتا دیکھ کر اسے سب کا بچاؤ خطرے میں لگ رہا تھا کہ اگر دشمن کے جہازوں تک اس کی آواز پہنچ گئی تو ضرور سب ہی مارے جائیں گے۔ وہ اسے وہاں سے اٹھانے اور چُپ کروانے کے لیے بے اختیار اس کی طرف بھاگ کھڑا ہوا تھا۔ بارہ چودہ برس کی بھاگاں اپنے بدن کے سائز سے بڑے کپڑے پہنے ہوئے تھی۔ پھول دار شلوار کا ایک پائنچا اب بھی اس کے پاؤں میں پھنسا ہوا تھا۔ گھر اُس کا زرعی کالج کی دیوار سے جُڑے قبرستان کے پار تھا۔ ایک بھائی کے سوا دنیا میں اس کا کوئی نہ تھا۔ اس کا بھائی مسعود سُودا اس سے بڑا تھا اور بازار میں پھلوں کی ریڑھی لگاتا تھا۔ اسے بھاگاں کی فکر رہتی تھی۔ وہ اسے اپنے ساتھ ساتھ ہی رکھنا چاہتا تھا مگر کھلنڈری بھاگاں کہاں ٹکنے والی تھی۔ گھر سے بھائی کے ساتھ ہی آتی مگر کسی بھی گلی میں بچوں کے ساتھ بنٹے یا گلی ڈنڈا کھیلنے میں مگن ہو جاتی۔ اس وقت وہ بالکل لڑکوں جیسی حرکتیں کرتی۔ کبھی بھاگ کر کسی دکان پر جا کھڑی ہوتی بسکٹ یا گُڑ کا بنا گٹّا لیے بغیر وہاں سے نہ ٹلتی۔ اس کے پاؤں میں جانے کیا چکر تھا۔ حد یہ کہ کرفیو اور بلیک آؤٹ کے دنوں میں بھی گھر میں ٹک کر نہیں بیٹھ سکتی تھی اور اب جانے کس دھیان میں صدر بازار سے اچھل اچھل کر آتی ہوئی وہاں گری پڑی تھی۔
ہاشو نے اس کے پاس پہنچ کر اٹھنے میں اس کی مدد کی اور اسے تقریباً کھینچتا ہوا دتّے کی دکان کے تھڑے پر آیا تھا اور اسے وہیں رُکنے کا کہہ رہا تھا۔ بھاگاں نے جب دیکھا کہ وہ اس کا ہاتھ نہیں چھوڑ رہا تو اس نے اور بھی زور سے رونا شروع کر دیا۔ ہاشو نے اپنی توتلی زبان میں اسے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اس کی اور باقی سب کی مدد کا سوچ کر اسے یہاں لایا ہے اور یہ کہ اس کے چلّانے یا دوڑنے بھاگنے سے سب کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے مگر جھلّی بھاگاں نے اس کی بات پر کان نہ دھرے اور مسلسل چلاتی رہی۔
یہ شور سن کر دتا بھی دکان سے ملحقہ اپنے مکان سے باہر نکل آیا تھا۔ اس نے بڑے پیار سے بھاگاں سے پوچھا کہ آخر ہوا کیا ہے؟ تو بھاگاں نے روتے ہوئےپہلے سڑک اور پھر ہاشو کی طرف اشارہ کیا تھا۔
’’کیا مطلب؟ میں کچھ سمجھا نہیں بھاگ بھری۔ کیا ہاشو نے تمھیں ڈانٹا؟ تمھیں مارا؟‘‘ دتے نے اسے اس کے اصل نام سے مخاطب کرتے ہوئےاس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور شفقت بھرے لہجےمیں استفسار کیا۔
’’ نہیں۔ یہ گندا ہے۔ بہت برا ہے‘‘۔ اس نے کہا تھا۔
’’چاچا میں تو اسے اٹھا کل یہاں لایا ہوں۔ یہ بھاگتی ہوئی آ لئی تھی اول وہاں گِلی پلی تھی۔ میں نے تو اس کی مدد کی۔ اوپر سے سائلن بول لہا تھا۔ میں نے اول کیا کیا ہے؟‘‘ ہاشو نے اپنی صفائی میں یہ جملے کہے تھے۔
’’دیکھ بھاگاں، بیٹی۔ یہ جو ہاشو ہے نا یہ تمھاری مدد کرنے کے لیے تمھیں یہاں لایا ہے۔ یہ تو اچھی بات ہوئی نا اور تو ہے کہ اسے بُرا کہہ رہی ہے۔‘‘ دتے نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تھا۔
’’ یہ مجھے گھسیٹ کر لے آیا مگر میری سائیکل تو اُدھر ہی چوک میں پڑی ہے۔ ادھر جہاں میں اس پر سے گری تھی۔‘‘ بھاگاں نے اس جگہ کی جانب اشارہ کیا تھا جہاں وہ گری تھی۔
دتے نے دیکھا کہ وہاں صرف ایک پتھر پڑا تھا۔ کسی سائیکل کا نشان بھی دور دور تک نہ تھا۔ وہ سمجھ گیا یہ پگلی اپنا خیالی سائیکل چلاتے ہوئے گر پڑی تھی۔
’’اس نے میری سائیکل توڑ دی۔ دیکھو، میری گُڑیا کو بھی چوٹ لگی ہے۔ یہ بھی رو رہی ہے۔ ہاشو گندا ہے۔ میں اس سے بات نہیں کروں گی۔ میں اپنے بھائی سُودےکو بتاؤں گی۔ وہ اس کی خوب پٹائی کرے گا۔ ہاں۔ پھر مجھےمزہ آئے گا۔‘‘ بھاگاں نے کپڑے سے بنی اپنی گُڑیا کو سینے سے لگاتے ہوئے اپنے عزائم کا اعلان کیا تھا۔
