بوہری برادری:تاریخ،عقائد اور سماجی نظام کا انسائیکلوپیڈک جائزہ/ڈاکٹر محمد عمران ملک

آج بوہری برادری نے عید منائی تو مختلف چینلز نے اس کی خبر دی ان کی خبروں کے نیچے کئی لوگوں نے پوچھا کہ یہ کوئی نیا فرقہ ہے۔ وہاں سے سوالات دیکھ کر بوہری برادری کا تعارف حاضر ہے۔
بوہری برادری: تاریخ، عقائد اور سماجی و تعلیمی نظام کا جامع جائزہ
بوہری برادری (بالخصوص داؤدی بوہرہ) اپنی منظم سماجی زندگی، تجارت میں مہارت اور منفرد مذہبی و تعلیمی روایات کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے۔
تاریخی پس منظر اور آغاز
بوہری برادری کی جڑیں مصر کی فاطمی خلافت سے جڑی ہیں۔ جب مصر میں یہ خلافت کمزور ہوئی تو ان کا مرکز یمن منتقل ہو گیا۔
ہندوستان میں آمد: 11ویں صدی عیسوی (تقریباً 1067ء) میں یمن سے مبلغین ہندوستان کے ساحلی علاقے گجرات (کھمبات) پہنچے، جہاں دعوت کے ذریعے یہ سلسلہ پھیلا۔
قیادت: ان کے روحانی پیشوا کو “داعی المطلق” کہا جاتا ہے۔ موجودہ داعی المطلق ڈاکٹر سیدنا مفضل سیف الدین صاحب ہیں۔
تقویمِ فاطمی اور عید و رمضان کا تعین
بوہری برادری کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کا اپنا باقاعدہ حساب کتاب ہے جسے “تقویمِ فاطمی” کہا جاتا ہے۔
حسابی نظام: یہ چاند دیکھنے کے بجائے فلکیاتی حساب پر مبنی ایک حسابی کیلنڈر ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ انسانی آنکھ چاند دیکھنے میں غلطی کر سکتی ہے، لیکن فلکیاتی نظام قطعی ہے۔
رمضان اور عید: اسی نظام کے تحت یہ رمضان اور عید کا آغاز باقی دنیا سے ایک یا دو دن پہلے کرتے ہیں۔ ان کے ہاں رمضان ہمیشہ 30 دن کا ہوتا ہے۔
تعلیمی نظام: “الجامعۃ سیفیہ”
بوہری برادری تعلیم کو دین کا لازمی حصہ سمجھتی ہے۔ ان کا سب سے بڑا تعلیمی مرکز الجامعۃ سیفیہ ہے، جس کی شاخیں سورت (انڈیا)، کراچی (پاکستان)، ممبئی اور نیروبی (کینیا) میں موجود ہیں۔
یہاں قدیم عربی علوم کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی علوم بھی پڑھائے جاتے ہیں۔
اس ادارے کا مقصد ایسے علماء پیدا کرنا ہے جو مذہبی علم کے ساتھ ساتھ جدید دور کے چیلنجز سے بھی واقف ہوں۔
فنِ تعمیر اور جماعت خانے
بوہری جماعت خانوں کا فنِ تعمیر مصر کی قدیم فاطمی مساجد سے متاثر ہوتا ہے۔
ان کے جماعت خانوں میں سنگِ مرمر کا کثرت سے استعمال، محرابوں پر قرآنی آیات کی سنہری خطاطی اور مخصوص ہندسی ڈیزائن (Geometric Patterns) نمایاں ہوتے ہیں۔
کراچی کی “طاہری مسجد” اور ممبئی کی “روضہ طاہرہ” اس فنِ تعمیر کے شاہکار نمونے ہیں۔
سماجی ڈھانچہ اور “فیض الموائد البرہانیہ”
بوہری برادری اپنی فلاحی سرگرمیوں اور نظم و ضبط کے لیے مشہور ہے:
اجتماعی دسترخوان: “فیض الموائد البرہانیہ” کے نام سے ایک عالمی نظام قائم ہے، جس کے تحت ہر بوہری گھرانے کو جماعت خانے سے تیار شدہ معیاری کھانا فراہم کیا جاتا ہے تاکہ خواتین کو کچن سے فرصت ملے اور وہ دیگر تعلیمی یا سماجی کاموں میں حصہ لے سکیں۔
لباس کی شناخت: مرد مخصوص سفید لباس اور زری والی ٹوپی پہنتے ہیں، جبکہ خواتین رنگین مخصوص لباس “ردا” پہنتی ہیں، جو پردے کے ساتھ ساتھ ان کی پہچان بھی ہے۔
آبادی: عالمی سطح پر ان کی تعداد تقریباً 10 سے 15 لاکھ کے درمیان ہے، جو زیادہ تر تجارت اور پیشہ ورانہ شعبوں (انجینئرنگ، طب) سے وابستہ ہیں۔
تصورِ دین اور بنیادی عقائد:
ارکان: یہ اسلام کے سات ارکان (ولایت، طہارت، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، جہاد) پر یقین رکھتے ہیں۔
میثاق: ہر بالغ فرد کو اپنے داعی کے ہاتھ پر وفاداری کا عہد (میثاق) کرنا ہوتا ہے، جو انہیں برادری کے نظم و ضبط سے جوڑتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں