عجیب زمانہ آ گیا ہے۔۔۔ انسان نے چاند پر قدم رکھ دیا، مصنوعی ذہانت کو اپنی خدمت پر لگا دیا، سیکنڈوں میں براعظموں کے فاصلے سمیٹ دیے مگر اپنے دل اور دماغ کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو کم نہ کر سکا۔ جیبوں میں جدید ترین موبائل فون ہیں، گھروں میں آسائشوں کے انبار ہیںمگر دلوں میں سکون ناپید ہے۔ چہروں پر مسکراہٹیں ہیں مگر آنکھوں میں تھکن بسی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر کامیابیوں کی نمائش ہے مگر تنہائی کے کمروں میں بے شمار لوگ خاموشی سے ٹوٹ رہے ہیں۔ آخر انسان کو ہوا کیا ہے؟ وہ کون سی چیز ہے جس کی کمی نے ترقی کے اس سنہرے دور کو اضطراب کے اندھیرے میں بدل دیا ہے؟ شاید جواب بہت سادہ ہےکہ ہم نے زندگی کو آسان بنایا، مگر جینا مشکل کر لیا۔۔
آج کا انسان ایک ایسے مسافر کی مانند ہے جو مسلسل دوڑ رہا ہے مگر اسے خود معلوم نہیں کہ منزل کہاں ہے۔ صبح سے شام تک رزق، شہرت، مقام اور کامیابی کی تلاش جاری رہتی ہے۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری جنم لے لیتی ہے۔ ایک منزل ملتی ہے تو اگلا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ یوں زندگی ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ بن کر رہ جاتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جتنی سہولتیں بڑھتی جا رہی ہیں، اتنی ہی بے چینی بھی بڑھ رہی ہے۔یہ محض اتفاق نہیں کہ دنیا بھر میں ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے خوابی اور اضطراب کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نفسیات دان اس کے مختلف اسباب بیان کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان صرف جسم نہیں، روح بھی ہے۔ جسم کی ضروریات پوری کر دی جائیں اور روح کو بھوکا رکھا جائے تو اندر ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے جسے دنیا کی کوئی دولت نہیں بھر سکتی۔
ہمارے بزرگ جب شام کو گھر لوٹتے تھے تو تھکے ضرور ہوتے تھے مگر بکھرے ہوئے نہیں ہوتے تھے۔ ان کے پاس دولت کم تھی مگر دلوں میں اطمینان زیادہ تھا۔ وہ رات کو آسمان کی طرف دیکھتے، دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے اور اپنے رب سے باتیں کرتے تھے۔ آج ہمارے پاس ہزاروں رابطے ہیں مگر وہ تعلق نہیں جو انسان کو اپنے خالق سے جوڑتا ہے۔جدید معاشرہ ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ہم نے ہر چیز کو ناپنے کا پیمانہ بنا لیا ہے۔ دولت کتنی ہے؟ گھر کتنا بڑا ہے؟ گاڑی کون سی ہے؟ فالوورز کتنے ہیں؟ مگر کسی کے پاس یہ پیمانہ نہیں کہ دل میں سکون کتنا ہے۔ حالانکہ زندگی کی اصل کامیابی کا تعلق اسی سوال سے ہے۔کبھی غور کیجیے، دنیا کی سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟ سونا؟ ہیرے؟ دولت؟ نہیں۔ دنیا کی سب سے قیمتی دولت وہ رات ہے جو بے فکری سے گزر جائے، وہ دل ہے جو حسد سے پاک ہو، وہ ذہن ہے جو خوف سے آزاد ہو اور وہ روح ہے جو اپنے رب کے قریب ہو۔ بدقسمتی سے یہی دولت آج سب سے نایاب ہوتی جا رہی ہے۔
ہم ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں شور بہت ہے مگر سکون کم۔ ہر طرف اطلاعات کا سیلاب ہے۔ موبائل فون کی اسکرینیں مسلسل ہماری توجہ مانگتی ہیں۔ خبروں، ویڈیوز، تبصروں اور اشتہارات کے ہجوم میں انسان کا ذہن تھک چکا ہے۔ وہ لمحہ بہ لمحہ دوسروں کی زندگیوں سے اپنا موازنہ کرتا ہے اور پھر اپنی محرومیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خوشی ایک تصویر بن کر رہ گئی ہے اور سکون ایک خواب۔سوشل میڈیا نے ہمیں دوسروں کی کامیابیوں کا تماشائی تو بنا دیا مگر اپنی زندگی کے حسن سے غافل کر دیا۔ ہم دوسروں کے خوش نما لمحات دیکھتے ہیں اور اپنے عام دنوں کو ناکامی سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ موازنہ آہستہ آہستہ دل سے شکرگزاری چھین لیتا ہے۔ جہاں شکر ختم ہو جائے وہاں سکون زیادہ دیر نہیں ٹھہرتا۔