’’بتا دینا اپنے بھائی کو۔ میں بات کلوں گا اس سے۔ ابھی چپ کل جاؤ۔ تمھالے لونے سے سب پر بمب گل گیا تو پھل کسے بتاؤ گی؟ پِھل تو سب مَل جائیں گے۔‘‘ ہاشو نے بھی خفگی سے کہا تھا۔
’’ تو مرے، تیری ماں مرے۔ میں کیوں مروں؟ میری گڑیا کیوں مرے!‘‘ بھاگاں نے پاؤں زمین پر پٹختے ہوئے اور گڑیا کو زور سے بھینچتے ہوئے غصے سے کہا تھا۔
اُن دونوں کی تکرار سُن کر دتے نے پہلے ہاشو کو سمجھایا کہ دشمن کا بم اس بستی پر گرنے کا امکان نہیں اور پھر بھاگاں کو اپنی دکان کے اندر سے دو سیٹی والی گولیاں لا کر دی تھیں۔ ایک لال رنگ کی اور دوسری سبز رنگ کی۔ اور اسے پچکارتے ہوئےیقین دلایا تھا کہ وہ اس کا سائیکل سڑک سے اٹھا کر صدر بازار لے جائے گا اور مرمت کرو ا کے اس کے گھر پہنچا دے گا۔
سیٹی والی میٹھی گولیاں پا کر اور سائیکل ٹھیک ہونے کا سن کر جھلی بھاگاں ایک دم چپ بلکہ خوش ہو گئی تھی۔
ہاشو کے چہرے پر بھی اب اطمینان تھا مگر یہ اطمینان زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہوا کیوں کہ اگلے ہی لمحے بھاگاں نےایک گولی اپنے ہونٹوں میں دبائی تھی اور ’ٹُوں، ٹوں، ٹوں‘ سیٹی بجانے لگی تھی جسے سن کر دتا تو مسکرا دیا تھا مگر ہاشو سٹپٹا کر رہ گیا تھا۔
’’تم سیتی نہیں بجا سکتیں۔ تم لضاکال نہیں ہو۔ میں ہوں لضاکال۔ سیتی بس میں بجا سکتا ہوں۔‘‘
ہاشو نے یہ کہتے ہوئے چاچے دتے کی طرف کچھ ایسے احتجاجی اور شکایتی انداز میں دیکھا تھا جیسےاس نے بھاگاں کو سیٹی والی گولیاں دے کر قانون کی سخت خلاف ورزی کردی ہو اور بستی والوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہو۔
چاچا دتا اس کی تشویش اور پریشانی کی وجہ ٹھیک سے سمجھ نہیں پایا تھا۔ وہ اب بھی مسکرا رہا تھا۔
ستمبر کا حبس زدہ سورج اپنی دھوپ سمیٹے ’غلاماں باد‘ کے چوراہے سے جُڑے تالاب کی غنودہ لہروں پر اپنے پھیکے پھیکے رنگ بکھیرتا ہوا مغرب کے پہلو میں چُھپ رہا تھا۔
بھاگاں اس کی حرکتوں پر لوگوں کی مسکراہٹوں سے بے پروا اپنی کپڑے کی گڑیا اور سیٹی والی ایک گولی ہاتھ میں تھامے اور دوسری منہ میں دبائے ’ٹوں، ٹُوں، ٹُوں‘ کرتی، اچھلتی کودتی، زرعی کالج کی عقبی دیوار کی جانب جا رہی تھی جہاں قبرستان کے پار چھوٹے سے گھر میں اس کا بڑا بھائی اس کا انتظار کر رہا تھا جس کے لیے وہ پگلی آج دن بھر سے لاپتا تھی۔
پھر اُس نے یک دم پیچھے مُڑ کر آواز لگائی تھی:
’’چاچا! او چاچا دتے! میری سائیکل ٹھیک کروانا بھول نہ جانا ۔۔۔ نئیں تو تم دیکھ لینا پھر۔۔۔‘‘
’’ہاں، ہاں، ٹھیک بھی کروا دوں گا اور تیرے گھر پہنچا بھی دوں گا۔ کہہ دیا نا۔ تو فکر نہ کر۔ گھر جا بھاگ بھریئے۔ ویرا انتظار کر رہا ہو گا۔‘‘
چاچا دتا اس کی معصوم دھمکی پر مسکراتے ہوئے بلند آواز میں بولا تھا
اور پھر اس کے قدم بے خیالی میں اُس چوک کی جانب بڑھنے لگے تھے جہاں بھاگاں کا فرضی سائیکل ٹوٹا پڑا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



افسانے کی ظاہری اور معنوی پرتیں دونوں ہی خوب ہیں، ایسا عمدہ علامتی افسانہ لکھنے پر آپ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ جنگ، سیٹی، اختیار مجہولیت، بے فکرا پن، بچگانہ حرکات سب کو ملا کر اگر اس افسانے کا تجزیہ کیا جائے تو یہ یقیناََ بڑے افسانوں میں سے ایک ہے۔ جن جگہوں کا آپ نے ذکر کیا وہیں میرا بچپن بھی گزرا ہے تو انسیت سی محسوس ہورہی ہے کرداروں سے ۔
بے حد شکریہ احمد رضوان صاحب
آپ کی پسندیدگی اس افسانہ کا اعزاز ہے۔
افسانہ کے ماحول سے آپ کی انسیت یقینا فطری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس افسانہ کی جانب میرا دھیان آپ کا افسانہ “ جامن کا درخت” پڑھ کر گیا۔اسی لیے مطالعہ اور اشاعت کے لیے آپ ہی کو بھیجا۔
آپ کے لیے دعائیں
حامدیزدانی