روحانی سکون دراصل ایک داخلی کیفیت ہے۔ یہ بازار سے خریدی نہیں جا سکتی، کسی بینک میں جمع نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی کسی عہدے کے ساتھ ملتی ہے۔ یہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنے وجود کے اصل مقصد کو سمجھ لیتا ہے۔ جب وہ جان لیتا ہے کہ زندگی محض کمانے، کھانے اور مر جانے کا نام نہیں بلکہ ایک امانت، ایک امتحان اور ایک سفر ہے۔دعا اسی روحانی سکون کا دروازہ ہے۔ دعا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، یہ بندے اور رب کے درمیان محبت کا پل ہے۔ جب انسان دعا کرتا ہے تو وہ دراصل اپنی محدودیت کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ مان لیتا ہے کہ کچھ طاقتیں اس کے اختیار سے باہر ہیں۔ یہی اعتراف تکبر کو توڑتا اور دل کو نرم کرتا ہے۔
دعا کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ انسان کو تنہا نہیں رہنے دیتی۔ دنیا کے تمام دروازے بند ہو جائیں، لوگ ساتھ چھوڑ دیں، وسائل ختم ہو جائیں، امیدیں ٹوٹ جائیں، تب بھی دعا کا در کھلا رہتا ہے۔ یہی احساس انسان کو مایوسی کے اندھیرے سے نکال کر امید کی روشنی میں لے آتا ہے۔یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہےکہ کیا دعا تقدیر بدلتی ہے یا انسان؟ شاید اس کا جواب یہ ہے کہ دعا سب سے پہلے انسان کو بدلتی ہے۔ اس کے اندر صبر پیدا کرتی ہے، اس کے دل میں امید جگاتی ہے، اس کی سوچ کو مثبت بناتی ہے اور جب انسان بدل جاتا ہے تو اس کی زندگی کے راستے بھی بدلنے لگتے ہیں۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے دعا کو اکثر صرف ضرورت کے وقت یاد رکھا ہے۔ جب بیماری آ جائے، کاروبار میں نقصان ہو جائے یا کوئی مشکل پیش آ جائے تو ہم دعا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ حالانکہ دعا صرف مصیبت کا سہارا نہیں بلکہ زندگی کا مستقل ساتھی ہے۔ یہ روح کی غذا ہے، دل کا سکون ہے اور ذہن کا توازن ہے۔
آج خاندانی زندگی بھی روحانی سکون سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ سب کے ہاتھوں میں موبائل ہیں مگر دلوں میں فاصلے ہیں۔ گفتگو کم اور مصروفیت زیادہ ہے۔ محبت کم اور توقعات زیادہ ہیں۔ ایسے ماحول میں دعا صرف فرد ہی نہیں، پورے خاندان کو جوڑنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ جو گھر دعا سے آباد ہوتے ہیں وہاں اختلاف تو ہوتے ہیں مگر نفرتیں جنم نہیں لیتیں۔بچوں کی تربیت میں بھی روحانیت کا کردار بنیادی ہے۔ ہم انہیں بہترین اسکول، مہنگے کپڑے اور جدید سہولتیں تو دینا چاہتے ہیں مگر دعا کا ذوق نہیں دیتے۔ ہم انہیں کامیاب انسان بنانا چاہتے ہیں مگر مطمئن انسان بنانا بھول جاتے ہیں۔ حالانکہ زندگی کا اصل امتحان کامیابی نہیں بلکہ کردار اور سکون ہے۔
معاشرتی سطح پر بھی روحانی افلاس ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ مادیت نے انسان کو خود غرض بنا دیا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو سیڑھی سمجھنے لگے ہیں۔ تعلقات مفاد کے تابع ہو چکے ہیں۔ ایسے معاشرے میں اعتماد کمزور ہوتا ہے اور بے چینی بڑھتی ہے۔ دعا اور روحانیت انسان کے اندر رحم، محبت اور ایثار پیدا کرتی ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ بڑی بڑی سلطنتیں مادی طاقت کے باوجود تباہ ہو گئیں کیونکہ ان کے اندر اخلاقی اور روحانی بنیادیں کمزور ہو چکی تھیں۔ عمارتیں پتھر سے بنتی ہیں مگر معاشرے کردار سے بنتے ہیں۔ جب کردار کمزور ہو جائے تو ترقی بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔
سحر کے وہ خاموش لمحے، جب دنیا سو رہی ہوتی ہے اور کوئی بندہ اپنے رب کے حضور ہاتھ اٹھاتا ہے، دراصل روحانی سکون کے سب سے خوبصورت لمحات ہوتے ہیں۔ وہاں نہ دکھاوا ہوتا ہے، نہ شہرت کی خواہش، نہ تعریف کی طلب۔ صرف بندہ ہوتا ہے اور اس کا رب۔ شاید اسی لیے ایسے لمحوں میں بہنے والے آنسو دل کے بوجھ کو ہلکا کر دیتے ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر دعا فوری طور پر قبول ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ بعض اوقات انسان برسوں انتظار کرتا ہے۔ لیکن دعا کا اصل معجزہ صرف مطلوبہ چیز کا مل جانا نہیں بلکہ انتظار کے دوران امید کا زندہ رہنا ہے۔ دعا انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتی۔ وہ دل میں یہ یقین پیدا کرتی ہے کہ کائنات میں ایک ایسی ہستی موجود ہے جو سب کچھ سن رہی ہے۔
آج کا انسان سکون کی تلاش میں دنیا بھر کے دروازے کھٹکھٹا رہا ہے۔ کوئی تفریح میں سکون ڈھونڈتا ہے، کوئی دولت میں، کوئی شہرت میں اور کوئی طاقت میں۔ مگر حیرت یہ ہے کہ یہ سب چیزیں حاصل کرنے کے بعد بھی بے شمار لوگ خالی پن کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روح کی پیاس مادی ذرائع سے نہیں بجھتی۔روحانی سکون کا مطلب دنیا چھوڑ دینا بھی نہیں۔ اسلام انسان کو توازن سکھاتا ہے۔ محنت بھی کرو، ترقی بھی کرو، خواب بھی دیکھو، مگر اپنے رب سے تعلق کو کمزور مت ہونے دو۔ دنیا ہاتھ میں رہے تو نعمت ہے، دل میں اتر جائے تو آزمائش بن جاتی ہے۔
شاید ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم نے زندگی گزارنے کے وسائل تو پیدا کر لیے مگر زندگی جینے کا ہنر کھو دیا۔ ہم نے گھروں کو بڑا کر لیا مگر دلوں کو تنگ کر لیا۔ ہم نے رابطوں کو بڑھا لیا مگر تعلقات کو کمزور کر لیا۔ ہم نے معلومات جمع کر لیں مگر حکمت کھو دی۔ اگر انسان کے پاس سب کچھ ہو مگر سکون نہ ہو تو کیا واقعی اس کے پاس کچھ ہے؟۔۔۔شاید نہیں۔کیونکہ زندگی کی اصل دولت بینک بیلنس نہیں، دل کا اطمینان ہے۔ اصل کامیابی شہرت نہیں، اندر کی سلامتی ہے۔ اصل خوشی دوسروں سے آگے نکلنے میں نہیں بلکہ اپنے رب کے قریب ہونے میں ہےاور شاید اسی لیے آج کے بے چین، تھکے ہوئے، مضطرب اور منتشر انسان کی سب سے بڑی ضرورت نہ کوئی نئی ایجاد ہے، نہ کوئی نئی آسائش، نہ کوئی نیا نظریہ۔بلکہ صرف اتنا ہے کہ وہ ایک لمحے کے لیے دنیا کے شور سے نکلے، اپنے دل کے دروازے پر دستک دے، آسمان کی طرف دیکھے، ہاتھ اٹھائے اور اپنے رب سے بات کرے۔کیونکہ جب دل رب سے بات کرتا ہے تو سکون صرف ملتا نہیں، دل میں اتر جاتا ہے۔
آخرکار زندگی کو آسان بنانے کا فارمولا شاید اتنا پیچیدہ نہیں جتنا ہم نے سمجھ رکھا ہے۔ دلوں کو جیتنے کے لیے بڑی دولت نہیں، بڑا دل چاہیے۔ دوسروں کے راستوں سے کانٹے چن لیجیے، کسی پریشان چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیجیے، کسی مجبور کا سہارا بن جائیے، کسی دکھی دل کے لیے دعا کر دیجیے۔ زندگی کا حسن یہی ہے کہ دعائیں دی بھی جائیں اور دعائیں لی بھی جائیں۔ جو لوگ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں، قدرت ان کے لیے آسانیوں کے دروازے کھول دیتی ہے۔ شاید سکونِ قلب کا سب سے مختصر، مگر سب سے مؤثر نسخہ یہی ہے کہ انسان دنیا میں محبت بانٹے، خیر پھیلائے اور اپنے حصے کا چراغ کسی اور کے اندھیرے میں روشن کر دے۔


